Code : 1158 27 Hit

بچے کی آنکھوں سے دنیا کو دیکھئے

جان لیجئے! بچے جان بوجھ کر اور والدین کو دکھ پہونچانے کے لئے کوئی کام نہیں کرتے وہ کرنا تو ٹھیک ہی چاہتے ہیں لیکن چونکہ انہیں طریقہ معلوم نہیں ہوتا ان سے کام اکثر بگڑ ہی جاتے ہیں اور ان کی دلیل بھی یہ ہے کہ وہ بڑوں کی طرح نہیں سوچتے اور اگر آپ ان کے کام بگاڑنے سے پریشان ہونے لگ گئے تو پھر آپ ہمیشہ آپ رنجیدہ ہی رہیں گے۔

ولایت پورٹل: بچپن بھی بڑا عجیب زمانہ ہوتا ہے یہ بچے کے رشد کرنے اور پروان چڑھنے کے دن ہوتے ہیں۔ اور ایسے عجیب و غریب کام کرتے ہیں کہ والدین کبھی تو قہقہ لگاکر ہنسنے لگتے ہیں اور کبھی ان سے ناراض ہوجاتے ہیں۔ جب ان سے معلوم کیا جاتا ہے کہ بھئی آج آپ کیوں ناراض ہیں؟ تو بتلاتے ہیں کہ کیا بتائیں! اس بچے نے جان مصیبت میں ڈال دی ہے ہم کل ہی ایک بہترین برتن کا سیٹ لائے تھے اس نے اس کی ایک پلیٹ اور ایک گلاس توڑ دیا۔
تو جان لیجئے! بچے جان بوجھ کر اور والدین کو دکھ پہونچانے کے لئے کوئی کام نہیں کرتے وہ کرنا تو ٹھیک ہی چاہتے ہیں لیکن چونکہ انہیں طریقہ معلوم نہیں ہوتا ان سے کام اکثر بگڑ ہی جاتے ہیں اور ان کی دلیل بھی یہ ہے کہ وہ بڑوں کی طرح نہیں سوچتے اور اگر آپ ان کے کام بگاڑنے سے پریشان ہونے لگ گئے تو پھر آپ ہمیشہ آپ رنجیدہ ہی رہیں گے۔
لہذا اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ان کے بہت سے کاموں کو ان کا بچپن سمجھ کر نظر انداز کردینا چاہیے چونکہ 2 سال کے بعد سے، بچہ کچھ سیکھنا چاہتا ہے کبھی پلیٹ کو اٹھا کر پھینک دیتا ہے تو کبھی گلاس توڑ دیتا ہے وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے لہذا اگر کنچ اور سیپ کی پلیٹ کی جگہ پلاسٹک کی پلیٹ دیدی جائے اور کنچ کے گلاس کی جگہ اسٹیل یا پلاسٹیک کا گلاس دیدیا جائے تو آپ دیکھیں گے کہ وہ اسے پھینکنے کے بعد دوسری چیز کے پیچھے چلا جائے گا اور آپ کو بھی پلیٹ یا گلاس ٹوٹنے کا صدمہ نہیں ہوگا۔
اور جب آپ اپنے کو اس کی جگہ رکھ کر سوچیں گے تو پھر آپ کو معلوم ہوگا کہ اس نے ایسا کیوں کیا لہذا جس گھر میں ایسے بچے ہیں ان کے لئے آپ اپنے کو، گھر کی چیزوں کے بگڑنے اور توٹننے پھوٹنے کے لئے تیار رکھئے۔  اور غصہ کرنے کے بجائے مسکرائیے۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम