Code : 732 20 Hit

أم أبیها؛حضرت فاطمہ زہرا(س) کا مخصوص لقب کیوں؟

عربی لغت میں’’ام‘‘ کا اطلاق جہاں بہت سے معانی پر ہوتا ہے وہیں اس کے ایک معنٰی مقصد و ہدف بھی بیان کئے جاتے ہیں۔اور چونکہ فاطمہ(س) شجر نبوت کا ثمرہ اور زندگی ختمی مرتبت(ص) کا حاصل تھیں لہذا آپ نے آپ کو ’’ أم أبیها‘‘ کا لقب عنایت فرمایا چونکہ آپ ہی وہ ہستی ہیں کہ اگر آپ نہ ہوتیں تو رسول اللہ(ص) کی زندگی کا حقیقی مقصد باقی نہ رہتا آپ کا لایا ہوا دین اور شریعت منزل مقصود تک نہ پہونچتی چونکہ بعد رسول اللہ(ص) خود بنفس نفیس صدیقہ طاہرہ(س) نے اس دین کی حفاظت کی اور آپ کی شہادت کے بعد آپ کی ذریت پاک نے اپنے خون سے اس دین کے شجر کو سینچا اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے کہ آپ ہی کے فرزند و دلبند حضرت امام زمانہ(عج) کے سبب دین و انسانیت زندہ ہیں۔’’لو لا الحجۃ لساخت الارض باھلھا‘‘۔

ولایت پورٹل:’’ أم أبیها‘‘ کے معنٰی’’اپنے باپ کی ماں’’ ایک ایسا لقب ہے جسے خود سرکار ختمی مرتبت(ص) نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا(س)کو دیا تھا۔
جیسا کہ آپ حضرات جانتے ہیں کہ ابھی پیغمبر اکرم(ص) کا بچپن ہی تھا کہ آپ کے سر سے آپ کی والدہ ماجدہ جناب آمنہ خاتون کا سایہ اٹھ گیا اور آپ نے اپنی پوری زندگی ماں کے محبت و ممتا کے بغیر بسر فرمائی۔اگرچہ جناب فاطمہ بنت اسد نے ہمیشہ آپ کو اپنے بچوں سے زیادہ پیار دیا یہاں تک کہ کبھی سرکار رسالتمآب(ص) نے آپ کو چچی نہیں کہا بلکہ ہمیشہ’’ماں‘‘ کہا کرتے تھے۔لیکن ماں بہر حال ماں ہوتی ہے اس کا کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔
بہر کیف آپ نے اپنی زندگی میں بڑے دکھ سہے ہیں یہاں تک کہ ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ سے آپ کا عقد مسنون ہوا اور اس مقدس شادی کے سبب اللہ تعالٰی نے آپ کو ایک عزیز و فداکار بیٹی فاطمہ(س) عطا فرمائی۔
ظاہر ہے جب آپ کے آنگن میں فاطمہ(س) نامی کلی کھلی اس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوچکا تھا اور آپ دن رات اللہ کا دین و پیغام پہونچانے میں سرگرم عمل رہتے تھے اور اس راستہ میں آپ کو نہ جانے کفار و مشرکین کی طرف سے کس کس طرح ستایا جاتا تھا۔بس خلاصہ یہ کہ کوئی اذیت ایسی نہ تھی جو آپ نے نہ اٹھائی اور کوئی دیکھ ایسا نہ تھا جو آپ نے نہ سہا ہو۔
اگرچہ حضرت فاطمہ(س) کا ابھی بچپن ہی تھا لیکن آپ ہمیشہ شمع رسالت کی پروانہ وار طواف کرتی تھیں ،کبھی باپ سے جدا ہونا پسند نہ فرماتی تھیں اور جب آپ کار تبلیغ سے خستہ و زخم خوردہ حالت میں لوٹتے یہ بچی اپنے ننھے ہاتھوں سے جہاں تک ہوتا باپ کے زخموں کا مداوا فرمایا کرتی تھیں۔
 اور جب اللہ کے رسول(س) بیٹی کی اس ہمدردی اور دلسوزی کو ملاحظہ فرماتے تو بے ساختہ آنکھوں سے اشک بہنے لگتے اور فرط محبت میں فرماتے تھے:’’انھا أم أبیها‘‘۔یہ اپنے باپ کی ماں ہے۔
متفقہ طور پر شیعہ،سنی علماء نے اپنی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا(س) کو رسول اللہ(ص) نے یہ لقب یا کنیت’’ أم أبیها‘‘ عنایت فرمائی نیز یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نہ آپ سے پہلے کسی نبی نے یا کسی ولی و رسول نے اپنی بیٹی کو اس لقب سے ملقب کیا اور نہ آپ کے بعد۔
جہاں علماء نے یہ تحریر کیا ہے کہ سرکار(ص) نے اپنی بیٹی کو اس لقب’’ أم أبیها ‘‘ سے ملقب فرمایا ہے وہیں اس لقب سے ملقب ہونے کی مختلف وجوہات بیان کی ہیں۔چنانچہ مذکورہ بالا سبب کے علاوہ جس وجہ کو خاص طور پر بیان کیا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ: عربی لغت میں’’ام‘‘ کا اطلاق جہاں بہت سے معانی پر ہوتا ہے وہیں اس کے ایک معنٰی مقصد و ہدف بھی بیان کئے جاتے ہیں۔اور چونکہ فاطمہ(س) شجر نبوت کا ثمرہ اور  زندگی ختمی مرتبت(ص) کا حاصل تھیں لہذا آپ نے آپ کو ’’ أم أبیها‘‘ کا لقب عنایت فرمایا چونکہ آپ ہی وہ ہستی ہیں کہ اگر آپ نہ ہوتیں تو رسول اللہ(ص) کی زندگی کا حقیقی مقصد باقی نہ رہتا آپ کا لایا ہوا دین اور شریعت منزل مقصود تک نہ پہونچتی چونکہ بعد رسول اللہ(ص) خود بنفس نفیس صدیقہ طاہرہ(س) نے اس دین کی حفاظت کی اور آپ کی شہادت کے بعد آپ کی ذریت پاک نے اپنے خون سے اس دین کے شجر کو سینچا اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے کہ آپ ہی کے فرزند و دلبند حضرت امام زمانہ(عج) کے سبب دین و انسانیت زندہ ہیں۔’’لو لا الحجۃ لساخت الارض باھلھا‘‘۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منبع:
العین ج8،ص124۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम