ولي امر مسلمین جہان مر جع تقلید تشیع
حضرت آیت اللہ العظميٰ سید علي خامنہ اي
کي زندگي اور
مجتہدین و علمائے کرام کي نظر ميں آپ کي شخصیت

 

دوسري فصل

 

 

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے حالات زندگی
 

 

ولادت
آيۃاللہ العظمي الحاج سيّد علي خامنہ اي نے ١٣١٨ ھ ميں مشہد ميں علمائ کے ايک خاندان ميں عرصہ وجود پر قدم رکھا۔

ان کے والد مرحوم الحاج سيّد جواد مشہد کے ذي احترام علمائ و مجتہدين ميں سے تھے جنھوں نے سالہا سال تک صبح کي نماز گو ہر شاد اور ظہرين ع مغربين کي نماز مسجد بازار مشہد ميں پڑھائي اور دين کي تبليغ ميں مصروف رہے۔ آپ کے دادا آيۃ  اللہ  سيد حسين خامنہ اي علمائے آذر بائيجان ميں سے تھے اور نجف ميں مقيم تھے ۔ ابتدائ ميں تبريز کے محلہ خيابان ميں رہتے تھے بعد ميں نجف اشرف تشريف لے گئے اور وہاں درس و بحث ميں مشغول ہو گئے۔ وہ ايک زاہد و متقي عالم دين تھے اور ساري زندگي قناعت ميں گزاردي۔

عالم شہيد الحاج شيخ محمد خياباني ان کے پھوپھا تھے جو اگرچہ تبريز کے ايک قصبہ خامنہ ميں دنيا ميں آئے تھے ليکن چونکہ تبريز کے محلہ "خيابان"کي مسجد کريم خان ميں امام جماعت تھے لہٰذا خياباني کے عنوان سے مشہور ہو گئے۔
زمانہ مشروطہ کے مشہور اور مجاہد علمائ ميں ان کا شمار ہوتا ہے۔ اور جيسا کہ مرحوم الحاج محمد باقر بادامچي مشروطہ کے سر سخت مجاہد اور مرحوم خياباني کے معاصرے نے لکھا ہے اس کے مطابق وہ اپني صف کے آئمہ جماعت ميں سے زيادہ زاہد و پرہيزگار اور ان سے قدرے زيادہ فقيہ تھے۔

تبريز کے لوگوں کي طرف سے وہ قومي اسمبلي کے ممبر بنے اور اس دور ميں موجود لاقانونيت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے اور تبريز ميں شہادت کا جام نوش کيا۔
آپ کي والدہ سيد ہاشم نجف آبادي ( ميردامادي) کي بيٹي تھيں جو مشہد کے مشہور علمائ ميں سے تھے وہ پاکدامن ، مسائل اسلامي سے آشنا اور الٰہي اخلاق سے آراستہ خاتون تھيں۔

بچپن
آپ کا بچپن سخت گير اور مراقب ليکن مہربان و قابل محبت باپ اور مہربان اور دلسوز ماں کي تربيت ميں نہایت عسرت و تنگدستي ميں گذرا۔
جس کے بارے ميں حضرت آيۃ اللہ خامنہ اي فرماتے ہيں ، بچپن کا زمانہ نہایت تنگدستي ميں گذر رہا تھا اور یہ وہ دور تھا جب جنگ کي آگ بھڑکي ہوئي تھي باوجود اس کہ مشہد جنگ سے دور تھا اور دوسرے شہروں کے مقابلے ميں وہاں ہر چيز سستي اور فراوان تھي پھر بھي ہمارے گھر کي حالت یہ تھي کہ ہميں گيہوں کي روٹي بھي ميسر نہيں تھي اور معمولاً ہم جو کي روٹي کھاتے تھے۔ کبھي کبھي گيہوں اور جَو کي مخلوط روٹي اور کبھي خالص گيہوں کي روٹي نصيب ہوتي تھي۔ ميں اپنے بچپن کي بعض راتوں کو یاد کرتا ہوںکہ ہمارے گھر ميں رات کا کھانا نہيں ہوتا تھا ۔ ہماري ماں ان پيسوں سے جو ہماري دادي مجھے یا ميرے کسي بھائي یا بہن کو ديتي تھيں قدرے کشمش یا دودھ خريد ليتي تھيں تاکہ اس کے ساتھ روٹي کھا سکيں۔ہمارا آبائي مکان جس ميں ميري پيدائش ہوئي ميري عمر کے چوتھے یا پانچويں سال تک ساٹھ یا ستر ميٹر مربع کا ايک چھوٹا سا گھر تھا جو مشہد کے ايک فقير نشين محلے ميں تھا جس ميں صرف ايک کمرہ اور ايک تنگ و تاريک تہہ خانہ تھا۔ جب کبھي ميرے والد کے ساتھ کوئي مہمان آجاتا تھا اور ايسا اکثر ہوتا تھا اس لئے کے ميرے والد عالم ِ دين تھے اور لوگ ان کے پاس آتے جاتے تھے تو جب تک مہمان وہاں رہتے ہم سب کو تہہ خانہ ميں چلے جانا پڑتا تھا لہٰذا بعد ميں کچھ لوگوں نے جو ہمارے والد کے قدرداں تھے اسي گھر سے متصل تھوڑي سي زمين خريد کر اسي ميں ملادي اور اس طرح ہمارے گھر ميں تين کمرے ہوگئے۔

لباس کے لحاظ سے بھي حالت يہ ہي تھي ميري والدہ ہمارے والد کے پھٹے پرانے لباس سے ہمارے لئے کچھ تيار کرتي تھيں جو ايک عجيب و غريب چيز ہوتي تھي جس کو نہ پيراہن کہہ سکتے تھے اور نہ قبا ، زانوؤں سے نيچے تک لمبا سا ايک کرتا کے جس ميں بسا اوقات چند پيوند ہوتے تھے ۔ البتہ يہ بھي عرض کردوں کے ميرے والد اتني جلدي نيا لباس نہيں سلواتے تھے مثلاً ايک لبادہ تھا جس کو چاليس سال تک پہنتے رہے۔

آپ نے چار پانچ برس کي عمر ميں اپنے بڑے بھائي سيّد محمدکے ہمراہ قرآن پڑھنے کے لئے مکتب ميں قدم رکھا کچھ عرصہ بعد دونوں کو "دارالتعليم ديانتي" نام کے ابتدائي اسلامي مدرسہ ميں بھيج ديا گيا۔

رضا خان کے خفقان آميز دور ميں متدين افراد نے اس قسم کے مدرسے کھول رکھے تھے جن ميںزيادہ تر ديني تعليم دي جاتي تھي اور ان مدارس کو سند جاري کرنے کي اجازت نہيں تھي اس مدرسہ ميں دبستانوں ميں رائج تعليم کے ساتھ ساتھ قرائت قرآن، حلےۃ المتقين کے کچھ دروس ، حساب سياق اور نساب الصبيان کي تعليم بھي دي جاتي تھي۔

حضرت آيۃ اللہ خامنہ اي نے اس مدرسے ميں چھٹي جماعت کي تکميل کے بعد باپ کے علم ميں لائے بغير شبانہ کلاسوں ميں شرکت کرکے چھٹي کلاس کي سند حاصل کي اور پھر پوشيدہ طور پر ہائي اسکول ميں نام لکھوايااور پُھرتي کے ساتھ درمياني دورے کو مکمل کرکے ڈپلومہ حاصل کر ليا ۔اسلامي علوم ميں اسي اسلامي مدرسے ميں آپ نے عربي ادبيات کو پڑھنا شروع کرديا "شرح امثلہ" اپني والدہ سے پڑھي صرف مير اور تصريف کو والد سے پڑھا اور عوامل و انموذج کو مدرسے کے دو اساتيد سے پڑھا۔ اس کے بعد مدرسہ علوم دينيہ "سليمان خان"ميں صمديہ، سيوطي ، اور قدرے مغني کي تعليم حاصل کي ۔شرائع پڑھني کے لئے باپ کے درس ميں شرکت کي اور جب کتاب الحج تک پہنچے تو باپ نے کہا کہ شرح لمعہ ميں کہ جس کي بحث کتاب حج شروع ہونے والي ہے شرکت کريں اور اپنے بھائي سيّد محمد آقا کے مباحث بن جائيں۔ مدرسہ سليمان خان کے بعد آپ نے مدرسہ علوم دينيہ نواب کا رخ کيا اور سطوح کو مکمل کيا اس کے بعد مرحوم آيۃ اللہ العظمي ميلاني کے دروس خارج ميں شرکت کي۔

حضرت آيۃ اللہ خامنہ اي اس کاميابي کو اپنے باپ کي زحمت اور ان کے سايہ شفقت کي مرہون ِ منّت قرار ديتے ہوئے فرماتے ہيں : روحانيت کے اس نوراني راستہ کو انتخاب کرنے ميں مير ے اصلي محرک ميرے والد ماجد تھے اور والدہ بھي اس ميں دلچسپي ليتي تھيں اور ترغيب دلاتي تھيں ۔جس وقت ميں نے دروس حوزوي شروع کئے اس وقت ميري اور ميرے والد کي عمروں ميں بہت زيادہ فاصلہ تھا ۔ ٹھيک ٤٥ سال کا فاصلہ تھا ۔ اس کے علاوہ ميرے والد کا علمي مرتبہ بہت اونچا تھا ۔ وہ صاحب اجازہ مجتہد تھے اور نہايت اعليٰ سطح کے شاگردوں کي انہوں نے تربيت کي تھي لہٰذا يہ سزاوار نہيں تھا کہ وہ اس بلند و بالا علمي مقام کے حاصل ہونے کے باوجود مجھے پڑھانے بيٹھ جائيں کہ جو دروس اسلامي کے ابتدائي دور سے گذر رہا تھا اور اس طرح کے کام کے لئے ان ميں سکت بھي نہيں رہ جاتي تھي۔
ليکن چونکہ انہيں ہماري تربيت سے بہت دلچسپي تھي لہٰذا وہ مجھے ميرے بھائي اور ہمارے بعد چھوٹے بھائي تينوں کو پڑھاتے تھے۔ چنانچہ تعليم و تربيت کے لحاظ سے ان کا ہم بھائيوں اور خاص کر ميري گردن پر بہت بڑا حق ہے۔ اگر وہ نا ہوتے تو تعليم فقہ و اصول ميں مجھے اتني ڈھير ساري کاميابياں حاصل نا ہوپاتيں۔
البتہ قم جانے سے پہلے تک ميں اپنے وال کے پاس درس پڑھنے کے علاوہ حوزہ کے عمومي دروس ميں بھي شرکت کرتا تھا اور گرميوں ميں جب يہ دروس بند ہوجاتے تھے تو ہمارے والد ايّام تعطيل کے دروس معين کرتے تھے جنھيں وہ خود پڑھاتے تھے ۔ يہ ہي وجہ ہے کہ بعض ان اشخاص کے برعکس جو صرف مدارس کے عمومي دروس ميں شرکت کرتے تھے اور يہ مدارس محرم ، صفر ، ماہ رمضان ، اور گرميوں کے کچھ ايّام ميں بند ہوجاتے تھے ، ميرے درس ميں وقفہ نہيں ہوتا تھا ۔ اسي بنا پر سولہ سال کي عمر ميں سطوح کو مکمل کر کے ميں نے درس خارج شروع کرديا تھا۔
تدريس
آگے چل کر آپ فرماتے ہيں : تدريس کا کام ميں نے رسمي طالبعلمي کے ابتدائي دنوں سے ہي شروع کر ديا تھا ۔ سب سے پہلے مشہد کے دو روضہ خوانوں کو امثلہ يا صرف مير پڑھائي ۔اور ١٣٣٧ تک کہ جب تک ميں مشہد ميں رہا صرف ، نحو ، معاني ، بيان اور اصول و فقہ کي کتابيں پڑھاتا رہا۔ قم ميں بھي اپنے دروس کے ساتھ تدريس بھي کيا کرتا تھا۔

١٣٣٦ھ ش ، ميں زيارت کي غرض سے عتبات عاليات پر حاضري کا شرف حاصل کيا نجف کا علمي ماحول مجھے اس مرکز علم ميں رک جانے کي ترغيب دلا رہا تھا اور ميں بھي وہاں رک جانے پر مائل تھا اور کچھ عرصہ تک ميں وہاں رکا بھي ليکن ميرے والد ماجد نے نجف ميں ميرے قيام کي مخالفت کي لہٰذا ميں مشہد لوٹ آیا اور ١٣٣٧ ھ ش ، ميں باپ کي اجازت سے قُم گيا اور ١٣٤٣ ھ ش ، تک قم ميں رہا۔ اسي سال چونکہ بيماري کي وجہ سے ميرے والد بينائي کھو چکے تھے لہٰذا ميں مشہد لوٹ جانے پر مجبور ہوگيا۔ اگرچہ قم ميں حتي ميرے بعض اساتذا ميرے وہاں سے چلے جانے کے مخالف تھے۔

١٣٤٣ ھ ش ، ميںقم سے مشہد جانے کے بعد تدريس ميرا دائمي اور اصلي کام تھا اور ١٣٥٦ ھ ش ،تک ميں سطوح عاليہ "مکاسب و کفايہ"اور تفسير و عقائد کي تدريس کرتا رہا۔

اساتيد
حضرت آيۃ اللہ خامنہ اي اپنے اساتذہ کے بارے ميں يوں فرماتے ہيں : مشہد مقدس ميں ١٣٤٣ ھ ش ، سے اپني تعليم جاري رکھنے کے ساتھ ہي ميں حوزہ علميہ ميں تدريس بھي کرتا رہا اور ١٣٤٩ ھ ش ، تک درس فقہ ميں شرکت کرتا رہا۔
کتاب انموذج اور صمديہ کو ميں نے مدرسہ "سليمان خان" ميں علوي نام کے ايک استاد سے پڑھا جو خود اپني مروجہ تعليم ڈاکٹري کي لائن ميں جاري رکھے ہوئے تھے۔
اس کے بعد سيوطي اور کسي قدر مغني کي تعليم ميں نے اسي مدرسہ ميں آقائي مسعود نام کے ايک شخص سے حاصل کي ، بعد ميں چونکہ ميرے بڑے بھائي نے مدرسہ نواب ميں حجرہ لے رکھا تھا لہٰذا ميں بھي وہيں چلا گيا اور سيوطي و مغني کے ساتھ معالم کا درس بھي شروع کرديا۔

اسي زمانہ ميں والد ماجد نے پيشکش کي کے وہ مجھے محقق حلّي ۲ کي کتاب " شرائع الاسلام "پڑھائيں گے اگرچہ شرائع درسي کتاب نہيں تھي ليکن ميرے والد نے احساس کيا کہ يہ کتاب ميري ترقي ميں موثر ہو سکتي ہے اور ايسا ہي ہوا ۔ ابتدا سے کتاب حج تک انہوں نے شرائع پڑھائي جب کتاب حج پر پہنچے تو اس وقت والد ماجد ميرے بڑے بھائي کو شرح لمعہ کي کتاب حج پڑھا رہے تھے۔ انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ اب تم بھي شرح لمعہ کے درس ميں شرکت کرو۔ ميں نے کہا : ممکن ہے ميں نہ سمجھ سکوں ۔ انہوں نے فرمايا : تم سمجھ سکتے ہو، يوں ميں نے درس ميں شرکت کي اورسمجھ ميں بھي آنے لگا ، تقريباً شرح لمعہ کے تين حصے ميں نے اپنے والد سے پڑھے اور باقي ماندہ کتاب کو مرحوم آقا ميرزا احمد مدرس يزدي سے پڑھا ۔ جو مدرسہ نواب ميں شرح لمعہ اور قوانين کے نامور استاد تھے۔ شرح لمعہ کو ختم کرنے کے بعد مرحوم آيۃاللہ شيخ ہاشم قزويني کے درس رسائل و مکاسب ميں جانا شروع کرديا جو مرحوم آقا ميرزا مہدي اصفہاني کے شاگرد ، صاحب رياضت اور اوّل درجہ کے مدرس شمار ہوتے تھے۔ نہایت محترم اور پڑھے لکھے آدمي تھے۔ مشہد کے خواص اور خاص کر اہل علم افراد کے نزديک وہ ايک آزاد اور روشن ضمير انسان کے طور پر مشہور تھے وہ جامع اور خوش بيان آدمي تھے ميں نے نجف اور قم کے اکثر دروس ميں شرکت کي ہے ليکن ان جيسا خوش بيان آدمي نے نہيں ديکھا۔
ميں نے رسائل مکاسب اور کفايہ کا زيادہ تر حصّہ ان سے پڑھا۔ زيادہ تر اس لئے کہہ رہا ہوں کے باقي حصّہ ميں نے اپنے والد سے پڑھا تھا۔ لہٰذا مجھے يہ کہنا چاہيئے کے ميرے والد کي مدد نے ميري تعليمي ترقي ميں اہم کردار ادا کيا ہے۔ اور جس وقت ميں نے درس شروع کيا تھا اس وقت سے درس خارج شروع کرنے تک ساڑھے پانچ سال کا عرصہ گذرا يعني دورہ سطوح کو ميں نے پورے ساڑھے پانچ سال ميں مکمل کر ليا تھا۔ اور مرحوم آيۃاللہ العظميٰ ميلاني قدس سر‘ہ سے جو نہايت مُلّا ، محقق اور مشہد کے مراجع ميں سے تھے درس خارج شروع کرليا تھا۔
١٣٣٧ ھ ش ، کے اواخر تک ميں نے ايک سال اصول اور ڈھائي سال تک ان کے فقہ کے درسِ خارج ميں شرکت کي اور اس کے بعد قم آگيا۔ ناگفتہ نہ رہے کہ مشہد ميں ايک مدت تک ميں نے آيۃاللہ حاج شيخ ہاشم قزويني کے درس خارج ميں شرکت کي ہے ۔ يعني انہوں نے ہمارے اصرار پر اصول کا ايک درس خارج شروع کيا تھا۔ مرحوم الحاج شيخ ہاشم طويل بحث ميان تمام اقوال کو نقل کرتے تھے اوراس کے بعد رد کرتے تھے۔ مشہد ميں ايک اور درس کہ جس ميں شرکت کي تھي۔ جو آيۃاللہ ميرا جواد آقا کا درس فلسفہ تھا۔ ان کا طريقہ يہ تھا کہ وہ منظومہ اور مرحوم ملّا ہادي سبزواري کے مطالب نقل کرتے تھے اورسب کو رد کرتے تھے کہ در حقيقت ان کا يہ منظومہ کا درس "رد منظومہ"کا درس تھا ۔ يہاں تک کہ ہمارا ايک دوست جس نے قم ميں فلسفہ پڑھا تھا وہ کہتا تھا کہ يہ درست نہيں ہے کہ آپ ميرزا جواد آقا کے منظومہ کے درس ميں جائيں اور وہ منظومہ کو رد کرديں۔ اس لئے کہ اس طرح آپ مفاہيم حکمت کو یاد نہيں کر پائيں گے۔ لہٰذا بہتر ہے کہ اس شخص کے درس ميں جائيے جو حکمت کا معتقد ہو اور اس درس کو اس سے پڑھيں۔ ميں نے بھي اس بات کو مان ليا اور ايک شخص بنام "شيخ رضا اليسي" کے پاس گيا جو مشہد ميں تھے۔ اور پرانے ملا، فاضل ، حکيم اور حکمت کے زبردست معتقد تھے ان سے ميں نے منظومہ کا درس شروع کيا۔ وہ فلسفہ پر مکمل اعتقاد کے نظريہ کے ساتھ درس کہا کرتے تھے۔ اس کے بعد ميں نجف چلا گيا اور آیاتِ عظام حکيم ، خوئي، شاہرودي اور آقا ميرزا باقر زنجاني، مرحوم ميرزا احسن يزدي، آقا سيد يحييٰ يزدي کے درس ميں شرکت کي خلاصہ جہاں بھي کوئي درس ديکھا گيا وہاں گيا۔
ليکن ان تمام دروس ميں ايک تو آيۃاللہ حکيم کا درس مجھے بہت پسند آيا چونکہ وہ سليس اور رواں ہوتا تھا اور ان کے فقہي نظريات بہت پختہ تھے اور ايک آيۃاللہ ميرزا حسن بجنوردي کا درس تھا جو مسجد ِ طوسي ميں ہوتا تھا ، وہ درس بھي مجھے بہت پسند آیا۔يہاں تک کے ميں نے نجف ميں مقيم ہونے کا ارادہ کرليا اور اپنے والد کو خط لکھا کہ اگر ممکن ہو تو ميں يہاں رک جاوں ليکن والد ماجد راضي نہيں ہوئے۔ لہٰذا ميں مشہد آگيا اور کچھ مدت بعد وہاں سے قم پہنچ گيا۔قم آتے ہي ميں نے يہ ارادہ کيا کے تمام دروس کو ديکھوں گا اور جو درس پسند آئے گا اس ميں شرکت کروں گا۔اور ميں نے يہ ہي کيا بھي۔ چنانچہ تمام دروس ميں سے امام ِ خميني
۲ اور ان کے بعدآيۃاللہ آقا مرتضيٰ حاج شيخ اور پھر آيۃاللہ العظمي بروجردي کے درس ميں شرکت کرتا تھا ۔ اور امام خمینی  کے فقہ و اصول کے درس ميں ہميشہ جاتا تھا ۔ فلسفہ ميں اسفار اور شفا کو تھوڑي تھوڑي مقدار ميں آقاي طبا طبائي سے پڑھا۔

آيۃاللہخامنہ اي نے فقہ، اصول اور فلسفہ اسلامي کے علاوہ رجال، درایت اور علم ہيئت وغيرہ کي تعليم بھي حاصل کي ہے ۔ اسي طرح اس مدت ميں بھي کہ جب آپ مختلف عہدوں پر فائز رہے ہيں ان لوگوں کي گواہي کے مطابق کہ جن کہ آپ کے ساتھ علمي مباحثے رہے ہيں آپ کبھي بھي بحث و تدريس سے غافل نہيں رہے اور ہميشہ اپنے نظام الاوقات کے تحت مطالعہ و تحقيق خاص کر فقہ کے بارے ميں تحقيق کيا کرتے تھے جس کي گواہي ان کي تاليفات سے مل جاتي ہے۔
حجۃالاسلام والمسلمين ہاشمي رفسنجاني اس سلسلہ ميں فرماتے ہيں : ميں شاہد کے عنوان سے عرض کردوں کہ ١٣٣٨ ھ ش یا ١٣٣٩ھ ش، ميں سے ميں ان کي خدمت ميں ہوں۔ ہم دروس ميں شرکت کرتے تھے ، مباحثے کرتے تھے ، بہت سے لوگ آج جو ہمارے درميان ميں ہيں اور کسي کو ان کے اجتہاد ميں شک نہيں آيۃاللہ اگر ان سے آگے نہيں تھے تو ان سے کم بھي نہيں تھے۔ دروس کو بھي خوب سمجھتے تھے اور نتيجہ بھي اچھا نکالتے تھے۔ انقلاب کے لئے جہاد کے دوران بھي وہ مطالعہ ،فقہي کام اور درس کو فراموش نہيں کرتے تھے۔آپ کو درس و بحث سے اس قدر عشق تھا کہ صدارت کے دوسرے دور ميں حوزہ علميہ قم کے بعض فضلا نے اس دورے کے بعد ان کے پروگرام کے بارے ميں پوچھا : آپ نے فرمايا : کہ انشا اللہ ميں قم آوں گا اور برسوں سے جس چيز کے انتظار ميں ہوں ( يعني درس و بحث) اس ميں مشغول ہوجاوں گا۔

مبارزات اور مسؤ ليتيں

آيۃ اللہ خامنہ اي ايسے متقي اور بہادر مجاہد ہيں جو اپني پوري زندگي ميں قلم، زبان اور اسلحہ سے جہاد کرتے رہے ہيں ۔ خاص طور پر ١٣٤١ ھ ش ، سے کہ جب امام خمینی  نے عظيم اسلامي تحريک کا آغاز کيا تھا انھوں نے ايک لمحہ بھي جہاد و جستجو سے دريغ نہيں کيا ہے۔

ان مبارزات کي شرح کے لئے کئي جلدوں پر مشتمل کتاب کي ضرورت ہے ۔ اس مختصر وقت ميں ہم صرف اشارہ کريں گے ۔آيۃ اللہ خامنہ اي اس سلسلہ ميں فرماتے ہيں : سياسي مسائل اور ميدانِ جہاد ميں قدم رکھنے کا قصّہ يہ ہے کہ ٣١ يا ٣٢ کا دور تھا ، ميں نے سُنا کہ مرحوم نواب صفوي مشہد آئے ہيں ۔ اس سلسلہ ميں ايک چھپاہوا جذبہ تھا جو مجھے مرحوم نواب کي طرف کھينچ رہا تھا ۔ اور ميرے دل ميں نواب کو ديکھنے کا شوق بڑھتا چلا گيا۔ يہاں تک کہ خبر ملي کہ نواب مدرسہ سليمان خان ميں آرہے ہيں کہ اسي مدرسہ کا طالب علم ميں بھي تھا ۔ جس روز نواب مدرسہ ميں آئے وہ دن ميري زندگي کے ناقابل فراموش دنوں ميں سے ايک ہے۔ جب وہ "فدائيان اسلام" کے کچھ افراد کے ساتھ جن کے سروں پر چمڑے کي مخصوص ٹوپي تھي مدرسہ ميں داخل ہوئے اور کھڑے ہو کر لرزادينے والے نعروں کے ساتھ انھوں نے تقرير شروع کي اور ان کي تقرير کا لب لباب يہ تھا کہ : اسلام کو زندہ ہونا چاہئيے اور اسلام حکو مت کرے اور اس سلسلہ ميں سخت برہم ہو کر انھوں نے شاہ ، انگلستان اور ملک کے حکام پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا اور کہا : يہ حکام مسلمان نہيں ہيں ۔ميں پہلي بار مرحوم نواب کي زبان سے يہ باتيں سن رہا تھا ۔ ان کي باتيں اس طرح ميرے دل ميں بيٹھ گئيں کہ جي چاہتا تھا ہميشہ ان کہ ساتھ رہوں ۔ چنانچہ وہيں پر اعلان ہوا کہ کل مرحوم نواب مدرسہ مہديہ سے مدرسہ نواب جائيں گے۔ دوسرے دن نواب نے اجتماع کي شکل ميں مدرسہ مہديہ سے مدرسہ نواب کي جانب حرکت کي اور راستے ميں لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے بلند آواز سے نعرے لگا رہے تھے : اے غير ت مند مسلمان بھائيوں، اسلام کو حکومت کرنا چاہئيے،، يہاں تک کے مدرسہ نواب ميں داخل ہو گئے وہاں بھي انھوں نے پُر جوش الفاظ ميں طويل تقرير کي ۔ تقرير کے بعد ان سے نماز جماعت پڑھانے کے لئے کہا گيا ۔ انھوں نے قبول کيا اور ہم نے ان کي امامت ميں نماز ادا کي ۔ مرحوم نواب جب مشہد سے گئے تو پھر ہميں ان کي کوئي خبر نہيں مل سکي يہاں تک کہ ان کي شہادت کي خبر مشہد پہنچي ۔

جب ان کي شہادت کي خبر پہنچي تو ہم غيض و غضب کي بنا پر سخت برہم ہوگئے اور ہم نے مدرسے کے صحن ميں شاہ کو بُرا بھلا کہا اور اس کے خلاف نعرے لگائے ۔قابل ذکر بات يہ ہے کہ مرحوم آيۃ اللہ الحاج شيخ ہاشم قزويني مشہد ميں تنہا عالم تھے جنہوں نے اپني آزاد اور بزرگ منشي کي بنا پر مرحوم نواب کي شہادت پر ردِ عمل کا اظہار کيا اور اپنے درس ميں حکومت کي طرف سے مرحوم نواب اور ان کے دوستوں کے شہيد کر ديئے جانے پر تنقيد کي اور اپني طرف سے غم و غصہ کا اظہار کيا اورکہا کہ ہمارے ملک کي حالت يہ ہے کے فرزند ِ پيغمبر ۰ کو حق گوئي کے جرم ميں قتل کرديا گيا ہے !! لہٰذا اسي وقت سے نواب صفوي کے ذريعہ انقلاب کي چنگارياں ميرے اندر روشن ہوگئيں ۔ اس ميں کوئي شک نہيں کہ پہلي آگ مرحوم نواب نے ہمارے دل ميں بھڑکائي ۔ مرحوم نواب سے متاثر ہونے کا نتيجہ يہ ہوا کہ اسي سال يعني ٣٤ یا ٣٥ ميں ہم نے مبارزات کي راہ ميں پہلا قدم اُٹھایا ۔ جس کا قصہ يہ ہے کے مشہد ميں "فر ّخ"نام کا ايک نيا کمشنر آیا ۔ يہ شخص ديني مظاہر و قوانين کا بالکل احترام نہيں کرتا تھا چنانچہ ايک حرکت اس نے يہ کي کہ ماہ محرم و صفر ميں معمول کے مطابق مشہد کے تمام سنيما بند ہو جاتے تھے اس نے شروع ميں صرف چودہ محرم تک ان کو بند کرنے کا اعلان کيا ليکن جب ہنگامہ ہوا تو اس مدت کو بڑھا کر بيس محرم تک کر ديا ۔ لہٰذا ہم چند آدميوں نے مل کر امربالمعروف اور نہي عن المنکر کے نام سے ايک اشتہار نکالا اور اسے ڈاک کے ذريعہ اطراف ميں روانہ کرديا۔

١٣٤١ ھ ش ، کے بعد والے مبارزات

١٣٤١ ھ ش ، ميںامام خميني ۲کي آواز پر حوزہ علميہ قم ميں تحريک شروع ہو گئي اور علم و تقويٰ اور جہاد و شہادت کے اس مرکز ميں ايک نيا جوش و خروش پيدا ہوگيا ۔ مخلص علمائ اور طلاب کي کوشش اور پوري مردانگي کے ساتھ امام خمینی  اور دوسرے مراجع کے پيغامات اور تقارير کو ايران کے گوشے گوشے ميں لے جاتے تھے اور ان کے اعلانات کو "حزبُ اللہ"کے افراد کي مدد سے چھاپ کر منتشر کرتے تھے۔ يہ جوش و خروش اور جذبہ جہاد دوسرے حوزاتِ علميہ اور ديني مراکز تک بھي پہنچ گیا جن ميں سب سے بڑا اور مضبوط مشہد مقدس کا حوزہ علميہ تھا۔
آيۃ اللہ خامنہ اي نے اس سلسلہ ميں نہایت عمدہ اور تعميري کردار ادا کيا ۔ قم ميں اپني جدو جہد جاري رکھتے ہوئے آپ نے مشہد کے علمائ و طلاب کے ساتھ رابطہ کو اور مضبوط بنایا اور کوشش کي کے خراسان کے تمام علمائ کي مدد سے طلاب کو پہلے سے زيادہ تيار کيا جائے۔

يہ جدوجہد اس قدر موثر اورجذاب تھي کہ ١٣٤٢ ھ ش ، ميںامام خمینی  کي طرف سے آپ کو حکم ملا کہ تين پيغام لے کر مشہد جائيں ۔ تين پيغام جو اس سر نوشت ساز محرم سے متعلق تھے جس ميں ١٥ خرداد کا حادثہ پيش آیا ۔
پہلا پيغام : علمائ ، خطبائ ، اہل منبر اور مذہبي انجمنوں کے صدور کے نام ، مسئلہ فیضيہ اور اسرائيل پر حملہ کے بارے ميں تھا ۔دوسرا اور تیسرا پيغام : مرحوم آيۃ اللہ العظمي ميلاني جو مشہد کے علمائ ميں تھے اس ميں يہ تھا کہ سات محرم سے کھل کر جہاد شروع کرديں۔يہ رسالت بحسن و خوبي انجام کو پہنچي اور پيغامات کي وجہ سے خراسان ميں مبارزات ميں شدت پيدا ہوگئي ۔آپ نے اس سفر ميں راستے ميں آنے والے شہروں ميں ان پيغامات کو منبر سے پہنچایا اور ہرجگہ تحريک کا بيج بو ديا اس کے بعد اپنے چند متدين دوستوں کے ساتھ مل کر يہ طے کيا کہ خراسان کے مختلف شہروں کا سفر کريں اور جس طرح امام خمینی  نے فرمایا تھا اس سال ساتويں محرم سے روز مرہ مسائل ، سياسي حالات ، اجتماعي مسائل ، مسئلہ فيضيہ اور حکومت کے مخفي منصوبوں کو عوام کے سامنے بيان کريں۔ اس کي وجہ يہ تھي کہ ايالتي اور ولايتي انجمنوں کہ قضيے ، شاہ کے جعلي ريفرنڈم اس کي طرف سے علمائ و اسلام کي مخالفت اور فيضيہ ميں اس نے جو ظلم کئے تھے اور نوروز ١٣٤٢ کي عزائے عمومي ان سب چيزوں نے مل کر شاہي حکومت کے خلاف عوامي تحريک شروع کرنے کے راستے ہموار کر ديئے تھے۔ اس سال کے محرم نے بہت اچھا موقع فراہم کيا۔ لہٰذا امام اور علمائ نے اس موقع سے بہترين انداز ميں فائدہ اُٹھایا ۔ اور پروگرام بنایاکہ پہلي محرم سے چھ محرم تک اصولي اور کلي باتيں کہي جائيں اور ساتويںمحرم سے بنيادي مطالب اور حقائق کو کھل کر عوام کے سامنے بيان کيا جائے تاکہ شاہ کا مکروہ چہرہ اصلاحات طلبي کي نقاب سے نکل کر عوام کے سامنے آسکے۔آيۃ اللہ خامنہ اي کے حصہ ميں "بير جند"نام کا ايک شہر آیا جو حکومت کي قدرت و سطوت کا مرکز تھا چونکہ اس وقت کا وزير اعظم "يتول اسد اللہ علم"اسي شہر کا رہنے والا تھا ۔"بير جند"ميں آپ نے تين محرم سے مجالس پڑھنا شروع کيں اور لوگوں کو علم و آگاہي سے سرشار کرتے ہوئے تحريک کا آغاز کيا ۔ سات محرم کا دن جبکہ مجلس ميں بہت بڑا مجمع تھا آپ نے مدرسہ فيضيہ کے واقعات کو پورے جوش و خروش اور رقت قلبي کے ساتھ بيان کيا اور لوگ دھاڑيں مار مار کر روئے ۔بعد ميں آپ نے اسي سلسلہ ميں فرمایا : اس روز مجھ سے پہلے جو خطيب تھے اس نے اپني تقرير کو طول ديا اور کافي دير کے بعد منبر سے اترے ميرے لئے تقريباً آدھا گھنٹہ رہ گيا تھا ۔ ميں نے جب تقرير شروع کي تو شدت ہيجان کي وجہ سے ميں کانپ رہا تھا حالانکہ ميں بالکل خائف نہيں تھا لوگوں کي حالت نے بھي مجھ پر اثر ڈالا ۔ جو زارو قطار رو رہے تھے اور جب ميں منبر سے نيچے اترا تو لوگوں نے ميرے گرد حلقہ باندھ ليا کہ کہيں ميں گرفتار نا ہو جاوں ۔ ميري اس مجلس کا شہر ميں ڈنکا بج گيا دوسرے روز ميں نے ايک شخص کے گھر ميں مجلس پڑھي وہاں بھي جم غفير تھا ميں نے وہاں بھي اس وقت کے حالات پر گفتگو کي۔

آيۃ اللہ خامنہ اي اس سلسلہ ميں فرماتے ہيں : بير جند ميں "تہامي"نام کا ايک مشہور عالمِ دين تھا جس نے اس روز مجھ سے کہا " اگرچہ ميں اس شہر ميں سب سے زيادہ باخبر ہوں ليکن اس طرح کے حالات کا مجھے علم نہيں تھا اور اگر آپ کے علاوہ کوئي اور کہتا تو ميں یقين نا کرتا اور کسي حادثہ نے مجھے اتنا نہيں رُلایا۔ " شہر بير جند ان دنوں ميں بالکل منقلب ہوگيا تھا اور لوگ بہت سارے مسائل سے آگاہ ہو گئے تھے۔نويں محرم کي صبح کو آپ نے نہایت پُر جوش تقرير کي حالات ايسے ہو گئے تھے کہ حکومت کے کارندے سخت پريشان نظر آرہے تھے۔ اگرچہ معمول کے مطابق نو اور دس محرم کے دنوں ميں علمائ کو گرفتار نہيں کيا جاتا تھا ليکن انھوں نے وحشت زدہ ہو کر آپ کو گرفتار کر ليا ۔ دو روز بيرجند ميں رکھا اور اس کے بعد مشہدلے جاکر "ساواک"کي تحويل ميں دے ديا ۔ ليکن اس گرفتاري نے بھي عوام کے بيدار کرنے ميں بڑا کام کيا ۔اس جدوجہد اور ان پيغامات کا اثر يہ ہواکہ اس سال محرم ميں تہران کے بعد مشہد نے حکومت کے لئے مشکلات پیدا کردیں ۔ اسي وجہ سے طاغوت نے آپ کے ساتھ "کہ جو اس پيغام کے رسول تھے اور عوام کو برانگيختہ کرنے ميں خود بھي بنيادي کردار ادا کيا "اس قدر سختي کي کہ اس سے پہلے علمائ کے ساتھ ايسا سلوک نہيں کيا جاتا تھا۔ يعني شروع ميں آپ کو ساواک کي تحويل ميں ديا اس کے بعد قلعہ کے ايک کھنڈر نما زندان ميں بند کر ديا جو بنيادي ضرورتوں سے بھي خالي تھا آپ کو دھمکي دي گئي کہ آپ کي داڑھي نوچيں گے ليکن بعد ميں انھوں نے اپنا ارادہ بدل ديا اور مشين سے آپ کي ريش مبارک کو مونڈدياگیا۔

آيۃ اللہ خامنہ اي اس سلسلہ ميں فرماتے ہيں : اس کام کے بعد جب ميں منہ دھونے کے لئے جا رہا تھا تو ايک متکبر اور خود خواہ قسم کے داروغہ نے ميرا مذاق اڑاتے ہوئے قہقہہ لگا کر کہا ، ديکھا ! ميں نے تمہاري داڑھي مونڈ دي ۔ ميں نے نہايت اطمينان سے جواب ديا ۔ کچھ بُرا نہيں کافي عرصہ ہوا ميں نے اپني ٹھڈي کو نہيں ديکھا تھا ۔ ظاہر ہے ساواک اور ان کي اذيتوں کا مذاق اڑانا حکومت کے لئے کس قدر شکست انگيز اور تحقير کا باعث بنتا ہے۔ اس کے بعد آپ کو چھاوني ميں کام کرنے پر مجبور کيا گيا ايک گاڑي ان کو تھمائي تاکہ اينٹيں ڈاليں اور بيلچہ اور گیتي دي کے زمين کھود کر صاف کريں اور ہاتھ سے کھوديں ۔ آپ سے ايسے کام لئے گئے جو اس سے پہلے علمائ سے نہيں لئے جاتے تھے۔اس رفتار سے پتا چلتا ہے کہ حکومت اس مجاہد خوش بيان اور بہادر عالم دين سے کس قدر کينہ اور دشمني رکھتي تھي۔تقريباً دس دن تک جيل ميں يہ سلسلہ چلتا رہا ۔ اس سلسلہ ميں آپ فرماتے ہيں : جيل کا يہ زمانہ بُرا نہيں تھا بلکہ ايک نيا تجربہ تھا ۔ ايک نئي دنيا تھي جس ميں "ساواک" تفتيش ، مارپيٹ ، ذہني اذيتيں ، شديد اہانتيں اور جہاد کي تلخياں تھيں۔ آزاد ہونے کے بعد دوبارہ آپ اپنے دوستوں سے ملے اور گذشتہ واقعات اور کارناموں کي قدر و قيمت کا اندازہ لگایا اور يہ طے پایا کہ دوبارہ مختلف شہروں کا سفر کيا جائے اور حکومت کي بربريت اور اس کے ظلم و ستم کو بر ملا کر کے امام خمینی  کي تحريک کوپھیلایا جائے۔ آگے چل کر آپ فرماتے ہيں : ہم نے دوستوں کے ساتھ ايک نشست ميں يہ طے کيا کہ اس مرتبہ پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت ہم ملک کے مختلف حصوں ميں جائيں گے اور حقائق کو بيان کريں گے۔ البتہ اس دفعہ سختي زيادہ تھي حکومت پہلے سے زيادہ اس تحريک کو دبانے کے لئے تيار تھي ۔ اس وقت تک عوام ميں ١٥ خرداد کے واقعہ کے اثرات باقي تھے۔ حکومت کي طرف سے شدت کے ساتھ سرکوبي اور مظالم نے بعض لوگوں کو احتياط کرنے پر مجبور کر ديا تھا تاہم کچھ لوگ پہلے سے زيادہ ثابت قدمي اور عظيم تر جہاد کے لئے تيار ہو گئے تھے۔ ان حالات ميں ايک بار پھرعلمائ کي دلنشين آواز تھي جو لوگوں کو جہاد و مقاومت کي دعوت دے رہي تھي ۔ چنانچہ حضرت آيۃ اللہ خامنہ اي کے بقول :
تمام شہروں ، راستوں ، چھوٹے اور دور افتادہ ديہاتوں ميں اور جہاں کہيں بھي عوام شاہ اور اسکے نوکروں کے ظلم کے پنجہ ميں اسير تھے اور ارباب زرومال ان کے مال ، ناموس ، اعتقاد اور ايمان پر مسلط تھے۔ امام خمینی  کا کوئي ايک شاگرد وہاں جاتا تھا اور گرفتاريوں اور حکومت شاہ کي طرف سے ہولناک اذيتوں سے خوفزدہ ہوئے لوگوں کے سامنے حقائق بیان کرتا تھا ۔ اجتماعي شکل ميں يہ مسافرتيں اور وہ بھي ١٥ خرداد اور امام خمینی  کو اسير کر لئے جانے کے بعد بہت ہي پرارزش تھيں۔ ان ميں ہماہنگي اور وسعت نے کہ جس کي لپيٹ ميں اکثر شہر اور کچھ ديہات بھي آگئے تھے حکومت کو مستاصل اور وحشت زدہ کر ديا تھا ۔ لہٰذا اس نے سخت رد عمل دکھایا ۔
١٣٤٢ ھ ش ، کا رمضان ماہ بہمن اور شاہ کے جعلي ريفرنڈم کي سالگرہ کے موقع پر آن پڑا۔ امام خمینی  جيل ميں تھے اور ماہ مبارک کے لئے ان کي طرف سے کسي پروگرام کي تشکيل کا کوئي امکان نہيں تھا ليکن ان کي غيبت ميں مراجع ، علمائ مخصوصاً امام خمینی  کے شاگرد اور کچھ متدين افراد کام ميں جٹ گئے اور انھوں نے مشعل جہاد کو گُل نہيں ہونے ديا۔ حوزہ علميہ کے فضلا اور طلاب بھي رمضان المبارک کے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک کے اطراف ميں گئے اور انھوں نے عوام کو آگاہي بخشنے کے ساتھ حکومت کي کارستانيوں کو برملا کيا ۔
آيۃ اللہ خامنہ اي اور آپ کے رفقا ئ بھي طے شدہ پروگرام کے تحت نکل کھڑے ہوئے ۔ آپ اس سلسلہ ميں فرماتے ہيں : قم سے ہم تيس طالب علموں نے ايک بس سے اپنے سفر کا آغاز کيا ۔ بس کے اندر طلاب اپنے اپنے درجہ کے لحاظ سے بيٹھے تھے جس طرح انھيں راستہ ميں اترنا تھا ۔ ميں سب سے آخري آدمي تھا جس کو کرمان ميں اترنا تھا ۔
کرمان ميں آپ دو تين دن تک مجالس اور علمائ و طلاب اور مجاہدين کے ساتھ مذاکرات کرنے کے بعد گاڑي کے ذريعہ زاہدان روانہ ہوگئے۔ زاہدان ميں آپ نے جامع مسجد ميں مجالس پڑھيں جنھيں لوگوں نے بہت پسند کيا۔
چھ بہمن کا دن جوں جوں نزديک آرہا تھا آپ اتنے ہي کھل کر تقرير کرنے لگے تھے آخر کار ١٥ رمضان کو جو امام حسن مجتبيٰ ٴکي ولادت کا دن ہے ۔ آپ نے نہایت پرجوش معني خيز اور گرماگرم تقرير کي اور اسي روز يعني رمضان المبارک کي سولہويں شب ميں آپ کو گرفتار کر کے ہوائي جہاز کے ذريعہ تہران بھيج ديا گيا ايک رات "سلطنت آباد"کي چھاؤني ميں رکھ کر دوسرے روز آپ کو "قزل قلعہ" نام کے جيل خانہ روانہ کر ديا گیا جو اس وقت ساواک کا معروف وحشت ناک جيل خانہ تھاجس ميں بد تريں اذيتيں دي جاتي تھيں۔
تقريباً دو ماہ اس جيل ميں گذرے جس ميں تنہائي، ناقابل تحمل ا ہانتيں ، قتل اور ہولناک اذيتوں کي دھمکياں اور جيل خانہ کي مختلف سختياں تھيں۔ ليکن آزاد ہونے کے بعد اس بہادر اور نڈر روحاني نے سب سے پہلا کام يہ کيا کہ قيطريہ ميں واقع ايک گھر ميں جو حقيقت ميں ايک محترمانہ قيدخانہ تھا ، امام خمینی  سے ملاقات کرنے کا پروگرام بنایا اور آپ اس ميں کامياب بھي ہو گئے اور شہيد مصطفےٰ خميني کے ہمراہ ١٥ منٹ تک وہاں رہے ۔ بقول آپ کے اس ملاقات نے ميرے بدن کي تمام تھکن دور کردي ، محويت کے عالم ميں رونے لگا ، امام خمینی  بہت شفقت سے پيش آئے۔ ميں نے عرض کيا کہ حضور کي عدم موجودگي ميں اس مرتبہ ماہ رمضان سے جتنا استفادہ کيا جانا چاہئيے تھا اتنا نہيں ہو سکا لہٰذا ابھي سے آئندہ محرم کي فکر ميں رہنا چاہيئے ۔آيۃ اللہ خامنہ اي اپنے تجربا ت کي روشني ميں دوبارہ جہاد ميں مصروف ہوگئے آپ نے سب سے اہم تجربہ يہ حاصل کيا کہ طويل جہاد کے لئے تنظيم ہونا چاہيئے تاکہ باہمي مشورے ، ہمفکري زيادہ تياري کے ساتھ کام انجام پائيں اور رابطے بہتر ہوں۔

پارٹي کي تشکيل

اس مقصد کے تحت قم ميں آيۃ اللہ خامنہ اي اور کچھ دوسرے مجاہد علمائ اور امام خمینی  کے ماننے والوں نے ايک ميٹنگ رکھي اور خفيہ طور پر پارٹي کي تشکيل کے بارے ميں گفتگو شروع کر دي جن ميں سے بعض حضرات يہ تھے : آيۃ اللہ مشکيني ، شہيدآيۃ اللہ قدوسي ، مرحوم آيۃ اللہ رباني امشي ، مرحوم آيۃ اللہ رباني شيرازي ، حجتہ الاسلام والمسلمين ہاشمي رفسنجاني ، آيۃ اللہ مصباح يزدي ، آيۃ اللہ آذري قمي اور آيۃ اللہ اميني نجف آبادي وغيرہ۔پارٹي بنانے کا مقصد يہ تھا کہ حوذہ علميہ قم اور عوام کي جدوجہد کو خط امام خمینی  پر لے آنے کا ايک مقدمہ فراہم ہوجائے ۔ اس پارٹي نے خاموشي کے ساتھ اپنا کام شروع کرديا۔ ممبر شپ کي فيس مقرر ہو گئي اور وصول بھي کي گئي ۔ جناب مصباح يزدي کو اس کا منشي مقرر کيا گيا جو جلسہ کي کاروائي ، منشور اور دوسرے مطالب کو تعويز کي شکل ميں لکھا کرتے تھے۔ جس کو صرف وہ ہي پڑھ سکتے تھے تاکہ وہ اسناد ساواک کے ہاتھ آجائيں تو وہ يہ سمجھيں کہ کوئي جادو يا تعويز وغيرہ ہے اور بد گمان نا ہوں ۔
١٣٤٤ ھ ش ، ميںاس پارٹي کا راز فاش ہو گيا اس لئے کے آيۃ اللہ آذري کو گرفتار کرنے کے بعد ساواک کو ان کے گھر سے پارٹي کا منشور مل گیا ۔ آقاي آذري کو شکنجہ گاہ ميں لے گئے کچھ کو گرفتار کر ليا اور کچھ جن ميں سے آيۃ اللہ خامنہ اي بھي تھے روپوش ہو گئے۔آقاي خامنہ اي ، ہاشمي رفسنجاني اور مصباح یزدي تہران پہنچ گئے اور آيۃ اللہ خامنہ اي آقاي ہاشمي کے ساتھ ايک گھر ميں رہنے لگے ۔ البتہ اس حادثہ سے کچھ عرصہ پہلے آيۃ اللہ خامنہ اي کتاب "آئندہ در قلمر و اسلام"کے ترجمع کي وجہ سے مشہد سے روپوش ہو گئے تھے ۔ اس لئے کے اس کتاب کے مضامين خاص کر اس پر آپ کے مقدمہ اور حواشي نے ساواک کي نينديں حرام کر ديں تھيں ۔ ساواک نے کتاب کو پريس ميں ہي روک ديا اور پريس کے دو ذمہ دار افراد کو گرفتار کر ليا تھا ليکن کتاب دوسرے ذريعہ سے چھپ کر منتشر ہو گئي اس بات نے ساواک کو اور زيادہ غضبناک کر ديا تھا اور وہ آيۃ اللہ خامنہ اي کي گرفتاري اور ان کي تعقيب کے لئے پہلے سے زيادہ کوشاں تھے۔ خاص کر قم ميں پارٹي کي تشکيل کا راز بھي فاش ہو گيا تھا اسي زمانہ ميں ساواک نے شہيد آيۃ اللہ قدوسي کو گرفتار کرکے ان کي تفتيش کي اور پھر آزاد کر ديا ۔ تفتيش کے دوران آيۃ اللہ قدوسي نے بھانپ ليا تھا کہ ساواک کو پارٹي کي تشکيل کا علم ہو گيا ہے۔ لہٰذا انہوں نے آقاي ہاشمي کو اطلاع دي ۔ چنانچہ چار حضرات يعني آقاي خامنہ اي ، ہاشمي ، قدوسي اور اميني نجف آبادي نے شہيد باہنر کے گھر ميں ايک ميٹنگ کي جس ميں يہ مسائل زيرِ غور آئے اور طے پایا کہ في الحال يہ حضرات کہيں ظاہر نہ ہوں احتياط سے کام ليں اور آقاي خامنہ اي بھي مشہد نا جائيں ۔
١٣٤٥ ھ ش ، کے اواخر ميں جو لوگ گرفتار ہوئے تھے ان ميں سے بعض کي آزادي کے بعد مسئلہ کي حد ّت ميں کمي آگئي لہٰذا آپ نے زيارت کي غرض سے مشہد کا سفر کيا ۔ ظاہر ہے کہ يہ سفر صرف زيارت کي غرض سے نہيں تھا بلکہ کچھ دوسرے کام بھي کئے اسي لئے جب ساواک کو آپ کي فعاليت کا پتہ چلا تو ١٤ فروردين ١٣٤٧ ھ ش ، کو آيۃ اللہ خامنہ اي کو مشہد ميں ايک بار پھر کتاب کے بہانے گرفتار کر کے جيل بھيج ديا گيا ۔ چار ماہ تک آپ نے جيل ميں ساواک کي سختياں برداشت کي ليکن خدا کي مدد سے آپ ساواک کو دھوکہ دينے ميں کامياب ہو گئے اور وہ آپ سے کچھ بھي نہيں اگلواسکے۔

مخفيانہ تنظيم سازي اور گروہ امداد علمائ

رہا ہونے کے بعد اس بار آيۃ اللہ خامنہ اي قم یا تہران آنے کے بجائے مشہد ميں ہي ٹھہر گئے اور علمي و درسي امور ميں مشغول ہو گئے ۔ اس بار آپ مکاسب اور کفايہ پڑھانے ميں مشغول ہو گئے اور نہايت ہي بارونق درس آپ نے مشہد ميں شروع کيا ۔حوذہ ميں سطوح عالي کي تدريس کے علاوہ آپ طلاب اور نوجوانوں کيلئے درس تفسير قرآن کي کلاس کھول کر تبليغ و تعليم اسلامي انقلاب ميں مشغول ہو گئے بہت جلد ہي آپ کا درس جہاد کا مرکز اور انقلابي جوش و جذبہ کو اجاگر کرنے کا محرک بن گیا اور انقلابي افراد کے آپس ميں مل بيٹھنے اور عوام کي آگاہي و بیداري کا مرکز بن گيا ۔

تفسير کا يہ درس متدين اور شائستہ افراد کي شناخت اور ان کو منظم کرنے کا ذريعہ ہونے کے ساتھ اسلامي اور رفاہ عامہ کے امور کي انجام دہي کا محور بھي تھا ۔ چنانچہ فردوس کاخک اور گنا باد کے تباہ کن اور وير انگر زلزلہ ميں جس کي وجہ سے عظيم جاني ومالي نقصان ہوا تھا آيۃ اللہ خامنہ اي نے مشہد کے کچھ مجاہد طلاب کو منظم کرکے علمائ مشہد کي حمايت اور انقلابي اور متدين افراد کیلئے مادي اور جسماني امداد لے کر فردوس گئے اور گروہ امداد کو تشکيل ديا۔
اس سلسلہ ميں آپ فرماتے ہيں :

غور و فکر کے بعد ميں اس نتيجہ پر پہنچا کہ ہم چند ايسے طلبائ کي تربيت کريں جو تہہ دل سے جہاد کے معتقد ہوں اور مبارزہ کي راہ ميں جدوجہد کريں ۔ لہذا ميں نے اس مسئلہ پر کام کيا اور طلبائ کے ساتھ مل کر پروگرام بنایا۔

اس سلسلہ ميں جب ميں نے اپنے دوستوں سے رابطہ کيا اور کہا ہم فردوس جانا چاہتے ہيں تو ان ميں سے بعض نے اس کا خير مقدم کيا ۔ آقاي ہاشمي ، شہيد ہاشمي نژاد ، کچھ تاجر اور کچھ طلاب خلاصہ ہم ستّر ، اسّي افراد دس پندرہ گاڑيوں ميں زلزلہ سے متاثر شدہ علاقہ کي طرف چل پڑے ۔ آيۃ اللہالحاج شيخ علي اصغر مرواريد چند افراد کے پاس وہاں پہنچے تو ان پر رقت طاري ہو گئي ۔ جب انہوں نے ديکھا کہ ہم نے تيزي کے ساتھ وہاں کے حالات درست کر لئے ہيں تو فرط جذبات سے انہوں نے رونا شروع کر ديا۔ ابتدا ميں جب ہم وہاں پہنچے تو دس پندرہ دن تک لوگ غلطي سے مجھے امام خمینی  سمجھتے رہے اور کہتے تھے کہ امام خمینی  آگئے ہيں چنانچہ دور دراز کے علاقوں اور ديہاتوں سے لوگ ان کے ديدار کے لئے ان کے ديدار کے لئے امنڈے چلے آتے تھے ۔ وہاں سب کو معلوم تھا کہ آقاي خميني ۲ سب کے ہيں ايسا نہيں کے صرف ہم امام خمینی  کو چاہتے ہيں بلکہ وہان کے دور افتادہ ديہاتوں اور گاووں ميں امام خمینی  ايک پيارا اور ہردل عزيز نام ہے ۔
آخر کار ميرا نام لوگو ں کي سمجھ ميں آگيا اور وہ پہچان گئے کہ ميں کون ہوں ۔ بڑي دلچسپ کيفيت تھي ۔ حکومت پاگل ہو رہي تھي ، نيم فوجي دستوں کي ايک بٹالين وہاں تھي پوليس والے زبردستي ہميں وہاں سے نکالنا چاہتے تھے ۔ انہوں نے ہميں دھمکي دي اور کہا کہ اگر آپ لوگ نہيں جائيں گے تو ہم زبر دستي آپ کو نکاليں گے ہم نے کہا ہم نہيں جائيں گے ۔ کچھ رفقائ ڈر گئے ميں نے کہا ہميں نہيں ڈرنا چاہئيے اس لئے کہ جس پوزيشن ميں ہم ہيں اس ميں خائف ہونے کي ضرورت نہيں اس کي وجہ يہ ہے کہ ہم لوگوں کي مدد کے لئے آئے ہيں ۔
ان علمي ، درسي ، عوامي اور ، جہادي فعاليتوں نے تدريجا ًحضرت آيۃ اللہ خامنہ اي کو مشہد مقدس ميں جہاد و مبارزہ کا محور بنا ديا پورے ايران سے لوگ آپ سے رابطہ قائم رکھتے تھے اور آپ بھي ايران کے ہر نقطے کے ساتھ رابطہ رکھے ہوئے تھے لہٰذا ساواکي آپ کے بارے ميں بہت حساس ہو گئے۔ آپ کے درس و تفسير پر کئي بار پابندي عائد کي گئي ليکن دوبارہ دوسري جگہ اور دوسري شکل ميں يہ کام شروع ہوجاتا تھا ۔ مجبوراً ساواکي وہاں بھي پابندي لگاتے تھے چنانچہ ان ميں سے ہر ايک اقدام لوگوں کے حوصلوں کے بلند ہو نے اور حکومت کے رسوا ہونے ميں بہت موثر ہوتا تھا کبھي آپ کے گھر کا محاصرہ کر ليتے تھے اور کسي کو آپ کے ساتھ ملنے کي اجازت نہيں ديتے تھے اگرچہ زيادہ تر آپ کا بيت الشرف زير نظر رہتا تھا تاکہ آنے جانے والوں کو شناخت کيا جا سکے ۔
اسي زمانہ ميں آپ کے فضل و کمال ، شوق و شجاعت کا پورے ايران ميں چرچا ہو چکا تھا اور ايران کے اکثر شہروں جيسے اصفہان ، کرمان ، اور يزد وغیرہ اور نيز تہران سے آپ کے پاس دعوت نامے آتے تھے کہ آپ وہاں مجلس سے خطاب فرمائيں ۔ آپ بھي ان مجا لس ميں اسلام کے انقلابي نظريات ، حقائق ، روز مرہ کے مسائل جہاد کي ضرورت اور انقلابي جہاد جيسے مسائل کو ہلکي بارش کے مانند جو زمين کے اندر جاا کر اسے بار آور بناتي ہے لوگوں کے ذہنوں پر برسا کر انہيں بيدار کرتے تھے ۔
آپ کي تقريريں خاص کر تہران ميں اسلامي انجمنوں کے درميان پڑھے لکھے افراد ميں اور فعال مذہبي انجمنوں جيسے انصار الحسين ٴ ميں اب بھي دلوں پر نقش ہيں منجملہ ان کے بازار تہران کے مدرسہ شيخ عبدالحسين ميں ماہ رمضان ١٣٤٨ ھ ش ، ميں آپ کي تقريريں تھيں جن کا موضوع انقلاب اسلامي کي بنیاديں اور شرائط تھا ۔ مسلحانہ جہاد کے شدت پکڑنے کي ابتدا سے بہت مفيد و موثر تھيں اور اصولي طور پر اس وقت تک علمائ کے جہاد کو نہضت علمائ کا نام ديا جاتا تھا ، انقلاب نہيں کہا جاتا تھا ليکن ان تقريروں ميں آيۃ اللہ خامنہ اي نے بيس سے کچھ زيادہ دنوں تک کھل کر انقلاب کے بارے ميں گفتگو کي۔ صرف آ پ نے تقريريں ہي نہيں کيں بلکہ کتابيں جو آپ لکھتے تھے يا ترجمہ کرتے تھے وہ بھي انقلابي افکار کي رشد و نمو ميں بہت موثر تھيں ۔ کتاب "صلح اما حسن ٴ"آئندہ در قلمر واسلام " کتاب مسلمانان در نہضت ہندستان " يا اس طرح کي دوسري کتابيں جو انقلابيوں کي پرورش کرتي تھيں اور جوانوں کو راہ راست پر لگاتي تھيں ۔
آيۃ اللہ خامنہ اي ١٣٤٦ ھ ش ، ميں قم ميں ان کتابوں کي وجہ سے ايک بار پھر گرفتار ہوئے ليکن اسي روز آزاد ہوگئے اس لئے کہ ساواک کو ان کے خلاف کوئي ثبوت نہيں ملا ۔

پھر سے گرفتاري

١٣٤٩ ھ ش ، ميں مرحوم آيۃ اللہ العظميٰ آقاي حکيم کي رحلت کے بعد ايک بار پھر امام خمینی  کے خط و مرجعيت اور رہبر انقلاب اسلامي سے وفاداري کي تبليغ کي فرصت جب ہاتھ آئي تو آپ کو گرفتار کر ليا گیا طلاب اور حوزہ مشہد ميں اس گرفتاري کا زبردست رد عمل ہوا اور يہ امر طلاب کے درميان انقلابي افکار کے رسوخ اور پھيلاو کے سلسلہ ميں نہايت مفيد تھا اس لئے کہ اصل ميں ٤٧ یا ٥٠ کے درمياني سال ثقافتي انقلابي جدوجہد اور امن پسندانہ کوشش کے سال تھے ۔
اس مرحلہ ميں مجاہدين اسلامي انقلاب سے آشنا ہو رہے تھے اور گذشتہ صدیوں کے جمے ہوئے زنگ کي تہوں کو صاف کر رہے تھے ۔ واضح بات تھي کہ عوام اور خاص کر نسل جوان علمائ کي طرف سے پہلے سے زيادہ رجوع اور ان کا خير مقدم کر رہي تھي ۔ علمائ نے بھي اس فرصت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خالص اسلامي علوم و معارف کو ہر ممکن طريقے سے ان کے سامنے پيش کيا خواہ منبر سے تبليغ یا کلاسوں يا آزاد و محدود مجالس مذاکرہ کے ذريعہ يا ضرورت کے مطابق کتابيں جز وے اور مجلے چھاپنے کے ذريعے ! آيۃ اللہ خامنہ اي بھي اس عرصہ کو پر جوش مخفي جدوجہد کے عرصے سے تعبير کرتے ہيں جس ميں آپ ہميشہ افراد کي تربيت کرنے اور قابل اطمينان عناصر کو منظم کرنے اور فعال و مبارز گروہوں کے ساتھ رابطہ پيدا کرنے ميں مصروف رہے اس کام ميں آساني کے لئے آپ نے تدريس اور مسجد ميں امامت جماعت کي ذمہ داري بھي قبول کرلي ۔ شروع ميں آپ نے مسجد صديقہ ميں جو بازار مشہد ميں مسجد ترک کے نام سے مشہور ہے تفسير کا درس شروع کيا تھوڑے ہي عرصے کے بعد چونکہ مجمع زيادہ تھا لہٰذا مدرسہ ميرزا جعفر کي دوسري منزل پر کتاب خانہ کے حال ميں منتقل ہو گئے اور درس کو جاري رکھا ۔اس درس ميں طلاب اور مشہد کے بعض متدين افراد جو مذہبي مسائل سے آشنا ئي رکھتے تھے شرکت کرتے تھے ١٣٤٩ ميں آپ کے گرفتار ہو جانے کي وجہ سے وقتي طور پر يہ درس بند ہو گيا۔ ١٣٤٩ ھ ش ، ميں جيل کي مدت چار ماہ سے زيادہ ہو گئي ليکن آزاد ہونے کے بعد آپ دوبارہ جدوجہد ميں مشغول ہو گئے ۔ اس سلسلہ ميں آپ کا ايک کارنامہ يہ تھا کہ محرم ١٣٤٩ ھ ش ، کي نويں اور دسويں شب ميں حديث "من راي سلطاناً جائرا ً"کے تحت انجمن اسلامي مہند سين کي طرف سے منعقدہ مجالس ميں آپ نے زبر دست پرجوش اور انقلابي تقريريں کيں جن کي وجہ سے تمام لوگ متاثر ہوئے اور اس کے بعد انڈر گراؤنڈ کام کرنے والے مسلح جتھوں ، منجملہ "منافقين خلق"نے آپ سے رابطہ قائم کيا ۔
ان مسلح جتھوں سے رابطہ رکھنے کي بناپر ٥٠ ھ ش ، ميں پچيس سو سالہ جشن ستم شاہي کے موقع پر بجلي کے کھمبوں کو بم سے اڑانے کي کاروائيوں کے نتيجہ ميں آپ کو گرفتار کر ليا گیااور اس بار آپ کو سخت اذيتناک مراحل سے گذرنا پڑا آپ کو جيل کي ايک تنگ و تاريک اور مرطوب کوٹھري ميں بند کر ديا گیا ليکن ان تمام سختيوں کے باوجود ان کو اس بہادر ، دلير، نڈر اور آزاد منش عالم دين کي طرف سے صرف دليرانہ مقاومت کا سامنا کرنا پڑا اور آپ سے کچھ بھي نہيں اگلوا سکے لہٰذا مجبور ہو کر تقريباً دو ماہ کے اندر اندر آپ کو آزاد کر ديا گیا۔
آپ بھي دوبارہ جدو جہد ميں لگ گئے اس بار انقلاب کے مورچوں ميں مسجد امام حسن ٴ جو اس وقت ايک چھوٹي سي مسجد تھي کا اضافہ ہو گیا ۔ آيۃ اللہ خامنہ اي نے بعض چاہنے والوں کے اصرار پر اس مسجد ميں نماز جماعت کي امامت اور تفسير کا درس شروع کر ديا اس طرح اپنے مخفي اور محدود رابطوں کے ساتھ ہي عوام الناس کے ساتھ مسجد کے راستہ سے آپ کا شب و روز رابطہ قائم ہو گیا ۔
ايک مدت کے بعد آپ کو دعوت دي گئي کہ "مسجد کرامت "ميں جماعت کي امامت فرمائيں جو مشہد کے نادري باغ کے نزديک تھي اور يہ علاقہ اس شہر کا سب سے زيادہ حساس اور پُر از جمعیت علاقہ ہے ۔ ليکن لوگوں کے ازدحام اور عوام کي طرف سے زبردست استقبال کي بنا پر ساواک نے کچھ عرصہ کے لئے مسجد کو بند کر ديا ۔ اس نوعيت کي جدوجہد زبردست موثر تھي ہر ايک کي توجہ کا مرکز بن گئي خاص کر شہيد مطہري اور شہيد باہنر اپنے مشہد کے ايک سفر ميں اس سے بہت خوش ہوئے اور اس پروگرام نے انہيں بے انتہا متاثر کيا ۔مرحوم آيۃ اللہ طالقاني صريحاً کہا کرتے تھے کہ آيۃ اللہ خامنہ اي مستقبل کي اميد ہيں اور جب بھي آپ لوگ مشہد جائيں ان سے ضرور ملاقات کريں ۔
يہ ہي کارنامے باعث بنے کے ساواک نے آپ کو خاص نگراني ميں رکھا اور ہميشہ یا آپ کو دفتر ساواک ميں احضار کرکے تفتيش کرتے تھے یا آپ کے گھر کو محاصرہ ميں لے کر لوگوں کو آنے جانے سے روک ديتے تھے اور تدريجاً انہوں نے زبردستي آپ کا درس بھي بند کرا ديا۔ آخر کارايک بار پھر دي ماہ ١٣٣٥ ھ ش ، ميں آپ کو گرفتار کرکے تہران لائے اور ساواک يعني گروہ انسداد فساد کي وحشتناک شکنجہ گاہ اور جيل ميں انفرادي طور پر محبوس کرديا ۔ جيل کي يہ مدت دو ماہ طويل ہو گئي جس ميں آپ کو قيد تنہائي ميں یا دو تين آدميوں کے ساتھ سخت اذيتوں ميں رکھا گیا ۔

شہيد رجائي اس سلسلہ ميں کہتے ہيں :

جو سال ميں نے گروہ انسداد فساد يعني ساواک کي تحويل ميں گذارا ١٣٥٣ وہ حقيقت ميں جہنمي سال تھا ۔ اس پورے علاقے ميں پوري رات صبح تک آہ و نالہ کے علاوہ کچھ سنائي نہيں ديتا تھا اور صبح سے شام تک بھي يہ ہي کيفيت تھي ۔ گویا آيہ "ثم لا يموتون فيھا ولا يحيي" کي تصديق ہو رہي تھي جو لوگ اس جيل ميں تھے وہ نہ مردہ تھے اور نہ زندہ اس لئے کہ انہيں مارتے مارتے قريب المرگ کرديتے تھے پھر تھوڑا بہت علاج کرتے تھے جب ان کي حالت قدرے سنبھلتي تھي پھر وہ ہي سلسلہ شروع ہو جاتا تھا۔ اس جيل ميں طرح طرح کي اذيتيں دي جاتي تھيں جس کوٹھري ميں مجھے رکھا گیا تھا اور وہاں سے مجھے عدالت ميں لے جایا جاتا تھا اس کا نمبر ١٨ تھا اور کوٹھري نمبر ٢٠ ميں آيۃاللہ خامنہ اي کو رکھا گیا تھا ۔
ميں نے اپني کوٹھري ميں خفيہ مورس زبان سيکھ لي تھي اور اکثر ہم ديواریں کھٹ کھٹا کر اپني بغل والي کوٹھري ميں خبريں ديا کرتے تھے اور ان سے خبريں ليا کرتے تھے ۔ ميں بغل والي کوٹھري ميں خبريں پہنچایا کرتا تھا اور وہ ان خبروں کو آيۃاللہ خامنہ اي کو ديا کرتا تھا ۔ مجھے یاد ہے کہ آپ کي داڑھي مونڈ دي گئي تھي اور توہين کي غرض سے ان کي صورت پر طماچہ لگایا گیا تھا۔ آپ بھي محکم و استوار جيل کے کُرتے کو عمامہ کي شکل ميں سر پر باندھ کر ادھر اُدھر آيا جايا کرتے تھے ۔ ميں ايک روز بیت الخلائ ميں تھا کہ اچانک خوشي اور شوق کي حالت ميں ان کو ديکھا ۔

شاہي ساواک ان تمام خوفناک سختيوں اور شديد دباو کے باوجود امام خمینی  کے اس جري اور بہادر شاگرد کے اسرار نہيں سمجھ پايا اور حتيٰ ايک معمولي سا ثبوت بھي آپ کے خلاف نہيں حاصل کر پايا کہ جسے عدالت ميں بھيج کر آپ کو سزا دلواسکے ۔ لہٰذا مجبورا ً موسم سرما ١٣٥٤ ميں خصوصاً اس وقت جب اس کے آقا امريکہ کي پاليسي ميں تبديلي آئي اور جيمي کارٹر بر سر اقتدار آیا تو آپ کو رہا کر ديا گیا۔ آپ دوبارہ مشہد روانہ ہو گئے اور بغير کسي خستگي اور کوفت کے احساس کے ايک بار پھر جہاد و مبارزہ ميں لگ گئے اس بار ذمہ دارياں پہلے سے زيادہ سخت تھيں ۔منافقين خلق کي چريکي جنگ مکمل طور پر شکست سے دو چار ہو گئي تھي چنانچہ امام خمینی  نے ١٣٤١ ھ ش ، ميں اسي پارٹي کے نمائندہ کو خبر دار کر ديا تھا ۔ تنظيم کے اندر پھوٹ پڑ گیااور اس کا انحراف و التقاد آشکار ہو گیا ۔

حکومت کميونسٹ اور منافقين کے چريکوں پر کاري ضربيں لگانے کے بعد غرور و طاقت کا احساس کر رہي تھي ۔ بہت سے جنگجو حواس باختہ اور حیرت زدہ تھے ۔ جنگجو گروہوں کے اندر شک اور بے اطمناني کي حالت ان کي روح ميں زہر آلود خنجر بن کر پيوست ہو رہي تھي ۔ کچھ لوگ بالکل ہي نااميد دلسرد اور دلمردہ ہو گئے تھے ۔ جيلوں کے اندر متدين اور قوانين اسلامي کے پابند افراد منافقين سے الگ ہوجاتے تھے ۔ اس سراسر دباو ، گھٹن ، خيانت، انحراف و التقاد ، نااميدي ، دلسردي ، شک و ترديد ، اور حيرت کي فضا ميں رہبر انِ جہاد کي ذمہ داري نہایت حساس اور دشوار تھي۔واقعات و حوادث سے عوام کو اگاہ کر نے کي ضرورت ، اور وہ بھي اس انداز ميں کہ حکومت اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے اور عوام کي ہدایت اور رہنمائي اور ان کے حوصلے بلند رکھنا اتنا عظيم کارنامہ تھا جس کي انجام دہي کے لئے زبردست مہارت اور ظرافت کي ضرورت تھي ۔
ليکن خدا کے لطف ، امام خمینی  کي پيامبرانہ رہبري اور ان کے دوستوں منجملہ حضرت آيۃاللہ خامنہ اي کي حکمت عملي کي وجہ سے يہ حساس دور اچھے طريقے سے گذر گیا ۔ يعني ايک طرف خالص مذہبي افراد کي تنظيم نو ہو گئي اور التقا طيوں سے پاک ہونے کي بنا بر جو قدرت انہيں حاصل ہوئي تو ان کو حکومت سے مقابلہ کرنے کے لئے پہلے سے زيادہ طاقت مل گئي اور دوسري طرف منافقين کے جتھے کے ساتھ مقابلہ کئے بغير جہاد کے اصلي مقصد سے کہ جو حکومت کي سرنگوني تھامجاہدين کو آگاہ کر ديا گیا ۔ اور ان کي طاقت بجائے اس کے کہ منافقين کے ساتھ ٹکرانے ميں صرف ہو اصلي دشمن يعني ظالم حکومت کے ساتھ جنگ کرنے ميں ہوئي ۔ دوسري جانب اس تنظيم کے انحرافات اور کمزورياں نہایت ہوشياري اور دقت کے ساتھ وواضح کر دي گئيں ۔ اور حکومت بھي اس سے کوئي فائدہ نا اٹھا سکي ۔ جب تک حکومت کو خبر ہوتي کہ اس سے کتني غفلت ہو گئي ہے کام ہو چکا تھا اور تحريک جہاد ٥٦ اور ٥٧ کہ اوج کے نزديک ہوگئي تھي۔
تحريک جہاد کے اوج پکڑنے ، منافقين کے درميان انحراف کے آشکار ہو جانے علمائ اور عوام کے درميان ايک ايسے اسلامي نظام کي تشکيل کي ضرورت کا احساس پيدا ہوجانے کي بنا پر کہ جس کي باگ ڈور سيا سي ا ور معمولي افراد کے بجائے فقہ و سياست سے آگاہ علمائ کے ہاتھ ميں ، اسلامي نظام کي ابتدائي شکل امام خمینی  کي رہبري اور متدين اور انقلابي علمائ کي مديريت ميں وجود ميں آگئي اس سلسلہ ميں آپ فرماتے ہيں :

١٣٥٦ ھ ش ، کي گر ميوں ميں مشہد ميں دو علمائ آقاي رباني املشي اور آقاي موحدي کرماني کے ساتھ ہم بيٹھے تھے ۔ بات چل نکلي کہ مجاہدين اور خاص کر علمائ کہ عمدہ مجاہد وہي تھے کيوں منظم نہيں ہيں ؟ تجويز رکھي گئي کہ ايک نظام تشکيل ديا جائے ۔ اسي ميٹنگ ميں کہا گیا کہ اگر اس نظام ميں آقاي بہشتي بھي ہوں تو اس کي عاقبت بخير ہو گي اور کسي نتيجہ پر پہنچے گا ۔
حسن اتفاق سے شہيد باہنر اور شہيد بہشتي دونوں اس موقع پر مشہد ميں تھے لہٰذا ان کي شرکت ايک ميٹنگ ميں اسلامي نظام کي بنیاد رکھي گئي ۔اس ڈھانچہ کي خبر جيل ميں بند علمائ آقاي ہاشمي رفسنجاني کو دي گئي اور انہوں نے بھي اسکي تائيد کي ۔ اسي زمانہ ميں شہيد مطہري نے بھي ايک پيغام کے ذريعہ جو وہ نجف اشرف سے امام کي طرف سے لائے تھے پرانے مجاہدين کو ايک جگہ جمع ہونے کي دعوت دي ۔ يہي رابطے تھے جن کي وجہ سے ٥٦ اور ٥٧ کے زبردست مظاہرے وجود ميں آئے۔ اس تشکيل کي بنياد رکھنے ميں آيۃاللہ خامنہ اي کا نماياں رول تھا يہ ايسي تشکيل تھي جو خدا اور جہاد کے لئے وجود ميں آئي تھي اس کا مقصد قدرت طلبي اور جاہ و مقام حاصل کرنا نہيں تھا۔

ايران شہر کي طرف جلا وطني

جدو جہد کي اس گيرودار اور ١٣٥٦ ھ ش ، ميں انقلاب اسلامي کے نقطئہ عروج پر پہنچنے کے موقع پر ظالم حکومت نے نہايت سختي کے ساتھ آپ کو گرفتار کرليا اور چند شب جيل ميں رکھنے کے بعد ايرانشہر کي طرف جلا وطن کرديا ۔ليکن يہ جلا وطني اور ايرانشہر کي گرم و لو دار آب و ہوا اس مظہر جہاد ، کوشش اور مبارزہ کو خاموش کرنے کے لئے کافي نہيں تھي بلکہ آپ نے وہاں بھي فرصت سے استفادہ کرتے ہوئے مجاہدين کے درميان وحدت و ہمبستگي اور شيعہ ، سني کے درميان اتحاد قائم کرنے کي کوشش کي اور اس سلسلہ ميں نماياں کاميابي حاصل کي ۔
عوام کے ساتھ رابطہ ، تبليغ اور اس شاہ خوردہ "استان"کي محروميتيں اور مشکليں دور کرکے لوگوں کي توجہ امام خمینی  ، انقلاب ، اسلام اور علمائ کي طرف مبذول کرنے ميں آپ نے اہم کردار ادا کيا ۔ اتفاق سے اس سال ايرانشہر ميں سيلاب آيا جس سے بہت سے افراد بے گھر ہو گئے اور کثير تعداد کو صدموں سے دوچار ہونا پڑا ۔ آيۃاللہ خامنہ اي نے "گناباد" اور "فردوس" والے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے علمائ و طلاب پر مشتمل ايک امدادي گروپ بنایا يہ گروپ لوگوں کي امداد ، حوصلہ افزائي اور تبليغ و تحريک ميں اس قدر کامياب ہوا کہ ساواک وحشت زدہ ہو گئي آپ کو احضار کرليا گیا اور ساواک کے رئيس نے آيۃاللہ خامنہ اي سے کہا ":کل رات امنيت سے متعلق ايک پوليس کميشن ميں رپورٹ گئي ميں نے ساواک سے کہا کہ آپ لوگ کس قدر بے غيرت ہيں کہ آپ نے کچھ نہيں کيا ذرا ديکھيئے تو ايک جلا وطن نے يہاں کيسا کارنامہ انجام ديا ہے۔يہ جلا وطني ١٣٥٧ تک جاري رہي اور اسي سال انقلاب کے اوج پکڑنے اور حالات حکومت کے کنٹرول سے باہر ہوجانے کے بعد آيۃاللہ خامنہ اي مشہد واپس آگئے اور پہلے سے زيادہ جدو جہد ميں مصروف ہو گئے۔

شورائے انقلاب اسلامي

يقينا مقام رہبري کے بعد سب سے اہم تنظيم جس کا انقلاب کي کاميابي اور اس کے بعد اس کے نظم و نسق چلانے ميں اہم رول رہا ۔ شورائے انقلاب اسلامي ہے ۔شہيد آيۃاللہ بہشتي اس سلسلہ ميں فرماتے ہيں : شورائے انقلاب کي پہلي شکل جسے پيرس ميں امام خمینی  نے پاس کر ديا تھا ۔ آقا ي ہاشمي رفسنجاني ، آقاي مطہري ، آقاي موسوي اردبيلي اور آقاي ڈاکٹر باہنر ہم پانچ افراد پر مشتمل تھي۔
آقاي ہاشمي رفسنجاني کہتے ہيں :

جس وقت امام پيرس ميں تھے اس وقت انہوں نے پانچ چھ آدميوں کو معين کيا تھا کہ مل کر آئندہ کي حکومت کا نظم و نسق سنبھاليں ان ميں سے ايک ميں تھا ، آقاي مطہري تھے جو يہ پيغام لائے ، شہيد بہشتي ، آقاي موسوي اردبيلي ، آقاي باہنر اور بعد ميں آيۃاللہ خامنہ اي جو اس وقت مشہد ميں تھے ہم سے ملحق ہوگئے ۔

آيۃاللہ خامنہ اي اس سلسلہ ميں فرماتے ہيں :

ميں شہر مشہد کے امور ميں سرگرم تھا مشہد ميں جو برادران موجود تھے وہ اور ہم سب ان عظيم عمومي حوادث ميں شريک تھے اور جدو جہد ميں مشغول تھے ۔

مرحوم شہيد مطہري نے کئي بار بلا واسطہ يا با لواسطہ طور پر ٹيليفون کے ذريعہ مجھے اطلاع دي کے ميں تہران جاوں ميں يہ سوچتا تھا کہ اپنے معمولي کاموں کے لئے جيسے علمي آئيڈيالوجيکل یا سياسي امور کے لئے جنہيں ہم مل کر انجام ديتے تھے مجھے تہران جانے کے لئے کہہ رہے ہيں ميرے وہم و گمان ميں بھي نہيں تھا کہ شورائے انقلاب کے لئے بلا رہے ہيں ۔ چنانچہ ميں بھي يہ کہہ ديتا تھا کہ آوں گا ليکن چونکہ مشہد ميں کام بہت زيادہ تھا اور ميرے کاندھوں پر بہت بھاري ذمہ داري تھي لہٰذاجانے ميں بار بار تاخير ہوتي تھي يہاں تک کہ پيرس سے پيغام ملا کہ امام خمینی  نے حکم ديا ہے کہ ميں تہران جاوں ميں نے احساس کيا مسئلہ اہم ہے جس کے لئے مجھے تہران جانا چاہيئے خاص کر آقاي مطہري نے ٹيليفون پر غصّہ کي حالت ميں پيغام ديا کہ ميں کيوں تہران نہيں جا رہا ہوں اور کس کا منتظر ہوں ؟
تہران ميں مجھ سے کہا گیا کہ ايک ميٹنگ ميں شرکت کروں جو شہيد مطہري کے گھر ميں تھي ۔ اس ميٹنگ ميں شورائے انقلاب کے اعضائ جمع تھے ۔ وہاں مجھے پتہ چلا کہ ميں شورائے انقلاب کا رکن ہوں اس پہلے مجھے معلوم نہيں تھا ۔
البتہ شورائے انقلاب نے وقتي مصلحت کے تحت کچھ دوسرے لوگوں کو بھي قبول کيا جن کي سياسي لائن الگ تھي اور رفتہ رفتہ ان کے چہرے بے نقاب ہوگئے ليکن وہ گروہ جو انقلاب کا ستون اور اس کي بنيادتھا اور اصول ، حدود اور معيارات کا نگہبان تھا اس ميں زيادہ تر يہي برادران تھے ۔

انھوں نے انقلاب اور امت اسلامي کے مصالح کي خاطرآزادي خواہوں اور بني صدر جيسے مہروں کي طرف سے تمام سختيوں کو برداشت کيا اور اپني سعي و تلاش کے ذريعہ تمام امور کو انجام ديا البتہ جہاں ضرورت محسوس کرتے تھے ان افراد کا مقابلہ بھي کرتے تھے ۔

امام خمینی  کے لئے استقباليہ کميٹي

٥٦-٥٧ کے تمام مظاہرے کے اصلي افراد وہ تھے جو شہيد مظلوم آيۃ اللہ بہشتي ، شہيد آيۃ اللہ مطہري ،و شہيد باہنر اور ان کے دوستوں کي نگراني ميں کام کر رہے تھے ۔بڑے بڑے شہروں ميں اس کے اصلي محرک شہيد آيۃ اللہ صدوقي ، شہيد آيۃ اللہ دستغيب وغيرہ جيسے علمائ تھے جن کا مرکز کے ساتھ رابطہ برقرار تھا۔
خراسان ميں مجاہد علمائ کے شاخص ترين فرد آيۃ اللہ خامنہ اي تھے جن کو مظاہرہ ميں مرکزي حيثيت حاصل تھي ۔ان واقعات کا نتيجہ شاہ کے فرار اور امام خمینی  کي واپسي کي صورت ميں برامد ہوا امام خمینی  کے استقبال کے امور کي انجام دہي کے لئے امام خمینی  کے استقبال کي کميٹي بنائي گئي جس کا مرکز مدرسہ رفاہ تھا ۔جب امام خمینی  ملک ميں تشريف لے آئے تو مدرسہ رفاہ اور مدرسہ علوي ميں مختلف کميٹياں پہلے ہي وجود ميں آچکي تھيں انھوں نے نئے طريقہ کار اور مزيد محنت کے ساتھ اپنے کام کو جاري رکھا ۔آيۃ اللہ  خامنہ اي نے امام خمینی  کے دفتر ميں تبليغات کي ذمہ داري سنبھالي اور اس کام کو انھوں نے بصد شوق اور بڑي زحمت کے ساتھ بحسن و خوبي انجام ديا ۔

ان دنوں ميں ہر جگہ سے مبلغين کي ڈيمانڈ تھي اور ہر جگہ تبليغي اور رفاہ عامہ کے امور کي انجام دہي کي ضرورت تھي ۔ اس کے ساتھ ساتھ امام خمینی  کے ساتھ ملاقات کرنے والوں کي پذيرائي ، اوقات ملاقات کي تنظيم ، خبريں تیار کرنا اور انھيں مختلف ذرائع ابلاغ ميں چھپوانا ، اخباري سازشوں ، نئے رنگ ميں آنے والے قدیمي استکبار اور قوميت پرست عناصر کا مقابلہ کرنا خاص کر ان چھوٹے موٹے گروہوں کا مقابلہ کرنا جو يہ چاہتے تھے کہ موقع سے فائدہ اٹھا تے ہوئے ثمر انقلاب کو خود سميٹ ليں اور اپنے آپ کو ملت پر تحميل کرديں ۔
ان ہيجان انگيز ايّام کے واقعات کو " جن ميں ہر لحظہ ايک نئي خبر تھي ايک نيا واقعہ جنم لے رہا تھا اور ہماري ملت پچيس سو سالہ شہنشاہي جلادوں اور خود پرستوں کے ظلم و ستم کي بنيادوں کو اکھاڑ رہي تھي " جداگانہ طور پر لکھنا چاہيئے ليکن ان ميں ايک واقعہ جو اہم ترين تھا اور بہادر موقع شناس اور فدا کار عالم آيۃ اللہ  خامنہ اي کي ہمت اور مسلسل جدوجہد سے وہ سازش بہترين طريقے سے ناکامي سے دوچار ہوئي۔ اس کو ان کي قدر شناسي کے طور پر يہاں ذکر کيا جا رہا ہے ۔

کميو نسٹوں کي سازش

نظام شہنشاہي کے آخري ايام ميں کميونسٹوں کو فکر لاحق ہوئي کے فرصت سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے عناصر کو منظم کريں اور انقلاب اسلامي کو عوامي جمہوري انقلاب ميں تبديل کرديں ۔اسي مقصد کے تحت انھوں نے اس کام کے لئے بہترين جگہ يعني کرج کے راستہ ميں جنرل موٹرز کے کارخانے کا انتخاب کيا اس لئے کے وہ جگہ تہران سے دور بھي تھي کہ جو متدين و مسلمان عوام کے قيام کا مرکز تھا کہ کميونسٹوں اور دوسرے ضد انقلاب افراد کو مذہبي عوام کي نگاہوں سے دور جمع کرکے اپنے خيال خام ميں تہران پر ايک حملہ کريں گے اور حساس جگہوں پر قبضہ کرکے کميونسٹ حکومت بنا ليں گے البتہ يہ منصوبہ ہرگز کامياب نہيں ہو سکتا تھا ۔ ليکن ١٩ سے ٢٢ بہمن تک کے حساس دنوں ميں ممکن تھا کہ زوال پذير حکومت کي بہترين مدد کر سکے اور لوگوں کي کاميابي کو تاخير ميں ڈال دے اور استکبار کو فرصت مل جائے تاکہ وہ نئے منصوبے بنا سکے ۔
انہوں نے تقريباً پانچ سو اسکولوں ، کاريگروں ، اور مختلف مشاغل ميں مصروف ميونسٹي افکار کے حامل افراد کو کار خانہ ميں بھيجا اور اپني تحريک آميز تقريروں کے ذريعہ مزدوروں کو بھي اپنے گرد جمع کرليا اخباروں ميں اشتہار ديئے اور تمام ڈيمو کريٹک اور جمہوري افراد کو دعوت دي کہ وہ عوامي انقلاب کي اس حرکت اور اس اجتماع سے ملحق ہو جائيں ۔يہ خبر جب امام خمینی  کے تبليغات کے دفتر ميں پہنچي تو چند علمائ اور اسمبلي کے شہدا ميں سے شہيد ديالمہ کو وہاں بھيجا ليکن ان سے کچھ نہيں بن پڑا ۔ آيۃ  اللہ  خامنہ اي بھي دوبارہ وہاں تشريف لے گئے دوسري بار اپني گاڑي سے جس کو خود چلا رہے تھے دوپہر کا کھا نا کھائے بغير چل پڑے راستہ ميں روٹي اور پنير ليا اور گاڑي چلاتے ہوئے کھاتے چلے گئے اور کارخانہ ميں پہنيچ کر تقرير کي اور واپس چلے آئے ليکن بيس بہمن کے روز يہ مسئلہ خطرناک صورت اختيار کر گيا ۔ پانچ سو کميونسٹوں کے ہمراہ اس کارخانہ کے آٹھ سو مزدور ايک بھاري تعداد تھي جو مکمل طور پر مسلح ہو رہے تھے۔ ڈر يہ تھا کہ يہ لوگ مسلح ہوجائيں اور حکومت سے جنگ کہ آخري مرحلہ ميں داخلي جنگ نہ چھيڑ ديں اور يہ خيانت کميونسٹوں سے بعيد نہيں تھي اسي وجہ سے "شہيد ديالمہ"امام خمینی  کے دفتر تبليغات ميں آئے اور پريشان ہو کر کہنے لگے حالت خطرناک ہے اس کے لئے چارہ جوئي کي جانا چاہيئے اور ايسا شخص وہاں جائے جو اس مہم کو سر کر سکے ۔آيۃ  اللہ  خامنہ اي نے بذا ت خود اس کام کي ذمہ داري سنبھالي اور تيزي کے ساتھ کارخانہ پہنچ گئے مدرسہ رفاہ سے ان کي حمايت کے لئے حزب  اللہ  کا ايک گروہ بھي روانہ ہوا۔ آيۃ  اللہ  خامنہ اي عصر کے وقت جب کارخانہ ميں پہنچے تو بڑي زحمت و جرآت کے ساتھ اسٹيج پر پہنچے اور تقرير شروع کردي اور سوالات کے جواب ديئے ۔سوالات کے جواب کے دوران کميونسٹوں کي زبر دست مذمت کي۔ کميونسٹوں نے اس مخمصے سے نجات حاصل کرنے کے لئے کميونسٹي نغمے پڑھے اور شور کرنا شروع کرديا ليکن آيۃ  اللہ  خامنہ اي نے اسٹيج کو نہيں چھوڑا اور اپني تقرير جاري رکھي ۔ مغرب کے قريب آپ نے اذان اور نماز باجماعت کا اعلان کيا ۔

کميونسٹوں نے ديکھا کہ حالات ان کے قابو سے باہر ہو رہے ہيں لہٰذا انہوں نے بجلي بجھادي کہ مزدور آپ کي تقرير نہ سن سکيں اور حقائق سے آگاہ نہ ہوں ۔ تاريکي ميں آيۃ  اللہ  خامنہ اي نے مائک کو اپنے ايک دوست کے حوالے کيا اور با آواز بلند چلّانے لگے کہ آپ حضرات پريشان نہ ہوں ميري باتيں سنيں ۔ اس کے بعد ايک ميز سے دوسري ميز پر جاتے نعرے لگاتے، تقرير کرتے اور مزدوروں کے جوش و خروش اور آگاہي ميں اضافہ کرتے جاتے تھے ۔ آپ نے فرمایا : ہم ہر حالت ميں نماز کو جماعت سے ادا کريں گے ، کميونسٹوں نے جھگڑنا شروع کر ديا ۔ مزدور کے لباس ميں ايک اسٹوڈنٹ نے سوال پوچھا ۔ آپ نے جواب ديا اپنا کارڈ دکھاو وہ نہيں دکھا سکا چنانچہ اس کا راز فاش ہو گیا اسي طرح آپ نے کئي افراد کو بے نقاب کيا اس کے بعد آپ نے سوچا کہ اب وقت آگیا ہے کہ مزدوروں کو جو مسلمان اور مذہبي عقيدہ رکھتے ہيں کميو نسٹوں سے الگ کيا جائے اور اس کا بہترين راستہ نمازجماعت ہے ۔

لہٰذا آپ نے اعلان کيا کہ جو شخص مسلمان اور نمازي ہے وہ کارخانہ کے صحن ميں نماز جماعت ميں شرکت کرے آخرکار تقريباً ساڑھے آٹھ بجے شب نماز مغرب کے دو گھنٹے بعد کارخانہ کے صحن ميں آيۃ  اللہ  خامنہ اي کي امامت ميں نماز جماعت ہوئي ۔ تمام مزدور نماز جماعت ميں شريک ہوئے جبکہ کميونسٹ ہال ميں رکے رہے آپ کي دلنشين اور سريلي آواز نے مزدوروں کو منقلب کرديا اور نماز کے بعد دعا نے نقشہ ہي بدل کر رکھ ديا ۔اس فرصت سے استفادہ کرتے ہوئے آپ نے کاريگروں کو مسجد ميں جمع کيا وہ لوگ کارخانہ کي مسجد ميں آئے اور وہاں مدرسہ رفاہ سے جو حزب اللہي آئے تھے ان کے ساتھ مل گئے اور ايک بہت بڑا اجتماع ہو گیا ۔ يہ لوگ آيۃ  اللہ  خامنہ اي کي ہدايت اور رہنمائي ميں کميونسٹوں پر ٹوٹ پڑے اور دوسرے دن خود کاريگروں نے کميونسٹوں کو جوتے مار کر نکال باہر کيا جس سے ايک بڑي سازش کہ جس کي وجہ سے آغاز انقلاب ميں ہي ايک داخلي جنگ چھڑنے والي تھي جس سے حکومت شاہ کو سانس لينے کي فرصت مل جاتي آيۃ  اللہ  خامنہ اي کي درايت و فراست سے ناکام ہو گئي ۔قابل ذکر بات يہ ہے کہ اس رات آيۃ  اللہ  خامنہ اي نے پورے سات گھنٹے کھڑے ہوکر تقرير کي اور صبح تک جدوجہد ميں مشغول رہے تب جاکر اس خطرہ کو رفع کرنے ميں کامياب ہوئے۔
سيستان و بلوچستان کي مآ موريت

فروردين ١٣٥٨ ھ ميں امام خمینی  کي طرف سے آپ کو سيستان و بلوچستان کے حالات اور ضرورتيں معلوم کرنے کا حکم ملا اس استان کے ستم رسيدہ اور محروم عوام کي آپ نے بہت خدمت کي ۔

وزارت دفاع ميں شورائے انقلاب کي نمایندگي

١٣٥٨ ھ ش ، ميں وزارت دفاع ميں شورائے انقلاب اسلامي کے نمائندہ منتخب ہوئے اس کے بعد آپ نے وزير دفاع کي معاونت کي ذمہ داري کو بھي قبول کيا ۔ ان مسؤليتوں ميں آپ نے بڑي خدمتيں انجام دي ہيں جن ميں سے ايک ان ہي کي زباني سنتے ہيں : عبوري حکومت اس نتيجہ پر پہنچي تھي کہ امريکہ ايک ثروتمند اورطاقت ور حکومت ہے اور ہم سے کوئي سروکار نہيں رکھتي کوئي وجہ نہيں ہے کہ ہم اس سے جنگ کريں اور اپنے لئے درد سر مول ليں ۔ عبوري حکومت اس طرز فکر سے کچھ نتائج حاصل کرنا چاہتي تھي ا ن ميں ايک نتيجہ يہ تھا کہ امريکيوں کو ايران کے اندر رہنے ديا جائے ۔ کچھ امريکي ايک عرصہ تک ہماري ہوائي فورس ميں موجود رہے مگر ہميں ان کي اطلاع نہيں مل سکي۔
بعد ميں شورائے عالي دفاع ميں کہ ميں اس وقت اس کا رکن تھا اور مہدي بازرگان اس شوريٰ کا رئيس تھا ايک مسئلہ جو زير غور آیا وہ يہ تھا کہ امريکيوں نے پيشکش کي تھي کہ جو امريکي ہوائي فورس ميں موجود ہيں وہ کہتے ہيں کہ ہم يہاں موجود ہيں ليکن ہمارے دفتر کا نام اب مہارت نظامي نہيں ہے اور اب ہم فوجي انجینئر نہيں ہيں لہٰذا ان کے دفتر کے لئے کوئي اور نام منتخب کيا جائے جس کے لئے انہوں نے چار نام دئيے۔آيۃ  اللہ  خامنہ اي اس سے سخت برہم ہوئے اور ان کي سخت مخالفت کي وجہ سے عبوري حکومت تغيير عنوان کے بہانے امريکيوں کے ايران ميں رک جانے کے پروگرام کو عملي جامہ نہيں پہناسکي ۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامي کي سرپرستي

١٣٥٨ ھ ش ، ميں سپاہ پاسداران ميں کچھ اختلافات رونما ہو گئے کچھ لوگوں نے صلح صفائي کراني چاہي مگر کامياب نہ ہو سکے تب آيۃ اللہ  خامنہ اي نے سپاہ پاسداران کي سرپرستي قبول کي اور ان کے اختلافات دور کئے ۔
يونيورسٹي طلبہ کے امور کي ديکھ بھال

حضرت آيۃ اللہ  خامنہ اي ہميشہ نسل جوان اور اسکولوں کي توجہ کا محور رہے ہيں اور امام خمینی  کے تمايل کي بنا پر اسکول ان کي طرف رجوع کرکے اپنے مسائل ان سے معلوم کيا کرتے تھے۔

تہران کي امامت جمعہ

١٣٥٩ ھ ش ، ميں آيۃ اللہ  طالقاني کي وفات کے بعد امام امت نے ايک حکم کے ذريعہ آيۃ اللہ  خامنہ اي کو تہران کي امامت جمعہ کے لئے منصوب فرمایا۔اپنے اس فرمان کے ايک حصہ ميں امام خمینی  نے فرمایا "جنابعالي حسن سابقہ اور علم و عمل کي بنا پر تہران کي امامت جمعہ کے لئے شائستہ اورقابل قدر ہيں خداوند متعال سے لوگوں کي ہدایت و رہنمائي کے لئے آپ کي توفيق کا طالب ہوں ۔"
مجلس شورائے اسلامي کي نمائندگي

مجلس شورائے اسلامي کے پہلے دور کے لئے جب انتخابات شروع ہوئے تو روحانيت مبارز تہران ، حزب جمہوري اسلامي ، سازمان مجاہدين انقلاب اسلامي اور ديگر انجمنوں ، تنظيموں اور جماعتوں پر مبني اتحاد نے متفقہ طور پر تہران سے آيۃ اللہ  خامنہ اي کو نامزد کيا۔ چنانچہ چودہ لاکھ ووٹوں کي بھاري اکثريت سے آپ پارليمنٹ کے پہلے دور ميں منتخب ہوگئے ۔١٣٥٩ ميں انقلاب اسلامي پر بعثي عراقيوں کے حملہ کے آغاز کے بعد امام خمینی  کي طرف سے شورائے عالي دفاع ميں آپ کے مشاور منتخب ہوکر جنگ کے محاذوں پر پہنچ گئے اور بني صدراورمنافقين کي ريشہ دوانيوں کے باوجود آپ نے عوامي دفاع کے مورچہ کو مضبوط بنایا۔ شہيد چمران کے ساتھ مل کر منظم جنگوں کي کميٹي تشکيل دي چنانچہ بعثي عراقيوں کے مقابلے ميں جنگ کے ابتدائي دنوں ميں اسي کميٹي کے افرادمنظم ، تربيت یافتہ اور کارآمد ثابت ہوئے۔

٦ تِير ١٣٦٠ ھ يعني ہفتم تيرکے عظيم حادثہ سے ايک روز قبل اس حالت ميں کہ آپ خانہ خدا مسجد ابوذرميں تقرير کر رہے تھے کے منافقين کے مجرمانہ حملہ کا نشانہ بن کر شديد زخمي ہو گئے اور ہسپتال منتقل ہوگئے ليکن خداوند متعال نے آ پ کے وجود بابرکت کو ايران کي ملت مسلمہ کي خدمت کے لئے بچاليا لہٰذا آپ جلدي صحت یاب ہوجانے کے بعد پہلي طرح پرجوش وبانشاط ہوکر مختلف محاذوں پر انجام مسؤليت ميں مصروف ہو گئے ۔اس مجرمانہ حملہ کے بعد حضرت امام خمینی  قدس سرہ ‘نے آپ کے نام اپنے پيغام ميں فرمایا " دشمنان انقلاب اسلامي نے آپ پر کہ جو ذريت رسول اکرم ۰ اور خاندان حسين ٴ بن علي ٴ سے تعلق رکھتے ہيں اور آپ کا جرم صرف اسلام اور اسلامي ملک کي خدمت ہے۔"محاذ جنگ پر آپ ايک جانثار سپاہي، محراب مسجد ميں درس آموز معلم ، جمعہ و جماعات کے خطيب توانا اور ميدان انقلاب کے دلسوز رہنما ہيں مجرمانہ حملہ کے ذريعہ اپنے سياسي طرز فکر ، عوام کي طرف داري اور ستمگروں کي مخالفت کي حد کو ثابت کر ديا ہے انہوں نے آپ پر مجرمانہ حملہ کرکے پورے ملک بلکہ پوري دنیا کے کروڑوں متدين انسانوں کے جذبات کو مجروح کيا ہے۔ يہ لوگ سياسي بينش سے اس قدر بے بہرہ ہيں کہ مجلس و جمعہ ميں اور عوام کے سامنے آپ کي تقرير کے فورا ً بعد آپ پريہ ظلم ڈھایااور ايسي ذات پر مجرمانہ حملہ کيا کہ نيکي اور بھلائي کي طرف جس کي پکار کي آواز دنيا بھر کے مسلمانوں کے کانوں ميں گونج رہي ہے انھوں نے اپنے اس عمل سے لوگوں کو بھڑکانے اور مرغوب کرنے کے بجائے لاکھوں مسلمانوں کے عزم و حوصلہ کو بلند اور ان کي صفوں کو مضبوط سے مضبوط تر کرديا ہے ۔ ایا ان وحشيانہ اور بچکانہ جرائم کے بعدبھي وہ وقت نہيں آیا ہے کہ ہمارے جوانان عزيز جن کو دھوکہ ميں رکھا گیا ہے ان کے دام خيانت سے نجات حاصل کريں اور ان جوانوں کے ماں باپ اپنے آپ کو ظالمانہ آرزووں پر قربان نہ کريں اور جوانوں کو ان کے مظالم ميں شريک ہونے سے باز رکھيں ۔ آيا وہ نہيں جانتے کہ ایسے مظالم ميں ہاتھ بٹانا ان کے جوانوں کو تباہي کي طرف لے جارہا ہے اور چند خود خواہ تخريب کاروں کي وجہ سے ان کي جانيں ضائع ہو رہي ہيں ؟ ہم خداوند متعال کي بارگاہ اور اس کے ولي برحق حضرت بقيۃ اللہ  ارواحنافداہ کے حضور محا ذ جنگ پر اور محاذ جنگ کے پيچھے موجود ان سپاہيوں پر فخر کرتے ہيں کہ جن کي راتيں محراب عبادت ميں اور دن راہ خداميں جہاد کرتے ہوئے بسر ہوتے ہيں ۔
اے خامنہ اي عزيز ! ميں آپ کو مبارک باد ديتا ہوں کہ جس نے محاذ جنگ پر فوجي لباس ميں اور محاذ جنگ کے پيچھے عالم دين کے لباس ميں اس مظلوم ملت کي خدمت کي ہے اور خداوند متعال سے اسلام و مسلمين کي خدمت جاري رکھنے کي خاطر آپ کي صحت و سلامتي کا طالب ہوں ۔آيۃ اللہ  بہشتي نے اپني شہادت سے کچھ گھنٹے پہلے آپ کے نام ايک ٹيلي گرام ميں فرمايا :
انقلاب و اسلام اور اسلامي ملک کے دشمنوں کي طرف سے برادر عزيز پر ناکام مجرمانہ حملہ نے ايک بار پھر يہ ثابت کر ديا کہ اسلام و ملت کے يہ قسم خوردہ دشمن اپنے ناپاک عزائم کي خاطر کسي بھي جرم و جنايت سے گريز نہيں کرتے يہ وحشيانہ کوشش بپھري ہوئي ملت کے ان خود فروش فراد کي نسبت غيض و غضب کو دوچند کردے گي اور ان کو معاشرہ سے بالکل کاٹ کر رکھ دے گي۔ خدا وند متعال سے دعا ہے کہ برادر عزيز و مجاہد کو جلد سے جلد دوبارہ صحت و سلامتي عطا فرمائے تاکہ و ہ اسلامي مورچہ ميں اپنے جہاد کو پہلے کي مانند جاري رکھ سکيں۔
عہدہ صدارت

شہيد رجائي اور شہيد باہنر کي شہادت کے بعد علمائ اور دوسري انقلابي جماعتوں نے آپ کو صدارت کے لئے نامزد کيا۔ صدارت کے اس انتخاب ميں بھاري اور بینظير اکثريت سے جمہوري اسلامي ايران کے تيسرے صدر کي حيثيت سے منتخب ہو گئے ۔
آپ کي صدارت کا دوراس وقت شروع ہوا جب ملک کو مختلف مشکلات کا سامنا تھا ٧٢ افراد کي شہادت ، وزير اعظم کي رہائش گاہ پر دھماکہ ميں رجائي اور باہنر کي شہادت ، زندان قزوين ميں شہيد کچوئي کي شہادت اور جابجا دھماکے اور قتل و غارت اور ان کے نتيجہ ميں پيدا ہونے والے حالات ، بني صدر کے دور صدارت کے برے اثرات ، ملک کے کچھ حصے کے کافر صداميوں کے قبضہ ميں چلے جانے سے پيدا شدہ مشکلات اور اقتصادي بائيکاٹ ان سب چيزوں نے مل کر ملک کي صورت حال کو خطرناک بنادیاتھا ۔بحمد اللہ  امام امت کي رہبري اور حکام نے جو زحمتيں اٹھائيں جن ميں سر فہرست صدر تھے اور ملت کي ہمت و فداکاري سے آٹھ سال کے بعد آج ہمارا ملک ايک بين الاقوامي طاقت ہے اس نے کافي حد تک ثبات حاصل کر ليا ہے دشمنان خدا اور مخالفين انقلاب ذليل و رسوا ہو گئے ہيں اور ان کي رسوائي کي حد يہ ہے کہ جنسي بے رہروي کا شکار اور صداميوں اور امريکيوں سے مل گئے ہيں اور مستکبروں نے بھي ان سے اميديں قطع کر لي ہيں ۔
تاريخي نماز جمعہ

دشمن شکن نماز جمعہ ميں امام جمعہ تہران کے گرانقدر بيانات، اسلامي معارف ، سياسي تحليلات اور ہدايت کا گرانقدر مجموعہ ہيں ۔آپ کي تاريخي نماز جمعہ آپ کي عظيم و پرشکوہ قرباني ہرگز فراموش نہيں کي جائے گي جب نماز گذاروں کي صفوں ميں بم کے دھماکہ کي وجہ سے کئي افراد شہيد اور دسيوں زخمي ہوگئے اور دھماکے نے نماز جمعہ کے مقام کو لرزا کر رکھ ديا تھا اور فضا ميں دشمن کے ہوائي جہاز بمباري کي دھمکي دے رہے تھے اور اسي روز صبح کے وقت تہران پر بمباري ہو چکي تھي اور انٹي ائر کرافٹ توپوں کي آوازوں سے کان پھٹے جارہے تھے ليکن امام جمعہ کي معنوي طاقت اطمينان قلب اور تائيدات الٰہي کے سائے ميں نمازگذار اپني اپني جگہ ثابت قدم رہے۔

صفيں بدستور منظم رہيں اور امام جمعہ نے اپني پوري طاقت سے خطبہ جاري رکھا اور اس کے بعد نہايت اطمينان اور خاص توجہ کہ ساتھ نماز پڑھائي اور دوست و دشمن کو تعجب کرنے پر مجبور کر ديا۔ امام امت نے بھي نئے سال کے پيغام ميں اس طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :

ميں روز جمعہ کے اس قصہ کو نہيں بھول سکتا جو پورے شکوہ ، نورانيت اور استقامت کے ساتھ گذرا ، اطمينان ميں ڈوبي ہوئي آوازيں تھيں جبکہ اوپر سے بمباري ہو رہي تھي ميں ملاحظہ کر رہا تھا ، ميں ديکھ رہا تھا ، خاص کر ميں يہ ديکھنا چاہتا تھا کہ لوگوں کي کيا حالت ہے ميں نے ايک شخص بھي ايسا نہيں ديکھا جو متزلزل ہوا ہو اور ايسے ميں امام جمعہ اس پر قدرت آواز ميں خطبہ دے رہے تھے ، لوگ سن رہے تھے اور چلا چلا کر کہہ رہے تھے کہ ہم شہيد ہونے کے لئے آئے ہيں ۔ يہ سب اشارہ تھا اس عالم جليل القدر ، فقيہ ،مجاہد في سبيل  اللہ  حضرت آيۃ  اللہ  العظمي آقاي الحاج سيد علي خامنہ اي ۔ رہبر انقلاب اسلامي ايران اور تشيع کے مرجع عالي قدر کے حالات زندگي کي طرف کہ امام امت جس کو خوب پہچانتے تھے اور اسے پالا پوسا تھا ، جن کا تعلق ذريت رسول۰ اور خاندان حسين ٴ بن علي ٴ سے ہے ۔ جو انسان صالح ، متفکر اور دانشمنداور ذي فہم ہيں ۔
اسلام کے صراط مستقيم کے مجاہد اور پابند اور عالم دين و سياست اور حسن سابقہ متصف اور علم و عمل ميں لائق اور ملک و اسلام کے خدمت گذار اور محاذ جنگ پر سرفروش سپاہي محراب ميں سبق آموز معلم اور جمعہ و جماعت کے خطيب توانا اور ميدان انقلاب ميں دلسوز رہنما ہيں ۔

آيۃ اللہ  خامنہ اي کے رہبري کي اہلیت کے سلسلے ميں امام خمینی  کي تاکيد :
حجۃالا اسلام ولمسلمين ہاشمي رفسنجاني نقل کرتے ہيں کہ : ايک ميٹنگ ميں جس ميں تينوں طاقتوں کے سربراہ وزيراعظم اور الحاج احمد خميني کي موجودگي ميں امام خمینی  کے سامنے بحث ہوئي ۔ امام خمینی  قدس سرہ‘ کي خدمت ميں ہماري عرض يہ تھي کہ ہميں بعد ميں قانوني مشکل پيش آئے گي اس لئے کہ رہبري کا مسئلہ ممکن ہے کہ پيش آئے ۔ امام خمینی  قدس سرہ‘ نے فرمايا : رہبري کا خلا پيش نہيں آئے گا ، آپ کے پاس آدمي موجود ہے ، عرض کي گئي کون شخص ہے ؟ تو امام خمینی  نے آيۃ اللہ  خامنہ اي کي موجودگي ميں فرمايا : "يہ آقائے خامنہ اي ہيں "۔

ايک دن خصوصي طور پر ميں امام خمینی  کي خدمت ميں حاضر ہوا ۔ چونکہ ميں قدرے بے جھجھک تھا اور مسائل کو کھل کر بيان کرتا تھا ، چنانچہ قائم مقام رہبري اور اس سلسلے ميں جو مشکلات پيدا ہو رہي ہيں ان کے بارے ميں گفتگو کي ۔ تب بھي آپ نے صراحت کے ساتھ فرمایا : "آپ کو کوئي مشکل پيش نہيں آئے گي آيۃ اللہ  خامنہ اي جيسي شخصيت آپ کے درميان موجود ہے آپ خود کيوں نہيں جانتے "۔آقائے احمد خميني نے نقل کيا ہے کہ آيۃ اللہ  خامنہ اي جب شمالي کوريا کے سفر پر تھے ، امام خمینی  اس سفر کي رپورٹ کو ٹيليويژن پر ديکھا کرتے تھے ، لوگوں کي طرف سے آپ کا استقبال ، آپ کي تقريريں اور مذاکرات ، سب کچھ امام خمینی  کے لئے دلچسپ تھا ۔ چنانچہ آپ نے فرمایا :"حق يہ ہے کہ يہ رہبري کے لائق ہيں "۔مجموعي طور پر ايسا معلوم ہوتا ہے کہ امام خمینی  قدس سرہ ‘کا يہ کلام ، جس ميں آپ نے آيۃ اللہ  خامنہ اي کو مخاطب قرار دے ديا ہے ، "کہ جب بھي آپ کسي سفر پر جاتے ہيں تو آپ کہ واپس آنے تک ميں مضطرب رہتا ہوں ، آپ زيادہ سفر نہ کيا کيجئے "خدا کي طرف سے الہام تھا ۔
زعامت
امام خمینی  قدس سرہ ‘ کے ارتحال کے بعد، آپ کے ارشادات سے الہام ليتے ہوئے ، اور اہل خبرہ کي درايت و ہوشياري کي بنا پر ، آيۃ اللہ  خامنہ اي کے دل سے مائل نہ ہونے کے باوجود، آپ کو انقلاب اسلامي ايران کي رہبري کے لئے منتخب کرليا گیا ۔ اس سلسلے ميں مجلس خبرگان کے مذاکرات کے دوران اور اس کے بعد ، حضرت آيۃ اللہ  خامنہ اي کي علمي و عملي شخصيت کے مختلف العباد کے بارے ميں بہت سے ناگفتہ حقائق ، حضرت امام خمینی  قدس سرہ‘ کے دوستوں ، ساتھيوں اور اہل خبرہ لوگوں کي زبانوں پر جاري ہوئے ۔ اس مختصر کتاب ميں ان ميں سے کچھ اظہارات کي طرف ہم اشارہ کرتے ہيں ۔

حضرت آيت  اللہ  الحاج شيخ علي مشکيني

بسم  اللہ  الرحمن الرحيم

الحَمدللہ والصلاۃ و السلام علے رسولہ و آلہ

وضا حت کرديں کہ حضرت مستطاب حضرت آيۃ اللہ  العظميٰ خامنہ اي مدظلّہ العالے فقاہت و اجتہاد اور احکام شرعيہ ميں قدرت استنباط کے مالک ہيں کہ مقام معظم رہبري کو سنبھالنے کے لئے جس کي ضرورت ہے ، نيز معظم لہ ميں ولايت امت اور مسلم معاشرے کي رہبري کے تمام شرائط بدرجہ اتم پائے جاتے ۔ اس چيز کو رہبري کے سلسلے ميں اہل خبرہ حضرات نے ، ازروئے درايت اپني معلومات اور امام خمینی  قدس سرہ‘ کي مختلف مواقع پر تائيدات اور بيانات کي روشني ميں تصويب کيا ہے اور اس کي تائيد کي ہے ، لہٰذا تمام شيعہ و سنّي مسلمانوں ، اور خاص کر روحانيت محترم اور علمائے فريقين "ايدہم  اللہ "اور تمام وہ حضرات جو انقلاب اسلامي ايران کے دوام اور پوري دنيا ميں اسکے نفوذ اور پھيلاو کے خواہاں ہيں اور "اقيمو الدين ولا تتفرقوا"پر عمل کرنا چاہتے ہيں اور "ليظھرہ علے الدين کلم" کے تحقق کے طلب گار ہيں ان پر شرعي و عقلي اعتبار سے واجب موکدّ ہے کہ "معظم لہ" کو فقيہ اور ولي امر مسلمين کے طور پر پہچانیں اور قبول کريں ۔ جملہ قرآن کريم کے ماننے والوںاور قبلہ کي طرف نماز پڑھنے والوں کے لئے، حضرت حق جل و علائ کي طرف سے توفيق کا طالب ہوں ۔ والسلام علينا وعلے عباد اللہ  الصالحين علي مشکيني ۔ ١٤١١٤١١ ۔ ١٥٥١٣٦٩

حضرت آيت  اللہ  شيخ محمد فاضل لنکراني

بسمہ تعاليٰ

مقام معظم رہبري حضرت آيۃ  اللہ  خامنہ اي دامت برکاتہ‘ کے بارے ميں معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے بلند و بالا علمي مرتبے اور آپ کے اجتہاد اور فقاہت ميں کسي قسم کے شک کي گنجائش نہيں ۔ آپ کے ساتھ اپنے ديرينہ آشنائي اور آپ کے علمي مراتب سے آگاہي کي بنا پر ، مجھے آپ کے مجتہد مطلق ہونے کا يقين ہے۔ علاوہ ازين، امام خمینی  قدس سرہ الشريف کي طرف سے متعدد مواقع پر رہبري کے لئے آپ کي شائستگي اور صلاحيت کي طرف اشارہ بلکہ صراحت ، آپ کے مجتہد ہونے کي بہترين دليل ہے ۔

قم۔حوزہ علميہ ، محمد فاضِل

٧ محرم الحرام ١٤١١ ھ ق

حضرت آيت  اللہ  الحاج شيخ يوسف صانعي


بسمہ تعاليٰ

حضرت آيۃ  اللہ  خامنہ اي کا اجتہاد ، ثبوتاً و اثباتاً کسي کي رائے اور نظر کا محتاج نہيں ۔ آپ نہ تنہا مجتہد ہيں بلکہ فقيہ جامع الشرائط اور واجب الاتباع ہيں ، اميد ہے کہ آپ کا سايہ مسلمانوں کے سروں پر باقي رہے ۔
يوسف صانعي

٤ صفر ١٤١١ ھ ق

حضرت آيت  اللہ  الحاج شيخ عبد اللہ  جوادي آملي

بسمہ تعاليٰ شانہ العزيز

آيۃ  اللہ جناب آقائے الحاج سيد علي خامنہ اي دامت برکاتہ‘ کے اجتہاد و عدالت کي ہم تائيد کرتے ہيں ۔ لازم ہے کہ امت اسلامي "ايدہم  اللہ "معظم لہ کي رہبري کي تقويت کے سلسلے ميں ، بذلِ جان اور مال اور کسي طرح کے ايثار و قرباني سے دريغ نہ کرے، تاکہ کلمہ الہٰي سربلند ہو۔

السلام علے من اتبع الھديٰ

جواد آملي

٣٠ ذي الحجہ الحرام ١٤١٠ ھ ق

حضرت آيت  اللہ  الحاج شيخ محمد مومن

بسمہ تعاليٰ

مجلس خبرگان ميں رہبري کے لئے رائے گیري کے موقع پر ، حضرت آيۃ  اللہ  خامنہ اي دامت برکاتہ‘ کا اجتہاد ميرے نزديک شرعي گواہي کے ذريعہ ثابت ہو چکا تھا ۔ ليکن بعد ميں ان کے فقہي مباحث ميں شرکت کرنے سے مجھے بذات خود ان کے مجتہد ہونے کا علم ہوگیا۔ اور اب ميں گواہي ديتا ہوں کہ آپ مجتہد جامع الشرائط اور عادل ہيں ۔

محمد مومن

١٢ محرم الحرام ١١ ١٤ ھ ق

حضرت آيت  اللہ  الحاج شيخ محمد يزدي

بسمہ تعاليٰ

حضرت آيۃ  اللہ  الحاج سيد علي خامنہ اي رہبر انقلاب و جمہوري اسلامي ايران "دام ظلہ الشريف" بلند مرتبہ فقيہ اور عالي رتبہ مجتہد ہيں اور استبناط ميں کا م آنے والے علوم ميں مکمل مہارت رکھتے ہيں ۔ لغت ، ادبيات ، اصول ، حديث اور تفسير کے علاوہ ، علم رجال و درايت جن کا فتوے کے مستحکم و متقن ہونے ميں بنيادي رول ہوتا ہے ، ان ميں آپ استاد اور عالم ہيں ۔ استبناط ، فروع کو اصول پر تطبيق دينے اور فتوے دينے ميں آپ کے نظریات بہت ٹھوس ہيں ، اور اسلامي معاشرے کے مبتلا بہ اور نئے مسائل ميں اطلاعات اور دقيق نظریات کے حامل ہونے کي بنا پر دلچسپ فتاويٰ رکھتے ہيں ، آپ کے يہي علمي اور اخلاقي فضائل ، فقہائے محترم اور مجلس خبرگان کے مجتہد شناس ارکان کے پاس آپ کے انتخاب کا ملاک تھے۔ خدا وند تو گواہ ہے کہ اگر وہ اس عظيم مقام و منصب پر فائز نہ ہوتے تب بھي ايک حقير طالب علم کے عنوان سے اپني محدود اطلاعات کے باوجود ميں يہي گواہي ديتا۔

محمد يزدي

٢٧ ٣ ٦٩ ١٣ ھ ش

قابل ذکر ہے کہ امام خمینی  قدس سرہ نے بارہا حضرت آيۃ  اللہ  خامنہ اي کہ اجتہاد کي تائيد و تصريح کي ہے، آپکي يادگار ، حجۃ الاسلام والمسلمين الحاج سيد احمد خميني نے حضرت آيۃ  اللہ  خامنہ اي کے نام ، آپ کے اسلامي نظام کے رہبر منتخب ہونے کے بعد فرمایا : "حضرت امام خمینی  قدس سرہ ، بارہا جناب عالي کو مجتہد مسلّم نيز ہمارے اسلامي نظام کي رہبري کے لئے بہترين فرد کے طور پریا دکيا کرتے تھے "۔
آيۃ  اللہ  الحاج سيد حسن طاہري خرم آبادي نے بھي امام خمینی  قدس سرہ کے ارتحال کے بعد اس سلسلے ميں يہ فرمايا تھا ۔ "امام خمینی  نے بارہا حضرت آيۃ  اللہ  خامنہ اي کے مجتہد ہونے کي تصديق کي اور ان تصديقات کے ذريعہ اہل خبرہ کے لئے راستہ ہموار ہو گیا۔ اسي طرح مرحوم آيۃ  اللہ  العظميٰ شيخ مرتضےٰ حائري بھي اپني زندگي ميں حضرت آيۃ  اللہ  خامنہ اي کي ہوشياري اور اجتہاد کے بارے ميں کہا کرتے تھے اور آپ کو اہل نظر سمجھتے تھے"۔

 

تيسري فصل


حضرت آيت  اللہ العظميٰ خامنہ اي

اور

مرجعيت

پہلا حصّہ

 

حضرت آيت  اللہ  العظميٰ خامنہ اي کي مرجعيت آيات عظام اور علمائے کرام کي نگاہ ميں

مرجعيت کا مسئلہ شيخ الفقہا ئ والمجتہدين بقيّۃ السلف آيۃ  اللہ  العظميٰ اراکي قدس سرہ‘ کي رحلت کے بعد علمي طبقوں اور حوزات علميہ ميں بحث و گفتگو کا سب سے اہم موضوع بن گيا ۔ اس بار بھي پہلے کي طرح علمائ اعلام اور حوزات علميہ"مرجعيت و رہبري کے اتحاد"کا موضوع اٹھانے ميں پيش پيش رہے کہ اسلامي اقتدار کے نظام اور ولايت فقيہ کو مضبوط کرنے کا تقاضا بھي يہي تھا ۔
حضرت آيۃ اللہ  العظميٰ خامنہ اي مدظلّہ العالي کي مرجعيت کا مسئلہ جس کي ضرورت صف ِ اوّل کے علمائ اور اسلامي نظام کے بلند مصالح سے آگاہ فقہائ نے ظاہر کي ، حوزات علميہ اور ايران نيز پورے عالم اسلام کے آگاہ و ہوشيار مسلمانوں کي جانب سے بڑي تيزي کے ساتھ کيا گیا اور آپکي مرجعيت کي حمايت ميں دنيا کے کونے کونے سے بيانات ، پيغامات اور خطوط کا ايک سيلاب امڈپڑا ۔
اس حصہ ميں ہم حضرت آيۃ اللہ  العظميٰ خامنہ اي مدظلّہ العالي کي مرجعيت کے سلسلے ميں بعض آيات عظام اور علمائ کرام کے تاثرات اور نظریات ذکر کريں گے جو ان حضرات نے حسب ذيل سوال کے جواب ميں تحرير فرمائے ہيں ۔ بقيہ تائيد و نظريات آئندہ پيش کئے جائيں گے ۔



طلاب حوزہ علميہ کے آيات عظام و علمائے کرام کي خدمت ميں چند سوالات
بسمہ تعاليٰ

شيخ الفقہائ والمجتہدين حضرت آيۃ  اللہ  العظميٰ شيخ محمد علي اراکي قدس سرہ‘ الشريف کي رحلت کے بعد امت مومن اور حزب  اللہ  کي طرف سے مرجعيت اور تقليد کے سلسلہ ميں کئے جانے والے مکرّر سوالات اورشرعي مسائل ميں اسلامي انقلاب کے رہبر آيۃ اللہ  العظميٰ خامنہ اي کي طرف رجوع کے سلسلہ ميں استدعا ہے کہ امت حزب  اللہ  اور مومنين کي ہدايت کے لئے اپنا نقطئہ نظر بيان فرمائيں ۔
منجانب : علمائ اور فضلائ حوزہ علميہ قم ۔

آيت  اللہ  حاج شيخ حسين راستي کاشاني،رکن جامعہ مدرسين، مجلس خبرگان اور شورائے استفتائ حضرت امام خمینی 

بسمہ تعاليٰ

حمد و صلواۃ اور حضرت بقيۃ  اللہ الاعظم امام زمان (ارواحنا فداہ ) نيز رہبر معظم انقلاب (دام ظلّہ العالے ) کي خدمت ميں ادائے تعزيت کے بعد ، مذکورہ سوال کے جواب ميں عرض ہے کہ اسلامي معاشرہ (فقہ حکومتي) کے احکام ميں ولي امر مسلمين حضرت آيۃ اللہ  خامنہ اي کي اطاعت و پيروي کا وجوب کسي سے مخفي نہيں ہے ۔رہ گئے شخصي احکام تو ( اگرچہ جيسا کہ خود انہوں نے اپنے تعزيتي پيغام ميں فرمايا ہے کہ حوزہ علميہ قم ميں بہت سے جامع الشرائط اور لائق تقليد مجتہد موجود ہيں ليکن ) موجودہ حالات ميں جبکہ اعلم کي تشخيص چاہے احتمالاً ہي سہي مشکل و دشوار ہے ان جناب کي تقليد جو اسلام اور مسلمانوں کي مصلحتوں کے تنہا محافظ اور نگہبان ہيں ، مجزي، کافي ، اور مبري الذمّہ ہے۔ بلکہ دشمنان اسلام کي سازشوں اور مومنين کي صفوں ميں تفرقہ کے خوف کے پيش نظر اوليٰ ہے ۔ مسلمانان عالم اتحاد کو جو عطيہ الٰہي ہے محفوظ رکھيں اور کلام خدا کي حسب ذيل دو آيتوں :

١۔ واعتصموابحبل? جميعا ولا تفرقوا

٢۔ ولا تناز عو انتفشلوا وتذھب ريحکم

کو اپنانصب العين قرار ديں اور اس پر عمل کے ذريعہ اسلام اور مسلمانوں کي عزت ، عظمت اور استقلال کو تمام ميدانوں ميں قائم رکھيں و? الحمد ۔
١٠۔٩۔١٣٧٣ مطابق ٢٧ جمادي الثاني ١٤١٥ ھ

حسين راستي کاشاني

آيت  اللہ  الحاج سيد جعفر کريمي ، رکن جامعہ مدرسين (حوزہ علميہ قم) و مجلس استفتائ امام خمینی  و آيت  اللہ  العظميٰ اراکي طاب ثر ا ھما ۔

بسمہ تعالےٰ

حضرت بقيۃ اللہ  الاعظم ، امام زمانہ عجل  اللہ  ظہورہ ،کي بارگاہ ميں سلام و تحيّات ، نيز شيخ الفقہائ آيۃ اللہ  العظميٰ محمد علي العراقي طاب ثراہ کي رحلت کے سلسلہ ميں آنحضرت اور رہبر انقلاب حضرت آيۃ اللہ  العظميٰ خامنہ اي دامت برکاتہ‘ کي خدمت ميں تعزيت پيش کرتے ہوئے اعلان کرتا ہوں کہ زمانہ غيب ميں امت مسلمہ کے فقہي مذہبي اور سماجي و سياسي امور کے نظم و ضبط کي خاطر ، حضرت امام زمانہ ٴ کي نيابت کا فريضہ انجام دينے کے لئے جس اہليت اور جن شرائط کا ہونا ضروري ہے ان کے پيش نظر امت مسلمہ کے فقيہ اور اسلامي انقلاب کے قائد جناب مستطاب حضرت آيۃ اللہ  خامنہ اي دامت برکاتہ کي تقليد کو خالي از اشکال ، بلا مانع ، کافي اور (  اللہ  کي بارگاہ ميں مقلدين کو ) بري الذمہ قرار دينے والي سمجھتا ہوں ۔ والسّلام علے عباد اللہ  الصّا لحين۔

تاريخ : ٢٦ جمادي الثاني ١٤١٥ ، سيد جعفر کريمي ۔

آيت  اللہ  الحاج شيخ مرتضيٰ بني فضل ، استاد حوزہ علميہ قم و رکن مجلس خبرگان
بسمہ تعالےٰ

سرکار بقيۃ  اللہ  الاعظم (ہماري جانيں ان پر قربان ) کي بارگاہ ميں آيۃ اللہ  العظميٰ آقائے گلپايگاني طاب ثرہ کي برسي اور عظيم الشان مرجع تقليد آيۃ اللہ  العظميٰ آقائے اراکي طاب ثرہ کي رحلت کے سلسلہ ميں تعزيت پيش کرتے ہوئے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جيسا کہ پورے ايران کے ستر سے زيادہ مشہور ومعروف اور بزرگ علمائے اعلام اور خاص طور پر حوزہ علميہ قم کے کثير علمائ نے جن ميں زيادہ تر خود مسلّم الثبوت مجتہد اور عادل ہيں ۔ حضرت امام خمینی  کي وفات کے موقع پر رہبر انقلاب اسلامي آيۃ اللہ  العظميٰ خامنہ اي مدظلہّ کو فقہ کے مختلف ابواب ميں فتوايٰ صادر کرنے کي استعداد و لياقت کا اہل قرار ديتے ہوئے انہيں دنيا کے سامنے متعارف کرايا تھا ۔ لہٰذا ان کي تقليد جائز ، جمہوري اسلامي ايران کي تقويت اور دشمنان اسلام کي مايوسي کا باعث ہے ۔ خداوند عالم تمام علمائ کو اسلام اور مسلمين کي خدمت کي توفيق کرامت فرمائے ۔

مرتضيٰ ابني فضل ۔ ٢٦ جمادي الثانيہ ١٤١٥ ھ

آيت  اللہ  شيخ محمد يزدي ، صدر عدليہ ، نمايندہ مجلس خبرگان و رکن جامعہ مدرسين حوزہ علميہ قم ۔

بسم  اللہ  الرحمن الرحيم ہ

بلا شک و شبہ تمام مبتلا بہ مسائل ميں ، رہبر انقلاب حضرت آيۃ اللہ  العظميٰ خامنہ اي کي تقليد کي جاسکتي ہے جو جليل القدر فقہائ ميں سے ہيں ، تقليد و مرجعيت کي شرطوں کے حامل ہيں نيز دوسري بہت سي ترجيحات بھي آپ کے اندر موجود ہيں ۔ انشا  اللہ  خداوند عالم انھيں طول عمر اور عزّت و وقار سے نوازے اور قيادت و رہبري نيز جمہوري اسلامي کے تحفظ کي خاطر عظمت و کرامت عنايت فرمائے۔
محمد يزدي

آيت  اللہ  سيد عبا خاتم يزدي ، رکن مجلس خبرگان و مجلس استفتائ امام خمینی  و آيت  اللہ  العظميٰ اراکي طاب ثراھما

بسم  اللہ  الرحمن الرحيم

 اللہ  کي حمد و ثنائ اور اشرف انبيائ حضرت محمد مصطفےٰ ۰ نيز آپکي آل آئمہ ہديٰ پر جو رضائے الہٰي کي جانب ہمارے راہنما ہيں درودو سلام کے بعد :
بقيہ سلف صالح، شيخ الفقہائ آيۃ اللہ  العظميٰ اراکي طاب ثراہ کي رحلت کے سلسلے ميں حضرت حجّت سرکار بقيۃ  اللہ  (امام زمانہ ٴ ) کي بارگاہ اور آپ کے نائب گرامي قدر ، رہبر انقلاب اسلامي آيۃ  اللہ  العظميٰ سيد علي خامنہ اي دام ظلہ الوارف اور تمام علمائے اعلام و امت برکاتہم کي خدمت ميں تعزيت پيش کرتے ہيں ۔
 اللہ  تبارک و تعاليٰ سے مدد چاہتے ہوئے مومنين کرام کے سوالات کے جواب ميں عرض کرنا چاہتے ہيں کہ صاحب امر حضرت حجت صلواۃ  اللہ  عليہ و علےٰ آبائہ المعصومين ٴ کي نيابت کا مسئلہ خاص طور پر موجودہ زمانے اور حالات ميں جس زبر دست اہميت کا حامل ہے اس کے پيش نظر اس کے علاوہ ان اہم اور خاص شرائط کو مد نظر رکھتے ہوئے جو اس الٰہي منصب کے حصول کے لئے ضروري ہيں نيز تقليد و مرجعيت کي وہ اہليت جو قائد امّتِ اسلاميہ ، رہبر انقلاب اسلامي ، علامہ مجاہد اور فقيہ بصير حضرت آيۃ  اللہ  سيد علي حسيني خامنہ اي دامت برکاتہ کي ذات گرامي ميں موجود ہے ان کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ہماري نظر ميں موصوف کي تقليد بلا اشکال ، کافي اور بري الذمہ کرنے والي ہے انشا اللہ  ۔
سيد عباس خاتم يزدي

٢٧ جمادي الثانيہ ١٤١٥ ھ

آيت  اللہ  الحاج شيخ احمد آذري قمي ، رکن جامعہ مدرسين حوزہ علميہ قم و مجلس خبرگان
بسمہ تعالے ٰ

محترم جامعہ مدرسين کے انقلابي اور حکيمانہ اظہار رائے کے بعد ، جس ميں تقليد کے بارے ميں رہبر معظم دامت برکاتہ ‘ کي جانب رجوع کو جائز قرار ديا گیا ہے اور انکي رائے شرعي اور قانوني ہر اعتبار سے انتہائي معتبر ہے ، حقير کي خصوصي تائيد کي کوئي ضرورت باقي نہيں رہ جاتي ۔ قانوني اساسي (اسلامي دستور العمل ) کي دفعہ ١٠٧ اور دفعہ ١٠٩ کي رو سے موصوف فقہ کے مختلف ابواب ميں فتوےٰ صادر کرنے کے لئے لازمي عملي صلاحيت اور لازمي تقويٰ و عدالت سے مالامال ہيں جس کي تائيد اسّي سے زيادہ مجتہدين اور انقلابي و عادلِ اہل خبرہ کي جانب سے ہوچکي ہے اور اس سے بھي بڑھ کر امام راحِل رضوان  اللہ  عليہ نے آپ کو قيادت کے لئے شائستہ سمجھا ہے يہ بھي ان کي طرف رجوع کے جواز کي دلالت التزامي ہے ۔

جامعہ مدرسين کا آج کا اقدام ١٣٤٦ش ميںحضرت امام قدس سرہْ کے سلسلہ ميں ايک گروہ کي طرف سے جواز تقليد اور ايک گروہ کي طرف سے تعين تقليد کي ياد دلاتا ہے ۔ البتہ اگر کچھ افراد اعلميت کو تقليد اور مرجعيت کي شرط نہ جانيں يا دوسرے ذريعہ سے اعلميت کو پہنچے ہوں يا جامع مدرسين کے نظريہ کے مطابق اعلان شدہ افراد مساوي ہوں اور ان ميں کسي کي اعلميت کي تشخيص نہ ہوتي ہو تو ايسي صورت ميں رہبر انقلاب کي مرجعيت بلا اشکال اور بلا مانع ہے۔ اس بيان کي روشني ميں جامع مدرسين پر بعض لوگوں کا اعتراض وارد نہيں ہوتا ، اس لئے کہ حوزہ علميہ قم ميں مجتہدين کي کثرت کي وجہ سے ( جن کي تعداد سو يا اس سے بھي زيادہ ہے) سب کا نام نہيں ليا جاسکتا بلکہ صرف ان افراد کا ذکر ہي کافي ہوگا جن کے اعلم يا مساوي ہونے کا احتمال ہو ۔ ان سب باتوں کے علاوہ مرجعيت ميں اعلميت ، فقہائ کے ايک قابل توجہ گروہ کے نزديک شرط ہے تمام موضوع يہي نہيں ہے ۔ عدالت و تقويٰ اور شناخت و زمان و مکان کے شرائط چاہے فتوےٰ کي حد تک ہوں معتبر ہيں اور ان سے چشم پوشي نہيں کي جا سکتي ۔ مصلحت نظام بھي ان شرائط ميں سے ہے جن سے ہرگز اغماض نہيں کيا جا سکتا۔ جس دنيا ميں کفر اور عالمي استکبار اسلامي جمہوريہ اور ہمارے مقدس نظام کو قتل کرنے کے در پے ہے اور اسلامي انقلاب اور عالم اسلام کے عظيم مرجع کے وارث و جانشين کے علم و اجتہاد کا انکار کررہا ہے ، حوزہ علميہ اور اس کے مجتہدين علي (خامنہ اي) کي اعلميت پر انگلي اٹھانے کي ہرگز اجازت نہيں ديں گے ۔ وہ اسلامي جمہوريہ کے روشن آفتاب کے چہرے سے پردہ اٹھا کر رہيں گے تاکہ دشمنان اسلام اندھے ہو جائيں و اللہ  العالم۔ احمد آذري قمي

٤١٩١٣٧٣
آيت  اللہ  حاج شيخ احمد جنتي ، رکن جامعہ مدرسين حوزہ علميہ قم ، شوراي نگہبان و مجلس خبرگان

بسمہ تعاليٰ

رہبر معظم انقلاب کي تقليد بلا اشکال اور اسلام و انقلاب کي تقويت کا سبب نيز ان دشمنوں کي نا اميدي کا باعث ہے جو اس حيات بخش مسئلہ ميں مداخلت کے ذريعہ اسلامي جمہوريہ کے نظام کو کمزور بنانا چاہتے ہيں ۔
احمد جنتي

١٥٩١٣٧٣
آيت  اللہ  حاج شيخ محمد جنّاتي ، استاد حوزہ علميہ قم

بسمہ تعالےٰ شانہ‘

تمام شرائط اور ان خصوصيات کو ديکھتے ہوئے جو آج اسلامي نظام ميں ايک مرجع کے اندر ہونے چاہئيں ہيں فقيہ مجاہد حضرت آيۃ  اللہ  خامنہ اي (دامت ظلہ الوارف ) کو مرجعيت کے منصب کے لئے اصلح سمجھتا ہوں ۔

والسلام ، محمد ابراہيم جناتي، ٩٩١٣٧٣

آيت  اللہ  شيخ ابوالفضل خوانساري ، رکن مجلس خبرگان اور استاد حوزہ علميہ قم
بسمہ تعالے ٰ

ميرا نظريہ کچھ عرصہ سے يہ رہا ہے کہ آيۃ  اللہ  خامنہ اي حوزہ علميہ کي باگ ڈور اپنے ہاتھ ميں لے ليں اور رسالہ علميہ تحرير فرمائيں اور اگر مصلحت سمجھتے ہوں تو ہفتے ميں تين روز قم تشريف لاکر درس شروع کريں تاکہ طلاب ان کے افادات سے بہرہ مند ہوسکيں ۔

والسلام عليہ و علے جميع عباد اللہ  الصالحين

ابوالفضل النجفي الخوانساري ۔

٣٠ جمادي الثانيہ ١٤١٥

آيت  اللہ  سيد محمود ہاشمي ، مجلس اعليٰ انقلاب اسلامي عراق کے اسپيکر اور حوزہ علميہ قم کے استاد

بسم  اللہ  الرحمن الرحيم

السلام عليکم ورحمۃ  اللہ  و برکاتہ

خدا وند عالم ہميں اور آپ سب کو امت اسلام کي مصيبت يعني بقيہ السلف ، عظيم مراجع کي آخري کڑي اور روئے زمين پر خدا کي روشن آيتوں ميں سے ايک حضرت آيۃ  اللہ  العظميٰ اراکي (قدس سرہ ) کي رحلت پر صبر و اجر کرامت فرمائے۔ آپ تقويٰ ، علم و عمل صالح ميں حقيقتاً مثال اور گزشتہ علمائ اور مراجع عظام ميں تمام مومنين اور ابرار کے لئے اسوہ اور نمونہ تھے۔ ہم خدا وند عالم کي بارگاہ ميں دعا کرتے ہيں کہ ان سب کو اپني رحمت واسعہ کے سايہ ميں قرار دے اور انھيں انبيائ کرام اور آئمہ اطہار ٴ کے ساتھ محشور فرمائے اور ہم سب کو انکي راہ پر چلنے اور ان کي پاکيزہ سيرتوں پر عمل کرنے نيز ان کے مقاصد کو مکمل کرنے کي توفيق عطا فرمائے، جيسا کہ  اللہ ، رسول۰ اور تمام مومنين چاہتے ہيں ۔

اب رہي آپ کے سوال کے متعلق ولي امر مسلمين حضرت آيۃ  اللہ  سيد علي خامنہ اي حفظ  اللہ  و دام ظلہ کي مرجعيت کي بات توہم نے گزشتہ مرجع حضرت آيۃ اللہ  العظميٰ گلپايگاني (قدس سرہ) کي وفات کے بعد ہي رہبر انقلاب کي خدمت ميں ارسال کردہ اپنے تعزيتي ٹيليگرام ميں اس چيز کي طرف اشارہ کيا تھا اور اس ميں اس بات کي تاکيد کي تھي کہ يہ امر اسلام اور مسلمانوں کي فلاح و صلاح کا باعث ہوگا ۔ ساتھ ہي يہ مسلمانوں کي يکجہتي ، پرچم حق کي سربلندي نيز دشمنوں اور کافروں کي سازشوں کي ناکامي کا سبب ہوگا ہم خدا وند عالم سے انکي طول عمرکي دعا کرتے ہيں تاکہ امت اسلاميہ آپکي قيادت و رہبري اور صالح مرجعيت سے حضرت بقيۃ اللہ  الا عظم امام زمانہ عجل  اللہ  فرجہ کے ظہور تک فيضياب ہوسکے ۔ آپ پر تمام مومن بھائيوں اور  اللہ  کے نيک بندوں پر سلام اور اسکي رحمتيں نازل ہوں ۔

محمود ہاشمي

٢٧ جمادي الثاني ١٤١٥ ق

آيت  اللہ  حاج شيخ رضا استادي رکن جامعہ مدرسين حوزہ علميہ قم

بسمہ تعالي

عالم اسلام اور شيعيت کي مصلحت کے پيش نظر نيز اس مبارک اسلامي نظام کي حمایت و حفاظت کے وجوب کو ديکھتے ہوئے ہم رہبر انقلاب اسلامي حضرت آيۃ  اللہ  سيد علي خامنہ اي (دامت برکاتہ ) کو اعلان شدہ مراجع حضرات ميں سے ايک جامع الشرائط مجتہد جانتے ہيں اور مرجعيت و تقليد کے لئے ان کي نشاندہي کرتے ہيں ۔

رضا استادي۔جمادي الثاني ١٤١٥ ق

آيت  اللہ  حاج شيخ احمد صابري ہمداني رکن مجلس خبرگان اور استاد حوزہ علميہ

قم

بسم  اللہ  الرحمن الرحيم

حوزہ علميہ قم کے عظيم فضلا و آيات کرام کي ايک جماعت کي جانب سے رہبر انقلاب حضرت آيۃ  اللہ  سيد علي خامنہ اي (مدظلہ ) کي فقاہت و اجتہاد پر گواہي و اعتراف کے بعد آنجناب کي طرف تقليد کے سلسلے ميں رجوع کے جواز ميں کوئي شک و شبہ باقي نہيں رہتا ، بلکہ اسلامي دنيا کے مسائل اور دنيا ميں شيعيت پر ہونے والے مصائب جن ميں سے کچھ مسائل کے ہم خود شاہد رہے ہيں کو ديکھتے ہوئے ميں آپ کو اس امر کے لئے افضل و اصلح جانتا ہوں کيوں کہ آپ قيادت و رہبري ميں بڑي بصيرت اور گہري نظر رکھتے ہيں ۔

احمد صابري ہمداني

١٠٩١٣٧٣، مطابق ٢٦ جمادي الثاني ١٤١٥

آيت  اللہ  حاج شيخ عباس محفوظي ، رکن جامعہ مدرسين حوزہ علميہ قم و نمائندہ مجلس خبرگان

بسمہ تعاليٰ

حالات و شرائط کے پيش نظر فقيہ مجاہد حضرت آيۃ  اللہ  سيد علي خامنہ اي کي تقليد جائز ہے ۔ الآ ثم : عباس محفوظي

آيت  اللہ  حاج شيخ علي اصغر معصومي ، امام جمعہ تربت حيدريہ و نمائندہ مجلس خبرگان
بسم  اللہ  الرحمن الرحيم

اس وقت جبکہ خدا کے فضل و کرم سے جامعہ مدرسين حوزہ علميہ قم کے ماہر اور اہل خبرہ علمائ کي ايک جماعت کے ذريعہ شيعہ مرجعيت کا خطير مسئلہ نتيجہ خيز ثابت ہوا ہے اور ان حضرات نے تمام لوگوں کي تکليف و فريضہ کي تعيين کا شرعي بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھا کر بزرگان علم و تحقيق و تدريس و ہدايت کے چند عظيم مسند نشينوں کو جائز التقليد فقہائ کے عنوان سے متعارف کرايا ہے ۔ حقير بھي ان اہل خبرہ حضرات کي قدر داني کرتے ہوئے معتقد ہے کہ اگر ان اعلان شدہ حضرات ميں کوئي معيناً يا احتمالاً اعلم نہ ہو تو اسلام کے عظيم مصالح نيز ملک اور اسلامي انقلاب کو پيش آنے والے موجودہ حالات اور سياسي قيادت اور ديني مرجعيت کے اتحاد سے حاصل ہونے والے فوائد کو ديکھتے ہوئے اوليٰ و اصلح يہ ہے کہ اسلامي انقلاب کے عظيم رہبر حضرت آيۃ  اللہ  سيد علي خامنہ اي (دامت برکاتہ ) جيسي ممتاز و برجستہ شخصيت دونوں منصبوں کي ذمہ دارياں اپنے ہاتھ ميں ليں۔ ميں خدا وند منان سے اسلام کي سربلندي ، مسلمانوں کي عزت اور آنجناب کي تائيد و سلامتي کا خواہاں ہوں ۔

والسلام عليہ و عليٰ جميع اخوانناالمسلمين

سيد جلال الدين طاہري

٢٩ جمادي الثانيہ ١٤١٥ ق

آيت  اللہ  موسوي ہمداني ، امام جمعہ ہمدان اور رکن مجلس خبرگان

بسمہ تعالےٰ

اس حادثہ عظميٰ ( يعني رحلت ِ حضرت آيۃ  اللہ  العظميٰ اراکي ) پر تعزيت اور بزرگ علمائ کي طرف سے مرجعيت جيسے اہم مسئلہ ميں کئے جانے والے سريع اقدام پر اظہار تشکر کرتے ہوئے عرض ہے کہ امر تقليد ميں اسلامي انقلاب کے عظيم رہبر اور ولي امر مسلمين حضرت آيۃ اللہ  العظميٰ خامنہ اي ( اطال  اللہ  عمرہ) کي طرف رجوع قطعي ، بلا ترديد جائز اور برائت ذمہ کا سزاوار ہے۔ آپکي فقاہت اور اجتہاد مطلق ، منصب ولايتِ امر کے لئے آپکي لياقت و شائستگي پر امام ۲ کي تصريح و تاکيد، حضرت امام رضوان  اللہ  عليہ کي رحلت کے بعد اہلِ خبرہ حضرات کي طرف سے آپ کا انتخاب ، حوزہ علميہ کے جامعہ مدرسين اور جامع روحانيت مبارز تہران(ايدہم  اللہ ) کي شہادت و گواہي ساتھ ہي وہ صفات حسنہ ، امتيازات اور ترجيحات جو آپکي شخصيت ميں جلوہ گر ہيں يہ اب مسلم امر ہيں جو آپکي تقليد کے مسئلہ ميں مزيد اطمينان کا باعث ہيں ۔ الحمد ? ولہ الشکر
موسوي ، امام جمعہ ہمدان

١٢٩١٣٧٣
آيت  اللہ  حاج شيخ ہادي روحاني رکن مجلس خبرگان اور امام جمعہ بابل
بسمہ تعاليٰ

جيسا کہ ميں نے نماز جمعہ ميں اعلان کيا ہے ، آج جب کہ انقلاب اور اسلامي جمہوريہ کا مقدس نظام دنيا ميں دشمن کے حملوں کا نشانہ بنا ہے اور دشمن کي کوشش ہے کہ رہبري اور مرجعيت کو ايک دوسرے سے جدا رکھے۔ ايسے ميں فريضہ يہ ہے کہ مرجعيت بھي وہيں ہو جہاں قيادت اور رہبري ہے۔ اگر يہ بنا ہو کہ ہم اعلم کے سراغ ميں جائيں اور مرجعيت کو اس کے تمام پہلووں ، يعني فقاہت ، سياست ، اجتماع و معاشرہ اور مديريت کے ساتھ مدّ ِنظر رکھيں جيسا کہ امام نے فرمايا :مرجع اسے ہونا چاہيئے جو زمان و مکان پر مسلّط ہو"تو حضرت آيۃ اللہ  العظميٰ خامنہ اي (مد ظلّہ العالے ) جامع شخصيت ہيں ہميں اس جامعيت کوئي دوسري فرد نظر نہيں آتا ، حضرت آيۃ اللہ  العظميٰ خامنہ اي (مدّ ظلّہ العالے) نے اپني مديريت کي طاقت تمام مسلمانوں پر ثابت و ظاہر کردي ہے۔
لہٰذا يہي لازم و زيبا ہے کہ مسلمان اور شيعيان عالم حضرت آيۃ اللہ  العظميٰ خامنہ اي(مد ظلّہ العالے ) کي تقليد کريں خدا وند عالم انشا  اللہ  آپ سب کا محافظ و نگہبان رہے ۔

شيخ ہادي روحاني

نمائندہ ولي فقيہ در مازندران

آيت  اللہ حاج شيخ حسين زرندي، امام جمعہ کرمانشاہ و رکن مجلس خبرگان
بسمہ تعالےٰ

فاسئلو ا اہل الذّکران کنتم لا تعلمون :

فقہ و فقاہت کے مرکز جامع مدرسين کے اظہار نظر اور انکي گواہي کي روشني ميں رہبر انقلاب اسلامي حضرت آيۃ اللہ  العظميٰ خامنہ اي ( متع  اللہ  المسلمين بط