Code : 707 69 Hit

بہادر خاندان کی بہادر خاتون

فضہ نے دیکھا کہ حضرت ام البنین(س) کا آخری وقت آ پہونچا ہے تو جلدی سے جاکر امام علی(ع) اور امام حسین(ع) کی اولاد کو بلا لائیں اور پھر کچھ دیر بعد پورے مدینہ میں گریہ و زاری کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔ اور ہر طرف سے’’اماں اماں‘ کی صدائیں آنے لگیں چونکہ حضرت فاطمہ(س) کے بیٹے اور نواسے پوتے آپ کو ماں کہہ کر بلارہے تھے لیکن اب بی بی میں یہ کہنے کی طاقت نہیں رہ گئی تھی کہ بچوں مجھے ماں نہ کہو میں تو فاطمہ زہرا(س) کی کنیز ہوں۔

ولایت پورٹل: حضرت ام البنین(س) تاریخ کی ان عظیم ہستیوں میں سے ہیں جن کے چار بیٹوں نے کربلا میں اسلام پر اپنی جان قربان کی، ام البنین یعنی بیٹوں کی ماں، آپ کے چار بہادر و شجاع بیٹے؛حضرت ابو الفضل العباس(ع) جعفر،عبداللہ اور عثمان(ع) تھے جو کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی مدد کرتے ہوئے شہید ہوئے۔
جیسا کہ یہ بات آپ کے علم میں ہے کہ حضرت ام البنین(س) کا نام فاطمہ کلابیہ تھا لیکن آپ ام البنین کی کنیت سے مشہور تھیں،پیغمبر اکرم(ص) کی چہیتی بیٹی اور حضرت علی(ع) کی شریک حیات حضرت سیدہ طاہرہ(س) کی شہادت کو اب تقریباً ۱۵ برس کا عرصہ گذر چکا تھا امام علی(ع) نے اپنے بھائی عقیل کو، کہ جو عرب کے قبائل کے شجروں کو خوب پہچاننے والے اور ماہر تھے، اپنے پاس بلا کر ان سے فرمایا کہ وہ ایک شجاع خاندان میں ایک ایسی خاتون تلاش کریں جس سے بہادر بچے پیدا ہوں۔
حضرت علی(ع) جانتے تھے کہ سن ۶۱ ہجری جیسے پرآشوب اور گھٹن والے دور میں اسلام کو باقی رکھنے اور پیغمبر اکرم(ص) کی شریعت کو زندہ رکھنے کے لئے بہت زیادہ اور عظیم قربانیاں پیش کرنا ہونگی اور خاص کر امام علی(ع) یہ بات بھی جانتے تھے کہ کربلا کا واقعہ پیش آنے والا ہے لہذا ایسے حالات اور موقع کے لئے  ایسے دلیر و جانبازوں کی ضرورت تھی کہ جو امام حسین(ع) کی مدد کرسکیں۔
جناب عقیل نے حضرت ام البنین کے بارے میں خبر دیتے ہوئے کہا کہ پورے عرب میں ان کے باپ دادا سے زیادہ بہادر کوئی اور نہیں تھا امام علی(ع) نے اس مشورہ کو قبول کیا اور جناب عقیل کو رشتہ لیکر ام البنین(س) کے والد کے پاس بھیجا ان کے والد اس مبارک رشتہ سے بہت خوش ہوئےاور فوراً اپنی بیٹی کے پاس گئے تاکہ اس رشتہ کے متعلق ان کی رائے معلوم کرسکیں۔چنانچہ بی بی نے اس رشتہ کو اپنے لئے سربلندی اور افتخار سمجھتے ہوئے قبول کرلیا لہذا اس طرح حضرت ام البنین(س) کی امام علی(ع) سے شادہ ہوگئی۔
حضرت ام البنین(س) ایک بہار،محکم ایمان کی مالکہ،ایثار و فداکاری کا ثبوت پیش کرنے والی خاتون تھیں،اور اسی طرح آپ کی اولاد بھی بہادر تھی البتہ ان سب میں حضرت ابو الفضل العباس(ع) کا مرتبہ اور مقام سب سے منفرد تھا۔
امام حسین(ع) کی شہادت کے بعد حضرت ام البنین(س) کا ایک کام یہ تھا کہ آپ بنی امیہ کے ظلم و جور سے لوگوں کو آگاہ کرتی تھیں اور سارے مدینہ والوں کے سامنے ان کے مظالم کا تذکرہ فرماتی تھیں تاکہ بنی امیہ کے ظالم حکمرانوں کا اصلی چہرہ امت کے سامنے آجائے اور اسی طرح آپ بقیع میں جاکر مجلس بپا کرتی تھیں تاکہ کربلا والوں کا تذکرہ زندہ رہے اور ان مجالس میں خاندان اہل بیت(ع) کی خواتین شامل ہوکر آنسو بہاتی تھیں ،آپ اپنی تقریروں،مراثیوں اور اشعار کے ذریعہ کربلا کی مظلومیت کو ساری دنیا کے لوگوں تک پہونچانا چاہتی تھیں۔
جناب ام البنین(س) ایک وفادر خاتون تھیں اور آپ کی نظر میں امامت و ولایت کا اتنا احترام تھا کہ آپ نے اپنے شوہر نامدار حضرت علی(ع) کی شہادت کے بعد،جوان ہونے کے باوجود دوسری شادی نہیں کی اور امام علی(ع) کے بعد تقریباً ۲۰ برس زندہ رہیں۔چنانچہ حضرت علی(ع) کی شہادت کے بعد آپ کی ایک دیگر زوجہ جناب عمامہ کے بارے میں ایک مشہور عرب، مغیرہ بن نوفل سے رشتہ کی جب بات ہوئی اور اس کے متعلق جب آپ سے مشورہ طلب کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ امیرالمؤمنین(ع) کی شرف زوجیت میں رہنے کے بعد اب ہم لوگوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ ہم کسی دیگر مرد کے حبالہ عقد میں چلی جائیں۔
حضرت ام البنین(س) کی اس بات سے صرف جناب عمامہ ہی متأثر نہیں ہوئیں بلکہ لیلائے تمیمیہ اور اسماء بنت عمیس بھی متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں۔لہذا امام علی(ع) کی شہادت کے بعد آپ کی دیگر زوجات نے  بھی شادی نہیں کی۔
حضرت ام البنین(س) کی وفات
حضرت ام البنین(س) کی وفات کے سلسلہ میں مختلف روایات پائی جاتی ہیں کچھ روایات میں آپ کی وفات کو ۷۰ ہجری بیان کیا گیا ہے تو کچھ دیگر روایات میں ۱۳ جمادی الثانی سن ۶۴ ہجری بتایا گیا ہے ،البتہ شہرت اسی دوسری روایت کو حاصل ہے۔
اب آپ کی زندگی کی آخری رات تھی تو گھر کی کنیز نے اس پاکیزہ خاتون سے کہا کہ مجھے کسی ایک بہترین جملہ کی تعلیم دیجئے ، ام البنین(س) نے مسکرا کر فرمایا:’’السلام علیک یا ابا عبداللہ الحسین(ع)‘‘۔
اس کے بعد فضہ نے دیکھا کہ حضرت ام البنین(س) کا آخری وقت آ پہونچا ہے تو جلدی سے جاکر امام علی(ع) اور امام حسین(ع) کی اولاد کو بلا لائیں اور پھر کچھ دیر بعد پورے مدینہ میں گریہ و زاری کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔ اور ہر طرف سے’’اماں اماں‘ کی صدائیں آنے لگیں چونکہ حضرت فاطمہ(س) کے بیٹے اور نواسے پوتے آپ کو ماں کہہ کر بلارہے تھے لیکن اب بی بی میں یہ کہنے کی طاقت نہیں رہ گئی تھی کہ بچوں مجھے ماں نہ کہو میں تو فاطمہ زہرا(س) کی کنیز ہوں۔
آپ کا مدفن
وفات حسرت آیات کے بعد آپ کو پیغمبر اکرم(ص) کی دو پھوپیوں جناب عاتکہ اور جناب صفیہ کے پاس امام حسن علیہ السلام اور حضرت فاطمہ بنت اسد کی قبروں کے قریب بقیع میں دفن کردیا گیا۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम