Code : 1082 14 Hit

امریکا اور آل سعود توحید کے راستے کو روکنے سے کم پر راضی نہیں ہوں گے:رہبر معظم

رہبر معظم آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے انبیاء کی بعثت کو عبودیت الہی اور کفر و طاغوت کے خلاف جنگ جیسی دو خصوصیات کے حامل نئے تمدن کے قیام کے لئے ایک عظیم تحریک قرار دیا اور فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران سے دشمنی کی وجہ توحیدی محاذ سے طاغوتی محاذ کی دشمنی ہے۔

ولایت پورٹل:پیغمبراسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی بعثت کی مبارک تاریخ یعنی عید مبعث کے موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلی حکام، تہران میں متعین اسلامی ملکوں کے سفیروں اورعوام کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے بدھ کو رہبرانقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی،رہبرمعظم نے اس ملاقات میں انبیاء کی بعثت کو عبودیت الہی اور کفر وطاغوت کے خلاف جنگ جیسی دو خصوصیات کے حامل نئے تمدن کے قیام کے لئےایک عظیم تحریک قراردیا۔ آپ نے فرمایا کہ آج اسلامی انقلاب اور اسلامی جمہوری نظام پیغمبراعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کا ہی تسلسل ہے اور اللہ کا یہ وعدہ ہے کہ توحید و طاغوت کے مابین جنگ میں فتح حق کے محاذ کی ہی ہوگی،رہبرمعظم نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ انبیا کی بعثت کا مقصد ایک مہذب و تعلیم یافتہ معاشرے اور نئے تمدن کا قیام تھا فرمایا کہ اس تمدن میں اس کے سارے لوازمات من جملہ علم و اخلاق، طرز زندگی اور حتی جنگ کے طریقے سب کچھ موجود ہے، آپ نے فرمایا کہ طویل برسوں سے صیہونی حکومت کی جارحانہ کاروائیاں جنگ کی آگ بھڑکانے والی طاغوتی سرشت کی واضح مثال اور اسی طرح فلسطینی مجاہدین اور حزب اللہ کی استقامت اور ایران پر مسلط کی گئی آٹھ سالہ جنگ کے دوران ایرانی عوام کا  دفاع  جہاد فی سبیل اللہ کا واضح مصداق ہے، آپ نے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران سے عداوت کی وجہ توحیدی محاذ سے طاغوتی محاذ کی دشمنی  ہے،رہبرمعظم نے فرمایا کہ طاغوتی محاذ توحیدی شناخت اور اس کے افکار و اقدمات اور اصولوں کا دشمن ہے اورامریکا اور آل سعود جیسے اس کے نوکر توحید کے راستے کو روکنے سے کم پر تیار نہیں ہوں گے، آپ  نے توحید اور طاغوت کے معرکے کو ناقابل اجتناب معرکہ قراردیا اور اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ خدا وندعالم نے کامیابی محاذ حق کا مقدر بنایا ہے فرمایا کہ اگر ایرانی عوام جس طرح سے اب تک آگے بڑھے ہیں اپنے راستے پر گامزن رہیں گے تو یقینی طور پر وہ دشمنوں یعنی امریکا اور اس کے آلہ کاروں پر غلبہ پالیں گے اور کامیاب ہوں گے،رہبرمعظم نے اپنے خطاب کے آخر میں فرمایا کہ ایران کا مستقبل ایران کے مومن اور ہمت و حوصلے سے سرشار نوجوانوں سے متعلق سے ہے جو مضبوط ارادے، روشن فکر اور سعی پیہم و خلاقیت کے ساتھ ملک کو ترقی و کمال کی منزلوں پر پہنچاسکتے ہیں۔
سحر


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम