Code : 456 9 Hit

اسلام کے دامن میں حقیقی آزادی نصیب ہوئی:ارجنٹائن کی تازہ مسلمان خاتون

محترمہ زہرا کے مطابق آج پورے مغربی ممالک کی خواتین جس چیز کی تلاش میں ہیں اور روز و شب جس گوہر گرانقدر کو تلاش کرنے کے لئے محنت و مشقت کررہی ہیں اور یہاں تک کہ کبھی کبھی تو انہیں جگہ جگہ مظاہرے بھی کرنا پڑتے ہیں وہ ہے حقیقی آزادی کا حصول۔تاکہ وہ اس کے سائے میں اپنے کو غیر مردوں اور اجنبیوں کی دراندازی سے محفوظ رکھ سکیں،لیکن میں انہیں یہ بتانا چاہوں گی کہ اسلام کے پاس اس کا بہت آسان اور معیاری نسخہ ہے اور وہ ہے پردہ۔

ولایت پورٹل: محترمہ سوفیا کاسٹرو کا تعلق جمہوریہ ارجنٹائن(Argentina) سے ہے کہ جنہوں نے اسلام کے دامن عافیت میں پناہ ہے اور اپنا نام سوفیا سے تبدیل کرکے ’’زہرا‘‘ رکھ لیا ہے۔
انہوں نے حوزہ علمیہ قم کی رسمی  نیوز ایجنسی کو دیئے ایک انٹرویو میں اپنے مسلمان ہونے کا اصلی سبب دین اسلام کا ایک معقول و مدلل مذہب ہونا بتایا ہے۔
محترمہ زہرا نے اظہار کیا ہے کہ ایک دین سے دوسرے دین کی طرف آنا ابتداء میں میرے لئے بہت دشوار تھا لیکن دوسرے ادیان کی نسبت اسلام میں ایک خاص کشش اور جاذبہ پایا جاتا ہے چونکہ اس دین کے پاس میرے ہر پیچیدہ سوال اور شبہ کا ایک منطقی و معقول جواب تھا۔
جمہوریہ ارجنٹائن کی اس تازہ مسلمان خاتون نے اپنی روداد بتلاتے ہوئے کہا کہ میں سب سے پہلی بار ایک مسلم خاتون کے طرز زندگی اور گھریلو مسائل میں اس کی پر سکون زندگی سے حد درجہ متأثر ہوئی یہی چیز میرے لئے سبب بنی کہ میں اس کے ساتھ اس مرکز تک آگئی جہاں سے ایک مسلمان کو حقیقی سکون ملتا ہے۔یعنی سکون کا وہ مرکز جسے عام زبان میں مسجد کہا جاتا ہے۔وہاں میری ملاقات ایک شیعہ مولانا سے ہوئی اور میں نے ان سے بہت سے سوالات کئے اور انہوں نے میرے ہر سوال کا جواب بڑی متانت اور حوصلہ سے دیا لہذا ان کے حسن سلوک نے مجھے ایک قدم اور اسلام کی طرف بڑھنے میں مدد کی۔اور یہیں سے میں نے اپنے اندر تبدیلی محسوس کی۔
ارجنٹائن کی اس تازہ مسلمان خاتون کا اظہار خیال تھا کہ کسی بھی دین کے عقیدہ کو قبول کرنے کا معیار عقل ہونا اس کے برحق ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
اس خاتون نے نہ بھی اظہار کیا کہ اسلام کو پہچاننے کا شوق مجھے حوزہ علمیہ قم تک لے آیا لہذا میں چار برس ہوگئے اپنے شوہر کے ساتھ یہاں علم دین کے حصول میں مشغول ہوں اور جب ہماری تعلیم مکمل ہوجائے گی ہم اپنے وطن لوٹ کر اپنے دیگر دوستوں کو دین اسلام سے روشناس کرائیں گے۔
اسلام کے دامن میں حقیقی آزادی نصیب ہوئی
محترمہ زہرا کے مطابق آج پورے مغربی ممالک کی خواتین جس چیز کی تلاش میں ہیں اور روز و شب جس گوہر گرانقدر کو تلاش کرنے کے لئے محنت و مشقت کررہی ہیں اور یہاں تک کہ کبھی کبھی تو انہیں جگہ جگہ مظاہرے بھی کرنا پڑتے ہیں وہ ہے حقیقی آزادی کا حصول۔تاکہ وہ اس کے سائے میں اپنے کو غیر مردوں اور اجنبیوں کی دراندازی سے محفوظ رکھ سکیں،لیکن میں انہیں یہ بتانا چاہوں گی کہ اسلام کے پاس اس کا بہت آسان اور معیاری نسخہ ہے اور وہ ہے پردہ۔
نیز انہوں نے پردے اور حجاب کو معاشرہ میں ایک مسلمان ہونے کا سب سے بڑا سنبل قرار دیا اور کہا: آپ دیکھئے ایک مسلمان اپنے چہرے سے ممکن ہے نہ پہچانا جائے لیکن حجاب اور پردہ عورت کے پاس اسلام کی وہ علامت ہے جس سے وہ ہر حال میں پہچان لی جاتی ہے۔
نیز انہوں نے دین کی شناخت کو ایک لازم و واجب امر قرار دیتے ہوئے آج کے جوانوں کو نصیحت کی ہے کہ وہ دین کو درست اور عمیق طور پر سمجھیں اور خاص طور پر وہ جوان جو پیدائشی طور پر مسلمان ہیں۔تاکہ ان کے لئے پردہ، نماز اور دین کے دیگر دستورات واضح ہوجائیں۔
ارجنٹائن کی اس تازہ مسلم خاتون نے خواتین اور جوانوں کو خاص تأکید کی کہ وہ قرآن مجید کو اپنی زندگی میں ضرور ڈھالیں چونکہ قرآن مجید کی چند آیات پڑھ کر حق ادا نہیں ہوتا بلکہ ہمیں ان آیات کی تفسیر بھی سمجھنی ہوگی چونکہ صرف قرآن مجید کو قرآن سے نہیں سمجھا جاسکتا۔
اور آخر میں محترمہ زہرا نے تأکید کی کہ ایک مسلمان دوسرے مذہب کے ماننے والوں سے بنیادی فرق رکھتا ہے لہذا ہمیں اپنے کردار و رفتار پر خاص توجہ دینی چاہیئے چونکہ دوسرے لوگ ہمارے اعمال و رفتار سے اسلام کی تعلیمات کا تخمینہ لگاتے ہیں لہذا اگر ہمارا کردار خود دین کے مطابق ہوگا تو ہم دین اسلام کی تبلیغ کا حق بہتر طور پر ادا کرسکتے ہیں۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम