Code : 436 6 Hit

امام حسین علیہ السلام غیروں کی نظر میں

امام حسین علیہ السلام کو اللہ تعالٰی نے کائنات کے دل کی دھڑکن بنایا ہے لہذا یہی وجہ ہے کہ صرف امام حسین علیہ السلام سے محبت اور عشق کرنے والوں میں جہاں شیعہ پیش پیش ہیں وہیں دوسرے مذاہب کے ماننے والے اور پیروکار بھی آپ کو خراج تحسین پیش کرنے میں کسی سے پیچھے نظر نہیں آتے ۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! امام حسین علیہ السلام کو اللہ تعالٰی نے کائنات کے دل کی دھڑکن بنایا ہے لہذا یہی وجہ ہے کہ صرف امام حسین علیہ السلام سے محبت اور عشق کرنے والوں میں جہاں شیعہ پیش پیش ہیں وہیں دوسرے مذاہب کے ماننے والے اور پیروکار بھی آپ کو خراج تحسین پیش کرنے میں کسی سے پیچھے نظر نہیں آتے چنانچہ خواجہ معین الدین چشتی فرماتے ہیں:
حسین(ع)  صرف ایک شخصیت کا نام نہیں ہے بلکہ ایک نظریے کا نام ہے۔ایک اصول اور ایک نظامِ حیات کا نام ہے۔ حسینیت امن و سلامتی اور حق کی علامت ہے۔ حسینیت دینِ فطرت اور انسانیت کی اساس ہے۔ بقول خواجہ معین الدین چشتیؒ:
                                                 شاہ است حسین     بادشاہ است حسین
                                                  دین است حسین    دین پناہ است حسین
                                                        سرداد نہ داد دست در دست یزید
                                                         حقا کہ بنائے لا الہ است حسین
وہیں مشہور افسانہ نگار منشی پریم چند کہ عقیدۃً جن کا تعلق توحید سے بھی نہیں ہے وہ امام حسین علیہ السلام اور آپ کی درخشاں تاریخ کے متعلق رقم طراز ہیں:
معرکہ کربلا دنیا کی تاریخ میں پہلی آواز ہے اور شاید آخری بھی ہو جو مظلوموں کی حمایت میں بلند ہوئی اور اس کی صدائے بازگشت آج تک فضائے عالم میں گونج رہی ہے۔
معروف ہندو شاعر رام پرکاش ساحر :
ہے حق و صداقت مرا مسلک /ساحر ہندو بھی ہوں شبیر کا شیدائی بھی_
جی بی ایڈورڈ :
تاریخ اسلام میں ایک باکمال ہیرو کا نام نظر آتا ہے جس کو حسین کہا جاتا ہے،یہ محمدؐ کا نواسہ،علی و فاطمہ،کا بیٹا،لاتعداد صفات و اوصاف کا مالک ہے جس کے عظیم، اعلیٰ کردار نے اسلا م کو زندہ کیا اور دین خدا میں نئی روح ڈال دی، حق تو یہ ہے کہ اسلام کا یہ بہادر میدانِ کربلا میں شجاعت کے جوہر نہ دکھاتا اور ایک پلید و لعین حکمران کی اطاعت قبول کرلیتا تو آج محمدؐ کے دین کا نقشہ کچھ اور نظر آتا، وہ کبھی اس طرح کہ نہ تو قرآن ہوتا اور نہ اسلام ہوتا، نہ ایمان،نہ رحم و انصاف،نہ کرم و وفا بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ انسانیت کا نشان تک دکھائی نہ دیتا۔ ہر جگہ وحشت و بربریت اور درندگی نظر آتی۔
مہاراج یوربندسرنٹور سنگھ :
قربانیوں ہی کے ذریعے تہذیبوں کا ارتقا ہوتا ہے۔ امام حسین(ع)  کی قربانی نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک قابلِ فخر کارنامے کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے جان دے دی لیکن انسانیت کے رہنما اصولوں پر آنچ نہیں آنے دی۔ دنیا کی تاریخ میں اس کی دوسری مثال نہیں ملتی۔ حضرت امام حسین(ع) کی قربانی کے زیر قدم امن اور مسرت دوبارہ بنی نوع انسان کو حاصل ہوسکتی ہیں بشرطیکہ انسان ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرے۔
سوامی شنکر اچاریہ :
اگر حسین(ع)  نہ ہوتے تو دنیا سے اسلام ختم ہوجاتا اور دنیا ہمیشہ کے لیے نیک بندوں سے خالی ہوجاتی۔ حسین سے بڑھ کر کوئی شہید نہیں۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम