Code : 491 17 Hit

اسلام میں مال کا حصول اور اس کا مقصد

اسلام نے ثروت و مال کے سلسلہ سے جس چیز کو منع کیا اور روکا ہے وہ یہ ہے کہ انسان مال پر قربان ہوجائے،اسلام نے مال پرستی کی مذمت کی ہے اور یہ کہ انسان مال کا غلام بن جائے یا صرف کسب مال اس وجہ سے ہو کہ لوگ مجھے مالدار کہیں :’’ الَّذينَ يَكْنِزونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَ لا يُنْفِقونَها فى سَبيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذابٍ اليمٍ‘‘۔اس حالت کا نام لالچ ہے یا دولت اس وجہ سے اکھٹا کرے کہ اس کا پیٹ بھر جائے،اور وہ عیاشی کرے اسے شہوت کہا جاتا ہے لہذا اگر مذکورہ اہداف و مقاصد کے لئے ثروت اندوزی کی جائے تو اسلام اس کی مذمت کرتا ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! دین اسلام ہی واحد ایسا دین ہے جس نے زندگی کے کسی بھی پہلو کو تشنہ نہیں چھوڑا بلکہ انسانی زندگی کے ہر پہلو ۔چاہے وہ انفرادی ہو یا اجتماعی۔کے لئے اسلام کے دامن میں حکم اور پروگرام موجود ہے۔
کوئی یہ تصور نہ کرے کہ اسلام نے صرف نماز،روزہ اور حج وغیرہ کے ہی احکام بیان کئے ہیں بلکہ جس طرح اسلام میں عبادی امور کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اسی طرح معاملات پر بھی سیر حاصل بحث کی گئی ہے اور ہر ایک کے سلسلہ سے کچھ راہ گشا اصول بتائے ہیں۔
آئیے آج ہم سماج کے اہم مسئلہ ثروت اور مال کو کمانے اور اکھٹا کرنے کے متعلق کچھ باتیں کرتے ہیں:
تو اسلام نے ثروت کی افزائش اور اس کی پیداوار  اور اسے جمع کرنے نیز سرمایہ اکھٹا کرنے کو کچھ خاص معیارات اور موازین مقرر کئے ہیں  جن کے تحت اسے جائز بتایا گیا ہے،یعنی اسلام میں مال و ثروت کا ہونا کوئی ناپسند امر نہیں ہے بلکہ جو چیز اسلام کی نظر میں مبغوض ہے وہ  دنیا کو آخرت پر ترجیح دینا ہے۔مال کمانا برا نہیں ہے لیکن مال کی محبت میں اس طرح غرق ہوجانا جس کے سبب اس کے ہاتھ سے انسانی اقدار،بھائی چارہ،انسانیت کا دامن ہی چھوٹ جائے۔البتہ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ اسلام نے کبھی مال کو استقلالی حیثیت نہیں دی ہے بلکہ اسلام نے جب بھی مال و ثروت کو دیکھا ہے تو اسے ایک ذریعہ،وسیلہ،رابطہ اور بُل کی حیثیت سے دیکھا ہے،ایسا وسیلہ جس کے سبب ایک مؤمن سعادت دنیا و آخرت تک پہونچ سکتا ہے لہذا اگر مقصد یہ ہوا تو مال کا حصول دنیاداری نہیں ہوگی بلکہ عین عبادت اور طلب آخرت کا مصداق ہوگا۔
جب ہم اسلامی منابع اور مصادر میں مال و ثروت کے متعلق دیکھتے ہیں تو ہمیں دو طرح کی روایات ملتی ہیں چنانچہ کچھ روایات تو ایسی ہیں جن میں مال کو منفی نظروں سے دیکھا گیا ہے جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:’’انا یعسوب المؤمنین و المال یعسوب الفجار‘‘۔میں مؤمنین کا رہبر و قائد ہوں اور مال گنہگاروں کا سربراہ و قائد۔( نہج البلاغہ، کلمات قصار، ح 308)یعنی مؤمنین میری اطاعت و پیروی کرتے ہیں لیکن گنہگار مال و ثروت کے مطیع ہوتے ہیں۔
یا اسی طرح ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا:’’المال مادة الشهوات‘‘۔مال تمام شہوتوں کا سرچشمہ ہے۔( مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، ج 69، ص 67)
یا ارشاد فرمایا:’’من احب الدینار و الدرهم فهو عبد الدنیا‘‘۔جو شخص درہم و دنار کو چاہتا ہے وہ دنیا کا غلام و بندہ ہوتا ہے۔( بحار الانوار، ج 2، ص 107)
لیکن ان روایات کے مقابل کچھ دیگر ایسی روایات بھی ہیں کہ جن میں مال و ثروت کو مثبت نظروں سے دیکھا گیا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:’’المال و البنون زینة الحیاة الدنیا‘‘۔(کهف، 46)مال اور اولاد دنیاوی زندگی کی زینتیں ہیں۔
یا رسول خدا(ص) کا ارشاد ہے:’’نعم المال الصالح للرجل الصالح‘‘۔(بحار الانوار، ج 69، ص 59)صالح مال،صالح  انسان کے لئے کس قدر اچھا ہوتا ہے۔(۱۰)یا  امام محمد باقر ارشاد فرماتے ہیں: ’’نعم العون الدنیا علی طلب الاخرة‘‘۔(کافی، ج 5، ص72) آخرت کے حصول میں دنیا سب سے اچھا مددگار ہے۔
لہذا ان دونوں طرح کی روایات میں غور کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اصل مال اسلام کی نگاہ میں مذموم نہیں ہے بلکہ اس وجہ سے کہ دنیا، آخرت تک پہونچنے کا ذریعہ و وسیلہ ہے لہذا یہ ایک ممدوح اور محبوب چیز شمار کی گئی ہے یہی وجہ ہے ایک روایت میں ملتا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے ایک شخص کو دیکھا کہ جو دنیا کی مذمت کررہا تھا فرمایا:’’ کیا تو دنیا میں کسی جرم کا مرتکب ہوا ہے یا دنیا نے تیرے حق میں جفا کی ہے‘‘۔(نہج البلاغہ، صبحی صالح، خ 131)
اسلام کی نظر میں کسب مال و ثروت کبھی کبھی تو واجب ہوجاتا ہے یعنی جس طرح دوسری عبادتیں انسان پر واجب اور فرض ہیں ویسے ہی مال کا کسب کرنا واجب ہوجاتا ہے اور یہ وہ موقع ہے کہ جب انسان اور اس کی کفالت میں رہنے والے لوگ بھوک سے مرنے لگیں لہذا اس شخص پر واجب ہے کہ وہ ان کے لئے قوت لا یموت فراہم کرے۔
چنانچہ شہید مطہری(رح) رقمطراز ہیں: کہ اسلام میں مال و ثروت کبھی حقارت بھری نظروں سے نہیں دیکھا گیا نہ اس کی افزائش و پیداور اور خرید و فروخت اور نہ اسے استعمال کرنا،بلکہ اسلام میں ان سب کی تأکید اور سفارش ہوئی ہے اور ان سب کے لئے الگ الگ اصول و ضوابط مقرر کئے گئے ہیں اور اسلام میں کسی صورت بھی مال کو دور پھینکنے کی ترغیب نہیں دلائی گئی ہے بلکہ مال کی بربادی کو اسراف و تبذیر جیسے الفاظ سے یاد کیا گیا ہے جو قطعاً حرام ہے۔
اسلام نے ثروت و مال کے سلسلہ سے جس چیز کو منع کیا اور روکا ہے وہ یہ ہے کہ انسان مال پر قربان ہوجائے،اسلام نے مال پرستی کی مذمت کی ہے اور یہ کہ انسان مال کا غلام بن جائے یا صرف کسب مال اس وجہ سے ہو کہ لوگ مجھے مالدار کہیں :’’ الَّذينَ يَكْنِزونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَ لا يُنْفِقونَها فى سَبيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذابٍ اليمٍ‘‘۔اس حالت کا نام لالچ ہے یا دولت اس وجہ سے اکھٹا کرے  کہ اس کا پیٹ بھر جائے،اور وہ عیاشی کرے اسے شہوت کہا جاتا ہے لہذا اگر مذکورہ اہداف و مقاصد کے لئے ثروت اندوزی کی جائے تو اسلام اس کی مذمت کرتا ہے۔(نظری به نظام اقتصادی اسلام، ص16-15)۔

 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम