Code : 745 85 Hit

اہل بیت(ع) اور خدا کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہے:آیت اللہ کاظم صدیقی

آیت اللہ صدیقی نے اس بات پر تأکید کرتے ہوئے کہ اہل بیت(ع) آیات الہی کی روشنی میں السابقون السابقون ہیں اظہار کیا:یہ ذوات مقدسہ قرب الہی کے منتھی الیہ پر فائز ہیں اور پیغمبر اکرم(ص) کی طرح ہمیشہ معراج الہی میں رہتے ہیں۔ اور فاطمہ زہرا(س) اور آپ کی آل پاک کے پاس جو طہارت ہے وہ طہارت مطلقہ ہے اس وجہ سے ان کے اور خداوند عالم کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہے۔

ولایت پورٹل: تہران کے امام جمعہ آیت اللہ کاظم صدیقی نے ایام شہادت حضرت فاطمہ زہرا(س) میں اس سال تہران کی مسجد غدیر میں خطاب کیا انہوں نے اپنی مجالس کے دوران اہل بیت(ع) اور خاص طور پر بی بی دو عالم حضرت فاطمہ زہرا(س) کی معرفت پر خصوصی تأکید کی انہوں نے بیان کیا کہ:قرآن مجید حضرت فاطمہ زہرا(س) کی عظمت کے لئے سب سے بہترین سند ہے۔
آیت اللہ صدیقی نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ آئیہ تطہیر خاندان عصمت و طہارت(ع) کی شأن بابرکت میں نازل ہوئی کہا:اہل بیت(ع) تکوینی طور پر طاہر و پاک ہیں اور ہر طرح کے رجس و آلودگی سے دور ہیں اسی وجہ سے اللہ تعالٰی یہ اجازت نہیں دیتا کہ شیاطین ان سے نزدیک ہوں۔فاطمہ زہرا(س) اور آپ کی آل پاک کے پاس جو طہارت ہے وہ طہارت مطلقہ ہے اس وجہ سے ان کے اور خداوند عالم کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہے۔
انہوں نے اس بات پر تأکید کرتے ہوئے کہ اہل بیت(ع) آیات الہی کی روشنی میں السابقون السابقون ہیں اظہار کیا:یہ ذوات مقدسہ قرب الہی کے منتھی الیہ پر فائز ہیں اور پیغمبر اکرم(ص) کی طرح ہمیشہ معراج الہی میں رہتے ہیں۔
آیت اللہ صدیقی نے اپنے بیان میں یہ بھی تأکید کی کہ قرآن مجید متعدد مرتبوں میں جلوہ گر ہوتا ہے۔پہلے مرتبہ میں قرآن مجید اللہ تعالٰی کا نور مطلق ہے کہ جو اپنے مقام سے نزول کرکے قلب پیغمبر پر آیا اور پھر اس کے بعد بصورت الفاظ و کلمات  لوگوں کے ہاتھوں تک پہونچا جسے سن کر لوگوں کے قلوب نورانی ہوتے ہیں لہذا یہ تمام آیات قرآن مجید کا نازل شدہ وجود ہے۔
تہران کے امام جمعہ نے معصومین(ع) کی روایات کی روشنی میں قرآن مجید کی طرف دیکھنے کو عبادت قرار دیتے ہوئے کہا: آج قرآن مجید مسلمان تو کیا دشمنان دین کے پاس بھی ہے اور آج خبیث اسرائیل نے قرآن کو سمجھنے اور مکتب تشیع کی آشنائی کے لئے بڑی خطیر سرمایہ گذاری کررکھی ہے تاکہ قرآن کے رموز کو خود قرآن سے کاٹ سکیں۔البتہ یہ ان کی ایسی آرزو ہے جو کبھی پوری نہیں ہوگی۔ہاں وہ صرف اتنا کرسکتے ہیں کہ قرآن مجید کا مطالعہ کرلیں اورتفاسیر کو پڑھ لیں اور یہ پڑھنا صرف ایک زبانی عمل ہے اس کا اس قرآنی نور سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ اس کتاب کی حقیقت کو کوئی نقصان نہیں پہونچا سکتے۔
انہوں نے قرآن مجید کی تعلیمات اور اس پر عمل کرنے کو خاص طور پر بیان کرتے ہوئے کہا:حضرت فاطمہ زہرا(س) کا ارشاد ہے:’’ قیامت کے دن سورہ واقعہ،رحمٰن اور حدید کی تلاوت کرنے والے فردوس بریں میں ہونگے،فردوس بریں جنت کا ایک مرتبہ ہے ،اور جنتا انسان کے وجود میں قرآن اترا ہوگا بہشت میں اس کا مرتبہ اتناہی بلند ہوگا۔پس جنت میں انسان کے مراتب اتنے ہی زیادہ ہونگے جتنا اس کا قرآن پر عمل ہوگا۔
آیت اللہ صدیقی نے اپنے بیان کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا؛ جو شخص شب جمعہ میں سورہ واقعہ کی تلاوت کرتا ہے وہ کبھی فقیر نہیں ہوتا،اور وہ امیرالمؤمنین(ع) کی ولایت کے ساتھ دنیا سے جاتاہے ،چونکہ سورہ واقعہ ایک ایساقلعہ ہے جس میں وہ ولایت امیرالمؤمنین کے خزانہ کی حفاظت کرتا ہے۔
امام جمعہ تہران نے اس امر پر تأکید کرتے ہوئے کہ اہل بیت(ع) قرآن ناطق ہیں اور ان ذوات کا نطق اللہ کا نطق ہے ،بیان کیا:اہل بیت(ع) مشییت خدا کے ترجمان ہیں لہذا جب امام جعفر صادق علیہ السلام شب ہائے قدر میں سورہ توحید کی تلاوت کرتے تھے تو وجد میں آجاتے تھے ۔جو لوگ دنیا میں امام علی(ع) اور آپ کی آل پاک کی ولایت کو قبول نہیں کرتے وہ قیامت میں اندھے محشور ہونگے اور وہ کبھی جمال الہی کو نہیں دیکھ سکتے۔ اور حضرت زہرا قیامت میں علی(ع) کے شیعوں کی شفاعت کریں گی۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम