Code : 419 5 Hit

تاریخ میں میثم کی بقا کا راز

میثم تاریخ کی ان بااثر اور اہم شخصیات میں سے ہیں جو اپنے موقف اور پختہ عزم کے لئے ہمیشہ یاد کئے جائیں گے جناب میثم تمار بھی ہیں۔چونکہ ایسا نہیں کہ میثم ہی علی(ع) سے والہانہ عشق کرتے ہوں بلکہ یہ عشق دو طرفہ تھا اگر میثم کو علی(ع) کی زیارت کئے بغیر سکون نہیں ملتا تھا تو علی بھی میثم کے دیدار کے بغیر بے چین ہوجاتے تھے یہی وجہ تھی کہ میثم اس مقام پر پہونچے کہ اپنے امام کے محرم راز بن گئے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! صدر اسلام میں جو لوگ ممدوح واقع ہوئے ہیں وہ صرف اپنے نماز روزے ،اور عبادتوں کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کی شہرت اور تاریخ میں باقی رہنے کا راز ان کی اجتماعی اور سیاسی فعالتیں،کارکردگی اور موقف تھا۔ چونکہ ابتدائے تخلیق سے آج تک کروڑوں عبادت گذار،شب زندہ دار اور صاحبان زہد لوگ گذرے ہیں تاریخ اپنے اندر ان شخصیتوں کو باقی اور محفوظ رکھتی ہے جنہوں نے اپنے زمانے میں اپنے سیاسی اور اجتماعی موقف کو صاف اور شفاف طور پر بیان کیا ہو اسی طرح تاریخ جب کسی شخصیت کا مذمت کے ساتھ تذکرہ کرتی ہے تو وہ اس وجہ سے نہیں کہ وہ بے نمازی تھا،روزہ نہیں رکھتا تھا،یا شراب پیتا تھا بلکہ اس کے اجتماعی اور سیاسی کردار میں خرابی ہونے کے سبب اسے بُرے الفاظ سے یاد کرتی ہے۔

یہ لنک بھی ملاحظہ فرمائیں:

میثم کون تھے اور کیسے شہید ہوئے؟

اگرچہ نماز،روزہ،عبادت نیک عمل ہے لیکن یہ اللہ اور بندے کے درمیان کا رابطہ ہے جس سے تاریخ کا کوئی لینا دینا نہیں ہوتا البتہ یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ جس کا رابطہ اپنے خالق و مالک سے سچا اور خلوص سے بھرا ہوتا ہے اس کا اجتماعی موقف کبھی خراب نہیں ہوتا۔
قارئین کرام! انہیں با اثر اور تاریخ کی اہم شخصیتوں میں جو اپنے موقف اور پختہ عزم کے لئے ہمیشہ یاد کئے جائیں گے جناب میثم تمار بھی ہیں۔چونکہ ایسا نہیں کہ میثم ہی علی(ع) سے والہانہ عشق کرتے ہوں بلکہ یہ عشق دو طرفہ تھا اگر میثم کو علی(ع) کی زیارت کئے بغیر سکون نہیں ملتا تھا تو علی بھی میثم کے دیدار کے بغیر بے چین ہوجاتے تھے یہی وجہ تھی کہ میثم اس مقام پر پہونچے کہ اپنے امام کے محرم راز بن گئے۔
جیسا کہ آپ جانتے ہیں میثم کوفہ کے ایک خرما فروش تھے ان کی ایک دوکان تھی جب کبھی علی(ع) کو فرصت ملتی مولا میثم سے ملنے ان کی دوکان پر چلے جاتے تھے اور جب کبھی میثم نہیں ہوتے علی(ع) ان کی جگہ خرما فروخت کردیتے تھے۔
میثم اور علی(ع) کی شاگردی
میثم جب کوفہ آئے تو غلام تھے لیکن امیرالمؤمنین(ع) نے انہیں خرید کر آزاد کردیا اور آزادی کے بعد میثم امام(ع) کے خاص شاگردوں اور اصحاب میں سے ہوگئے اس طرح کے معارف علوی کے دریچہ ان کے لئے کھل گئے اور اپنے مولا کے اسرار سے واقف ہوگئے۔(1)یعنی علی کے محرم راز اور خلوت و جلوت میں امام کے سب سے بڑے مونس و ہمدم بن گئے۔
میثم کے لئے سب سے بڑی سعادت
میثم کے لئے امیرالمؤمنین(ع) سے ملاقات ایک عجیب سعادت بنی اور جیسے ہی علی(ع) نے میثم کی چھپی ہوئی استعداد کو دیکھا ان کو بہت سے علوم تعلیم فرمائے کہ سوائے خاص اور معدودے لوگوں کو ہی یہ سعادت نصیب ہوئی ہے۔
میثم نے قرآن مجید کی تفسیر کا علم علی(ع) سے سیکھا اور جو حضرت نے تعلیم فرمایا تھا انہوں نے ایک کتاب لکھی اسی وجہ سے میثم کا نام صدر اسلام میں کتاب لکھنے والے مؤلفین کی فہرست میں آتا ہے۔میثم علم تفسیر و تأویل قرآن مجید میں اتنے ماہر تھے کہ جب ابن عباس جیسا مفسر اور حبر امت میثم کے ساتھ بیٹھتا تو حکم دیتا تھا کہ
میثم نے ابن عباس کو بہت سے آنے والی اور مستقبل میں رونما ہونے والی خبروں سے مطلع کیا اور بہت سے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھایا اور بہت سے سر اٹھانے والے فتنوں سے آگاہ کیا۔
چنانچہ روایات میں ملتا ہے کہ ایک دن علی(ع) کی شہادت کے بعد میثم روضہ رسول(ص) اور خاندان پیغمبر(ص) سے ملاقات کے لئے مدینہ آئے ابن عباس سے ملاقات ہوگئی علی(ع) کے اس رشید شاگرد نے ابن عباس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ابن عباس آج قرآن کی جس آیت کی تفسیر پوچھنا ہو پوچھ لو میں نے پورے قرآن کو علی(ع) سے پڑھا ہے حضرت نے مجھے تفسیر و تأویل کا علم دیا ہے۔ابن عباس جیسا مفسر میثم کے مقام علم و تقویٰ سے واقف تھا۔ایک مرتبہ میثم نے کہا ابن عباس اس وقت آپ کیا کریں گے جب مجھے فلاں جگہ کوفہ میں سولی دے دی جائے گی۔ابن عباس نے کہا: میثم کیا تم کاہن بھی ہو؟اور اسی کے ساتھ ہاتھ کا کاغذ پھاڑنا چاہا۔  
ابن عباس میثم کے علم تفسیر و تأویل قرآن سے تو واقف تھے لیکن انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ میثم کو آئندہ اور مستقبل کا بھی علم ہے اور یہ بات ان کے لئے قابل تصور بھی نہیں تھی لہذا کاغذ پھاڑنا چاہا،میثم نے کہا: ابن عباس اتنی جلدی مت کیجئے! جو کچھ مجھ سے سن رہے ہیں اس تحریر کرکے اپنے پاس محفوظ رکھ لیں اور جو کچھ میں نے کہا اگر سچ ہوا تو اس کو باقی رکھیئے اور اگر غلط ہوا اس کو پھاڑ دیجیئے چنانچہ ابن عباس نے قبول کرلیا۔(3)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ جات:
1۔ سفینة البحار، ج2: 524
2۔ بحارالانوار، ج42: 128
3۔سابق حوالہ

تحریر: سجاد ربانی

0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम