Code : 871 137 Hit

امریکہ اور اسرائیل کے مقدر میں حزب اللہ کے ہاتھوں دائمی شکست ہی ہے:سید حسن نصراللہ

سید حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ مزاحمت کے محور نے خطے میں امریکہ کے بڑے بڑے منصوبوں کو ناکام بنا دیا ہے۔

ولایت پورٹل:جنوبی بیروت کے علاقے ضاحیہ میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سید حسن نصراللہ نے کہا کہ امریکہ نے سن دوہزار چھے میں حزب اللہ کو نابود کرنے کا بڑا منصوبہ بنایا تھا لیکن مزاحمت کے محور نے اسے ناکام بنادیا،سید حسن نصراللہ نے حکومت برطانیہ کی جانب سے حزب اللہ کا نام دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل کیے جانے کے فیصلے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سن دوہزار گیارہ سے حزب اللہ پر ضرب لگانے کی سازشیں شروع کی گئیں اور داعش کو عراق میں جنم دیا گیا نیز لبنان، فلسطین اور یمن پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی گئی، سید حسن نصراللہ نے کہا کہ مزاحمتی قوتوں کے خلاف پابندیاں اس کی کمزوی کی نہیں بلکہ اس کی طاقت کی علامت ہیں،انہوں نے کہا کہ خطے میں جو کچھ ہوا وہ سب امریکی اور اسرائیلی سازش کا حصہ تھا اور خطے کے بعض ممالک اس پر عملدرآمد کے لیے ایک ٹول کے طور پر استعمال ہوئے،حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ ہم پوری طرح محسوس کرتے ہیں تحریک مزاحمت کے خلاف امریکی پابندیوں اور دباؤ میں مزید اضافہ ہوگا کیونکہ مزاحمت کے محور نے امریکی اسرائیلی منصوبے کو ناکام بنادیا ہے،حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے یہ بات زور دے کر کہی کہ مزاحمت کا محور، سینچری ڈیل کے ذریعے اپنے لیے تاریخ ساز کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مد مقابل ڈٹا ہوا ہے،انہوں نے کہا کہ حزب اللہ کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی تحریک مزاحمت کے مقابلے میں بے بس ہوچکے ہیں جبکہ مزاحمتی محور کی طاقت، عزم اور پائیداری میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے،حقیقت یہ ہے کہ امریکہ نے مختلف مواقع پر نئے مشرق وسطی کے قیام سے لیکر سینچری ڈیل جیسے سازشی منصوبوں پرعملدرآمد تک کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا جس کا مقصد خطے میں جاری مزاحمتی تحریکوں کو نابود اورطاقت کا توازن اسرائیل کے حق میں کرکے خطے میں اس کی بالادستی قائم کرنا تھ، نئے مشرق وسطی کے قیام کی سازش جس پر 2006ء کی 33 روزہ جنگ کے ذریعے علمدرآمد کی ناکام کوشش کی گئی اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش اور وزیر خارجہ کونڈولیزارائس نے تیار کی تھی۔لیکن اس کا نتیجہ اسرائیل کی مکمل ناکامی کی شکل میں ظاہر ہوا اور یہ حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی آخری جنگ ثابت ہوئی کیونکہ اس کے بعد سے آج تک اسرائیل حزب اللہ کے خلاف جنگ کے حوالے سے شدید خوف میں مبتلا ہے،جیسا کہ حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے ہمیشہ یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ حزب اللہ کی استقامت نے دائمی شکست، اسرائیل کے مقدر میں لکھ دی ہے اور اس غاصب اور مہم جو صیہونی حکومت کو ایسا درس دیا ہے جسے وہ کبھی فراموش نہیں کرسکےگی،33 روزہ جنگ کا اہم ترین نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ اسرائیل کے ناقابل شکست ہونے کا افسانہ چکناچور ہوگیا اور اسے پہلی بار فلسطینی علاقوں میں دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
سحر


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम