Code : 916 34 Hit

ایران اور عراق کے تعلقات میں فروغ سے امریکی ناپاک عزائم خاک میں مل گئے(ایک تبصرہ)

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی ، عراقی صدر برہم صالح اور وزیر اعظم عادل عبدالمہدی کی دعوت پر ایک اعلی سطحی سیاسی و اقتصادی وفد کے ہمراہ عراق کے تین روزہ دورے پر بغداد میں ہیں۔

ولایت پورٹل:اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی کے تاریخی دورہ عراق کو بہت سے سیاسی ماہرین تہران بغداد تعلقات میں سنگ میل سمجھتے ہیں، یہ ایک ایسا دورہ ہے جس نے امریکہ اور ملت ایران و عراق کے دیگر بدخواہوں کے منفی پروپیگنڈوں کے باوجود دمشن کے سامنے اسلامی جمہوریہ ایران کی عزت و مقبولیت کو ثابت کردیا ہے، عراقی صدر برہم صالح نے بغداد میں عراقی صدارتی محل میں صدرمملکت ڈاکٹر حسن روحانی کا باقاعدہ استقبال کیا، صدرحسن روحانی نےاس دورے میں عراقی صدر ، وزیراعظم اور دیگر اعلی حکام سے ملاقات و گفتگو کے ساتھ ہی عراق کی سیاسی و اقتصادی شخصیتوں اورقبائل کے سرداروں سے بھی ملاقات کی ۔
سیاسی ماہرین و تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ جہاں صدر روحانی کے دورہ عراق کا نتیجہ ، مختلف اقتصادی میدانوں اور تعاون کی متعدد دستاویزات پر دستخط کی شکل میں نکلا ہے وہیں علاقے اور دنیا کے لئے کئی پیغامات کا بھی حامل رہا ہے، سوئیڈن کے سابق وزیرخارجہ کارل بیلدٹ نے پیر کو اپنے ایک ٹوئیٹ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے صدرحسن روحانی کے دوہ عراق کو خاص توجہ دی اوراس کا موازنہ کچھ دنوں پہلے امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دورے سے کیا۔
بیلڈٹ نے اپنے ٹوئیٹر ٹیج پر لکھا کہ ایسے عالم میں جب ٹرمپ نے عراق کے ایک دورافتادہ فضائیہ کے اڈے پرصرف امریکی فوجیوں سے ملاقات کی اورعراقی رہنماؤں سے ملاقات نہیں کی ، روحانی نے عراق کے سفر کے لئے تین دن مخصوص کئے،شمالی عراق کے صوبہ الانبار  کے عین الاسد فوجی اڈے پر ٹرمپ اور ان کی بیوی کے دوگھنٹے کے خفیہ دورے پر عراقیوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا اور اس کی مذمت بھی کی ،عراقی پارٹیاں اور شخصیتوں نے ٹرمپ کے خفیہ دورہ عراق کو امریکی صدر کی جانب سے عراقی قوم اورحکومت کی کھلی توہین قرار دیا تاہم  اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے دن کی روشنی میں عراق کا دورہ کیا اور ان کا شاندار استقبال بھی کیا گیا، اس وقت پڑوسیوں کے ساتھ ایران کے بڑھتے ہوئے تعلقات کو روکنے اور تہران کو تنہا کرنے کی امریکی کوششیں ناکام ہوگئی ہیں۔
نیویارک ٹائمز نے بھی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ عراق میں پوزیشن اور کردار حاصل کرنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان مقابلے میں حقیقی فاتح ایران ہے،انھوں نے اپنے دعوے کی دلیل میں عراقی پارلیمنٹ کے سابق ترجمان اور سنی ممبر پارلیمنٹ محمود المشہدانی کے حوالے سے لکھا ہے کہ ایران ، چھوٹا جسم اور بڑا دماغ رکھتا ہے اور ریاست ہائے  متحدہ امریکہ ، بڑا جسم اور چھوٹا دماغ رکھتا ہے اور یہی حقیقت عراق میں تہران کی بالادستی کا سبب ہے۔
عراق ، امریکی دباؤ کے باوجود ایران کا سب سے بڑا پڑوسی تجارتی پارٹنر شمار ہوتا ہے، یہ تعلقات خاص طور سے دینی مشترکات کے پیش نطر مستحکم رشتوں کے حامل ہیں،ایران نے عراق کے غیرشیعہ گروہوں خاص طور سے کردوں کے ساتھ بھی گہرے تعلقات برقرار کررکھے ہیں اور اس ملک میں امن و استحکام کے لئے تمام سیاسی گروہوں کی حمایت کرتا ہے، ایران نے اسی طرح اپنے ثقافتی و اقتصادی لین دین کو نہ صرف بغداد بلکہ عراقی کردستان اورعراق کے دیگر شہروں تک فروغ دیا ہے۔
مغربی ایشیاء کے امور کے ماہر کاظمی قمی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ عراقی عوام ، ایران کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کا کافی اشتیاق رکھتے ہیں کہا کہ : کوئی بھی ارادہ ، ایران و عراق کے درمیان اچھے اور وسیع تعلقات  کو متاثر نہیں کرسکتا اور عراقی عوام کے مختلف طبقات اور حکومت نے ایران کے صدر کا جو استقبال کیا اس نے ثابت کردیا کہ وہ ایران کے خلاف پابندیوں میں امریکہ کا ساتھ نہیں دیں گے، یہ بیانات اور اس تاریخی دورے  کی بڑے پیمانے پر کوریج اور اس کے اقتصادی نتائج  ہی یہ سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ یہ دورہ ایران اور عراق کے درمیان وسیع تعلقات کی جانب ایک بلندقدم ہے۔
سحر


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम