Code : 459 22 Hit

اصول دين ميں عدل سے کيا مراد هے؟

عدل الہی کو ماننے والے عدليه یعنی شیعہ امامیہ اور معتزلہکہتے ہیں : اللہ عادل ہے ، ذات پروردگار خير محض و کمال و علم و قدرت مطلق هے ، لہذا حسن و قبح ذاتي و عقلي کا تقاضا یہ ہے کہ ایسی ذات سے کسی قسم کا کوئی بھی قبيح کام منجمله ظلم کا صادر هونا ناممکن هے اور خدا کي طرف سے خیر ہی خیر، منجمله عدل کي رعايت کرنا ضروري هے ـ

ولایت پورٹل:

سوال:اصول دين ميں عدل سے کيا مراد هے؟

جواب

مختصر جواب : 

یہ کہ خدا عادل ہے ظلم نہیں کرتا ۔ در اصل مسلمانوں کے ایک مکتب فکراشاعره کے نزدیک اگر اللہ تعالی تمام انبياء اور مومنين کو جهنم ميں ڈال دے اور تمام کفار و مشرکين و منافقين کو بهشت ميں ڈال دے ، تووہ  ایسا کر سکتا ہے ، اور اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالی ایسا نہیں کر سکتا تو وہ اس کی قدرت کو محدود کر رہا ہے، اور اللہ کی مرضی پر اپنی مرضی چلانے کی کوشش کر رہا ہے ، اور اللہ تعالی پر حکم چلانا چاہتا ہے ۔ 

لیکن اس کے برعکس عدل الہی کو ماننے والے عدليه یعنی شیعہ امامیہ اور معتزلہکہتے ہیں : اللہ عادل ہے ، ذات پروردگار خير محض و کمال و علم و قدرت مطلق هے ، لہذا حسن و قبح ذاتي و عقلي کا تقاضا یہ ہے کہ ایسی ذات سے کسی قسم کا کوئی بھی قبيح کام منجمله ظلم کا صادر هونا ناممکن هے اور خدا کي طرف سے خیر ہی خیر، منجمله عدل کي رعايت کرنا ضروري هے ـ 

تفصيلي جواب: 

"عدل" لغت ميں ميانه روي اور افراط و تفريط سے پرهيز اور ہر چیز کو اپنے صحیح اور مناسب میں رکھنے کے معني ميں هے۔ قرآن مجيد ميں بھي لفظ "عدل"، اپنے مختلف لغوي اور اصطلاحي معني ميں استعمال هوا هے، ليکن اکثر مواقع پر، دنيا و آخرت ميں ثواب و عقاب کے مقام پر خداوند متعال کے ظلم کي نفي کے معني ميں استعمال هوا هےـ دوسرے مواقع پر قسط و عدل کو انبياء کي بعثت کے لئے ايک اهم مقصد جانا گيا هے اور انبياء اور دوسرے لوگوں کو عدالت، دوسروں کے حقوق کي رعايت کرنے اور دوسروں کے حقوق کو پامال نه کرنے کي دعوت دي گئي هے يا عادلانه و منصفانه فيصله کرنے کا حکم ديا گيا هے ـ اس کے علاوه آسمانوں، زمين اور انسان کي خلقت کو متعادل و متوازن خلقت کو عدل سے تعبیر کیا هے ـ 

اشاعره (ابوالحسن اشعري کے پيرو) معتقد هيں: خداوند متعال پر کوئي چيز ضروري اور واجب نهيں هے اور خداوند متعال پر کسي چيز کے واجب هونے کا اعتقاد، کا لازمه اس کو محدود کرنا اور اس کے اوپر حکم چلانے کے مترادف هے ـ اس لحاظ سے کسي کو يه حق نهيں پهنچتا هے که وه يه کهے که: "عدالت کي رعايت کرنا خداوند متعال کے لئے ضروري هے اور ظلم جيسے کام کو انجام دينا اس کے لئے قبيح هے"ـ اللہ تعالی جو چاہے کر سکتا ہے اگر چه وه تمام مومنين کو جهنم ميں ڈال دے اور تمام کفار کو بهشت ميں بھيجدے! اور يه ناممکن نهيں هے ـ 

اس سلسله ميں اماميه (شیعہ ) معتقد هيں که: اللہ عادل ہے ، ذات پروردگار خير محض و کمال و علم و قدرت مطلق هے، لہذا حسن و قبح ذاتي و عقلي کا تقاضا یہ ہے کہ ایسی ذات سے کسی قسم کا کوئی بھی قبيح کام منجمله وعده خلافي، جھوٹ اور ظلم کا صادر هونا ناممکن هے اور خدا کي طرف سے خیر ہی خیر، منجمله عدل کي رعايت کرنا ضروري هے ـ 

اس بنا پر قرآن مجيد میں دئے وعدوں کی وعده خلافي ناممکن هے،لہذا خداوند عالم کبھی بھی کفر و نفاق اور شرک پر مرنے والے کفار ، منافقين و مشرکين کو بہشت میں ، اور انبياء، اوليا اور مومنين کو جهنم ميں ہرگز نہیں ڈالے گا۔ 

خداوند عالم سے کسی طرح قبيح چيزوں کا صادر هونا ناممکن هےـ 

یہ عقل کا حکم ہے ، البتہ یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ یہاں حکم سے مراد حکم حاکم نہیں ، یعنی ایسا نہیں کہ عقل حاکم ہو اور خدا نعوذ باللہ محکوم ، عقل حاکم نہیں بلکہ عقل کاشف ہے ، یعنی عقل ذات پروردگار کے جملہ کمالات و صفات کو مد نظر رکھتے ہوئے ، اللہ تعالی کے سلسلہ میں ایک واقعیت کو کشف کر رہی ہے ، عقل تشخيص ديتي هے که قطعاً خداوند متعال عادل هے اور دنيا و آخرت ميں هرگز کسي پر ظلم نهيں کرتا هے اور نهيں کرے گا، لہذا اللہ پر حکم چلانے کے معنی میں بھی نہیں ہے ۔ اشاعرہ کی سب سے بڑی بھول بھی  یہی ہے کہ وہ حاکمیت اور کاشفیت کے فرق کو نہیں سمجھ سکے ۔ 

اس جھگڑے کے نتيجه ميں، اماميه اور معتزله "عدليه" کے نام سے مشهور هوئے هيں اور اس طرح عدل کو اپنے اصول مذهب میں ايک اصل کے طور پر بیان کیا، جبکه اشاعره صرف توحيد، نبوت و معاد کو اصول دين مانتےهيں ـ 

البته عدل الہی کے سلسلہ میں معتزله اور شيعه کے عقائد ميں فرق بھی بہت ہے چنانچہ شيعوں کا نظريه معتزله کي افراط اور اشعري کي تفريط سے پاک ، اعتدال پر مبنی هے ـ 

قابل ذکر بات هے که عدل کے اس معني کے فقه ،کلام اور دیگر علوم اسلامی میں کچھ لوازمات هيں ، منجملہ : 

الف ـ تکوين ميں عدل: 

هر مخلوق کو متعادل اور متوازن صورت ميں خلق کيا گيا هے اور اس کے اجزاء اس طرح منظم کئے گئے هيں که مجموعي صورت ميں اس مخلوق کو کمال کي لياقت تک پهنچا سکيں ـ دوسري جانب سے عالم خلقت ميں هر مخلوق کو ايک خاص ذمه داري عطا کي گئي هے، تا که عالم هستي بھي منسجم اور هم آهنگ صورت ميں، معين مقصد کي طرف گامزن هوجائےـ 

ب ـ عالم تشريع ميں عدل: 

تشريعي عدل کے دو لوازمات هيں: 

1ـ قبح عقاب بلا بيان: خداوند متعال مستضعف اورقاصر کی جهالت کي وجه سے واجب کو ترک کرنے کے لئے عذاب نهيں کرے گاـ البتہ مقصر کی جہالت قابل قبول نہیں ۔ 

2ـ قبح تکليف مالايطاق: خداوند متعال نے انسان سے اس کي توانائي سے زياده کسي تکليف يا فريضه کا مطالبه نهيں کيا هے اور معذور افراد سے عسر و حرج اٹھا ليا هے ـ هر شخص سے اس کي توانائی کے مطابق توقع کي جاتي هے اور اس کے اعمال کي بھي اس کي توائيوں کے مطابق ناپ تول کي جاتي هے ـ اگر نيک هو، اسے پاداش دي جاتي هے اور اگر براهو تو اسے سزادي جاتي هے ـ 

ج ـ محشر ميں عدل: 

مذکوره موارد کے پيش نظر خداوند متعال قيامت کے دن بھي عدل و انصاف کا حکم ديتا هےـ 

دـ حکم کو نافذ کرنے ميں عدل: 

خداوند متعال، حکم نافذ کرنے ميں بھي عدالت پر عمل کرتا هے۔ نيک افراد کو جزا ديتا هے اور بدکاروں کو سزا دينا هےـ البتہ معصومین  علیہم السلام کي دعاؤں ميں اللہ کے عدل سے پناه مانگي گئي هے ، اس کا راز یہ ہے کہ وعدہ کی خلاف ورزی قبیح ہے ، لیکن  وعید کی خلاف ورزی قبیح نہیں ، بلکہ مولا عفو و در گذر سے بھی کام لے سکتا ہے ۔ البتہ عفو و مغفرت کے بھی اپنے کچھ اصول ہیں ۔ خدا اسی کو معاف کرتا ہے جو معاف کر نے کے لائق ہو ۔ 

0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम