Code : 455 5 Hit

امام حسن عسکری علیہ السلام کی علمی خدمات

امام حسن عسکری علیہ السلام نے اس گھٹن کے ماحول میں جو سب سے بنیادی کام کیا وہ ایسے شاگردوں کی تربیت تھی کہ جو عالمی سطح پر لوگوں کے سامنے حقیقی شیعیت کا تعارف کروا سکیں اور اگر آپ یہ اہم اور حیاتی قدم نہ اٹھاتے تو امام حسن عسکری(ع) سے نقل ہوکر امت تک پہونچنے والے بہت سے حقائق پردہ خفا میں رہ جاتے، چنانچہ شیعت کے متعارف کرانے اور مذہب حقہ کو ہم تک پہنچانے میں اور اس دور کے شبہوں کے جواب دینے میں آپ کے شاگردوں کا ایک ناقابل فراموش کردار ہے ۔تمام تر رکاوٹوں اور مشکلوں کے باوجود آپ کے شاگردوں کی تعداد شیخ طوسی نے ۱۰۰ سے زیادہ نقل کی ہے۔ آپ کے ان سو سے زائد شاگردوں میں احمد بن اسحاق اشعری قمی، ابو هاشم داؤد بن قاسم جعفری، عبدالله بن جعفر حمیری، ابو عمرو عثمان بن سعید عَمْری (نائب خاص حضرت حجت)، علی بن جعفر، محمد بن حسن صفارجیسی ہستیاں نمایاں ہیں۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! آپ نے یقناً ہمارے اور آپ کے گیارویں امام حضرت حسن عسکری علیہ السلام کے بارے یہ بات تو ضروری سنی اور پڑھی ہوگی کہ عباسی خلفاء نے امام علی نقی علیہ السلام اور امام عسکری علیہ السلام کو سامرا نظر بند کررکھا تھا اور عباسی حکمرانوں نے آپ پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا تھا اور چو طرفہ آپکی کڑی نگرانی ہو رہی تھی تاکہ   آپ لوگوں سے مل جل نہ سکیں اور لوگوں سے آپکا رابطہ نہ رہے اسی لئے سامرہ کے عسکر نامی علاقے میں آپ کو رہنے پر مجبور کیا گیا تھا ۔(۱) اوراسکے بعد بھی آپ سے حکومت وقت کو خوف لاحق تھا اورجسطرح  بعض مشکوک و مجرم لوگوں کو آج کے دور میں تھانے یا کوتوالی حاضر ہونے کا حکم دیا جاتا ہے ایسے ہی آپ کے لئے حکومت کی طرف سے حکم تھا کہ ہفتے میں دو بار دربار میں حاضر ہوں   چنانچہ  ہر ہفتے   پیر اور جمعرات کو آپ کو دربار میں حاضری دینا پڑتی  تھی۔(۲) جسکی وجہ سے آپکا خاصہ مفید وقت دربار کی نظر ہو جاتا تھا   شاید یہی وجہ ہے کہ جس کے سبب   ہم یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ اگرچہ آپ وسیع پیمانے پر   حقیقی علم و دانش کی ترویج نہ کر سکے ، لیکن جتنی فرصت اور جتنا موقع آپ کو فراہم ہوا آپ نے اس سے فائدہ  اٹھاتے ہوئے  بہت سے علمی کام انجام دیئے لہذا ہم ذیل میں اختصار کے ساتھ حضرت کے ان خدمات کا تذکرہ کررہے ہیں :
۱۔ شاگردوں کی تربیت
امام حسن عسکری علیہ السلام نے اس  گھٹن کے ماحول میں جو سب سے بنیادی کام کیا  وہ ایسے شاگردوں کی تربیت تھی  کہ جو عالمی سطح پر لوگوں کے سامنے حقیقی شیعیت کا تعارف کروا سکیں  اور اگر آپ یہ اہم اور حیاتی قدم نہ اٹھاتے تو امام حسن عسکری(ع) سے نقل ہوکر امت تک پہونچنے والے بہت سے حقائق پردہ خفا میں رہ جاتے، چنانچہ شیعت کے متعارف کرانے اور مذہب حقہ کو  ہم تک پہنچانے میں اور اس دور کے شبہوں کے جواب دینے میں آپ کے شاگردوں کا ایک ناقابل فراموش کردار ہے ۔تمام تر  رکاوٹوں اور مشکلوں کے باوجود آپ کے شاگردوں کی تعداد شیخ طوسی نے ۱۰۰ سے زیادہ نقل کی ہے۔(۳)  آپ کے ان سو سے زائد شاگردوں میں احمد بن اسحاق اشعری قمی، ابو هاشم داؤد بن قاسم جعفری، عبدالله بن جعفر حمیری، ابو عمرو عثمان بن سعید عَمْری (نائب خاص حضرت حجت)، علی بن جعفر، محمد بن حسن صفارجیسی ہستیاں نمایاں ہیں۔(۴) جہاں آپ کے شاگردوں کی تعداد سو سے اوپر ہے وہیں آپ سے روایت نقل کرنے والے راویوں کی تعداد بھی ایک سو چھے نقل ہوئی ہے۔(۵)جس سے پتہ چلتا ہے کہ مختصر سی مدت میں آپ نے کس طرح ایک طرف شاگردوں کی تربیت کی اسی طرح روایتوں کو بھی بیان کیا  تاکہ انکی روشنی میں اسلامی معارف لوگوں تک پہنچ سکیں ۔
۲۔ اہل قلم حضرات کو سراہنا ،انکی تحسین و تمجید  
اس بات میں ذرا بھی شک نہیں ہے  کہ ہر  بیدار ضمیر صاحب قلم اپنے قلم کو دنیا کو حقانیت کی راہ پر چلانے کے لئے اٹھاتا ہے اور سماج و معاشرہ تک ان حقائق کو پہنچاتا ہے جن کی روشنی میں معاشرہ کے لئے حق و باطل میں فیصلہ کرنا آسان ہو جاتا ہے حق کی راہ واضح ہو جاتی ہے  اس کام کو وہ اپنا فریضہ سمجھ کر انجام دیتا ہے اور کسی سے انعام و اکرام کے توقع نہیں رکھتا ، لیکن اگر کوئی اس کے کام کو سراہے ، اسکی تمجید کرے ، اسکی تحریر کو تحسین آمیز نظروں سے دیکھے  تو اسکی تھکن کم ہو جاتی ہے کہ کچھ تو محنت سوارت ہوئی ،میں نے جس موضوع پر قلم اٹھایا کم سے کم لوگوں نے اسے پڑھنے کی زحمت تو کی  لہذا وہ اپنی کاوشوں میں  اور محنت کرتا ہے اور ان میں مزید گہرائی پیدا کرتا ہے  تاکہ سماج کے لئے بہتر سے بہتر قلمی غذا فراہم کر سکے ۔ امام حسن عسکری علیہ السلام نے جہاں شاگردوں کی تربیت کی وہیں آپ اہل قلم سے غافل نہ رہے  چنانچہ داؤد بن قاسم جعفری کا کہنا ہے کہ  یونس آل یقطین کی کتاب" یوم و لیلہ "کو میں نے امام علیہ السلام کی خدمت میں  پیش کیا  آپ نے فرمایا :’’تَصْنیفُ مَنْ هذا‘‘۔ یہ کس کی تصنیف ہے ؟ میں نے جواب دیا : یونس کی ہے ، آپ نے فرمایا:’’اَعْطاهُ اللّهُ بِکُلِّ حَرْفٍ نُورا یَوْمَ الْقِیامَةِ‘‘۔ خدا وند متعال اسے  ہر ایک حرف کے بدلے قیامت کے دن ایک نور عطا کرے گا ۔(۶) ۔اہل علم و قلم کے تئیں امام کی قدردانی وہ بھی ان حالات میں،بہت بڑی بات ہے۔ ان تم  تر تنگیوں اور محدودیتوں کے باوجود جب  اہل قلم حضرات اپنی کاوشوں کو آ پ کی خدمت میں پیش کرتے تو آپ وقت نکا ل کر اسکا مطالعہ فرماتے اور اگر کتاب کا مسودہ  یا تحریر آپ کی نظر کے مطابق درست ہوتے تو آپ  فرماتے:’’صَحیحٌ فَاعْمَلُوا به‘‘۔ صحیح ہے اسی کے مطابق عمل کرو۔(۷) شاید امام علیہ السلام کی طرف سے اہل قلم کے سلسلہ سے یہی خاص توجہ تھی جسکی بنیاد پر صاحبان قلم کو اپنی پشت پناہی کا جب احساس ہوا اور انہیں لگا کہ معصوم انکے کام کو سراہ رہا ہے تو انہوں نے بھی جی جان لگا کر کوشش کی ، خاص کر آپ کے شاگردوں نے حکومت وقت کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی ہونے کے باوجود قلمی میدان میں کوئی دقیقہ فروگزار نہ کیا  چنانچہ آپ کے سولہہ( ۱۶ )شاگردوں کی جانب سے  ۱۱۸ عناوین میں کتابوں کی تألیف کا تذکرہ ملتا ہے انکے درمیان علی بن حسن فضال کی ۳۶ کتابیں ، محمد بن حسن صفار کی ۳۵ ،عبد اللہ بن جعفر حمیری کی  ۱۹، احمد بن ابراہیم کی ۷ ،ہارون بن مسلم کی ۶ کتابیں قابل ذکر ہیں۔(۸)
۳۔ خود قلم اٹھانا
آپ نے محض اہل قلم حضرات کو نہیں سراہا اور صرف  انکی تحسین و تمجید پر اکتفا نہیں کیا  بلکہ خود بھی قلم اٹھایا  چنانچہ  تفسیر القرآن کے نام سے ایک کتاب کہ، جسے  حسن بن خالد برادر محمد بن خالد نے نقل کیا ہےوہ   آپ سے  منسوب ہے’’تفسیر الامام العسکری علیه السلام‘‘۔اسکے بارے میں علماء رجال و حدیث کے درمیان ابھی یہ گفتگو ہے کہ  کیا یہ وہی تفسیر ہے جسے آپ نے تحریر فرمایا ہے یا نہیں ؟ ایک دوسری کتاب جو آپ کی طرف منسوب ہے’’المنقبة‘‘ ہے۔اسکے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ حلال و حرام کےاحکامات پر مشتمل یہ کتاب آپ نے تحریر فرمائی ہے۔(۹) اسکے علاوہ بھی آپ کی اور بھی کتابیں علماء نے نقل کی ہیں۔(۱۰) جن سے پتہ چلتا تھا ہے کہ  آپ نے سخت ترین گھٹن کے دور میں بھی تألیف و تصنیف کا سلسلہ نہیں چھوڑا ۔
۴۔ آپکے مکتوبات
آپکے دور میں جہاں حکومت کی جانب سے آپ پر کڑی نظر تھیں وہیں شیعت مختلف علاقوں میں پھیل چکی تھی چنانچہ کوفه، بغداد، نیشاپور، قم، آبه (آوه)، مدائن، خراسان، یمن، ری، آذربایجان، سامرا، جرجان و بصره وغیرہ ،غرض!یہ وہ علاقے تھے جہاں شیعوں کی خاصی آبادی تھی ان  شہروں کے درمیان سامرا، کوفه، بغداد، قم و نیشاپور کی خاص اہمیت  حامل علاقے تھے۔(۱۱)
آپ نے حکومت کی پابندیوں کے پیش نظر خطوط کے ذریعہ اسلامی معارف کواپنے چاہنے والوں تک پہنچانے کی راہ اختیار کی  لہذا  علم ودانش کی ترویج اور شیعت کی ثقافت کو بیان کرنے کے لئے آپ نے جہاں جہاں بھی شیعہ آباد تھے ان آبادیوں میں خطوط روانہ کئے  ان خطوط میں قم اور آوہ کے لئے لکھے جانے والے آپ کے خطوط کی تفصیل کتابوں میں موجود ہے۔(۱۲) آپ نے یوں تو جہاں بھی ضرورت سمجھی خطوط لکھے،  مدینہ  کے سلسلہ سے بھی ملتا ہے کہ وہاں بھی آپ  نے خطوط کے ذریعہ لوگوں کی راہنمائی کی اور بہت سے خطوط لکھ کر روانہ کئے۔(۱۳) ابن بابویہ اور اسحاق ابن اسماعیل اور نیشاپور کے شیعوں کو لکھے گئے آپ کے خطوط  شیعوں کی  ذمہ داریوں کے ساتھ  لوگوں کی ہدایت میں امامت کے کرادر کو بیان کر تے ہیں۔  خاص طور پر اسحاق بن اسماعیل کو لکھے جانے والے خط میں آپ واضح طور پر  لکھتے ہیں : کہ اس شہر کے شیعہ جو کچھ اس خط میں لکھا جا رہا ہے اسی کے مطابق کرنے کے ذمہ دار ہیں۔(۱۴)
الغرض امام علیہ السلام نے سخت گھٹن کے حالات میں بھی اپنے شیعوں کی ضرورتوں کو فراموش نہیں کیا اور علمی و فکری راہ میں انکی رہنمائی کی۔  امام علیہ السلام کی حیات طیبہ کے یہ نقوش ہم سے مطالبہ کر رہے کہ ہم اپنے ملک کی موجودہ صورت حال میں ہر گز یہ کہہ کر اپنا دامن نہیں جھاڑسکتے کہ حالات بہت خراب ہیں ہم سے کیا مطلب ؟ ہر گز نہیں ! سخت ترین حالات میں بھی ہمیں علمی اور فکری طور پر آگے بڑھنا ہوگا اور ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنا ہوگا ،بلکہ حالات جتنے سخت اور کھٹن ہوتے ہیں ذمہ دایاں اتنی ہی سخت اور جاں فرسا ہوجاتی ہیں۔ دور دراز کے شیعہ علاقوں سے رابطہ رکھنا ہوگا انکی ضرورتوں کو پورا کرنا ہوگا ، حالیہ ہونے والے انتخابات نے بھی واضح کر دیا ہے کہ ملک کی عوام کا ذہن بدل رہا ہے  فسطائی طاقتوں کو ہر جگہ شکست ہو رہی ہے ایسے میں ہمارے لئے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا اور سمجھ کر لوگوں کے درمیان بیداری لانا ہمارا ولین فریضہ ہونا چاہیئے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔ رجوع کیجئے: علل الشرایع، صدوق، قم، مکتبة الطباطبائی، ج 1، ص 176 و 230۔
۲۔ بحارالانوار، مکتبة الاسلامیة، ج 50، ص 251؛ دلائل الامامة، جریر طبری، قم، منشورات الرضی، چاپ سوم، 1363 ه . ش، ص 226.
۳ ۔ رجال، شیخ طوسی، چاپ نجف، المکتبة الحیدریة، 1381  ھ ، ص 427۔
۴ ۔ سیره پیشوایان، مهدی پیشوایی، ص 627۔
۵۔رجوع کیجئے : الذریعة الی تصانیف الشیعة، ج 4، ص 283 ـ 297؛ آشنایی با متون حدیث، مهریزی، ص 77۔
۶۔ بحار الانوار، بیروت، ج 2، ص 150، ح 25؛ رجال النجاشی، ابوالعباس نجاشی، قم، مکتبة الداوری، 1402ھ، ص 447، شماره 1208۔
۷۔ فلاح السائل، سید ابن طاووس، قم، دفتر تبلیغات، ص 183۔
۸ ۔ الذریعة الی تصانیف الشیعة، آغابزرگ تهرانی، تهران، المکتبة الاسلامیة، ج 3، ص 149؛ آشنایی با متون حدیث، مهریزی، قم، مرکز جهانی علوم اسلامی، چاپ اوّل، ص 77۔
۹ ۔ الذریعة الی تصانیف الشیعة، ج 3، ص 149۔
۱۰۔ تدوین السنة، سید محمد رضا حسینی، قم، مکتب الاعلام الاسلامی، 1418 ه . ق ، ص 185.
۱۱۔ حیاة الامام العسکری، محمدجواد طبسی، قم، دفتر تبلیغات، ص 223؛ تاریخ الشیعة، شیخ محمد حسین مظفر، مکتبة بصیرتی، ص 62، 78 و 102؛ سیره پیشوایان، ص 632۔
۱۲ ۔ معادن الحکمة فی مکاتب الائمة، فیض کاشانی، ص 264۔
۱۳ ۔ بحارالانوار، ج 50، ص 317۔
۱۴ ۔ ختیار معرفة الرجال، شیخ طوسی، دانشگاه مشهد، ص 575؛ بحارالانوار، ج 50، ص 219 ـ 323۔


 
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम