Code : 1195 25 Hit

آیت اللہ صافی گلپائیگانی کی نظر میں منتظرین کی اہم ذمہ داری

غيبت کے اس زمانے میں ایمان پر ثابت رہنے والوں کو رسول اعظم اسلام صلّي الله عليه و آله و سلّم کے ہمراہ تلوار سےجهاد کرنے والوں کا ثواب ملے گا اور وہ اس قدر بلند مرتبہ ہیں کہ پيغمبر اکرم صلّي الله عليه و آله و سلّم نے انہیں اپنا بھائی پکارا ہے اور احادیث کی رو سے آنحضرت کو ان سے ملنے کا اشتیاق ہے.زمانۂ غیبت کے مؤمنین حزب اللہ ہیں اور وہ ظہور اور اسلام کی عالمی حکومت کے حقیقی منتظر ہیں کہ احادیث میں فرمایا گیا ہے:’’اولئک هم المخلصون حقّا و شيعتنا صدقاً و الدّعاة الي دين الله و جهرا اُولئک الذين يومنون بالغيب ثم اولئک حزب الله الا ان حزب الله هم المفلحون‘‘۔(صدوق، محمّد؛ کمال الدّين، ص۲۲۰) اور اس حدیث مبارکہ:’’المنتظر لامرنا کالمتشحِّط بدمه في سبيل الله‘‘۔(سوره توبه، آيه ۱۰۵) کی رو سے وہ اس شخص کی طرح ہیں کہ جو راہ خدا میں خون میں ڈوبا ہو.

ولایت پورٹل: نيمہ شعبان کی عظیم عید اور یگانہ منجی عالم کی ولايت،موعود انبياء و اوصياء،صفي انبياء،صاحب الزمان و کہف امان حضرت بقية ‌الله ارواح العالمين له الفداء کی محافل جشن تمام شیعوں اور  اس وليّ‌ يزدان کے محبوں کے لئے بہت بابرکت ومبارک موقع ہے کہ یوم اللہ اور اس بابرکت دن کے مولود کی روحانی مجالس و ولائی اجتماعات،جشن و سرور  کی نورانی محافل میں شرکت کرکے آنحضرت کے ساتھ معنوی رابطہ برقرار کریں  اور اخلاق کے مرتبہ و موافقت،فردی رفتار و کردار،سماجی ،سقافتی،اقتصادی و سیاسی صورت حال  کا جائزہ لیں اور خدا کی اس برگزیدہ ہستی کی اپنے شیعوں سے توقعات کا تجزیہ کریں۔
جو شخص اور سماج  اس محسابہ  اور امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی رضایت کے حصول میں کامیاب ہوجائے وہ یقیناً سعادتمند ہے۔اسی مناسبت سے میں حقیر امام منتظر حضرت ولی عصر عجل اللہ فرجہ الشریف کی محافل جشن میں شرکت کے افتخارات اور انتظار ظہور کے معنی و حقائق پر توجہ کرنےکی متعلق اپنے مؤمن بھائیوں اور بہنوں کی خدمت میں کچھ کلمات بیان کرنا چاہتا ہوں۔
جشن کی ان محافل میں شریک ہونے والوں، چراغاں کرنے والوں،بازاروں ،گلی کوچوں ،مسجدوں،امام بارگاہوں کو سجانے والوں ، فضائل ومناقب کے بیانات، تقاریر ،قصائد،اشعار ،مدح خوانی کی محافل کا انعقا کرنے والوں اور آنحضرت سے اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کرنے والوں ،ضیافت و طعام اور تبرک کا اہتمام کرکے اپنی اور دوسروں کی روحانی و ایمانی نشاط میں اضافہ کرنے والوں،اپنے شیعہ ہونے پر افتخار کرنے والوں،امام عصر کے فراق میں گریہ و نالہ کرنے والوں،آنحضرت کو پکارنے والوں اور ’’يابن الحسن، يابن الحسن‘‘ کہنے ولوں کو خدا کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ جس نے ان کے قلوب کوامام زمانہ عليہ السّلام کی معرفت سے سرشار فرمایا اور انہیں جاہلیت کی موت سے نجات دی اور حجت تامہ، کلمہ کاملہ سبحان کی منزل حقيقت اور  ايمان و معرفت کی طرف ہدایت فرمائی۔
یہ جان لیں کہ زمانۂ غیبت امتحان و آزمائش  اورخالص ہونے کا زمانہ ہے۔سعادتمند اور ایمان پر ثابت قدم رہنے والے غیبت کے  زمانے میں بھی انسان ساز مکتب میں وابستہ رہ کر خودسازی کرتے ہیں۔مختلف حوادث،مشکلات اور سختیاں  انہیں ہلا نہیں سکتیں اور ان  کے ایمان کو متزلزل نہیں کر سکتیں اور وہ تند و تیز ہواؤں کا ثابت قدمی سے مقابلہ کرتے ہیں  کہ جس سے وہ کمزور ایمان اور ارادے کے حامل افراد سے ممتاز ہوتے ہیں۔
جس قدر بھی دین و دینداری سے وابستہ رہنا دشوار ہوتا جائے اورمختلف قسم کی  ظاہری محرومیت وجود میں آتی جائیں اسی قدر ان کا ایمان اور عہد و پیمان مزید قوی ہوتاجائے گا اور ان پر ایسی حدیثوں کی صداقت و سچائی واضح ہوتی جائے گی کہ جن میں زمانہ غیبت کے واقعات،کچھ گناہوں کے عام ہونے ،غنا و موسیقی،لڑکے اور لڑکیوں کی صورت حال ،مرد و زن کے اختلاط اور دوسرے امور کی خبر دی گئی ہے۔بعض روایات کے مطابق ان شرائط میں دین کی حفاظت و نگہداری اس طرح سخت و دشوار ہو جائے گی کہ  جس طرح  ہاتھ کی ہتھیلی پر  آگ کی حفاظت کرنا۔نیز دیگر حدیث میں بیان ہوان ہے:’’إن لصاحب هذا الامر غيبة المتمسّک فيها بدينه کالخارط للقتاد‘‘۔(الغیبة نعمانی، ص۱۱۲)
غيبت کے اس زمانے میں ایمان پر ثابت رہنے والوں کو رسول اعظم اسلام صلّي الله عليه و آله و سلّم کے ہمراہ تلوار سےجهاد کرنے والوں کا ثواب ملے گا اور وہ اس قدر بلند مرتبہ ہیں کہ پيغمبر اکرم صلّي الله عليه و آله و سلّم نے انہیں اپنا بھائی پکارا ہے اور احادیث کی رو سے آنحضرت کو ان سے ملنے کا اشتیاق ہے.زمانۂ غیبت کے مؤمنین حزب اللہ ہیں اور وہ ظہور اور اسلام کی عالمی حکومت کے حقیقی منتظر ہیں کہ احادیث میں فرمایا گیا ہے:’’اولئک هم المخلصون حقّا و شيعتنا صدقاً و الدّعاة الي دين الله و جهرا اُولئک الذين يومنون بالغيب ثم اولئک حزب الله الا ان حزب الله هم المفلحون‘‘۔(صدوق، محمّد؛ کمال الدّين، ص۲۲۰) اور اس حدیث مبارکہ:’’المنتظر لامرنا کالمتشحِّط بدمه في سبيل الله‘‘۔(سوره توبه، آيه ۱۰۵) کی رو سے وہ اس شخص کی طرح ہیں کہ جو راہ خدا میں خون میں ڈوبا ہو.
یہ سب آپ شیعوں،منتظرخواتین و حضرات،احکام کی پابندی کرنے والوں اور امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے وفاداروں کے فضائل ہیں۔آنحضرت کے منتظرین کو عاقل و ہوشیار ہونا چاہئے اور ان فضائل کی پاسداری کرنی چاہئے کہ کہیں وہ سوء تلقین اور فریب دینے والے الفاظ سے دھوکا کھا کر احکام الٰہی کے سامنے تسلیم ہونے سے دستبردار نہ ہو جائیں اور حکومت الٰہی و قرآن اور امام زمانہ علیہ السلام کے تحت سے خارج نہ ہو جائیں۔
انسانی حقوق اور مرد و خواتین کے وہی حقوق ہیں کہ جو خدائے بشر اور خدائے مرد و زن نے معین فرمائے ہیں اور ان کے علاوہ باقی سب گمراہی و ضلالت اور فساد و تباہی کا خزانہ ہیں کہ جو حیوانی زندگی کی طرف جانے کا راستہ ہیں۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम