Code : 534 47 Hit

اسلام میں فضیلت کا پیمانہ

دین اسلام میں قومی و نسلی امتیاز کی تو کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن اس دین نے فضیلتوں کو اہمیت ضرور دی ہے یعنی امتیاز قوم اور نسل،زبان،علاقہ پیسہ،غربت وغیرہ مطلق طور پر نہیں ہیں لیکن اسلام نے فضیلتوں کو اخذ کرنے اور اپنے اندر انہیں رچانے بسانے کی تأکید کی ہے،اسلام نے متقی کو غیر متقی پر ترجیح دی ہے، عالم کو جاہل پر برتری دی ہے مجاہد کو غیر مجاہد پر فوقیت دی ہے پس اسلام فضیلتوں کی بنیاد پر ترجیح دیتا ہے لیکن ان چیزوں کو معیار فضیلت نہیں مانتا جنہیں معاشرے کے لوگ فضیلت و برتری کا پیمانہ تصور کربیٹھے ہیں۔

ولایت پورٹل: دنیا میں موجود تمام اقوام کے یہاں کسی نہ کسی صورت نسلی اور قومی امتیاز کا تصور پایا جاتا ہے چاہے وہ کسی بھی بر اعظم کی رہنے والی اقوام ہوں ان میں کہیں نہ کہیں نسل پرستی اور قومی سر بلندی کا عنصر ضرور ملتا ہے ہر قوم اپنے کو دوسری اقوام سے برتر و اعلٰی سمجھتی ہے اور دوسری اقوام کو اپنے سامنے حقیر گردانتی ہے چنانچہ آج بھی گورے کالوں کو اہمیت نہیں دیتے تو یہودی غیر یہودیوں کو اپنا مسلّم غلام سمجھتے ہیں۔ یہ بات تو ان لوگوں کے سلسلہ سے تھی کہ جو دیگر ادیان کے ماننے والے ہیں لیکن افسوس تو اس وقت ہوتا ہے کہ جب یہی رویہ خود مسلمانوں کے درمیان دیکھنے کو ملتا ہے۔ آپ دور مت جائیے اپنے ہی معاشرے کو لے لیجئے کہ جہاں ہم رہتے ہیں ہم نے خود اپنے درمیان قوم و نسل کی بڑی ضخیم دیواریں بنا رکھیں ہیں کہ جن کو عبور کرپانا اس ترقی کے دور میں بھی سخت اور کھٹن مرحلہ ہے ۔
دنیا کی دوسری اقوام اگر اپنے قومی و نسلی غرور میں مبتلا ہوتی ہیں تو یہ ان کے باطل نظریات کا قصور ہے لیکن حیرت ان مسلمانوں پر ہے جو قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں اور پھر بھی اس تکبر میں مبتلا ہیں۔ اگرچہ ہم اس امر کا اعتراف کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں قومی و نسلی تفاخر کے اثرات دوسری اقوام سے آئے ہیں۔ اس میں دین کا ہرگز ہرگز کوئی قصور نہیں ہے۔
چونکہ قرآن مجید اور سنت معصومین(ع) نے صاف الفاط میں مسلمانوں کے گوش گذار کردیا ہے کہ:’’ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيراً وَنِسَاءً‘‘۔(النساء:1)  اے لوگوں ! اس پروردگار سے ڈرو جس نے تم سب کو ایک نفس سے پیدا کیا ہے اور اس کا جوڑا بھی اسی کی جنس سے پیدا کیا ہے اور پھر دونوں سے بکثرت مرد وعورت دنیا میں پھیلا دئیے ہیں۔
چنانچہ پیغمبر اکرم(ص) نے حجۃ الوداع سے واپسی پر غدیر خم میں جو خطبہ پڑھا اس میں ارشاد فرمایا:’’يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَلَا إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ، وَإِنَّ أَبَاكُمْ وَاحِدٌ، أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى أَعْجَمِيٍّ، وَلَا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ، وَلَا لِأَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ، وَلَا أَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ إِلَّا بِالتَّقْوَى‘‘۔ اے لوگوں!ً تمہارا رب ایک ہے،تمہارا باپ ایک ہے،آگاہ ہوجاؤ کسی عرب کو عجم پر،اور عجم کو عرب پر،کسی گورے کو کالے پر اور کالے کو گورے پر کوئی فضیلت و برتری نہیں مگر یہ کہ تقویٰ کے ذریعہ۔
پس حدیث پیغمبر اکرم(ص) سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ہم جس چیز کو فضیلت کا معیار سمجھ بیٹھے ہیں وہ ایک دھوکہ اور سراب ہے جہاں خوش فہمیاں ہیں توہمات و تخیلات ہیں لہذا ہمیں عالم توہمات و سراب سے عالم حقیقت و واقعیت میں جینے کی ضرورت ہے۔ہم دوسرے کو یہ کہہ کر دھوکہ دے سکتے ہیں کہ آپ ہم سے اس نسلی بنیاد اور قومی سبب کے پیش نظر حقیر ہیں لیکن کیا ہم اپنے ضمیر کو اور اپنے رب کو دھوکہ دے سکتے ہیں؟ اللہ نے انسان کو اقوام، نسل،خطوں ،اور مختلف زبان کا حامل اس وجہ سے بنایا کہ ہم پہچانے جائیں چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:’’ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوباً وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ۔ (الحجرات: 49)  ’’اے انسانو! ہم نے تمہیں ایک مرد و عورت سے پیدا کیا اور تمہیں گروہ اور قبائل بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بے شک اللہ کے نزدیک عزت والا وہی ہے جو زیادہ پرہیز گار ہے‘‘۔
لیکن ہم نے قانون الہی کو اپنے حسب منشأ توجیح کرنا شروع کردیا۔اور ان عارضی اور قابل شناخت و تعارف چیزوں کو اپنے لئے فضیلت،فوقیت اور برتری کا پیمانہ سمجھ بیٹھے۔
اور شہید مطہری کے بقول: کہ دین اسلام میں قومی و نسلی امتیاز کی تو کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن اس دین نے فضیلتوں کو اہمیت ضرور دی ہے یعنی امتیاز قوم اور نسل،زبان،علاقہ پیسہ،غربت وغیرہ مطلق طور پر نہیں ہیں لیکن اسلام نے فضیلتوں کو اخذ کرنے اور اپنے اندر انہیں رچانے بسانے کی تأکید کی ہے،اسلام نے متقی کو غیر متقی پر ترجیح دی ہے، عالم کو جاہل پر برتری دی ہے مجاہد کو غیر مجاہد پر فوقیت دی ہے پس اسلام فضیلتوں کی بنیاد پر ترجیح دیتا ہے لیکن ان چیزوں کو معیار فضیلت نہیں مانتا جنہیں معاشرے کے لوگ فضیلت و برتری کا پیمانہ تصور کربیٹھے ہیں۔(خدا در زندگی انسان، ص۲۵-۲۴ )



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम