Code : 433 24 Hit

اسرائیل اور سعودی کی دوستی کی تاریخ

یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ سعودی عرب کی سیاست آزادانہ اور خود مختارانہ نہیں بلکہ آلِ سعود نے ہمیشہ ہی خطے میں امریکہ اور مغربی طاقتوں کی پالیسیوں کی پیروی کی ہے یعنی خطے میں سعودی عرب کا کردار محض تخریب کارانہ رہا ہے جس کے واضح ثبوت عراق میں جاری بد امنی اور بحران میں سعودی عرب کا کردار ہے، شام کا بحران، مسئلہ افغانستان، پاکستان میں بد امنی، بحرین، لبنان وغیرہ کی صورت حال میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

ولایت پورٹل: اسرائیل کے قیام کے آغاز سے ہی سعودی عرب کے ساتھ اس کے گہرے سفارتی تعلقات برقرار ہو گئے تھے سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان یہ تعلقات 1961ء میں اپنے عروج پر پہنچ چکے تھے اسی وجہ سے مصر میں جمال عبد الناصر جیسے انقلابی لیڈر کے برسر اقتدار آنے کے بعد مصر اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات شدید تناؤ کا شکار ہونے لگے یہ تناؤ 1964ء تک جاری رہا دوسری طرف مصر نے اس دوران یمن میں بھرپور سیاسی فعالیت کا مظاہرہ کیا تاکہ اس طرح بابُ المندب اور مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب کے اثر و رسوخ کو کم کر سکے اس کے مقابلے میں سعودی عرب کی پوری کوشش رہی کہ جہاں تک ہو سکے خطے میں اسرائیل مخالف قوتوں کو کمزور کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیاجائے ،سعودی عرب اور مصر کے درمیان یہ اختلافات 1970ء میں جمال عبد الناصر کی وفات کے بعد انور سادات کے دور میں بھی جاری رہے چونکہ اس مدت میں عرب دنیا کی سربراہی مصر کے ہاتھ میں تھی اور مصر نے پوری طرح اسرائیل کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز کر رکھا تھا لہٰذا عرب دنیا کی رائے عامہ شدت سے اسرائیل کے خلاف تھی جس کی وجہ سے سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو خفیہ رکھنے پر مجبور تھا چنانچہ اُس دور میں اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات خفیہ طور پر برقرار رہے یہ مرحلہ 2001ء میں نائن الیون حادثے تک جاری رہا لیکن نائن الیون کے بعد امریکی صدر جارج بش اور اسرائیل کی یہودی لابی کی جانب سے شدید دباؤ کی بنا پر سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کچھ حد تک آشکار ہونا شروع ہو گئے۔
یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ سعودی عرب کی سیاست آزادانہ اور خود مختارانہ نہیں بلکہ آلِ سعود نے ہمیشہ ہی خطے میں امریکہ اور مغربی طاقتوں کی پالیسیوں کی پیروی کی ہے یعنی خطے میں سعودی عرب کا کردار محض تخریب کارانہ رہا ہے جس کے واضح ثبوت عراق میں جاری بد امنی اور بحران میں سعودی عرب کا کردار ہے، شام کا بحران، مسئلہ افغانستان، پاکستان میں بد امنی، بحرین، لبنان وغیرہ کی صورت حال میں دیکھے جا سکتے ہیں اسی وجہ سے یہ کہنا حقیقت پر مبنی ہوگا کہ عرب ممالک کو کمزور کرنا سعودی عرب اور اسرائیل کا مشترکہ ہدف ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مصر میں رونما ہونے والی حالیہ فوجی بغاوت سعودی عرب کی مالی امداد اور اسرائیل کی منصوبہ بندی سے انجام پائی ہے۔ اسی طرح حال ہی میں ترکی میں فوجی بغاوت میں بھی امریکہ اور سعودی عرب کے خفیہ ہاتھ ہیں اسی طرح یمن میں حوثی قبائل کا قتل عام اور یمن کی تباہی میں بھی سعودی عرب اپنے آقاؤں کی خوشنودی کی خاطر پیش پیش ہے۔
یہ تمام حقائق اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل سعودی عرب کے وسائل کو اسلامی عرب ممالک کو کمزور کرنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں اور آل سعود ، آل یہود کے ہاتھوں میں کھلونا بن چکی ہے، گذشتہ چند ماہ کے دوران امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات شدید مشکلات کا شکار ہوگئے تھے اس کی بنیادی وجہ سعودی عرب کی جانب سے شام، عراق اور لبنان میں حد سے زیادہ مداخلت ہے جبکہ امریکہ آل سعود کو خطے میں اپنے سیاسی اہداف کے حصول کے لئے ایک حد تک دوسرے ممالک میں مداخلت اور تخریب کاری کی اجازت دیتا ہے لیکن امریکہ کی نظر میں سعودی حکومت خطے میں پائے جانے والے بحرانوں کو حل کرنے کی بالکل صلاحیت نہیں رکھتی، لہٰذا جب سعودی عرب نے شام کے بحران میں اپنے کردار کو پھیلانا چاہا اور اسی طرح عراق اور لبنان میں بھی اپنی مداخلت کو شدت دی تو یہ کام امریکی سیاست دانوں کو ناگوار گزرا لیکن اس کے باوجود ابھی خطے میں امریکہ کے مفادات کا محافظ اور اسرائیل کی بقاء و سلامتی کا ضامن سعودی عرب ہی ہے اس لئے کسی نہ کسی رنگ میں سعودی سرپرستی جاری رکھے گا اور سعودی فرمانروا امریکی غلامی کا طوق کبھی گردن سے نہیں اتاریں گے۔

تحریر: سبطین شیرازی

0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम