Code : 805 105 Hit

امام خمینی تاریخ بشریت کے بے نظیر قائد؛ڈاکٹر سروش کا اعتراف

ڈاکٹر سروش نے امام خمینی(رح) کو صرف معاصر رہبروں سے ہی افضل نہیں بتلایا بلکہ ایران میں ماقبل مسیح سے لیکر آج تک جتنی حکومتیں اور قائدین و حکمراں آئے ہیں امام خمینی(رح) کو ان سب سے افضل اور عالم او شریف انسان بتلایا اور ساتھ ہی انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ پوری دنیا میں صرف چنندہ بادشاہ ہی پڑھے لکھے گذرے ہیں ورنہ روس سے لیکر برطانیہ تک اور برطانیہ سے لیکر پرشین امیائر تک سب کے سب قائدین زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے۔

ولایت پورٹل: ہمیشہ اسلامی جمہوریہ ایران پر تنقید کرنے والے ڈاکٹر عبدالکریم سروش نے اس برس اسلامی انقلاب کی کامیابی کی چالیسویں سالگرہ کے موقع پر امریکہ کے کولیفورنیا مولوکہ پارک میں اپنی ایک تقریر میں اسلامی جمہوریہ ایران کے تئیں اپنے تنقید کو بالائے طاق رکھتے ہوئے امام خمینی(رح) کو ایران سمیت دنیا کا سب سے حکیم معتبر اور عالم رہبر تسلیم کیا ہے۔
ڈاکٹر سروش نے امام خمینی(رح) کو صرف معاصر رہبروں سے ہی افضل نہیں بتلایا بلکہ ایران میں ماقبل مسیح سے لیکر آج تک جتنی حکومتیں اور قائدین و حکمراں آئے ہیں امام خمینی(رح) کو ان سب سے افضل اور عالم  او شریف انسان بتلایا اور ساتھ ہی انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ پوری دنیا میں صرف چنندہ بادشاہ ہی پڑھے لکھے گذرے ہیں ورنہ روس سے لیکر برطانیہ تک اور برطانیہ سے لیکر پرشین امیائر تک سب کے سب قائدین زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے۔
ڈاکٹر سروش نے اسلامی انقلاب سے پہلے ایران میں حاکم پہلوی بادشاہ کو نادان اور جاہل حکمراں بتلا کر یہ ذہن نشین کرایا کہ ایک ۲۰ برس کا جوان نہ جسے حکومت کا تجربہ اور نہ جس کے پاس علم اور صلاحیت تھی سامراج نے لاکر اسے ایران کا بادشاہ بنا دیا اور اگر میں محمد رضا پہلوی کے باپ کی بات کروں تو وہ تو لکھنا اور پڑھنا بھی نہیں جانتا تھا۔
ڈاکٹر سروش نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کی تاریخ میں امام خمینی(رح) کا کسی سے مقائسہ و موازنہ نہیں کیا جاسکتا چونکہ ان سے مقابلہ ایسے ہی جیسے آپ زمین سے آسمان کا مقابلہ کرنے چلے ہوں ۔اور محمد رضا پہلوی تو امام خمینی(رح) کے مقابل کہیں نظر آتا۔ اور وہ تو کیا اگر اس جیسے دیگر حکمرانوں اور امام خمینی(رح) کے درمیان اپنے لئے کوئی حکمراں انتخاب کرنے کا مجھے اخیتار دیا جائے تو میں آیت اللہ خمینی(رح) کو ہی انتخاب کروں گا۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر عبد الکریم سروش ایک ایرانی الاصل دانشور ہیں جو اس وقت امریکہ کی کئی معروف یونیورسٹیوں میں تدریس کرتے ہیں اور بین الاقوامی رابطہ عامہ،سیاست اور اسلامک تھائیلوجی میں بڑے ماہر جانے جاتے ہیں اور ابتدائے انقلاب میں وہ ایران کے کئی حساس تعلیمی اداروں کے عہدوں پر بھی رہ چکے ہیں لیکن کچھ اسلامی بنیادی عقائد پر اشکالات کرنا انہیں مہنگا پڑا چونکہ یہ اشکالات اتنے بے جا تھے کہ یونیورسٹیوں میں جب ان کا لیکچر ہوتا تو طلباء اور طالبات کلاس چھوڑ کر چلے جاتے تھے اور اب ایران کی یونیورسٹیز میں ان کے لئے تدریس کرنا آسان نہیں رہ گیا تھا چنانچہ اسی کو بہانا بنا کر امریکہ چلے گئے اور انہوں نے اسلامی انقلاب کے متعصب دشمنوں تک سے سانٹھ گانٹھ کرلی اور ۲۰۰۹ کے انتخابات کے دوران وجود میں آنے والے فتنوں میں ڈاکٹر سروش بھی فتنہ گروں کو فکری غذا فراہم کررہے تھے۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین