Code : 731 3 Hit

امریکہ میں پڑھنے سے لیکر سعودی کے وزیر خارجہ بننے تک عادل جبیر کی کہانی،۱۰ برسوں کے سب سے بڑے راز سے اٹھتا پردہ

امریکہ کی مشہور ویب سائیٹ او ڈی سی نے ایک سنسی خیز انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر پوری طرح سے اسرائیل کی جاسوسی ایجنسی موساد کے کنٹرول میں ہیں۔

ولایت پورٹل: رپورٹ کے مطابق امریکہ کی مشہور ویب سائیٹ او ڈی سی نے ایک سنسی خیز انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر پوری طرح سے اسرائیل کی جاسوسی ایجنسی موساد کے کنٹرول میں ہیں۔
اس ویب سائیٹ نے گذشتہ دنوں ایک مقالہ شائع کیا جس میں عادل الجبیر اور موساد کے تعلقات سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔
اس آرٹیکل کی تحریر کرنے والی ’’جیم بکلے‘‘ ہیں جنہوں نے اس راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کی سابق وزیر خارجہ ’’تزپی لیونی‘‘ بھی الجبیر کو موساد سے قریب لانے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ کافی دنوں تک میں مطالعہ کرنے اور جستجو کرنے کے بعد امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سابق سربراہ فیلیپ گرالڈی تک پہونچنے میں کامیاب ہوسکی۔مسٹر گرالڈی نے میرے سامنے اس تعلق سے بہت سے اہم اسرار کا انکشاف کیا  جنہیں جان کر میں حیران رہ گئی۔میں جیسے جیسے اس مدعی کی تہہ میں گئی میری حیرت میں ہر آن اضافہ ہی ہوتا گیا اور مجھے پچھلے ۱۰ برس کے دوران واقع ہونے والے اس اہم راز(اسرائیل سعودی تعلقات) سے پردہ اٹھانے پر فخر محسوس ہورہا ہے۔
بکلے کا کہنا ہے کہ مسٹر گرالڈی نے خاص طور پر عادل الجبیر سے موساد کے پہلے رابطہ کے متعلق معلومات فراہم کرنے میں میری مدد کی ہے لہذا کچھ بہت ہی خاص شخصیات اور ماہرین کے تعاون سے  ہم سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر اور موساد کے تعلقات کے بارے میں کچھ معلومات فراہم کر پائے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے اس طرح کی معلومات فراہم کرنے کے لئے ریاض اور تل ابیب کے کئی سفر درکار ہوتے ہیں۔
گرالڈی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ایف بی آئی نے ۱۹۹۰ ء میں پہلی مرتبہ اس وقت الجبیر کی نگرانی کرنا شروع کی جب انہیں امریکہ میں سعودی عرب کی ایمبیسی کا ترجمان مقرر کیا گیا تھا کچھ برسوں بعد ہی اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد پر یہ شک کیا جانے لگا کہ وہ عادل الجبیر سے ایک ایجنٹ کے طور پر خفیہ خدمات حاصل کرنا چاہتی ہے ،سن ۱۹۸۱ء میں الجبیر جس وقت نارتھ ٹیکساس یونیورسٹی میں پڑھ رہے تھے اسی وقت ان کے ایک کلاس فیلو’’کیو اینن میتھویز‘‘نے ان سے رابطہ کیا تھا۔
میتھیویز کے امریکہ میں اسرائیل کے ایک مشہور ہیرے کے تاجر سے تعلقات تھے آہستہ آہستہ اس نے الجبیر کا تعارف اسرائیلی شہریوں اور معروف ہستیوں سے کروانا شروع کر دیا۔
سن ۱۹۹۸ء میں ایف بی آئی کی طرف سے پوچھ تاچ میں میتھیویز نے اس بات کا خلاصہ کرتے ہوئے بیان دیا تھا کہ موساد کے ایک عہدیدار سے الجبیر کی پہلی ملاقات کہاں،کب اور کیسے ہوئی تھی۔
اس وقت تک الجبیر اسرائیلی لوگوں کے بھاری قرض کے نیچے دب چکے تھے اس لئے ان کے پاس موساد کے ساتھ تعاون کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ بھی نہیں تھا۔پختہ ثبوتوں کے مطابق ،امریکہ میں سعودی سفارتی دفتر میں کام کرنے تک جبیر کی تمام حرکات و سکنات موساد کی زیر نظر قرار پا چکی تھیں۔
اس کے بعد سے موساد کی سیڑھیوں پر چڑھ کر الجبیر سعودی سفارتی عملہ میں بطور ترجمان مقرر ہوگئے اور اس کے بعد  سفیر کے عہدے تک پہونچ گئے۔
غور طلب ہے کہ عادل الجبیر سعودی عرب کے شاہی خاندان کے علاوہ پہلے ایسے فرد ہیں جو متعدد حکومتی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں اور وہ اس وقت سعودی عرب کے وزیر خارجہ ہیں اور یہ سب موساد کی مہربانیوں ہی کے نتیجہ میں ممکن ہوا کہ وہ آل سعود سے نہ ہوتے ہوئے بھی اس ملک کے کئی اہم اور حساس عہدوں پر بنے ہوئے ہیں۔
msm



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम