Code : 1208 29 Hit

امام محمد باقر(ع) کی حدیث کی روشنی میں امام وقت کی معرفت

امام محمد باقر علیہ السلام نے امام منصوص من اللہ کی اتباع نہ کرنے والوں کو خبردار کرتے ہوئے فرمایا:اے محمد بن مسلم! جو شخص بھی اللہ کی عبادت کرے اور اس کی اطاعت میں خود کو مشقت میں ڈالے لیکن اللہ کی طرف سے منصوب کردہ امام کی اطاعت و پیروی کا طوق اس کی گردن میں نہ ہو تو اس کی ساری محنت و مشقت قابل قبول نہیں ہیں اور وہ گمراہ و سرگردان ہے اور اللہ تعالٰی اس کے کردار سے نفرت کرتا ہے وہ اس بھیڑ کی طرح ہے جو اپنے غلہ اور غلہ بان سے چھوٹ گئی ہو اور جو دن رات اس کوشش میں ہو کہ کسی طرح وہ اپنے غلہ سے ملحق ہوجائے اور اسی انتظار میں ادھر ادھر بھٹکتے ہوئے بھیڑیا اسے اپنا شکار بنا لیتا ہے۔

ولایت پورٹل: ایک خطاب میں امام محمد باقر(ع) نے اپنے نہایت معتمد و موثق صحابی جناب محمد بن مسلم سے امام معصوم اور منصوص من اللہ کی اتباع نہ کرنے والوں کے برے انجام سے خبردار کرتے ہوئے فرمایا:اے محمد بن مسلم! جو شخص بھی اللہ کی عبادت کرے اور اس کی اطاعت میں خود کو مشقت میں ڈالے لیکن اللہ کی طرف سے منصوب کردہ امام کی اطاعت و پیروی کا طوق اس کی گردن میں نہ ہو تو اس کی ساری محنت و مشقت قابل قبول نہیں ہیں اور وہ گمراہ و سرگردان ہے اور اللہ تعالٰی اس کے کردار سے نفرت کرتا ہے وہ اس بھیڑ کی طرح ہے جو اپنے غلہ اور غلہ بان سے چھوٹ گئی ہو اور جو دن رات اس کوشش میں ہو کہ کسی طرح وہ اپنے غلہ سے ملحق ہوجائے اور اسی انتظار میں ادھر ادھر بھٹکتے ہوئے بھیڑیا اسے اپنا شکار بنا لیتا ہے۔اس کے بعد امام علیہ السلام نے یہ جملے ارشاد فرمائے:’’يَا مُحَمَّدُ مَنْ أَصْبَحَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ لَا إِمَامَ لَهُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ ظَاهِرٌ عَادِلٌ أَصْبَحَ ضَالًّا تَائِهاً وَ إِنْ مَاتَ عَلَى هَذِهِ الْحَالَةِ مَاتَ مِيتَةَ كُفْرٍ وَ نِفَاقٍ وَ اعْلَمْ يَا مُحَمَّدُ أَنَّ أَئِمَّةَ الْجَوْرِ وَ أَتْبَاعَهُمْ لَمَعْزُولُونَ عَنْ دِينِ اللَّهِ قَدْ ضَلُّوا وَ أَضَلُّوا فَأَعْمَالُهُمُ الَّتِي يَعْمَلُونَها كَرَمادٍ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّيحُ فِي يَوْمٍ عاصِفٍ لا يَقْدِرُونَ مِمَّا كَسَبُوا عَلى شَيْءٍ ذلِكَ هُوَ الضَّلالُ الْبَعِيد‘‘۔(کافی، ج۱، ص۱۸۴)
اے محمد! خدا کی قسم! اس امت کا جو شخص ایسے امام عادل و ظاہر کا تابع نہ ہو جسے اللہ نے ہدایت کے لئے مقرر کیا ہے وہ گمراہ و سرگران ہے اور اگر وہ اسی حالت میں مرجائے تو اس کی موت حالت کفر یا نفاق میں ہوگی۔اے محمد!جان لو کہ ظالم حکمراں اور ان کے پیروکار دین سے دور ہیں ۔اور حقیقت میں گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والے ہیں اور ان کے سارے کام راکھ کی مانند ہیں کہ جو شدید طوفانی دن کی ہواؤں کے ساتھ اڑ جاتی ہے ویسے ہی انہیں ان چیزیں پر قدرت حاصل نہیں ہوسکے گی جو انہوں نے انجام دیئے ہیں اور یہی وہ دور والی گمراہی ہے۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम