Code : 480 27 Hit

آسمان فقہاہت پر چمکتا ہوا آفتاب ملا محمد کاظم آخوند خراسانی

طالب علمی کے دور میں آخوند کی زندگی معاشی پریشانیوں میں گذری اور اس کے بعد بھی ان کی زندگی زاہدانہ طور پر بتائی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ دوسروں کے لئے حتی اپنے مخالفین کے لئے بیحد سخی اور کھلے ہاتھ کے تھے، لیکن اپنے اور اپنے بچوں کی معیشت کے سلسلہ میں سختگیر تھے اور وہ وجوہات شرعیہ کو بھی اپنے ذاتی اخراجات کے لئے خرچ نہیں کرتے تھے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! یوں تو آسمان فقاہت و اجتہاد پر بڑے بڑے آفتابوں نے طلوع کیا لیکن ابھی تقریباً 100 برس پہلے کی نہایت ہی بااثر شخصیت ملا محمد کاظم خراسانی (1255۔1329ہجری) آخوند خراسانی کے نام سے معروف ہیں جو علماء کے درمیان اپنی علمی جلالت کے باعث خاص احترام سے یاد کئے جاتے ہیں۔
کفایۃ الاصول جیسی مہم کتاب کے مولف اور ایران میں نہضت مشروطہ کے اصلی حامیوں میں سے تھے۔ وہ مشروطہ تحریک کو عوام پر ہونے والے ظلم و ستم کو روکنے کا ذریعہ اور اس تحریک میں شرکت کو تمام مسلمین کے لئے واجب مانتے تھے۔ آخوند خراسانی نے 13 جمادی الاول 1326 ہجری میں محمد علی شاہ کے ذریعہ مجلس کے آگے توپ لگا کر اسے بند کئے جانے پر جہاد اور مقابلہ کا حکم صادر کیا۔
آخوند خراسانی نے اپنی زندگی میں بہت سے شاگرد اور مجتہد تربیت کئے۔ انہوں نے 1329 ہجری میں 74 سال کی عمر میں وفات پائی۔ بعض نے ان کی موت کو مشکوک قرار دیا ہے۔
آخوند خراسانی 1255 ہجری میں مشہد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ملا حسین ہروی خراسانی ہرات کے رہنے والے عالم دین تھے جنہوں نے اپنے بیٹے محمد کی ولادت سے پہلے مشہد کی طرف ہجرت کرلی تھی۔
ملا محمد کاظم خراسانی نے 20 ذی الحجہ 1329 ہجری میں سہ شنبہ کے روز سحر کے وقت اپنے گھر میں نماز صبح پڑھانے کے بعد 74 سال کی عمر میں وفات پائی۔بعض نے ان کی موت کا سبب زہر ذکر کیا ہے۔
تشییع کے بعد عبد اللہ مازندرانی نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور انہیں میرزا حبیب اللہ رشتی کے مرقد میں جو روضۂ امام علی (ع) کے صحن میں واقع ہے، دفن کر دیا گیا۔
ابتدائی تعلیم
ملا محمد کاظم خراسانی نے دینی علوم مشہد میں اپنے والد اور دوسرے اساتذہ سے حاصل کئے۔ اس کے بعد 1277 ہجری میں اعلی تعلیم کے لئے نجف اشرف کا رخ کیا۔
نجف جانے سے پہلے آخوند خراسانی نے تین ماہ تک سبزوار میں ملا ہادی سبزواری کے فلسفہ کے درس میں شرکت کی۔ تہران پہچنے کے بعد کچھ عرصہ مدرسہ صدر میں قیام کیا اور میرزا ابو الحسن جلوہ اور ملا حسین خوئی سے فلسفہ و حکمت پڑھا۔
اساتذہ
آخوند خراسانی نے دو سال سے زیادہ عرصہ شیخ مرتضی انصاری کے محضر سے استفادہ کیا۔ان کے دوسرے استاد میرزائے شیرازی تھے آخوند ان کے عمومی دروس کے ساتھ ساتھ خصوصی دروس میں بھی شرکت کرتے تھے۔ انہوں نے چند سال تک سید علی شوستری جو استاد اخلاق بھی تھے، کے درس فقہ میں بھی شرکت کی۔ آخوند کے فقہ و اصول کے دوسرے اساتذہ میں شیخ راضی نجفی بھی شامل ہیں۔
جس وقت میرزای شیرازی نے سامرا ہجرت کی اس وقت آخوند خراسانی کا شمار نجف کے مشہور استاد کے طور پر ہوتا تھا. لہذا میرزا کے وہ شاگرد جو نجف میں ہی رک گئے تھے میرزا نے انہیں آخوند کے درس میں شرکت کرنے کا حکم دیا۔ جو میرزا کے جانشین کے طور پر سمجھے جاتے تھے۔
1312ہجری میں محمد حسن شیرازی کے انتقال کے بعد اور بہت سے افراد کے حوزہ سامرا سے نجف لوٹ آنے اور ان میں سے زیادہ تر افراد کے آخوند کے درس میں ملحق ہو جانے اور اسی دوران عتبات میں ان کے معاصر علماء کے انتقال کے سبب، حوزہ علمیہ نجف میں بتدریج ان کا مقام ایک برجستہ استاد کے طور پر تثبیت ہو گیا اور ان کا درس حوزہ علمیہ نجف کے بزرگ ترین درس میں شمار ہونے لگا۔
1323 ہجری میں لکھے گئے ایک سفر نامہ کے مطابق، ان کا فقہ کا درس خارج جو مسجد ہندی میں ہوا کرتا تھا، اس میں چھ سو سے لیکر سات سو افراد تک شرکت کیا کرتے تھے اور ان کا اصول فقہ کا درس مسجد طوسی میں ہوتا تھا جس میں تقریبا ایک ہزار کے قریب افراد شریک ہوتے تھے۔
تدریسی خصوصیات
آخوند خراسانی جلسات درس کے انعقاد کو لیکر بیحد سنجیدہ تھے اور کسی بھی صورت میں اپنے درس کی چھٹی نہیں کرتے تھے۔یہاں تک کہ نجف میں وباء پھیل جانے کی واقعہ میں جس میں زیادہ تر دروس کی چھٹی ہوچکی تھی۔
بعض برسوں میں جب وہ نیمہ اول رجب میں زیارت کے لئے کربلا جاتے تھے تو وہاں پر بھی درس جاری رکھتے تھے اور ماہ مبارک رمضان میں بھی جب حوزہ کے متداول درس بند ہو جایا کرتے تھے وہ اصول عقاید یا اخلاق جیسے مباحث تدریس کیا کرتے تھے۔
آخوند خراسانی فقہ کا درس فارسی میں اور اصول فقہ کا عربی میں دیتے تھے۔
میرزای شیرازی کے انتقال کے بعد اور ان کے بعض مقلدین کے آخوند کی طرف رجوع کرنے اور استفتائات کے جوابات دینے کے سلسلہ میں اپنے شاگردوں کی ایک مشورتی میٹینگ تشکیل دیا کرتے تھے۔ جس میں سید ابوالحسن اصفہانی، محمد حسین غروی اصفہانی، سید حسین طباطبائی بروجردی، عبد الکریم حائری، آقا ضیاء الدین عراقی، آقا حسین قمی، میرزا محمد حسین نائینی شرکت کرتے تھے۔
آخوند کے شاگرد
ان کے اصول فقہ کے درس میں شرکت کرنے والے شاگردوں کی تعداد 1200 سے زیادہ ہوا کرتی تھی کہ جن میں سے 500 کے قریب شاگرد مجتہد یا قریب بہ اجتہاد تھے۔
آخوند کے بعض شاگردوں کے اسماء  درج ذیل ہیں:
•ميرزا محمد حسین نائینی
•سید ابوالحسن اصفہانی
•حسین طباطبائی بروجردی
•حاج آقا حسین قمی
•محمد حسین کاشف الغطاء
•محمد حسین غروی اصفہانی
•آقا ضیاء عراقی
•میرزا جواد آقا ملکی تبریزی
•سید احمد کربلایی
•سید علی آقا قاضی
•محمد علی شاه آبادی
•عبد الکریم حائری
•سید محمد تقی خوانساری
•سید صدر الدین صدر
•شیخ حسن علی نخودکی اصفہانی
•سید عبد الله بہبہانی
•شیخ عباس قمی
•شیخ محمد جواد بلاغی
•سید محسن امین عاملی
•سید ابو القاسم کاشانی
•سید حسن مدرس
•سید عبد الہادی شیرازی
•سید محمود شاہرودی
•سید محسن حکیم
•سید احمد خوانساری
•میرزا احمد کفایی
•آقا نور الدین عراقی
•سید جمال الدین گلپایگانی
•شیخ علی زاہد قمی
•آقا نجفی قوچانی
•آقا بزرگ تہرانی
علمی آثار
آخوند خراسانی کے آخر عمر میں مرجعیت کے امور کی مشغولیتوں اور خاص طور پر مشروطہ تحریک کے سبب آپ کی کئی اہم تالیفات ادھوری ہی رہیں۔
ان کے آثار و تالیفات تین طرح کے ہیں: استدلالی تصنیف، فتوائی تالیفات اور ان کے دورس کی تقریرات۔
استدلالی تصنیفات
یہ تصنیفات فقہ، اصول فقہ اور فلسفہ کے مباحث پر مشتمل ہیں جو یا مستقل طور پر یا دوسروں کی تالیفات پر حاشیہ اور شرح کے طور پر تصنیف کی گئی ہیں۔
•ان میں بزرگ ترین و مشہور ترین کتاب کفایۃ الاصول ہے جو (1321 ہجری کے بعد) دو سال کی مدت میں تالیف کی گئی ہے اور تالیف کے بعد سے آج تک سطوح عالی کی مہم ترین کتاب ہے جو نصاب درسی میں تدریس کی جاتی ہے اور اسی طرح سے وہ حوزات علمیہ اور مدارس دینیہ میں زیادہ تر درس خارج کے مباحث کا محور ہے۔ اس کتاب پر بہت سی شرحیں اور حاشیے لکھے جا چکے ہیں۔ اس کتاب کی تالیف کے بعد ان کی شہرت صاحب کفایہ کے نام سے بھی ہو گئی اور ان کی اولاد کفایی مشہور ہو گئی یا انہوں نے اپنے لئے اس لقب کو اختیار کر لیا ہے۔
•ان کی ایک دوسری تصنیف شیخ انصاری کی کتاب فرائد الاصول جو رسائل کے نام سے مشہور ہے، پر حواشی و تعلیقات ہیں۔
•آخوند کی ایک اور تصنیف الفوائد یا رسالۃ الفواید ہے جو 15 موضوعات پر مشتمل ہے جس میں دو مورد فقہی، گیارہ مورد اصولی اور دو مورد اصولی و کلامی ہیں۔
•آخوند کے فقہی آثار میں سے ایک شیخ انصاری کی کتاب المکاسب کے زیادہ تر حصے پر لکھے گئے ان کے حواشی و تعلیقات ہیں، جس کی تالیف محرم 1319ہجری میں مکمل ہوئی اور جو بارہا شائع ہوکر منظر عام پر بھی آئی۔
•آخوند کی تالیفات میں سے ایک، کتاب التبصرہ پر لکھا گیا تکملہ ہے جو ان کا مہم ترین رسالہ فتوائی ہے جو انہوں نے علامہ حلی کی مشہور کتاب تبصرۃ المتعلمین کی بنیاد پر تحریر کی ہے۔
•انہوں نے کئی فقہی۔استدلالی رسالے بھی مختلف موضوعات پر تحریر کئے ہیں جن میں سے بعض کو ایک جلد میں جمع آوری کرکے الرسالۃ الفقہیۃ کے عنوان سے شائع کیا گیا ہے۔
•آخوند کی فقہی تالیفات میں سے ایک البتہ نامکمل تالیف کتاب الاجارۃ (رسالۃ فی مسئلۃ الاجارۃ) ہے۔
•آخوند کی دوسری تصنیفات میں سے ایک نہج البلاغہ کے خطبہ اول پر ایک مبسوط و مفصل شرح ہے۔
اخلاقی سیرت
جو لوگ آخوند خراسانی کو قریب سے جانتے تھے وہ انہیں پرہیز گار، شجاع، با ہوش، نیک گفتار، خندہ پیشانی با ہیبت، سلامت نفس، سعہ صدر والا عالم مانتے ہیں اور ان میں عفو و در گذشت کی خوبی زبان زد عام و خاص تھی۔
طالب علمی کے دور میں آخوند کی زندگی معاشی پریشانیوں میں گذری اور اس کے بعد بھی ان کی زندگی زاہدانہ طور پر بتائی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ دوسروں کے لئے حتی اپنے مخالفین کے لئے بیحد سخی اور کھلے ہاتھ کے تھے، لیکن اپنے اور اپنے بچوں کی معیشت کے سلسلہ میں سختگیر تھے اور وہ وجوہات شرعیہ کو بھی اپنے ذاتی اخراجات کے لئے خرچ نہیں کرتے تھے۔
آخوند خراسانی نے مشہد میں طالب علمی کے زمانہ ہی میں 17 سال کی عمر میں شادی کی۔ ان کے یہاں ایک بیٹے کی ولادت ہوئی مگر اس کا انتقال ہو گیا۔ ان کی زوجہ کا دوسرے بچے کی پیدائش کے وقت بچہ کے ہمراہ انتقال ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد ایک طویل مدت تک انہوں نے مجرد زندگی گذارنے کے بعد اپنے استاد میرزای شیرازی کی مشورہ پر عمل کرتے ہوئے پھر سے شادی کی۔ ان کی دوسری اہلیہ سے چار بچے ہوئے: جن میں تین بیٹے جن کے نام مہدی، محمد و احمد ہیں اور ایک بیٹی ہے جس کا نام زہرا ہے۔ 1315 ہجری میں ان کی دوسری بیوی کا ایک طویل علالت کے بعد انتقال ہو جاتا ہے۔ ان کی تیسری شادی کے نتیجہ میں دو بیٹے حسین اور حسن پیدا ہوئے۔ 1322ہجری میں ان کی تیسری زوجہ کا ایک وبا میں مبتلا ہو کر انتقال ہو جاتا ہے۔ ان کی چوتھی اور آخری بیوی ان کی رحلت کے سالہا بعد تک زندہ رہیں اور 90 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम