Code : 1139 29 Hit

امام سجاد(ع) اور عمل کے ذریعہ دین کی تبلیغ

امام سجاد علیہ السلام کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ آپ غلاموں کو خریدتے اور انہیں تعلیم دین دیتے اور پھر آزاد کردیتے تھے چنانچہ روایات میں آیا ہے کہ امام سجاد علیہ السلام نے اپنی پوری زندگی میں 1000 غلام خرید کر آزاد کئے۔اور آپ نے کسی بھی غلام کو ایک برس سے زیادہ اپنے پاس نہیں رکھا۔امام سجاد(ع) ان تمام غلاموں کو دین اسلام کے احکام سکھاتے اور انہیں اسلامی اخلاق و آداب سے آراستہ کرتے تھے اور جب وہ اہل بیت عصمت و طہارت(ع) کی تعلیمات سے آشنا ہوجاتے تو انہیں آزاد کردیتے تھے ۔اور یہ غلام بھی آزادی پانے کے بعد اپنا رابطہ امام سجاد(ع) سے قطع نہیں کرتے تھے بلکہ ہمیشہ اپنے محسن کی یاد میں رہتے تھے اور یہ تعلقات اور روابط بہت سے دیگر لوگوں کو امام کے دامن عافیت و امن میں کھینچ کر لانے کا سبب بنتا تھا اور اس طرح معارف الہی اور تعلیمات محمد و آل محمد(ص) کا سلسلہ قائم و دائم رہتا تھا۔

ولایت پورٹل: حضرت امام سجاد علیہ السلام مورخہ 5 شعبان المعظم سن 38 ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے آپ کی والدہ گرامی جناب شہربانو شاہ ایران کی بیٹی تھیں۔امام سجاد علیہ السلام جب نماز میں کھڑے ہوتے تھے آپ کا پورا بدن لرزنے لگتا تھا اور چہرے کا رنگ تبدیل ہوجاتا تھا امام سجاد علیہ السلام کی یوں تو بہت سی خصوصیات کا ذکر تاریخ میں ملتا ہے  لیکن آپ کی سب سے اہم خصوصیت یہ تھی کہ آپ نے ہمیشہ اپنے عمل سے دین اسلام کی تبلیغ کا فریضۃ سرانجام دیا اور آپ عفو الہی کے مظہر اتم و اکمل تھے آپ نے سادگی میں زندگی بسر کی اگرچہ حکومت بنی امیہ نے اہل بیت(ع) کی شأن منزلت کو گھٹانے کے لئے اور لوگوں کے دلوں کو آپ سے موڑنے کے لئے کوئی لمحہ ضائع نہیں کیا لیکن آپ کا عمل اتنا قوی تھا کہ بنی امیہ کی پوری حکومت اور اس کے نمک خواروں کے لاکھ پیروپگنڈوں کے باوجود بھی وہ حضرت کی محبت کو لوگوں کے دلوں سے محو کرنے ناکام رہے۔
امام زین العابدین علیہ السلام کی ایک دوسری خصوصیت یہ تھی کہ آپ ہمیشہ ضرورتمندوں کی ضرورت اور محتاجوں کی مدد فرماتے تھے چنانچہ آپ رات کے سناٹے میں اپنے دوش مبارک پر کچھ کھانے اور ضرورت کا سامان لیکر ضرورتمندوں تک پہونچایا کرتے تھے اور مدینہ کے محتاج و تنگدست ہمیشہ رات ڈھلتے ہی آپ کا انتظار کیا کرتے تھے۔(1)
امام سجاد علیہ السلام کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ آپ غلاموں کو خریدتے اور انہیں تعلیم دین دیتے اور پھر آزاد کردیتے تھے چنانچہ روایات میں آیا ہے کہ امام سجاد علیہ السلام نے اپنی پوری زندگی میں 1000 غلام خرید کر آزاد کئے۔(2)اور آپ نے کسی بھی غلام کو ایک برس سے زیادہ اپنے پاس نہیں رکھا۔(3)
امام سجاد(ع) ان تمام غلاموں کو دین اسلام کے احکام سکھاتے اور انہیں اسلامی اخلاق و آداب سے آراستہ کرتے تھے اور جب وہ اہل بیت عصمت و طہارت(ع) کی تعلیمات سے آشنا ہوجاتے تو انہیں آزاد کردیتے تھے ۔اور یہ غلام بھی آزادی پانے کے بعد اپنا رابطہ امام سجاد(ع) سے قطع نہیں کرتے تھے بلکہ ہمیشہ اپنے محسن کی یاد میں رہتے تھے اور یہ تعلقات اور روابط بہت سے دیگر لوگوں کو امام کے دامن عافیت و امن میں کھینچ کر لانے کا سبب بنتا تھا اور اس طرح معارف الہی اور تعلیمات محمد و آل محمد(ص) کا سلسلہ قائم و دائم رہتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1۔ زین العابدین حضرت امام سجاد(ع)، ص37۔
2۔ تاریخ تشیع، دوره حضور امامان معصوم(ع)، ص192۔
3۔ زین العابدین حضرت امام سجاد(ع)، ص202۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम