Code : 1205 16 Hit

اخلاقی انحطاط اور معنویت کا بحران

دیکھنے میں یہ آرہا ہے کہ خود کشی کرنے والے لوگوں کا تعلق معاشرے کے محروم طبقہ سے نہیں ہوتا بلکہ اکثر خودکشی کرنے والے مرفہ حال لوگ ہوتے ہیں اور اکثر ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ممالک میں یہ واردات انجام پاتی ہیں تو ماننا پڑے گا کہ یہ اپنے حالات کی خرابی کو لیکر خودکشی نہیں کررہے ہیں بلکہ ان کے سامنے ایک معنویت کا خلاء ہے روحانیت کا فقدان ہے ان کے سامنے روشن مستقبل اور مقصد حیات کے خطوط واضح طور پر کشیدہ نہیں ہوتے لہذا وہ ہر آن خود سے یہ سوال پوچھتے ہیں کہ ہم کیوں زندہ ہیں؟ ہم اس دنیا میں کیوں آئے ہیں؟ اس زندگی کا فائدہ کیا ہے؟ یہ جلد رنجیدہ ہوجانے والی کیفیت اور زندگی کی مشکلات کے سامنے سپر انداختہ ہوجانا ۔یہ ماضی کے لئے بہت چھوٹی چھوٹی اور سادی سی مشکلات تھیں اور انہیں لوگ اتنا سیریس نہیں لیتے تھے بلکہ ماضی میں تو انہیں مشکل ہی شمار نہیں کیا جاتا تھا اور اس کے سبب کسی شخص کی ایک گھنٹے کی نیند بھی خراب نہیں ہوتی تھی لیکن آج یہی مشکلات اتنی بڑی بن چکی ہیں کہ بہت سے لوگ یہ کہتے ہوئے نظر

ولایت پورٹل: دور حاضر کا سب سے بڑا و عظیم بحران کہ جو آج معاشرے اور خاص طور پر صنعت کی ترقی میں مست و مگن معاشروں پر حاکم ہے وہ معنویت کا بحران ہے اور یہ سیاسی اور اقتصادی بحران سے الگ کی ایک چیز ہے البتہ دنیا کو آج بہت سے بحرانون کا سامنا ہے جن میں سیاسی اور اقتصادی بحران بھی بہت اہم ہیں۔
لیکن سیاسی اور اقتصادی بحران ان مسائل میں سے نہیں ہیں جنہیں حل کرنا ممکن نہ ہو بلکہ ان کے لئے بہت سے طریقہ اور راہ حل پائے جاتے ہیں لیکن آج دنیا جس بحران میں کھڑی تھپیڑے کھا رہی ہے اس کو آئیڈیالوجیکل حل کی ضرورت ہے جو آج کے مغربی ماڈل نظاموں میں مفقود ہے چنانچہ یہ بحران نہ سیاست سے مربوط ہے اور نہ اقتصاد سے بلکہ یہ انسان کی روح سے متعلق معنویت کا بحران ہے آج بہت سے ایسے بحران بھی دیکھنے میں ملتے ہیں کہ جن کی حقیقت معنوی بحران والی نہیں ہے لیکن ان کی بنیاد معنوی بحران ضرور ہے۔ چنانچہ انہیں میں سے ایک ہردن خودکشی کی وارداتوں میں خاطر خواہ اضافہ بھی ہے۔
خودکشی کی واردات میں اضافہ کی بنیادی وجہ
آج دنیا کے اہم مسائل و مشکلات میں سے خودکشی کو وارداتوں مسلسل بڑھتا ہوا اضافہ ہے گذشتہ کئی برسوں میں ہونے والی تحقیقات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں آج ڈپریشن اور عصبی بیمارویوں میں پائے جانے والی بیماریوں کی بنیاد بھی معنویت کا بحران ہے اقتصاد کا نہیں۔
اب ہم آپ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ خود کشی کہاں زیادہ ہوتی ہیں؟ کیا غریب و نادار اور محروم گھرانوں میں؟ اگر ایسا ہوتا کہ خودکشی معاشرے کے محروم فقیر اور غریب لوگوں میں ہوتی تو مسئلہ دوسرا تھا اور اسے یہ کہا جاسکتا تھا کہ یہ خودکشیاں چونکہ فاقہ کش اور محروم طبقہ میں زیادہ ہورہی ہیں لہذا ان کا بنیادی سبب ان لوگوں کے اقتصادی حالات کا کمزور ہونا ہے۔
لیکن دیکھنے میں یہ آرہا ہے کہ خود کشی کرنے والے لوگوں کا تعلق معاشرے کے محروم طبقہ سے نہیں ہوتا بلکہ اکثر خودکشی کرنے والے مرفہ حال لوگ ہوتے ہیں اور اکثر ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ممالک میں یہ واردات انجام پاتی ہیں تو ماننا پڑے گا کہ یہ اپنے حالات کی خرابی کو لیکر خودکشی نہیں کررہے ہیں بلکہ ان کے سامنے ایک معنویت کا خلاء ہے روحانیت کا فقدان ہے ان کے سامنے  روشن مستقبل اور مقصد حیات کے خطوط واضح طور پر کشیدہ نہیں ہوتے لہذا وہ ہر آن خود سے یہ سوال پوچھتے ہیں کہ ہم کیوں زندہ ہیں؟ ہم اس دنیا میں کیوں آئے ہیں؟ اس زندگی کا فائدہ کیا ہے؟ یہ جلد رنجیدہ ہوجانے والی کیفیت اور زندگی کی مشکلات کے سامنے سپر انداختہ ہوجانا ۔یہ ماضی کے لئے  بہت چھوٹی چھوٹی اور سادی سی مشکلات تھیں اور انہیں لوگ اتنا سیریس نہیں لیتے تھے بلکہ ماضی میں تو انہیں مشکل ہی شمار نہیں کیا جاتا تھا اور اس کے سبب کسی شخص کی ایک گھنٹے کی نیند بھی خراب نہیں ہوتی تھی لیکن آج یہی مشکلات اتنی بڑی بن چکی ہیں کہ بہت سے لوگ یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ جینے کے لئے اب کوئی مقصد ہی نہیں رہ گیا ہے تو کیوں نہ ہم اس زندگی سے نجات حاصل کرلیں۔
اس بارے میں بہت سے اور مختلف تحقیقاتی اداروں کے سروے اور اعداد و ارقام بتاتے ہیں کہ وہ ممالک جو صنعتی ترقی سے لیس ہیں اور جہاں کے باشندے مرفہ حال ہیں انہیں ممالک میں خودکشی کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔
لہذا تحقیقات تو یہی بتلاتی ہیں کہ یہاں کے لوگوں میں ایک معنوی خلاء ہے اور ان کی روح مکمل طور پر معنویت سے سیراب نہیں ہورہی ہے لہذا ان مشکلات کو صرف اقتصادی پالیسیوں اور پروگراموں  سے نجات نہیں دلائی جاسکتی ہے۔ اگرچہ بہتر زندگی کے لئے بہتر اقتصاد بھی ضروری ہے لیکن اقتصاد کبھی معنویت کی جگہ نہیں لے سکتا لہذا ان ممالک اور خاص طور پر مغربی حکومتوں کو یہ سوچنا ہوگا کہ ان کے شہروں کو کیسے معنویت نصیب ہوسکتی ہے۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम