Code : 818 43 Hit

مضطرب انسان کے سکون کا ذریعہ

انسان کی روح ایک الہی امر ہے،ایک خدائی چیز ہے اور اس کی غذا صرف اللہ کا ذکر ہے :’’ أَلَا بِذِكْرِ اللَّـهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ ‘‘ یہی وہ غذا ہے جس سے انسان سیر ہوسکتا ہے اور اس کی روح کی تشنگی دور ہوسکتی ہے بس مادی فلسفہ رکھنے والے اور خاص طور پر مغربی مفکرین اسلام سے یہ نسخہ لیں اور اسے سمجھیں اور اپنے یہاں کے باشندوں تک پہونچائیں کہ تمہاری یہ ترقی تمہاری روح کی تشنگی کو دور نہیں کرسکتی بلکہ صرف یاد خدا،ذکر خدا تمہیں خوشی دے سکتا ہے اور کچھ نہیں۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! آج انسان ظاہری ترقی کی اس بلندی پر کھڑا ہوا ہے جہاں اسے کائنات کی دیگر اشیاء پستہ قد نظر آرہی ہیں اور طول تاریخ میں کبھی انسان کو ایک زمانے میں اتنی آسانیاں،سہولیات اور رفاہ نصیب نہیں ہوئیں جتنی آج میسر ہیں۔جہاں دیکھئے ٹیکنالوجی کی باتیں،سائنس کی ترقی کے نغمے اور وسائل کی بہتات کے چرچے سننے کو ملتے ہیں۔
کبھی وہ زمانہ بھی انسان نے دیکھا ہے کہ جب کبھی کوئی وبائی بیماری سے ایک ایک علاقہ کے ہزاروں لوگ موت کی آغوش میں سوجاتے تھے چنانچہ تاریخ گواہ ہے جب کبھی کسی علاقہ میں طاعون جیسی وبا آتی تھی تو ابھی قبرستان سے ایک شخص کو دفنا کر فارغ بھی نہ ہوتے تھے کہ دوسرے شخص کی خبر مرگ پہونچ جاتی تھی۔لیکن آج میڈیکل سائنس نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ اب ان وبائی امراض سے لاکھوں لوگ نہیں مرتے اور اگر کہیں وبا آ بھی جاتی ہے تو اسے فوراً کنٹرول کرلیا جاتا ہے۔
پہلے زمانے میں ایک طرف تو پانی نہ ہونے اور ٹیوب ویل سسٹم نہ ہونے کے سبب کھیتی میں وہ رنگ نہیں پایا جاتا تھا اور اتنی مقدار میں غلہ اور اناج کی پیداوار نہیں ہوتی تھی تو دوسری طرف اکثر یہ آفت آن پڑتی تھی کہ بارش نہ ہونے کے سبب قحط پڑ جاتا تھا اور پوری پوری کھیتیاں کھڑی کھڑی سوکھ جاتی تھیں جس کے سب لاکھوں لوگ بھوک سے دم توڑ دیتے تھے لیکن آج ایسا نہیں ہے آج ایگریکلچر نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ اگر قانون عدل کی رعایت کی جائے اور ارباب اقتدار لالچی نہ ہوں تو دنیا میں سات ارب لوگوں کے لئے اتنا غلہ پیدا ہوجاتا ہے کہ ایک سال کے غلہ کو تین برس تک استعمال کیا جاسکتا ہے اگرچہ یہ دعویٰ تو نہیں کہ دنیا میں کوئی بھوکہ نہیں سوتا لیکن غلہ اتنی مقدار میں بہرحال پیدا ہوتا ہے کہ اگر تقسیم کے عمل میں عدالت و مساوات کا خیال رکھا جائے تو ۷ ارب تو کیا ۲۱ ارب لوگ پیٹ بھر کھانا کھا سکتے ہیں۔
پہلے ڈاکٹروں اور اطباء کی اتنی فراوانی نہیں تھی یہی وجہ تھی کہ بہت سے لوگ ڈاکٹر اور حکیم کے پاس پہونچنے سے پہلے ہی دم توڑ دیتے تھے اور خاص طور پر وضع حمل کے دوران مرنے والی خواتین کے اعداد و ارقام تو بہت زیادہ ہیں لیکن سہولیات نے اس مشکل کو بھی کافی حد تک ختم کردیا ۔
بس خلاصہ کلام یہ کہ انسان نے علم،ٹیکنالوجی،میڈیکل،سائنس اور ایگریکلچر وغیرہ میں اتنی ترقی کی ہے کہ بہت سی طبیعی مشکلات خود بخود ختم ہوچکی ہیں۔ اور ہم یہ بات اس لئے کہہ رہے ہیں کہ علم و سائنس کی ترقی کے یہ آثار آج ہر چھوٹے بڑے ملک میں کثرت کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔اور اگر ترقی یافتہ ممالک کی بات کریں تو ان میں تو مادی اور ظاہری ترقی اور کمال کی کوئی حد ہی نہیں رہ گئی ہے اور ان ممالک نے اپنے عوام کو اتنی سہولیات فراہم کر رکھی ہیں کہ ہمارے ملکوں میں تو انسان سوچ ہی نہیں سکتا اور انہیں دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ اب اس سے زیادہ ترقی کا تصور ممکن ہی نہیں ہے۔
لیکن اس درمیان سب سے افسوس ناک اور قابل تأمل بات اور جس چیز کو لیکر مغربی اور تمدن یافتہ ممالک کے سایکلوجیکل،معاشرتی و سماجیات کے ماہرین پریشان ہیں وہ یہ ہے کہ: ہم حد درجہ ترقی یافتہ ہوکر بھی مستقل افسردگی اور مایوسی کی کیفیت میں زندگی گذار رہے ہیں۔ لہذا اس تمدین یافتہ دور میں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ یہ انسان کس رنج میں تڑپ رہا ہے؟ اس کے پاس کس چیز کی کمی ہے ؟ اسے کس چیز نے مایوس کررکھا ہے؟ یہ بے چینی کیسی ؟ یہ اضطراب کیسا؟
چنانچہ یہ وہ سوالات ہیں جنہیں آج تک سایکلوجیکل،معاشرتی اور سماجیات کے ماہرین سمجھنے سے قاصر ہیں لیکن یہ نسخہ دین اسلام نے چودہ سو برس پہلے بتادیا تھا۔ کہ دنیا کو کبھی اپنا مقصد نہ بناؤ ،دنیا ایک راستہ ہے ہمیں اس سے گذر کر ایک دن وہاں جانا ہے ہمارا اصلی گھر وہ دنیا (آخرت)ہے،یہاں تمہیں کچھ دنوں رہنا ہے اور یہاں کے وسائل ابدی و ہمیشگی نہیں ہیں چونکہ اس مادہ میں اتنی صلاحیت ہی نہیں پائی جاتی کہ وہ انسان کی اشرف روح کو سیراب کرسکے ۔(اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ ہم اپنے کو زبوں حال ہی رہنے دیں۔نہیں ہرگز ایسا تصور خلاف روح دین ہے)۔ اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ وہ انسان دنیا اور طبیعت میں موجود قوانین کو سمجھے اور یہ سب کچھ سمجھ کر میری وحدانیت کو تسلیم کریں اور میرے سامنے سجدہ ریز ہوں۔پس انسان کی روح ایک الہی امر ہے،ایک خدائی چیز ہے اور اس کی غذا صرف اللہ کا ذکر ہے :’’ أَلَا بِذِكْرِ اللَّـهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ ‘‘ یہی وہ غذا ہے جس سے انسان سیر ہوسکتا ہے اور اس کی روح کی تشنگی دور ہوسکتی ہے بس مادی فلسفہ رکھنے والے اور خاص طور پر مغربی مفکرین اسلام سے یہ نسخہ لیں اور اسے سمجھیں اور اپنے یہاں کے باشندوں تک پہونچائیں کہ تمہاری یہ ترقی تمہاری روح کی تشنگی کو دور نہیں کرسکتی بلکہ صرف یاد خدا،ذکر خدا تمہیں خوشی دے سکتا ہے اور کچھ نہیں۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम