Code : 497 11 Hit

آج کے انسان کی مشکل دین سے فرار نہیں بلکہ دین سازی ہے

آج کے دور میں انسان کی مشکل دین سے منھ موڑنا اور فرار کرنا نہیں ہے بلکہ خود ساختہ دین بنانا ہے تاکہ اس طرح اس کی فطرت کا مطالبہ بھی پورا ہوجائے اور اسے کوئی ذمہ داری بھی پوری نہ کرنا پڑے۔

ولایت پورٹل: آج بشریت کی مشکل دین سے فرار کرنا نہیں ہے چونکہ انسان اپنی فطرت کے تحت چاہے اسے پسند ہو یا پسند نہ ہو وہ دین کو ترک نہیں کرسکتا چونکہ دین ایک ایسی حقیقت اور ضرورت ہے جس سے انسان کبھی منھ نہیں موڑ سکتا،چونکہ کسی بھی ضروری شئی سے مقابلہ کرنے کے سنگین نتائج برآمد ہوتے ہیں۔
پس آج کے دور میں انسان کی مشکل دین سے منھ موڑنا اور فرار کرنا نہیں ہے بلکہ خود ساختہ دین بنانا ہے تاکہ اس طرح اس کی فطرت کا مطالبہ بھی پورا ہوجائے اور اسے کوئی ذمہ داری بھی پوری نہ کرنا پڑے۔
اس مطلب کو آپ اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ مکہ کے رہنے والے بت پرست، بے دین نہیں تھے بلکہ وہ بتوں کو دین کے نام پر ہی پوجتے و پرستش کرتے تھے ،لہذا اس معاشرے کے نابغہ،پر قدرت اور جاہلی دور کے سرکردہ افراد نے ان کے لئے ایک دین بنایا تھا جس پر وہ شدت کے ساتھ عمل پیرا تھے چونکہ فطرتاً بشر دین کے بغیر اپنی روح کی تسکین کا سامان فراہم نہیں کرسکتا۔
اور اسی طرح جب حضرت موسٰی علیہ السلام  عبادت کرنے کے لئے کوہ طور کی طرف گئے سامری نے لوگوں کے سامنے سونے سے ایک بچھڑے کا پتلہ بنایا اور اسے ایک نئے دین کے طور پر پیش کردیا۔ اور اس زمانے کے لوگوں نے صرف یہ ہی نہیں کہ کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ خواص، نابغہ اور سماجی حیثیت رکھنے والوں سامری کے اس ہنر اور فن کی داد بھی دی اور ساتھ میں لوگوں کو اسے پوجنے کی طرف رغبت بھی دلائی۔
کربلا کے میدان میں سب لوگ جو امام حسین(ع) کے مد مقابل تھے انہیں دین سے کوئی پرخاش نہیں تھی بلکہ وہ تو بنام دین ہی، امام حسین علیہ السلام سے جنگ لڑنے آئے تھے چونکہ بنی امیہ نے انہیں ایک نیا اور منحرف دین بنا کر دے رکھا تھا۔
پس بشریت کی مشکل یہ ہے کہ انہیں اللہ کا دیا ہوا اور بھیجا ہوا دین نہیں چاہیئے بلکہ انہیں اپنی خواہش اور رغبت کے سانچے میں ڈھلا ہوا دین چاہیئے ایسا دین کہ جو ان کے منافع اور لذتوں کو بغیر کسی محدودیت کے پورا کرتا رہے،یہی وہ موقع ہوتا ہے کہ جب انسان ایک خود ساختہ دین بنا لیتا ہے اور دین کی ہی شمشیر سے دین پر حملہ  کرنے لگتا ہے۔
لہذا وہ لوگ کہ جو نماز بھی پڑھتے ہیں اور سود بھی کھاتے ہیں،عبادت بھی کرتے ہیں اور نا محرم سے واسطہ بھی رکھتے ہیں در حقیقت ان لوگوں نے اپنے واسطے ایک ایسا ہی دین بنا رکھا ہے۔
لہذا اس تمہید کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کی اس مبارک حدیث کا مطلب بالکل واضح ہوجاتا ہے:’’ الناسُ عبیدُ الدنیا و الدین لعق علی السنتهم یحوطونه مادرَّت معایشُهم فاذا مُحَّصوا بالبلاء قَلَّ الدَیّانون‘‘۔(تحف العقول،ص 245 )
لوگ دنیا کے غلام ہیں اور دین ان کی زبانوں کا چٹخارہ ہے،جب تک دین ان کی زندگی گذارنے کا ذریعہ ہے، ان کے پاس دین ہے لیکن جیسے ہی ان پر کوئی مشکل آن پڑتی ہے دینداروں کی تعداد کم ہوجاتی ہے۔

 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम