Code : 1194 95 Hit

امام زمانہ(عج) کے نائب خاص عثمان بن سعید

مالک بن فزاری بھی شیعوں کی ایک جماعت سے نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں: امام حسن عسکری(عج) نے ایک بزم میں 40 شیعوں کے درمیان کہ جو اپنے آنے والے امام کے سلسلہ سے دریافت کرنے کے لئے آئے تھے آپ نے حضرت حجت(عج) کو دیکھایا کہ جو اس وقت بچے تھے اور شکل و صورت میں ہوبہو اپنے باپ کی شبیہ تھے، فرمایا: اے میرے شیعوں! تم اب اس کے بعد کبھی انہیں نہیں دیکھو گے اس بنا پر تم سے جو کچھ عثمان کہیں اس مان لینا کہ وہ تمہارے امام کا جانشین ہے اور جلد ہی نیابت ان کے سپرد کردی جائے گی۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! 15 شعبان المعظم منجی عالم بشریت حضرت بقیۃ اللہ الاعظم(ارواحنا لہ الفداء) کی ولادت باسعادت کی تاریخ ہے نیز اسی ماہ(یعنی شعبان المعظم) میں حضرت کے دو نائب خاص کی وفات بھی ہوئی ہے لہذا ہم یہ مناسب سمجھتے ہیں کہ شیخ طوسی کی معروف کتاب’’الغیبۃ‘‘ کے تناظر میں امام علیہ السلام کے چاروں نائبین کی زندگی کا اجمالی تعارف پیش کیا جائے۔
جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ امام زمانہ(عج) کے لئے دو غیبتیں تھیں پہلی غیبت کو صغریٰ جبکہ دوسری کو کبریٰ کہا جاتا ہے۔صغریٰ کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا رابطہ شیعوں سے عام تو نہ تھا لیکن اس عرصہ میں آپ کی طرف سے کچھ نائب خاص مقرر تھے جو آپ کے پیغامات شیعوں تک منتقل کرتے تھے اور شیعوں کی پریشانیوں کو حضرت کی خدمت میں بیان کرتے تھے اور پھر حضرت کی طرف سے جواب لیکر شیعوں تک پہونچایا کرتے تھے۔ چنانچہ شیخ طوسی(رح) نے امام زمانہ(عج) کے جن نائبین خاص کا تذکرہ اپنی معروف کتاب’’الغیبۃ‘‘ میں کیا ہے ان کے اسمائے گرامی یہ درج ذیل ہیں:
1۔عثمان بن سعید عمروی
2۔ابوجعفر محمدبن عثمان عمروی
3۔ابوالقاسم حسین بن روح
4۔ابوالحسین علی بن محمد سمری
ان بزرگ اور گرانقدر شخصیتوں نے مسلسل 69 برس تک امام اور امت کے درمیان ایک مضبوط پل کا کام کیا۔اور جب ادھر امام کے آخری نائب خاص کی وفات ہوئی اور ادھر دنیا کی آنکھوں کے سامنے غیبت کبریٰ کا پردہ حائل ہوگیا ۔تو آئیے امام عصر(عج) کے پہلے نائب و جانشین خاص کے بارے میں کچھ چیزیں جاننے کی کوشش کرتے ہیں:
1۔ابوعمرو عثمان بن سعید عمروی
جناب عثمان بن سعید امام علی نقی اور امام حسن عسکری(ع) کے اصحاب میں سے تھے چنانچہ یہ نہایت معتمد شخصیت کے مالک تھے اور انہیں آئمہ علیہم السلام کی طرف سے مکمل تائید حاصل تھی چنانچہ احمد بن علی بن نوح، محمد بن اسماعیل سے نقل کرتے ہیں: ہم سامرا میں امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہاں پہلے سے کچھ دیگر شیعہ بھی موجود تھے ہمیں دیکھ کر امام(ع) کا خادم مولا کی خدمت میں شرفیاب ہوا اور عرض کیا:مولا! کچھ گرد آلود چہروں والے مسافر اذن ملاقات چاہتے ہیں!
امام عسکری(ع) نے فرمایا: یہ یمن کے رہنے والے ہمارے شیعہ ہیں جاؤ اور عثمان بن سعید عمروی کو بلا لاؤ!
جب عثمان آئے تو حضرت نے ان سے فرمایا:اے عثمان تم میرے وکیل اور قابل اعتماد اور مال خدا میں امانتدار ہو۔جاؤ اور یمن کے مؤمنین جو مال لیکر آئے ہیں اسے ان سے لے لو۔
میں نے عرض کیا:خدا کی قسم! عثمان آپ کے حقیقی چاہنے والے اور آپ کے منتخب کردہ ہیں اور آپ نے ہمارے سامنے اس فرمان کے ذریعہ ان کے مال خدا پر امین ہونے اور اپنے وکیل و لائق اعتبار ہونے کو مزید پختہ کردیا۔
فرمایا: ہاں ایسا ہی ہے اور تم گواہ رہنا کہ عثمان بن سعید عمروی میرے وکیل اور ان کے بیٹے محمد میرے بیٹے مہدی(عج) کے وکیل ہونگے۔(1)
مالک بن فزاری بھی شیعوں کی ایک جماعت سے نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں: امام حسن عسکری(عج) نے ایک بزم میں 40 شیعوں کے درمیان کہ جو اپنے آنے والے امام کے سلسلہ سے دریافت کرنے کے لئے آئے تھے آپ نے حضرت حجت(عج) کو دیکھایا کہ جو اس وقت بچے تھے اور شکل و صورت میں ہوبہو اپنے باپ کی شبیہ تھے، فرمایا: اے میرے شیعوں! تم اب اس کے بعد کبھی انہیں نہیں دیکھو گے اس بنا پر تم سے جو کچھ عثمان کہیں اس مان لینا کہ وہ تمہارے امام کا جانشین ہے اور جلد ہی نیابت ان کے سپرد کردی جائے گی۔(2)
عثمان بن سعید کی نیابت پر دوسری دلیل یہ ہے کہ امام عصر(عج) کے وہ خطوط اور توقیعات جو عثمان بن سعید اور ان کے بیٹے محمد بن عثمان  کے ذریعہ شیعوں تک پہونچتی تھیں اس کی تحریر وہی تھی جو امام حسن عسکری(ع) کے زمانے میں لکھے جانے والے خطوط کی ہوتی تھی  اور لوگ اس تحریر سے آشنا تھے یہی وجہ تھی کہ تمام شیعہ ان دونوں باپ اور بیٹوں کے مانتدار ہونے میں کسی طرح کے شک کو اپنے دلوں میں راہ نہیں دیتے تھے۔(3)
عثمان بن سعید نے تقریباً 265 ہجری میں وفات پائی اور آپ کی قبر شہر بغداد کے ’’مدینۃ السلام‘‘ نامی مقام پر ایک چوراہے کے قریب واقع ہے۔(4) چنانچہ شیخ طوسی(رح) اپنی مذکورہ کتاب میں رقمطراز ہیں کہ میں نے مذکورہ مقام پر جناب عثمان کی قبر کی زیارت کی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1 ۔الغیبة، ص 21۔
2۔سابق حوالہ، ص 217۔
3 ۔سابق حوالہ، ص 216۔
4۔تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدهم، ص 155۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम