Code : 1143 38 Hit

اگر قیامت آنے میں ایک دن ہی باقی بچے تب بھی ظہور ہوکر رہے گا

اس اور اس جیسی دیگر روایات کہ جن میں یہ مضمون پایا جاتا ہے ’’کہ چاہے اس دنیا کا ایک دن ہی باقی رہ جائے تب بھی مہدی(عج) کا ظہور ضرور ہوگا‘‘ اس سے مراد ظہور کے قطعی ہونے کا کنایہ ہے کہ یقیناً ایسا ہوکر رہے گا اور اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ظہور صرف ایک دن کے لئے ہی ہوگا اور اس کے بعد یہ دنیا ختم ہوجائے گی۔ نہیں،بلکہ عقیدہ مہدویت کو راسخ کرنے کے لئے احادیث میں اس طرح کی تعبیرات ملتی ہیں تاکہ لوگ اپنے ذہن نشین کرلیں کہ قیامت سے پہلے ایک منظر ہوگا جسے ظہور کہا جاتا ہے اور یہ منظر ظاہر ضرور ہوگا چاہے ایک دن ہی کیوں نہ بچا ہو۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! حضرت امام مہدی(عج) کا ظہور دین کے ان مسلم عقائد میں سے ہے کہ جنہیں بلا تفریق، ہر مذہب و مکتب مانتا ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ عقیدہ مہدویت ان عقائد میں سے ہے کہ جو تمام ادیان ابراہیمی کے ساتھ ساتھ زمین پر انسانیت کی نجات کا پیغام دینے والے ہر دین میں بطور حقیقت تسلیم کیا جاتا ہے تو کوئی مبالغہ نہیں ہوگا چنانچہ روئے زمین کے بہت سے مذاہب و ادیان کا یہ مسلم  عقیدہ ہے کہ دنیا کے اختتام سے پہلے ایک منجی ظہور کرے گا جو پوری دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔
یہ تو تھی دیگر مذاہب و ادیان کی بات ۔اب بات کرتے ہیں خود شیعہ مذہب کی کہ جس کی اصل و اساس اور بنیاد ہی عقیدہ امامت اور پھر مہدویت پر استوار ہے۔چنانچہ پیغمبر اکرم(ص) نے ارشاد فرمایا:’’لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ اَلدُّنْيَا إِلاَّ يَوْمٌ وَاحِدٌ لَطَوَّلَ اَللَّهُ ذَلِكَ اَلْيَوْمَ حَتَّى يَخْرُجَ فَيَمْلَأَهَا عَدْلاً وَ قِسْطاً كَمَا مُلِئَتْ جَوْراً وَ ظُلْماً‘‘۔
اگر دنیا کی عمر کا صرف ایک دن ہی باقی بچا ہو تو اللہ تعالٰی اسے اتنا طویل کردے گا تاکہ وہ(امام مہدی(عج) ظہور کرے اور پھر وہ آکر زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی۔
قارئین! اس اور اس جیسی دیگر روایات کہ جن میں یہ مضمون پایا جاتا ہے ’’کہ چاہے اس دنیا کا ایک دن ہی باقی رہ جائے تب بھی مہدی(عج) کا ظہور ضرور ہوگا‘‘ اس سے مراد ظہور کے قطعی ہونے کا کنایہ ہے کہ یقیناً ایسا ہوکر رہے گا اور اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ظہور صرف ایک دن کے لئے ہی ہوگا اور اس کے بعد یہ دنیا ختم ہوجائے گی۔ نہیں،بلکہ عقیدہ مہدویت کو راسخ کرنے کے لئے احادیث میں اس طرح کی تعبیرات ملتی ہیں تاکہ لوگ اپنے ذہن نشین کرلیں کہ قیامت سے پہلے ایک منظر ہوگا جسے ظہور کہا جاتا ہے اور یہ منظر ظاہر ضرور ہوگا چاہے ایک دن ہی کیوں نہ بچا ہو۔اور جیسا کہ آج مہدویت پر طرح طرح کے اعتراضات کرنے والے یہ بہانا بناتے ہیں کہ یہ شیعوں کا من گھڑت عقیدہ ہے ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا اور اگر کوئی مہدی ہوتے تو ظہور ہوجاتا یہ سب افسانہ ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے!
لہذا ہم ان معترضین کو سمجھانا چاہتے ہیں کہ یہ کوئی افسانہ نہیں ہے بلکہ یہ وہ حقیقت ہے جس کا اعلان خود اللہ تعالٰی نے اپنی محکم و متقن کتاب قرآن مجید میں کئی جگہ کیا ہے:’’ وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ‘‘۔(سورہ قصص:۵)
ترجمہ:اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور بنادیا گیا ہے ان پر احسان کریں اور انہیں لوگوں کا پیشوا بنائیں اور زمین کا وارث قرار دیدیں۔
اور حدیث شریف کی یہ عبارت قرآن مجید کی اس آیت کی مانند ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ:’’ وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْضِ مِن شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِن بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّـهِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ‘‘۔(سورہ لقمان:۲۷)۔اور اگر روئے زمین کے تمام درخت قلم بن جائیں اور سمندر کا سہارا دینے کے لئے سات سمندر اور آجائیں تو بھی کلمات الہٰی تمام ہونے والے نہیں ہیں بیشک اللہ صاحبِ عزت ّبھی ہے اور صاحب حکمت بھی ہے۔
چونکہ ہم یہ بات جانتے ہیں کہ کلمات الہی کو تحریر کرنے کے لئے موجود دریاؤں کے ساتھ ساتھ اگر مزید دریا بھی آجاتے تو کیا کلمات الہی کو رقم کرسکتے تھے؟ نہیں! بلکہ کلمات الہی تمام ہونے والے نہیں ہیں۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम