Code : 1116 39 Hit

ایران میں سیلاب اور عالمی برادری کی خاموشی!!!(ایک تبصرہ)

ایران ایک باعزت اور بہادر ملک ہے وہ جانتا ہے کہ اگر اس نے مدد کی اپیل کی تو اسکا دشمن اسے کمزور خیال کرے گا۔

ولایت پورٹل:ایران 31 صوبوں پر مشتمل ملک ہے اس کے 15 صوبے سیلاب کی زد میں ہیں، یعنی آدھا ایران فی الوقت سیلاب زدہ ہوچکا ہے.
اس شدید سیلاب سے فارس، گلستان، خوزستان، ھمدان، لرستان، کرمانشاہ، بویراحمد، کھلیلویہ اور چہارمحال بختیاری زیادہ متاثر ہیں.
دریاوں، ڈیموں اور ندی نالوں سےاچانک نکلنے والے پانی نے ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق 100 افراد کی جان لے لی ہے، ہزاروں کی تعداد میں لوگ زخمی اور بے گھر ہوچکے ہیں.
صوبہ لرستان کے 77 دیہات نہایت مشکل صورت حال میں ہیں، بعض دیہاتوں کا زمینی راستہ منقطع ہوچکا ہے، جن جگہوں پر سیلاب نے زیادہ تباہی مچائی ہےوہ صوبہ گلستان کا شہر آق قلا ہے۔
خوزستان صوبے کےشہر خرم آباد کا قریبی قصبہ دلفان ہے، اسی طرح صوبہ لرستان کا قصبہ پلدختر بھی بہت تباہ ہوا ہے.
صوبہ فارس کے مشہور شہر شیراز میں بھی بہت تباہی کی ہے یہاں 19 افراد سیلابی ریلے کی نظر ہوئے ہیں.
صوبہ قم کا نہایت بڑا علمی اور روحانی مرکز قم المقدس جہاں امام علی رضاعلیہ السلام کی بہن سیدہ فاطمہ علیھا السلام کا مزار ہے اس کے قریب سے گزرنے والا ایک چھوٹا سا دریا بھی بہت طغیانی پر ہے.
یکم اپریل کو یزد اور نائین میں بھی طوفان نے بہت تباہی کی تھی، اس بڑی قدرتی آفت اور چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے لیےایران تن تنہاءہے، اسے عالمی برادری کی کوئی مدد حاصل نہیں ہے، سوائے جرمنی اور عراق کے کچھ نجی اداروں کے ابھی تک انکی مدد کے لیے کوئی نہیں آیا.
اسلامی برادری تو ویسے بھی ایران کو ایک شیعہ ریاست سمجھتی ہے اور شیعہ……ہیں، ایرانی کہاں انسان ہیں کہ کوئی ان کے دکھوں پر آنسو بہائے ، ایران کونسا اسلامی ملک ہے جو اسلامی برادری اسکی مدد کو پہنچے، البتہ اگر اسرائیل یا انڈیا میں سیلاب آتا تو سب عربی وہاں پہنچ چکے ہوتے، سب عجمی انکی مدد کے لیے پہنچ چکے ہوتےاور دلیل جواز بھی یہ کافی اور قابل قبول ہوتی کہ اگرچہ وہ مسلمان نہیں مگر انسان تو ہیں…تو ایرانی کون سے انسان ہیں جی کہ انکی مدد کے لیے کوئی آئے، یاللعجب….
جو امریکہ کا مخالف ہو وہ مسلمان رہتا ہے نہ انسان، اسکی کوئی کس بنیاد پر مدد کرے، افسوس صد افسوس!!!.ایران شدید ترین صدمہ میں ہے اور روئے زمین کے اس بدمست ہاتھی(امریکہ)نے اعلان کیا ہے کہ ہم ایران پر پابندیاں مزید سخت کرنے کا سوچ رہے ہیں، یہ کتنی ستم ظریفی کی بات ہے کہ امریکہ نے ایرانی ریڈکراس کے اکاونٹس بھی منجمد کردیئے ہیں تاکہ کوئی باہر سے رقوم نہ بھیج سکے، اس بڑے ظلم پر ہم سب کوآوازاٹھانی چاہیے، انسانی حقوق کا تسلسل کے ساتھ ڈھنڈوراپیٹنے والے کیوں خاموش ہیں؟؟؟
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق 5000 گھر مکمل تباہ ہوچکے ہیں اور 25000 کو جزوی نقصان پہنچ چکا ہے، ہزاروں ایکڑز پر تیار فصلیں تباہ ہوگئی ہیں.
صرف جرمنی نے امداد کا اعلان کیا ہےایران میں جرمن سفیر کے توسط سے جرمن ہلال احمر نے ایرانی ہلال احمر کو 40 کشتیاں اور دیگر سامان دینے کا اعلان کیا ہے.
عراقی حکومت نے سرکاری طور پر تو نہیں مگر چند غیر حکومتی تنظیموں نے اپنے ایرانی بھائیوں کی مدد کا اعلان کیا ہے، ان تنظیموں نے کہا ہے کہ جب عراق آگ اور خون میں ڈوبا ہوا تھاتو ایران نے ہماری مدد کی آج ایران پانی میں ڈوبا ہوا ہے توہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اسکی مدد کریں.
“کنا تحت الناروساعدتمونا الآن انتم تحت الماء جاء دورنالمساعدتکم”.
ترجمہ “جب ہم آگ میں جل رہے تھے تو آپ نے ہماری مدد کی آج تم پانی میں ڈوبے ہوئے ہوتو اب ہماری باری ہےکہ ہم تمہاری مدد کریں”بہت ہی خوبصورت پیغام، یہ احساس ہے جو اسلامی برادری میں زندہ رہنا چاہیے، یہ پیغام اسلامی اخوت کا مظہر ہے اور اس بات کا غماض بھی کہ اب عراق مشکل وقت سے نکل چکا ہے، یہ بہت خوش آیند بات ہے.
میں ایرانی حکومت اور ایرانی قوم کوسلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے اس مشکل گھڑی میں بھی بین الاقوامی برادری سے مدد کی اپیل نہیں کی.
ایران ایک باعزت اور بہادر ملک ہے وہ جانتا ہے کہ اگر اس نے مدد کی اپیل کی تو اسکا دشمن اسے کمزور خیال کرے گا.
ٹرمپ نے سعودی عرب کے لیے تو یہ کہا تھا کہ سعودیہ ہماری مدد کے بغیر ایک ہفتہ بھی نہیں نکال سکتا مگر وہ ایران کے لیے ایسے توہین آمیز الفاظ استعمال نہیں کرسکتا کیونکہ ایران 4 دہائیوں سے اسکی مدد کے بغیر بلکہ اسکی مخالفت اور پابندیوں کے باوجود باعزت طور پر چل رہا ہے.
قوموں کی زندگیوں میں عزت اور غیرت بڑا سرمایا ہوتی ہے اس کے بغیر قوم ایک تن مردہ ہوتی ہے.
علامہ اقبال نے کئی سال پہلے کہا تھا..
تیری زندگی اسی سے، تیری آبرو اسی سے
جو رہی خودی تو شاہی ،نہ رہی روسیاہی
تحریر: مفتی گلزار احمد نعیمی
تسنیم


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम