Code : 829 83 Hit

امام زمانہ(عج) کا سچا عاشق کون؟

ایک سچے اور حقیقی عاشق کو یہ سمجھ لینا چاہیئے کہ اس کا عشق اسی وقت ثمر آور اور نتیجہ بخش ہوسکتا ہے کہ جب اس کے معشوق کی اس پر نظر عنایت و کرم ہوجائے اور یہ اسی وقت ممکن ہے کہ جب عاشق اپنے معشوق کی مرضی کے خلاف ایک قدم بھی نہ اٹھائے۔

ولایت پورٹل: حضرت امام زمانہ(عج) کی غیبت خداوند عالم کا ایک ایسا راز ہے کہ ظہور حجت(ع) سے پہلے اس راز اور حکمت سے واقفیت ہمارے لئے ممکن نہیں ہے جیسا کہ خود امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:’’صاحب الامر(عج) کو ایک طولانی غیبت درپیش ہوگی اور ہمیں یہ اجازت نہیں ہے کہ ہم اس راز سے پردہ اٹھائیں ‘‘۔
امام زمانہ(عج) کی غیبت کی وہی حکمت ہے کہ جو گذشتہ زمانے میں خدا کی دیگر حجتوں کے لئے تھیں لہذا آپ کی غیبت کی اصلی وجہ بھی آپ کے ظہور کے بعد ظاہر و روشن ہوگی جیسا کہ حضرت خضر علیہ السلام کے کاموں کی حکمت بعد میں معلوم ہوئی تھی۔
لیکن پھر بھی سرکار ولیعصر(عج) کی غیبت کی وجوہات کو بیان کرنے والی جو روایات نظروں سے گذرتی ہیں ان میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ امام زمانہ(عج) کی کو پردہ غیب میں اس وجہ سے رکھا گیا ہے تاکہ لوگوں کو پیمان ولایت کے سلسلہ سے آزمایا جاسکے۔
لہذا حضرت مہدی(عج) کی غیبت کے ذریعہ لوگوں کا امتحان مقصود ہے اور جن لوگوں کا ایمان محکم نہیں ہے وہ آپ کے ظہور کے سلسلہ سے شک و تردید میں مبتلاء ہوجاتے ہیں اور جن کا ایمان محکم اور عقیدہ پختہ ہے ان کے عقیدہ و ایمان میں مزید استحکام و قوت پیدا ہوجاتی ہے۔
چنانچہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کا ارشاد ہے:’’جب میرے پانچویں بیٹے کی غیبت کا آغاز ہوگا تو تم اپنے دین کی حفاظت کرنا چونکہ اس کی غیبت ایک ناگزیر امر ہے جو ہر حال میں وقوع پذیر ہوکر رہے گی اور اس میں بہت سے لوگ اپنے ایمان سے پھر جائیں گے اور اللہ تعالٰی اس کی غیبت کے ذریعہ اپنے بندوں کا ضرور امتحان لے گا‘‘۔( طوسی،کتاب الیبغه، ص ۲۰۴؛نعمانی، کتاب الغیبه، ص ۱۵۴)
اور اسی طرح امام زمانہ(عج) کے ظہور کا ایک دیگر عظیم مقصد بھی بیان کیا جاتا ہے۔اور عقلی طور پر یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ غیبت کے طولانی ہونے کی ایک اہم علت اور سبب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انسان کی عقل اور روح علم و فضل کے اس معیار تک پہونچ جائے کہ وہ اپنے امام عادل کی تشریف آوری کے وقت آپ کا استقبال کرنے کے لائق بن سکے۔
غرض! خود امام زمانہ(عج) کی غیبت اور نیز اس کے طولانی ہونے کے بالیقین بہت سے اسباب ہیں اور بعض روایات کے تناظر میں ان میں سے کچھ کو سمجھا جاسکتا ہے لیکن اصلی راز سے اسی وقت پردہ اٹھے گا جب خود سرکار تشریف لائیں گے ۔ لہذا غیبت کا طولانی ہونا کبھی بھی عاشقوں کے ناامید اور مایوس ہونے کا سبب نہیں بن سکتی۔لیکن اس درمیان ایک حقیقی و سچے عاشق کا فرض یہ ہے کہ وہ عاشق محض و مطیع  بن کر زندگی گذارے۔ اس کی ایک حسی مثال اس طرح بھی پیش کی جاسکتی ہے کہ جب کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے عشق کا اظہار کرتا ہے تو اس کی مکمل کوشش یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے معشوق کی خوشی کا خیال رکھے اور وہ اپنے کردار و رفتار کو اس سانچے میں ڈھالنے کی پوری کوشش کرتا ہے جو اس کے معشوق کو پسند ہوتی ہے اور جو اپنے معشوق سے ملنا چاہتا ہے تو اس وصال کے لئے تیاری کرتا ہے، دعا کرتا ہے اب آپ خود بتائیے کیا کسی عاشق کے لئے معشوق سے وصال سے پہلے اور بعد کی کیفیت ایک جسیی ہوتی ہے؟ نہیں بالکل نہیں!
جو اپنے امام کا سچا عاشق و محب ہے اسے ہمیشہ دعا کرتے رہنا چاہیئے کہ حضرت کا ظہور ہو تاکہ وہ اپنے امام کی عدالت مآب حکومت کے زیر سایہ سکون بھرے لمحات بسر کرسکے۔
اور ایک سچے عاشق کا ایک دوسرا اہم وظیفہ یہ ہے کہ وہ اپنے اور اپنے معشوق کے درمیان سنخیت و ہماہنگی ایجاد کرے۔وہ کیسے؟ ایک سچا عاشق وہی ہے جس کی روح،فکر اور عمل اپنے معشوق کی روح، فکر اور عمل سے سے ہماہنگ ہوں۔
پس امام زمانہ(عج) کے سچے و حقیقی عاشق وہ افراد ہیں کہ جو ایمان، تقوا اخلاقی فضائل اور معنوی درجات میں اپنے امام کی مکمل تأسی کریں اگر ایسا کریں تبھی محبت امام کا دعوٰی سچا و ثابت ہوسکتا ہے۔
نیز ایمان ،تقوا اور اخلاق حسنہ اپنانے کے علاوہ دیگر چیزیں بھی ایسی ہیں کہ جو دلوں کو امام زمانہ(عج) کی محبت سے سرشار کرتی ہیں:
آپ نے بارہا خیرات،صدقات اور ہدیہ دیا ہوگا اور کبھی اپنے مرحومین کے ایصال ثواب کے لئے کوئی کام کیا ہوگا لیکن کیا ایسا کبھی ہوا کہ آپ نے صرف اس نیت سے خیرات ،زکات یا صدقہ دیا ہو کہ مولا! میں یہ آپ کے اور صرف آپ کے لئے یہ کام کر رہا ہوں چنانچہ امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:جو شخص اپنے امام کی راہ میں ایک درہم خرچ کرے اس کی اہمیت دیگر کار خیر میں خرچ کئے گئے بیس لاکھ درہموں سے کہیں زیادہ ہے ۔۔۔۔۔۔
قارئین کرام! مندرجہ بالا توضیحات کی روشنی میں ایک سچے اور حقیقی عاشق کو یہ سمجھ لینا چاہیئے کہ اس کا عشق اسی وقت ثمر آور اور نتیجہ بخش ہوسکتا ہے کہ جب اس کے معشوق کی اس پر نظر عنایت و کرم ہوجائے اور یہ اسی وقت ممکن ہے کہ جب عاشق اپنے معشوق کی مرضی کے خلاف ایک قدم بھی نہ اٹھائے۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम