Code : 447 17 Hit

امام زین العابدین(ع) کے کریمانہ اخلاق کا ایک نمونہ

جب امام سجاد(ع) نے ہشام کو اس حالت میں دیکھا تو آپ کے ساتھ جو افراد تھے آپ نے ان سے فرمایا: ہماری عادت یہ نہیں ہے کہ ہم گرے ہوئے کو مزید ٹھوکر ماریں اور اس حالت میں اپنے دشمن سے انتقام لیں۔اور جب خود امام سجاد(ع) ہشام بن اسماعیل کی طرف آئے اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا لیکن اس کی توقع کے برخلاف، امام سجاد(ع) نے اسے سلام کیا اور اس سے مصافحہ کیا اور فرمایا:اگر تمہیں میری کسی مدد کی ضرورت ہو تو بتاؤ میں تیار ہوں‘‘۔ہشام سمجھ گیا اور اس کی زبان پر بے ساختہ قرآن مجید کی یہ آیت آگئی:"اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ‘‘۔اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنے منصب کو کہاں قرار دے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! جہاں اللہ نے انسان کے ذمہ کچھ اعمال کئے ہیں کہ جنہیں اصطلاح میں احکام کہا جاتا ہے وہیں کچھ ایسے اعمال بھی ہیں جو بظاہر تو واجب نہیں ہیں لیکن ان کی تأثیر انسان کی زندگی میں حددرجہ مشاہدہ کی جاتی ہے۔انہیں میں سے ایک اخلاق ہے۔
اخلاق انسان کے نفس کی ایسی صفت ہے کہ اگر انسان اس سے مزین ہوجائے تو پھر دشمن سے انتقام کی ضرورت بھی نہیں پڑتی بلکہ مدمقابل بغیر شمشیر و نیزے کے ہی زیر ہوجاتا ہے۔آئیے بات کرتے اپنے چوتھے امام حضرت زین العابدین علیہ السلام کی ،آپ دیگر آئمہ(ع) کی طرح بے حد سخی،کریم اور بااخلاق تھے ،آپ اپنے دشمن سے بھی نرمی سے پیش آتے تھے چنانچہ آپ کی سوانح حیات میں ملتا ہے کہ:ہشام بن اسماعیل،کہ جو مدینہ میں امویوں کا گورنر تھا اور جو اپنی سخت دلی اور لوگوں پر ظلم و زیادتی کے سبب مشہور تھا اس سے شہر مدینہ کا ہر خاص و عام تنگ آچکا تھا اور اس نے لوگوں پر اتنی زیادتیاں کی تھیں کہ لوگ اسے ایک لمحہ کے لئے بھی مدینہ کا گورنر دیکھنا پسند نہیں کرتے تھے۔ جب مدینہ منورہ کے لوگ اس کی اذیتوں سے تنگ آگئے تو انہوں نے بنی امیہ کی ظالم و جابر حکومت کے دارالحکومت دمشق کی طرف ڈرتے ڈراتے اپنے مسلسل خط بھیجے اور لوگوں کے تئیں ہشام بن اسماعیل کے رویہ کی وضاحت کی،پہلے تو اموی دربار سے کوئی خاص جواب نہیں آیا لیکن مسلسل اصرار کے سبب دمشق سے ہشام کی معزولی کا پروانہ صادر کردیا گیا،اور اس کے ظلم و زیادتیوں کے سبب حکم دیا گیا کہ اسے شہر مدینہ کے بیچ میں کسی جگہ قید کردیا جائے تاکہ جن لوگوں پر اس نے ظلم کئے ہیں وہ اس سے اپنا انتقام لے سکیں۔
جہاں اس نے شہر مدینہ کے عام لوگوں کے حق میں مظالم روا رکھے تھے وہیں اس نے سب سے زیادہ اذیتیں امام سید الساجدین(ع) کو  پہونچائی تھی۔
لہذا جدید حاکم مدینہ کے اس پیغام کے بعد لوگ ایک ایک کرکے اس کے پاس آتے تھے اور اس سے اپنا اپنا انتقام لینے میں مصروف ہوگئے۔
ہشام کہتا ہے:’’مجھے سب سے زیادہ علی ابن الحسین(ع) سے ڈر محسوس ہورہا ہے چونکہ میں نے جتنی زیادتیاں اور جفائیں آپ(ع) کے حق میں کی ہیں اور آپ کے جد علی بن ابی طالب(ع) کی شأن میں جتنی گستاخیاں کی ہیں ان کا انتقام مجھ سے بہت سخت ہوگا‘‘۔
چنانچہ جب امام سجاد(ع) نے ہشام کو اس حالت میں دیکھا تو آپ کے ساتھ جو افراد تھے آپ نے ان سے فرمایا: ہماری عادت یہ نہیں ہے کہ ہم گرے ہوئے کو مزید ٹھوکر ماریں اور ایسی حالت میں ہم اپنے دشمن سے انتقام لیں۔
اور جب خود امام سجاد(ع) ہشام بن اسماعیل کی طرف آئے اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا لیکن اس کی توقع کے برخلاف، امام سجاد(ع) نے اسے سلام کیا اور اس سے مصافحہ کیا اور فرمایا:اگر تمہیں میری کسی مدد کی ضرورت ہو تو بتاؤ میں تیار ہوں‘‘۔
ہشام سمجھ گیا اور اس کی زبان پر بے ساختہ قرآن مجید کی یہ آیت آگئی:"اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ‘‘۔اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنے منصب کو کہاں قرار دے۔
لہذا امام سجاد علیہ السلام کے اس عمل کے بعد،مدینہ کے لوگوں نے بھی ہشام سے انتقام لینا چھوڑ دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منبع:
شرح الاخبار، ج 3،ص 260

0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम