Code : 780 22 Hit

اللہ تعالیٰ کا انداز رحمت

اللہ تعالٰی نے انسان کو اس دنیا میں کمال حاصل کرنے اور اپنے رب کا قرب حاصل کرنے کے لئے بھیجا ہے اور اسی غرض کے لئے اس نے اپنی پوری کائنات کے تمام وسائل اس کی خدمت کے لئے وقف کردیئے ہیں۔درحقیقت انسان ہی اس نظام کا در بے بہا ہے جس پر اتنا الہی سرمایہ خرچ ہورہا ہے ۔اگرچہ اس نے جہنم کو بھی خلق کیا ہے لیکن اس کی تخلیق مقصد کے طور پر نہیں ہوئی بلکہ اس وجہ سے کہ نیکیاں ،بھلائی اور خدمت خلق کرنے والوں کے حق کو ضائع ہونے سے بچا لیا جائے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! اللہ تعالیٰ کی سب سے بارز صفات اس کا رحمٰن اور رحیم ہونا ہے۔چنانچہ اللہ تعالٰی نے اپنی سب سے افضل کتاب کا آغاز ہی اپنی ان دونوں صفات کے ذکر کے ساتھ کیا ہے:’’ بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ ‘‘۔(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
اللہ تعالٰی نے انسان کو اس دنیا میں کمال حاصل کرنے اور اپنے رب کا قرب حاصل کرنے کے لئے بھیجا ہے اور اسی غرض کے لئے اس نے اپنی پوری کائنات کے تمام وسائل اس کی خدمت کے لئے وقف کردیئے ہیں۔درحقیقت انسان ہی اس نظام کا در بے بہا ہے جس پر اتنا الہی سرمایہ خرچ ہورہا ہے ۔اگرچہ اس نے جہنم کو بھی خلق کیا ہے لیکن اس کی تخلیق مقصد کے طور پر نہیں ہوئی بلکہ اس وجہ سے کہ نیکیاں ،بھلائی اور خدمت خلق کرنے والوں کے حق کو ضائع ہونے سے بچا لیا جائے۔
اگرچہ وہ پروردگار قہار بھی ہے لیکن اس کا قہر بعد کے مرحلہ میں کسی کا مقدر بنتا ہے ابتداء اس کی رحمت سے ہوتی ہے چنانچہ دعائے جوشن کبیر میں معصوم(ع) کا یہ جملہ اللہ کی رحمت کی نوعیت و سبقت کو سمجھانے کے لئے کافی ہے:’’ يا من وسعت كل شيء رحمته، يا من سبقت رحمته غضبه‘‘۔اے وہ ذات جس کی چادر رحمت نے سب پر سایہ کیا ہوا ہے۔ اے وہ ذات جس کی رحمت اس کے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔یا خود قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:’’ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَىٰ نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ‘‘۔(سورہ انعام:۵۴) تمہارے پروردگار نے اپنے اوپر رحمت لازم قرر دے لی ہے۔
اور اس رحم کرنے والے پروردگارکی رحمت کا اندازہ یہیں سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے اپنے دین کو  دین رحمت اور اپنے رسول کو  رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے۔اب مسلمانوں کی ذمہ داری بھی یہ ہے کہ وہ امت رحمت بن کر اپنا تعارف کروائیں۔لیکن افسوس ہوتا ہے ان دہشت کے ٹولوں پر جو سامراجیت کے آلہ کار بن کر اس کی خدمت کرنے کے لئے اسلام کے چہرہ رحمت کو داغدار بنانے میں لگے ہوئے ہیں اور اسلام کے چہرہ رحمت کو بگاڑ کر پیش کررہے ہیں اور آج دیگر مذاہب کے درمیان مسلمان یعنی قاتل،مسلمان یعنی خون بہانے والا،مسلمان یعنی کسی کا حق مارنے والا، مسلمان یعنی کسی بے گناہ کی گردن اللہ اکبر کہہ کر کاٹنے والا(نعوذ باللہ من شرور انفسھم)
اور اگر مسلمان طول تاریخ اور خاص کر آج ، اسلام کے اس عظیم سرمائے (یعنی رحمت) کو پیش کرتے تو شاید دنیا میں کوئی بھی عقل مند کفر پر باقی نہ رہتا اگر ہمیں اللہ کی رحمت کو سمجھنا ہے تو رسول اللہ(ص) کی اس حدیث سے سمجھ سکتے ہیں جس کا مضمون یہ ہے:
ایک دن رسول اللہ (ص) کے حضور میں  کچھ لوگ بیٹھے تھے ان میں کچھ خواتین بھی تھیں اسی اثناء میں ایک خاتون کی آغوش میں موجود بچہ رونے لگا۔فطری اور طبیعی تقاضہ کو پورا کرتے ہوئے  وہ عورت  اپنے بچے کو دودھ پلانے لگی۔ آپ نے اپنے پاس بیٹھے لوگوں سے سوال کیا:کیا تم لوگوں کی نظر میں یہ عورت کبھی اپنے بچے کو آگ میں پھینک سکتی ہے؟
اصحاب نے جواب دیا:نہیں!
پیغمبر اکرم(ص) نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالٰی  اپنے بندوں کی نسبت اس ماں سے بھی زیادہ مہربان ہے۔(میزان الحکمه، ج ۴، ص۳۸۸)
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम