Code : 488 9 Hit

آیت اللہ العطمٰی شاہرودی اسلامی انقلاب کا محکم ستون

عراق میں نامساعد حالات کے پیش نظر آیت اللہ محمود ہاشمی شاہرودی ایران میں انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد آیت اللہ باقر الصدر علیہ الرحمہ کے کہنے پر پہلے کویت تو بعدازاں ایران تشریف لے آئے. آپ ایران میں آیت اللہ باقر الصدر علیہ الرحمہ کے وکیل مطلق کے مقام پر نیز فائز رہے۔آپ امام خمینی علیہ الرحمہ کے حوزہ علمیہ نجف کے ساتھ رابطے کی ذمہ داری نبھاتے رہے،اسی دوران آپ نے حوزہ علمیہ نجف کی انقلابی اور مجاہدانہ صلاحیتوں سے استفادہ کرنے کے لئے مجلس اعلائے علمائے نجف تشکیل دی اور اس کے پہلے سربراہ قرار پائے، آیت اللہ باقر الحکیم کے باقاعدہ سربراہ بننے کے بعد آپ کا مجلس اعلاء کے بانی ممبر کی حیثیت سے فعال کردار رہا۔

ولایت پورٹل: آیت اللہ العظمٰی سید محمود ہاشمی شاہرودی 1947 عیسوی میں عراق کے شہر نجف اشرف میں پیدا ہوئے. آپ کے والد بزرگوار آیت اللہ علی ہاشمی شاہرودی ایران کے صوبہ خراسان کے عالم و فاضل گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔حوزہ ہائے علوم دینیہ کی رسم کے مطابق آیت اللہ محمود ہاشمی شاہرودی کی عمامہ گذاری کی رسم آیت اللہ العظمی خوئی علیہ الرحمہ کے ہاتھوں سے انجام پائی جبکہ اس وقت آیت اللہ شاہرودی کی عمر صرف 14 سال تھی۔
آیت اللہ محمود ہاشمی شاہرودی کا شمار آیت اللہ العظمی محمد باقر الصدر علیہ الرحمہ کے خاص شاگردوں میں ہوتا تھا، جب آپ 30 سال کی عمر کو پہنچے تو آپ نے آیت اللہ باقر الصدر سے ہی اجتہاد کی سند حاصل کی، آیت اللہ باقر الصدر نے سند اجتہاد دیتے وقت آیت اللہ محمود ہاشمی شاہرودی کو مکتب تشیع اور مسلمانوں کی امید قرار دیا تھا۔
رہبر کبیر حضرت امام خمینی علیہ الرحمہ کے نجف میں قیام کے دوران دو ہی شخصیات امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ اور آیت اللہ باقر الصدر کے درمیان رابطے اور تبادل نظرات کا ذریعہ تھے۔ایک خود فرزند امام خمینی حجت الاسلام والمسلمین سید احمد خمینی اور دوسرے آیت اللہ محمود ہاشمی شاہرودی،یہاں تک کہ آپ امام خمینی علیہ الرحمہ کے شاگردوں اور قریبی ساتھیوں میں شمار کئے جانے لگے اور اسی وجہ سے آپ کو صدام کی بعثی حکومت کے ہاتھوں زندان و شکنجے کی اذیتیں نیز اٹھانا پڑیں تھیں۔
عراق میں نامساعد حالات کے پیش نظر آیت اللہ محمود ہاشمی شاہرودی ایران میں انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد آیت اللہ باقر الصدر علیہ الرحمہ کے کہنے پر پہلے کویت تو بعدازاں ایران تشریف لے آئے. آپ ایران میں آیت اللہ باقر الصدر علیہ الرحمہ کے وکیل مطلق کے مقام پر نیز فائز رہے۔
آپ امام خمینی علیہ الرحمہ کے حوزہ علمیہ نجف کے ساتھ رابطے کی ذمہ داری نبھاتے رہے،اسی دوران آپ نے حوزہ علمیہ نجف کی انقلابی اور مجاہدانہ صلاحیتوں سے استفادہ کرنے کے لئے مجلس اعلائے علمائے نجف تشکیل دی اور اس کے پہلے سربراہ قرار پائے، آیت اللہ باقر الحکیم کے باقاعدہ سربراہ بننے کے بعد آپ کا مجلس اعلاء کے بانی ممبر کی حیثیت سے فعال کردار رہا۔
آیت اللہ محمود ہاشمی شاہرودی 1994 میں شورائے نگہبان کے رکن منتخب ہوئے، آپ 1999 سے 2009 تک تقریباً دس سال ایران کی عدلیہ کے سربراہ رہے ہیں، ایرانی عدلیہ کی تاریخ میں آیت اللہ محمود ہاشمی شاہرودی کی سربراہی کے دور کو عدلیہ کی اصلاحات کا سہنری دور کہا جاتا ہے۔
2009 میں آپ دوبارہ شورائے نگہبان کے رکن منتخب ہوگئے،آیت اللہ ہاشمی شاہرودی 2016 میں آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی کی وفات کے بعد مجمع تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ منتخب ہوئے، آپ مجلس خبرگان کے نائب سربراہ بھی تھے۔
آیت اللہ ہاشمی شاہرودی ان چند آیات عظام میں نمایاں تھے جو رہبر معظم آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای حفظہ اللہ کے رہبر بننے کے بعد ان کی علمی استعداد و درخشش سے مستفید ہونے کے لئے ان سے باقاعدہ علمی مباحثہ کیا کرتے تھے۔ رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای نے آیت اللہ محمود ہاشمی شاہرودی کو فقہی تحقیقات کے ادارے کا سربراہ بھی منصوب کر رکھا تھا۔
رہبر معظم آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای حفظہ اللہ آیت اللہ محمود ہاشمی شاہرودی کے ساتھ خاص انس اور آپ کی علمی صلاحیت و استعداد سے بخوبی واقف اور متعدد مواقع پر اس کا اظہار بھی کرتے رہتے تھے۔
آیت اللہ ہاشمی شاہرودی کے عدلیہ کی سربراہی کے دور میں رہبر معظم نے کئی بار آیت اللہ شاہرودی کی استعداد اور انقلاب اسلامی کے لئے ان کی خدمات کو سراہا ہے۔
رہبر معظم نے عدلیہ کے عہدیداروں اور ججز سے جون 2008 کے اپنے ایک خطاب میں فرمایا کہ:’’خوش قسمتی سے عدلیہ کی سربراہی اس وقت ایک عالم فاضل اور دینی اصول و موضوعات پر مسلط مجتہد حضرت آیت اللہ شاھرودی کے پاس ہے، یہ بہت اچھی فرصت ہے، عدلیہ میں اس طرح کی نمایاں شخصیات کا ہونا بہت اچھی فرصت ہے‘‘۔
آیت اللہ محمود ہاشمی شاہرودی انتظامی عہدوں پر فائز رہنے کے ساتھ ساتھ تحقیق و تصنیف میں بھی گرانبہا قلمی و شفاہی سرمایہ چھوڑ کرگئے ہیں۔
آیت اللہ شاہرودی اصول، فقہ اور معارف اسلامی کے مختلف موضوعات پر تقریباً 2۶ کتابوں کے مصنف  بھی ہیں،چنانچہ ذیل میں انکے اسماء پیش کئے جاتے ہیں:
1ـ بحوث‌ فى علم‌ الاصول‌ (تقريرات‌ درسهاى اصول‌ شهيد صدر در 7 جلد)
2 ـ كتاب‌ الخمس‌ (2 جلد)
3 ـ مقالات‌ فقهيه‌
4 ـ قاعده‌ فراغ‌ و تجاوز
5 ـ حكومت‌ اسلامي‌
6 ـ جهان‌ بينى اسلامي‌
7 ـ تفسير موضوعى بخشى از نهج‌ البلاغه‌8 ـ تفسير آيه‌ «مودت‌ ذى القربي‌»
9 ـ بحوث‌ فى الفقه‌ الزراعی
10 ـ محاضرات‌ فى الثورة‌ الحسينية‌
11 ـ الصوم‌، تربية‌ و هداية‌
12 ـ كتاب‌ الاجارة‌ (2 جلد)
13 ـ کتاب الزکاة (4 جلد)
14- کتاب المضاربة
15- قراءات فقهیه معاصره (2جلد)
16- بحثهایی پیرامون اصول فقه
17- درسنامه اصول فقه
18- رساله توضیح المسائل
19- مناسک حج فارسی وعربی
20 – الصوم مسائل وردود
21- پرسشها وپاسخهایی پیرامون روزه
22- الصراط (اجوبه الاستفتاءات)
23- کتاب الحج
24- اضواء و آراء (3 جلد)
25- منشور قضاء
26- صحیفه عدالت (8 جلد)
آیت اللہ محمود ہاشمی شاہرودی کچھ عرصے سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھے. دسمبر 2017 میں آپ اپنے علاج کے سلسلے میں جرمنی تشریف لے گئے تھے۔ اس کے بعد آپ واپس ایران آگئے اور یہیں علاج جاری رکھا، تقریباً 3 ماہ پہلے آپ مجمع مصلحت تشخیص نظام کے اجلاس میں آخری بار شریک ہوئے تھے جس کے بعد سے ڈاکٹرز نے زیادہ گفتگو کو آپ کی صحت کے لئے نقصان دہ قرار دیا تھا، ان آخری چند ایام میں آیت اللہ ہاشمی شاہرودی تہران کے خاتم الانبیاء ہسپتال میں زیر علاج تھے۔انقلاب اسلامی کے اس توانا بازو اور تشیع کے اس وارستہ فقیہ و مجتہد اور مکتب محمد و آل محمد (ص) کے اس عظیم علمی چراغ نے 24 دسمبر 2018 بروز پیر رات 11 بجے کے قریب اس دار فانی کو وداع کہا،اور  ۲۶ دسمبر سن ۲۰۱۸ بروز بدھ ایرانی وقت کے مطابق ۲:۳۰ قم شہر معصومہ سلام اللہ علیہا کے حرم پاک میں سپرد خاک ہوئے۔





0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम