Code : 689 30 Hit

اسلام کی نظر میں شادی کرنے کی سب سے اہم شرط

فقہی اصطلاح میں رشد کا تعلق صرف اندام اور جسم سے نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک طرح کے روحانی کمال اور ارتقا کا نام ہے۔چنانچہ فقہاء کی نظر میں وہ لڑکا رشید کہلاتا ہے کہ جو عاقل و بالغ ہو اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی جانتا ہو کہ شادی کا مقصد کیا ہے اور شادی کے ثمرات اور برکات کو درک کرنے کی صلاحیت اس میں پائی جاتی ہو۔اس میں انتخاب اور ارادہ کی طاقت پائی جائے محض کسی کے کہنے اور تلقین کی بنیاد پر کسی لڑکی کو اپنی شریک حیات کے طور پر انتخاب نہ کرلے نیز اسی طرح لڑکی بھی اپنے اچھے برے کو جانتی ہو شادی میں انتخاب کی اہمیت اور اپنے مستقل ارادے کی مالک ہو۔

ولایت پورٹل: اسلامی فقہ میں یہ قانون مسلّم ہے کہ شادی کے وقت لڑکے اور لڑکی کا صرف عاقل و بالغ ہونا کافی نہیں ہے یعنی ایک لڑکا صرف یہ کہ وہ عاقل ہے اور سن بلوغ کو پہونچ چکا ہے وہ کسی لڑی سے شادی نہیں کرسکتا اور اسی طرح ایک لڑکی کا عاقلہ و بالغہ ہونا شادی کرنے کے لئے کافی نہیں ہے بلکہ فقہاء نے عقل و بلوغ کے ساتھ ساتھ شادی کے لئے ایک مزید شرط کو لازم قرار دیا ہے اور وہ ہے’’رشد‘‘۔یعنی شادی کے وقت لڑکا اور لڑکی بالغ و عاقل ہونے کے ساتھ ساتھ رشید بھی ہوں۔رشد ،عقل اور بلوغ کے علاوہ ایک الگ چیز ہے۔
فقہی اصطلاحات میں رشد کا تعلق صرف اندام اور جسم سے نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک طرح کے روحانی کمال اور ارتقا کا نام ہے۔چنانچہ فقہاء کی نظر میں وہ لڑکا رشید کہلاتا ہے کہ جو عاقل و بالغ ہو اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی جانتا ہو کہ شادی کا مقصد کیا ہے اور شادی کے ثمرات اور برکات کو درک کرنے کی صلاحیت اس میں پائی جاتی ہو۔اس میں انتخاب اور ارادہ کی طاقت پائی جائے محض کسی کے کہنے اور تلقین کی بنیاد پر کسی لڑکی کو اپنی شریک حیات کے طور پر انتخاب نہ کرلے نیز اسی طرح لڑکی بھی اپنے اچھے برے کو جانتی ہو شادی میں انتخاب کی اہمیت اور اپنے مستقل ارادے کی مالک ہو۔
اور اگر شادی کے شرائط میں موجود کلمہ’’رشد‘‘ کو اس کے خاص معنٰی(کمال روحانی و فکری) سے صرف نظر کرتے ہوئے اس سے عام معنٰی مراد لئے جائیں اور ہر طرح کے رشد پر اسے منطبق کیا جائے۔چاہے وہ معنوی رشد ہو یا روحانی و جسمانی رشد۔ تو پھر ہمیں یہ تعریف تبدیل کرنا پڑے گی اور اس کی جگہ فقہی اصطلاح کا یہ معنٰی کرنا پڑے گا کہ:فقہی اسلامی میں رشید اس انسان کو کہتے ہیں جس میں یہ شائستگی اور لیاقت پائی جاتی ہو ہو کہ شادی جیسا وہ سرمایہ جسے اللہ نے اس کے حوالے کیا ہے وہ اس سے  صحیح طور پر استفادہ کرسکے اور اس کی حفاظت و پاسداری کے تمام اصول و ضوابط کا پابند ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منبع:
امدادهای غیبی در زندگی بشر،شہید مطہری، ص ۱۰۲ اور ۱۰۳۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम