Code : 503 13 Hit

آئینہ انقلاب اسلامی ایران

انقلاب اسلامی دنیا بھر میں بغیر خمینی(رح) کے نام کے پہچانا نہیں جاسکتا، کیوںکہ انقلاب کا آغاز کرنے والے وہی ہیں اور انھوں نے ہی اسے مشکل اور دشواریوں کے موقع پر سنبھالا اور لے کر آگے بڑھے۔ دشوار ترین حالات کے باوجود انھوں نے ایرانیوں کے اسلامی انقلاب کو ایک نمونہ بناکر پیش کردیا۔

ولایت پورٹل: تاریخ کے اس عہد میں اسلامی انقلاب کا آغاز امام خمینی(رح) کی مؤثر اور بلند بانگ دعوت سے ایران کے ستم زدہ مجبور اور بے یار و مددگار معاشرے میں ہوا، یہ وہ معاشرہ تھا جہاں دولت اور جبروتیت مجبوروں کا گلا گھونٹے دے رہی تھی، لیکن اک بارگی اس عظیم فقیہ کی گونجتی ہوئی پکار نے ناانصافی کے اس نقاب کو تار تار کردیا اور ساتھ ہی آزادی اور نجات کامژدہ سنایا۔
اس لمحہ سے جب کہ یہ تنہا دعوت عوام کو جگا رہی تھی اس دن تک جب کہ عوام کی گھٹتی ہوئی فریاد ایک للکار میں بدل گئی۔ تلخیوں اور خون خرابے کا دور ختم ہوا اور وہ سکون نصیب ہوا جو ہماری مجبور و محکوم قوم کو حاصل نہ تھا۔ وہ ایام جب کہ مجرموں کی پٹھو سرکار سچائی، انصاف اور مساوات کی راہ میں روڑے اٹکانے کے لئے اس خدائی سرزمین کے بہادر نوجوانوں کا خون بہارہی تھی۔
انقلاب ایران اور امام خمینی(رح) دو ایسے اجزاء ہیں جو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیے جاسکتے۔ ایران کے اسلامی انقلاب کا تجزیہ اس کے رہبر کی عظیم شخصیت کے تجزیے کے بغیر اور اس کی کثیر الابعاد شخصیت کے جلووں کو پورے طور سے سمجھے بغیر ناممکن ہے۔
انھوں نے انقلاب اسلامی کا آغاز کیا اور اسے ثمردار کیا، اسلامی انقلاب نے انھیں اس بلندترین روایتی منصب پر پہنچایا کہ جہاں انسانیت ایک ابدی صورت اختیار کرلیتی ہے۔
انقلاب اسلامی دنیا بھر میں بغیر خمینی(رح) کے نام کے پہچانا نہیں جاسکتا، کیوںکہ انقلاب کا آغاز کرنے والے وہی ہیں اور انھوں نے ہی اسے مشکل اور دشواریوں کے موقع پر سنبھالا اور لے کر آگے بڑھے۔ دشوار ترین حالات کے باوجود انھوں نے ایرانیوں کے اسلامی انقلاب کو ایک نمونہ بناکر پیش کردیا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہوسکتا ۔ اسلامی انقلاب میں امام خمینی(رح) کے وجود کی برکت اور ان کی قیادت کے فیضان کو دو دیگر عناصر سے مدد ملی اور وہ عناصر تھے عوام کا اسلامی عقیدہ اور ان کی شجاعت۔
پیغمبروں(ع) کی طرح انھوں نے ایک متجسس تلاش کرنے والے کے لئے اپنے وجود کی شکل میں مذہب، سیاست، انقلاب، للہیت اور عوامی قوت سب کو ایک کردیا۔ان کا انقلاب ہمارے حافظے میں پیغمبران الٰہی کے انقلابوں کی یاد تازہ کرتا ہے۔ وہ مذہبی تصورات کو ایسے تازہ کرنے والے ہیں جو عقیدے کی لو لگاتا ہے اور اپنے زمانے کی مقبول ترین داستان جرأت کے مقصد کو واضح کرتا ہے۔ یہ تمام کارنامہ انھوں نے اپنی تقاریر اور پیغامات سے انجام دئیے۔
جون ۱۹۶۳ء تک سیکڑوں سرنوشت ساز ایام دیہاتوں اور شہروں میں آئے، جہاں شاہ کے زرخرید پٹھو گولیاں چلا کر عوام کی آزادی کو کچل رہے تھے۔ ان ایام میں امام امت(رح) کے گرم حوصلوں نے آتش جدوجہد کو اور زیادہ شعلہ ور کردیا اور عوام کی آواز بلند تر ہوتی گئی۔ یہ آتشیں ہوش آور اور جوش پیدا کرنے والی تقریریں جو صرف تھوڑی دیر سامعین سن سکتے ہیں۔ متعہد طلباء اپنی پیاسی روح کو سیراب کرسکتے ہیں۔ ایک تھوڑی مدت تک کے لئے مگر نہیں ایک پوری قوم کی حوصلہ مندی کا ذریعہ بن گئیں۔ اب دنیا کے بعید ترین گوشوں میں دنیا کے کروڑوں انقلابی مسلمانوں کی امیدوں اور حوصلوں کی زبان بن چکی ہیں ۔ آج یہی الفاظ جو مجروحوں اور مجبوروں کو غلام ملکوں میں امید دلا رہے ہیں۔ ان کی آنکھوں کے سامنے روشن آفاق پیش کر رہے ہیںاس وقت کے اقتدار خواہوں کی آنکھوں سے ان کے خواب نوچ رہے تھے۔
جلا وطنی کے طویل زمانے میں مرجع تقلید کی حیثیت سے ان پابندیوں کے زمانے میں آپ نے اس طویل اور مشکل راستے سے گریز کیا جس سے ایران کے عوام دوچار تھے اور تحریک کی خط کشی اور صحیح راستے کی نشاندہی کی اور ایسے مراحل پر رہنمائی فرمائی جہاں صرف وہی رہنمائی کرسکتے تھے۔ اس فریب دہ رجحان کو توڑنے کے لئے جو دشمنوں نے اندرون صف پیدا کردئیے تھے وہ نعرے جو بلند کئے تھے جس کے شور میں اصلی نعرے گم کئے جا رہے تھے وہ نفاق کا بیج جو عوام کے دلوں میں دشمنی بو رہا تھا وہ گروہ بندیاں جو مجاہدین کی صفوںمیں پیدا کی جا رہی تھیں اور اسی طرح وہ زحمتیں شدید اقدامات کی جو بیان کی جا رہی تھیں وہ جملے جو دشمن موثر حلقوں پر کررہا تھا مثلاً طلباء اور علماء پر وہ ناقابل پیمائش دباؤ جو دشمن ادھر ادھر سے ڈال رہا تھا، ان سب کو صرف امام خمینی(رح)کی تقریری پیغامات اور ان نظریات نے توڑا جنھیں تیر بہدف علاج تسلیم کر لیا گیا۔
جدوجہد کا آخری باب جو شاہ کی حکومت نے مسلط کیا تھا، جس کا زمانہ ۱۹۷۷ء فروری ۱۹۷۹ء تک ہے، ایسے واقعات سے بھرا پڑا ہے جس میں امام(رح) کی قیادت کی کارگزاری ان کے پیغامات، بیانات، اعلانات سے ظاہر ہے اور پہلے کے مقابلے میں زیادہ واضح اور زیادہ نمایاں ہے اور وہ ہے:
۱۔عوام کو قتل و غارت کے خلاف تحریک میں شامل کرنا اور اس کے لئے شہداء کے چہلم کا انعقاد۔
۲۔آبادان کے ایکس سنیما کے واقعہ میں شاہ کی ظالمانہ حکومت کے کرداروں کو نمایاں کرنا۔
۳۔عوام کی حکومت کے مسلح اور خونی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہونے کی تلقین۔
خودساختہ قوم پرست حکومت کی منافقت کو ظاہر کرنا اور اس کی منافقانہ التجا کو رد کرنا جس میں حکومت کے سربراہ نے یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ امام(رح) سے پیرس میں ملاقات کرے گا۔
کٹھ پتلی سرکار کی برطرفی جو آپ نے تہران پہنچتے ہی کی اور ایک عارضی حکومت کا قیام اس کے بعد صورتحال کو لمحہ بہ لمحہ نمایاں کرنا اور انقلاب کے خطوط کو نمایاں کرتے ہوئے تاریخ کی اس اہم گزرگاہ سے عوام کو روشناس کراناجو اس ملک میں کئی صدیوں سے نہیں بنی تھی۔
اس تجزیہ سے پتہ چلتا ہے کہ ہماری قوم کا آئندہ اقدام کیا ہوگا اور اس کے مندرجات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہمارا فریضہ کیا ہے ہماری ذمہ داری کیا ہے۔ ان دو انقلابوں کے درمیان ایک سیدالشہداء(ع) کا انقلاب ہے، دوسرے مہدی موعود عجل اللہ تعالی فرجہ کے لایاجانے والا انقلاب ہے۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम