Code : 1168 186 Hit

امام زمانہ کا حقیقی انتظار اور اس کے تقاضے؟

معتبر احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ انتظار کی کیفت میں عمل پوشیدہ ہے اور کچھ بھی بیٹھے رہنے سے حاصل نہیں ہوگا جب تک آگے نہ بڑھا جائے اسی لئے انتظار محبوب ترین عمل ہے کہ اس میں حرکت ہے ایک مقصدیت ہے منزل کی طرف بڑھنے کی لگن ہے یا محض بیٹھ کر دعائیں پڑھ لینے کو محبوب ترین عمل سے تعبیر کیا جا سکتا ہے؟

ولایت پورٹل: الحمد اللہ! ہم پندرہ شعبان کے عظیم ألشان جشن کے لئے خود کو آمادہ کر رہے ہیں ،وہ جشن جو امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ساتھ ہماری تجدید بیعت کے ہمراہ ،کیفیت ِ انتظار کو بھی بارور بناتا ہے اور ہم اپنے عمل سے ثابت کرتےہیں کہ ہم کس عظیم الشأن شخصیت کا انتظار کر رہے ہیں۔
یہ سوال بہت اہم ہے کہ آخر یہ انتظار کیا ہے اور روایات میں اسقدر اسکی تأکید کیوں کی گئی ہے کہ تقریباً ہر ایک امام   نے انتظار کی اہمیت و ضرورت پر روشنی ڈالی ہے؟
روایات میں تو انتظار کی جو فضیلت ہے وہ تو اپنی جگہ ہے ہی۔ لیکن یہ انتظار کا مفہوم کافی حد تک ہمارے عمل کی نوعیت سے جڑا ہے اور ہم اس وقت انتظار کے معنی اور اسکی حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں جب یہ جانیں کہ ہم اپنے وقت کے امام عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کاانتظار کیوں کر رہے ہیں ؟ اسکے لئے ضروری ہے کہ ہم دیکھیں آپکی غیبت کی بنیاد پر وہ کونسی کمی ہمارے معاشرے میں ہے اور  کونسانقص لازم آتا ہے جس کی بھرپائی ظہور کے علاوہ ممکن نہیں ہے؟
جب تک ہمارے اندر اضطرار کی پیاس نہیں ہوگی تب تک ہم آگے نہیں بڑھیں گے اسی لئے جہاں ہمیں حقیقت انتظار کو سمجھنے کی ضرورت ہے وہیں ضرورت انتظار پر غور کرنے کی ضرورت بھی  ہے اسی کے ساتھ انتظار کے مختلف پہلؤوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے  اور انتظار کے  آداب و آثار کو جاننے کی ضرورت ہے۔
انتظار اور اسکی حقیقت 
اگر الفاظ کے صحیح معنی کا پتہ چل جائے تو انسان کے لئے کسی بھی مذہب کی شناخت اور اسکے اہداف  کو سمجھنے میں بڑی  آسانی ہوجاتی ہے چنانچہ جب ہم انتظار کے معنی دیکھتے ہیں تو واضح ہوتا ہے کہ انتظار  مختلف امور میں ٹہر کر غور کرنے ، چشم براہ ہونے اور مستقبل کی امید رکھنے کے ہیں۔(۱) مذکورہ  معنی کے پیش نظر دو  ممکنہ چیزیں سامنے آتی ہیں  ایک تو یہ ہے کہ انتطار ایک ایسی کیفیت ہے جس میں انسان غور و فکر کرتا ہے ۔کسی معاملہ میں ٹہرتا ہے اور یہ کیفیت اسے روز مرہ کے کاموں سے روک دیتی ہے وہ اس لحاظ سے کہ کسی کا منتظر ہے ہاتھ پرہاتھ دھرے بیٹھ جاتا ہے اور مستقبل کو آنے والے کے حوالے کر دیتا ہے کہ وہ آئے گا تو دیکھے گا کیا کرنا ہے فی الحال ہمارا کام تو انتطار کر نا ہے ۔ ایک دوسرا تصور انتظار یہ ہے کہ انسان کا انتظار ا س کے وجود میں حرکت کا سبب بنتا ہے انسان جسکا انتظار کر رہا ہے اسکے لئے ماحول کو فراہم کرتا ہے اسکی آمد کے لئے فضا کو سازگار بناتا ہے ، اسی لئے اصطلاح میں انتظار کو ایک ایسے مفہوم سے تعبیر کیا گیا ہے جس میں بشریت کے بہتر مستقبل کی فکر کرنا  ایسے مستقبل کی راہ تکنا جس میں ظلم و انصافی نہ ہو  اور پوری دنیا میں عدالت قائم ہو  جیسی چیزیں بنیادی حیثیت کی حامل ہیں چنانچہ انتظار  ایک ایسے منجی بشریت کی آمد کا انتظار کا نام  ہے جو دنیا میں عدل و انصاف قائم کرے گا اور ظلم و ستم کی حکومت کا خاتمہ کر کے عدل و انصاف کی حکومت قائم کرے گا۔(۲)    جب ہم  روایات و احادیث پر نظر ڈالتے ہیں تو واضح ہوتا ہے کہ انتظار  ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر  بیٹھنا نہیں ہے بلکہ انتظار ایک عمل ہے بلکہ اعمال میں سب سے افضل عمل ہے۔(۳) ایسا عمل جو عبادت سے عبارت ہے۔(۴) ایسا عمل جو عبادتوں میں بھی سب سےافضل ہے۔(۵)
یہ ایک عقلی قاعدہ ہے کہ جو بھی موجودہ حالات سے راضی نہیں ہے اور اسے قبول نہیں کرتا وہ حالات کی تبدیلی کا انتظار کر رہا ہے اور خود کو اس کے لئے تیار کر رہا ہے:’’ من انتظر امرا تھیا لہ‘‘۔اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جن لوگوں نے انتظار کا یہ مفہوم نکالا ہے کہ اسکا مطلب خاموشی سے بیٹھ جانا ہے ، گوشہ نشینی اختیار کرنا ہے ، واضح ہے کہ انہوں نے انتظار کا غلط مفہوم اخذ کیا ہے اس لئے کہ انہوں نے حقیقت انتظار کو سمجھا ہی نہیں ہے اور تاریکی میں ایک تیر چلا دیا ہے جس کا کوئی مقصد و ہدف نہیں حتی یہاں تک بڑھ گئے کہ انہوں نے انتظار کو مذہبِ اعتراض تک کہہ دیا۔(۶)
البتہ انتظار اعتراض ہے لیکن اسکا صحیح رخ دیکھنے کی ضرورت ہے ، انتظار اعتراض ہے سماج کی برائیوں پر ، انتظار اعتراض ہے سماج میں پائی جانے والی نا انصافیوں پر ، انتطار اعتراض ہے  ظلم کے خلاف ، اس لئے کہ انتظار  موجودہ حالات کو بدلنے کی کوشش ہے یہی وہ اعتراض ہے جو سقیفائیوں کے  سامنے علی(ع) نے کیا اور یہ انتظار ایک اعتراض کی صورت عدل و انصاف کے قائم ہونے تک،حریت و آزادی کے حصول تک ، انسان کی پوشیدہ صلاحیتوں کے نکھرنے تک  جاری  رہے گا۔
حضور سرورکائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک حدیث میں  انسانوں کو سونے اور چاندی کی کانوں سے تعبیر کیا ہے۔(۷) ہم جانتے ہیں کہ اگر کان سے استفادہ کرنا ہے اگر کسی معدن سے فائدہ اٹھانا ہے تو ضروری ہے کہ کان کنی کےمراحل پر نظر ڈالی جائے کان کنی کا پہلا مرحلہ کشف  یعنی پہلی منزل یہ ہے کہ ہم ایسے مقام پر پہنچے جہاں واقعاً ایک کان موجود ہو  واقعا ًسونا اور چاندی ہو پتہ چلا ہم ایسی جگہ پہنچ گئے جہاں سونا چاندی تو کیا کوئلہ بھی ملنا مشکل ہے ، تو پہلی منزل کان کو کشف کرنا اور ڈھونڈ نکالنا ہے دوسری منزل اس میں سے خزانے کو نکالنا ہے جسے استخراج کہتے ہیں تیسری منزل اسے نکالنے کے بعد مختلف شکلوں میں ڈھالنا ہے مثلاً اگر لوہے کی کان ہے تو خالص لوہے کو نکال کر اسے مختلف قالبوں میں ڈھالنا ہے ، اگر سونا چاندی ہے تو اب اسے مختلف ہاروں میں زینتی اشیاء میں ڈھالنا ہے تاکہ دیدہ زیب نظر آئے  اسکے بعد چوتھامرحلہ یہ ہے کہ   کان اور معدن کی سمت اور جہت کا تعین کیا جائے کہ یہ جو کچھ ہے اور جو کچھ ہمیں ملا ہے اسے کس راہ میں صرف کرنا ہے کس کے لئے یہ سب ہے؟ اس کا  مقصد کیا ہے ؟ کیا انسان کا مقصد  ہے  ؟کیا مقصد یہی دنیا ہے یا پھر مقصد حیات اخروی ہے اب انسان کو سوچنا ہے کہ حیوانی راہوں میں اسے صرف کرنا ہے یا انسانی راستہ میں؟  جتنی بھی نعمتیں انسان کو ملی ہے انکا بھی یہی حال ہے انسان انہیں کہاں خرچ کر رہا ہے یہ سوال ہر جگہ ہے  کیا انسان ملنے والی نعمتوں کو حیوانی راہوں میں خرچ کر رہا ہے ؟ یا الہی راستوں میں؟ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں انتظار کی اہمیت و افادیت  کھل کر سامنے آتی ہے ۔ یعنی  ایک سچا اور حقیقی منتظر وہ ہے جو دنیا کی تمام تر سہولتوں کو اپنے آقا و سلطان کے لئے تیار کرتا ہے اور صرف انہیں کا انتظار کرتا ہے اور صرف  انہیں کے بارے میں سوچتا ہے۔(۸) اور  یہی انتظار کی وہ کیفیت ہے جسے ہمارے آئمہ طاہرین علیہم السلام نے بیان کیا ہے:
تم میں سے ہر ایک ہمارے قائم کے خروج کے لئےآمادہ رہے چاہے وہ ایک تیر کو مہیہ کرنے کی حد تک ہی کیوں نہ ہو چونکہ جب خدا یہ دیکھے گا کہ انسان نے مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی نصرت کی نیت سے اسلحہ مہیہ کیا ہے تو امید ہے کہ خدا اسکی عمر کو طولانی کر دے کہ وہ  ظہور کو درک کر لے اور امام مہدی علیہ السلام کے یاور و مددگاروں میں قرار پائے۔(۹)
یہ انتظار کی وہ کیفیت ہے جو مطلوب ہے کہ اگر کوئی ایک تیر  کا انتظام بھی کرتا ہے تو گویا وہ خود کو تیار کر رہا ہے ایک قیام کے لئے اور کیوں نہ ہو امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کا ایک لقب قائم ہے  اور جب یہ لفظ آئے تو احتراما اٹھ کھڑا ہونا ضروری ہے  اس قیام  کی جامعیت  بھی ہمیں انتظار کے اس مفہوم کی طرف متوجہ کر رہی ہے  کہ انتظار محض ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے کا نام  نہیں ہے  بلکہ یہ قیام ہمیں بتا رہا ہے کہ آج ہمارا ہادی و رہبر ہمارے سامنے نہیں ہے لیکن اس کے باوجود ہم اسکا نام آتے ہی اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو کیونکر ممکن ہے کہ وہ ہمارے سامنے ہو اور ہم بیٹھے رہیں چنانچہ یہ عمل بھی قیام و جہاد کی ایک علامت ہے۔(۱۰) بعض لوگوں نے اس انتظار سے بہت غلط مفہوم اخذ کیا ہے کہ ہم سے  کچھ مطلب واسطہ نہیں ہے سب کچھ امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کو کرنا ہے ہمیں تو بس انکے آنے کی دعا کرنا ہے  جبکہ آئمہ طاہرین علیہم  السلام کی تعلیمات  کچھ اور ہی ہیں  چنانچہ راوی کہتا ہے میں امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے کہا  مولا لوگ کہتے ہیں  جب مہدی(عج) کا قیام ہوگا تو سارے کام خودبخود ہو جائیں گے اور ایک حجامت کے برابر بھی خون نہیں نکلے گا  آپ نے فرمایا: ہرگز ایسا نہیں ہے  خدا کی قسم  اگر ایسا ہی ہوتا کہ سارے کام خود بخود انجام پاتے تو یہ کام تو اس وقت  پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے ہونا چاہیے تھا جب آپ کے داندان مبارک شہید ہو گئے تھے اور چہرہ پر زخم لگا تھا ، ہرگز ایسا نہیں ہے کہ کام اپنے آپ بن جائے ۔ خدا کی قسم اس وقت تک کام نہیں بنے گا جب تک ہم اور تم خون پسینے میں غرق نہ ہو جائیں اس مقام پر امام علیہ السلام نے اپنے ماتھے پر ہاتھ پھیرا۔
اس حدیث سے واضح ہے کہ انتظار کی کیفت میں عمل پوشیدہ ہے اور کچھ بھی بیٹھے رہنے سے حاصل نہیں ہوگا جب تک آگے نہ بڑھا جائے اسی لئے انتظار محبوب ترین عمل ہے کہ اس میں حرکت ہے ایک مقصدیت ہے منزل کی طرف بڑھنے کی لگن ہے یا محض بیٹھ کر دعائیں پڑھ لینے کو محبوب ترین عمل سے تعبیر کیا جا سکتا ہے؟
یہ مفہوم انتطار کی غلط تشریح ہے اگر کوئی یہ کہے کہ ہمیں خامو ش بیٹھ کر بس دعا کرنا ہے اور کچھ نہیں ہے ،  ہرگز یہ معقول نہیں ہے ایک سامنے کی مثال سے واضح ہے ، فرض  کریں ہمارے یہاں الیکشن چل رہے ہیں ، فسطائی طاقتوں سے قوم و ملک کے ساتھ ہمیں  بھی خطرہ ہے جو کچھ گزشتہ چند برسوں میں ہوا وہ ہم نے دیکھ لیا اب ہم اگر چاہتے ہیں کہ انہیں شکست ہو تو کیا صرف دعاؤں سے کام چلے گا کیا صرف امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی ولادت کا جشن منانے سے کام چلے گا ، ہرگز نہیں!  بلکہ ہمیں خود اٹھنا ہوگا اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کرنا ہوگا اسے تقسیم ہونے سے روکنا ہوگا اور متحد ہو کر اپنے دشمن کے خلاف اپنے ووٹ کی طاقت کو استعمال کرنا ہوگا اس طرح ہم دشمن کو شکست دے سکتے ہیں اور اسی متحد حرکت کو انتظار کا نام دیا جائے گا اگر ہم واقعی ایسی حکومت کے منتظر ہیں جہاں لوگوں کو انصاف ملے جہاں ظلم کی جگہ نہ ہو تو ہمیں اپنے سماج اور معاشرے میں اپنی طاقت اور توانائی بھر عدل و انصاف کے قیام کی جدو جہد کرنا ہوگی اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ہوگی  ہم اسی وقت کامیاب ہو سکتے ہیں جب اپنی توانائیوں کو انتظار کی راہ میں استعمال کریں ، امید کہ آپ تمام ہی حضرات اپنے ووٹ کی طاقت کو سمجھتے ہوئے اسے متحد صورت میں استعمال کریں گے اور ہم جس منجی بشریت کا انتظار کر رہے ہیں اسکی راہ کو ظالموں کے خلاف  لڑ کر آمادہ  کریں گے۔
...............................................................................................
حوالہ جات:
۔تاج العروس، زبیدی، ج۷، ص۵۳۹، محب الدین، نشر دارالفکر، لبنان، ۱۴۱۴ ہجری۔التحقیق فی کلمات  القرآن ، حسن مصطفوی جلد ۱۲ ص ۱۶۶۔
2۔ناصر مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ج ۷، ص ۳۸۱؛ عزیز اللّه حیدری، انسان معاصر، ص ۳۲۔
3۔’’اَفْضَلُ اَعْمالِ اُمَّتِى اِنتظارُ الفَرَجِ مِنَ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ‘‘۔شیخ صدوق, عیون اخبارالرضا7، ج 2، ص 36؛ شیخ صدوق, کمال الدین و تمام النعمة، ج 2، ص 644۔
4 ۔’’  اِنتِظارُ الفَرَجِ عِبَادَةٌ‘‘۔اربلی، کشف‏ الغمة فی معرفة الائمة، ج 2، ص 101؛ شیخ طوسی،  أمالی، ص 405۔
5۔’’ اَفضَلُ العِبادَةِ اِنتِظارُ الفَرَجِ‘‘۔ شیخ صدوق،  کمال‏الدین و تمام النعمة، ج 1، ص 287؛  ر.ک: ترمذی، سنن ترمذی، ج 5، ص 565۔
6۔انتظار ،فصلنامہ علمی تخصصی  ویژہ امام مھدی علیہ السلام ،  ص ۸۲ سال اول شمارہ اول پاییز ۱۳۸۰۔
7۔’’  اَلّناسُ معادِنُ كَمَعادِنِ الَّذهَبِ وَ الْفِضَّةِ ‘‘۔كافى، ج 8، ص 177؛ من لا يحضره الفقيه، ج 4، ص 380؛ بحار الانوار، ج 58، ص 65 و 106؛ ج 64، ص 1۔
8۔ ’’ و یوطئون للمہدی سلطانہ ‘‘۔ میزان الحکمہ ، جلد ۲ ص ۵۶۸
9۔’’ ليعدن احدكم لخروج القائم ولو سهما، فان الله اذا علم ذلك من نيته رجوت لان ينسي في عمره حتي يدركه و يكون من اعوانه و انصاره‏‘‘۔بحارالانوار، ج‏52، ص‏366۔
10۔ الغیبۃ ، نعمانی ، بحار الانوار ، جلد ۵۲ ، ص ۳۵۸۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम