|
وہ دين
گمشدہ ہے دين گمشدہ است اس گمشدہ دين ميں جاکر ديکھيں بہت کچھ ہے ابھي
چونکہ ہم دين کے ايک مختصر حصے سے آشنا ہيں ہمارے ديني حلقے دين کے
مختصر حصے سے آشنا ہيں ہم اس مختصر حصے ميں اس وقت احکام ہيں فقيہہ کا
کام ہے احکام بيان کرنا خوب اگر فقيہہ کا کام ہے کہ حکم بيان کرے موضوع
کون بيان کرے گا ايذا آج کسي عالم سے جا کر کوئي مسئلہ پوچھيں يہ چيز
کيسے ہے وہ بھي کہتاہے يہ نہيں مجھے معلوم کہ کيسے ہونا چاہئيے تم بنا
کر لے آو ميں بتاوں گا تمہيں حکم کيا ہے مثلاً آج بينکاري نظام بينکاري
کيسے ہو کيا يہ ہمارا کام نہيں ہے يہ دين کا کام نہيں ہے دين کا کام يہ
ہے کہ جاو پہلے بينک بناو پر اسي ميں مختلف اسکيميں جاري کرو پھر وہ
اسکيم اٹھا کر لے آنا ہم حکم اسکا بيان کريں گے کہ يہ حرام ہے يا حلالي
ہے ليکن اسکيم بنانا يہ دين کا کام نہيں ہے اسکيميں خود بناو تمہاري
اسکيموں کا حرام و حلال دين بنائے گا خوب اگر يہ ہے تو پھر اسکيميں
بنانے والے ادارے الگ ہيں دين کا کام ہے صرف يہ بتائے يہ حرام ہے اور
يہ حلال ہے پھر تو وہي مشکل پيش آجائے گي جو آج آئي ہوئي ہے چونکہ بعض
اسکيميں حرام ہيں اور آپ کو حلال کرني پڑيں گي ہر صورت ميں چارہ نہيں
ہے ليکن اگر ہم دين کو اس پر منحصر نہ قرار ديں کہ دين کا کام فقط حکم
بيان کرنا ہے بلکہ خود اسکيم بنانا بھي دين ہے يہ بھي دين کا ايک حصہ
ہے يہ بھي عالم کا کام ہے فقيہہ کا کام ہے اسکيم بھي بنائے پھر اس کا
ساتھ حکم بتائے بتائے کہ پھر کيسے مالي معاملات ہوتے ہيں دين کا نظام
معيشت بنائے دين نظام بھي اپنے اندر رکھتا ہے جس طرح سے دين کے پاس ہے
حکم سے پہلے نظام ہے اس کے پاس سسٹم ہے اس کے پاس طرز حکومت ہے طرز
سياست ہے اس کے پاس ليکن نہ وہ جو بارہواں حصہ ہے دين کا وہ فقط حکم ہے
يہ اسلام گمشدہ ہے اس اسلام کو جا کر اگر ڈھونڈيں تلاش کريں اس ميں پھر
سب کچھ نظر آجائے گا کہتے ہيں امام خميني
۲
کے ذہن کي ايجاد ہے ولايت فقيہہ نہ امام خميني
۲
کا انکشاف ہے نہ ايجاد اسي زمين کے نيچے ايک چيز موجود ہوتي ہے معدنيات
زمين کے نيچے موجود ہيں ايک انجينئر جاتا
ہے اور اپنے علم وفن کي مہارت سے زمين کے اندر موجود تيل کو پتہ لگا
ليتا ہے کہ يہاں تيل تھا۔ آپ کيا کہيں گے اس انجينئر نے تيل پيداکيا ہے
زمين کے
نيچے سے اس کے ذہن کي اختراع ہے يہ تيل يہ تيل تمہاري زمين کے نيچے سے
تھا تم نادان تھے جانتے نہيں تھے کہ اتنا بڑا عظيم ذخيرہ ثروت کا
تمہارے پاس
موجود ہے۔ يہ تو آپ کو اس کا شکر گزار ہونا چاہئيے کہ آپ کي ثروت سے اس
نے آپ کو آشنا کيا جتنا شکر اس کا کرو کم ہے يہ آپ کا دين تھا اور آپ
کے دين
کے اندر نظام سياسي موجود تھا طرز حکومت موجود ہے ليکن ہم اس اسلام پر
بستي بنا کر بيٹھے رہے اسي اسلام کے نيچے اس کي زمين کے اندر اتنا بڑا
ذخيرہ موجود تھا
ليکن صديوں سے ہميں معلوم نہيں تھا اس شخص نے اپني بصيرت و علم و معرفت
و دانائي کي بدولت آکر اس ذخيرے کو کشف کيا اور پوري دنيا کو متعارف
کروايا يعني اسلام گمشدہ کو تلاش کرليا کھويا ہوا اسلام ڈھونڈھ ليا جا
کر يہ دين ہے دين کي اگر تعريف کريں مجموعہ دين يعني تدبير حيات بشر
بحکم الٰہي خداوندي سے اب سياست کو آکر ديکھيں سياست کيا چيز ہے؟ سياست
کي تعريف کريں سياسي نظريات مختلف ہيں سياسي رجحانات مختلف ہيں سياسي
مذاہب مختلف ہيں ليکن آپ علم سياست کي رو سے سياست کي تعريف کريں سياست
بھي اسي تدبير کا نام ہے يعني انسان کي زندگي کي تدبير کرنا انساني
زندگي کو سنوارنا زندگي کي ضروريات اس کو مہيا کرنا انساني زندگي کو
ہدايت کرنا ايک ڈگر پر ڈال دينا يہ ايک سياست ہے سياست توملک يا قوم
لوٹنے کو نہيں کہتے سياست يعني تدبير حيات بشر اب يہي تدبير اگر حکم
خدا سے ہو تو يہ دين بھي ہے اور سياست بھي ليکن اگر يہ تدبير ہو نہيں
سکتي استحصال کرسکتے ہيں استعمار کرسکتے ہيں استيسال کرسکتے ہيں يہ کام
کريں گے پھر اگر حکم خدا سے تدبير زندگي بشر نہ ہو تو رب اس کا جو بھي
مقدس نام رکھ ليں بے شک رکھ ليں نام رکھنے سے کسي شئے کي حقيقت بدلتي
نہيں ہے جب تک دين و سياست ميں اس طرح کاامتزاج يا دين و سياست ميں اس
طرح کي عينيت اور ايک ہونا يگانگت ان دونوں کي کوئي دين شناس نہ سمجھ
لے کبھي بھي ولايت فقيہہ تک اس کي گفتگو يا اس کا اعتقاد يا اس کا
ايمان نہيں، پہنچتا لہذا امام کو جب يہ کہا گيا کہ آپ سياست سے نکل
جائے تو امام نے اس کو کيا سمجھا يہ نہيں کہا کہ مجھے تم سياست سے
نکلنا کا مشورہ دے رہے ہو يعني دين سے درکنار ہوجاو يعني دين سے
دستبردار ہوجاو ہوسکتا ہے کہ ايک فقيہہ دين سے دستبردار ہوجائے! فقيہہ
اسلام ہو ليکن اس کا دين سے کوئي تعلق نہ ہو وہ کيسا فقيہہ ہے؟ وہ کيسا
عالم ہے پس دين ہے ولايت مدار ولايت کے مرتبے ہيں ولايت کے درجات ہيں
ولايت فقيہہ جس طرح سے ولايت اصلتاً ذات خدا کو حاصل ہے حقيقتاً ولايت
فقط ذات خدا کو ہے ولي اللہ ہے بس ليکن يہ ولايت تم کس طرح خدا سے
معصومين تک لے کر آئے اس ولايت نے مجبور کيا اس قلم رو کو اور ذات خدا
سے معصومين تک آئي انبيائ تک آئي اوليائ اللہ تک آئي ھديٰ تک آئي يہ
ولايت (لبعين)کہ يہ خدا نہيں ہيں نہ کوئي نبي خدا نہ کوئي ولي خدا ہے
نہ کوئي امام خدا ہے يہ سب مخلوق ہيں ولايت خالق کو حاصل تھي ولايت
خالق کيسے مخلوق کو آ پہنچتي؟ مخلوق بھي ولي بن گئي ولايت خالق کو حاصل
تھي ليکن مخلوق بھي ولي بن گئي يہ ولايت خدا کے مقابلے ميں نہيں ہے يہ
وہي ولايت خدا ہے يعني اللہ کي جانب سے ان کو عطاہوئي مظہر ولايت خدا
بني پس معارزہ نہيں ہے ولايت خدا اور ولايت مخلوق ميں ليکن يہاں آکر
روک نہ دو جيسے کل بھي عرض کياتھا کہ چند مقام ايسے آتے ہيں کہ جہاں پر
ہم شيعہ سني بن جاتے ہيں فردي طور پر تو روزانہ بنتے ہيں ہم جيسا کہ
بعض اوقات سني شيعہ بن جاتے ہيں رمضان کا مہينہ آتے ہيں جب زکوٰۃ کاٹنے
کا وقت آتا ہے توبہت سارے اہل سنت شيعہ ہوجاتے ہيں
Paperميں
فارم بھر کر بينک ميں جمع کرواتے ہيں اسي طرح جب ويزا لگانا ہوتا کسي
عربي ملک کا يا کسي دوسرے ملک کا جہاں پر شيعوں کا داخلہ ممنوع ہے وہاں
پر اکثر شيعہ سني بلکہ بعض تو وہابي بھي لکھ ديتے ہيں کہ ہمارا تو
سيلفيون سے تعلق ہے جہداندر جہد نوکري کے لئے ملازمت کے لئے انفرادي
طور پر تو ہم بہت اوقات ہم بنتے ہيں ليکن بعض اوقات ہم من حيث الجماعت
بن جاتے ہيں جيسے کل ايک دو مثاليں دي تھيں ولايت خالق مخلوق کو مل گئي
مخلوق معصوم اب يہ ولايت مخلوق معصوم سے لے کر مخلوق غير معصوم مخلوق
غيبت کبريٰ کے زمانے ميں چونکہ معصوم کي ولايت سے انسان محروم ہے ہم
محروم ہيں ہم حجاب ميں ہيں معصوم غائب نہيں ہے۔ اگرچہ ہم خوش ہوتے ہيں
امام غائب کہہ کر جتنا لطف ہميں اس امام غائب کہنے ميں آتا ہے کيوں اس
لئے کہ غائب آدمي غائب ہوتا ہے يعني غير حاضر کلاس ميں اگر ٹيچر نہ
ہوتو کہتے ہيں غير حاضر اور بچوں کي دعا يہ ہوتي ہے کہ ٹيچر نہ ہو اور
بس کلاس ميں ٹيچر نہيں ہوتا وارے نيارے ہوتے ہيں کيا حشر ہوتاہے اسي
کلاس کا جس ميں ٹيچر نہ ہو آج بھي ہمارا رويہ ديکھے ہمارا چال چلن
ديکھيں ہمارا طرز رہن سہن ديکھيں تو اس کو صاف پتا چلے گا کہ اس کلاس
ميں ٹيچر نہيں ہے وہ پوچھے ٹيچر کہاں ہے ہم کہتے ہيں امام غائب ہے غائب
کا معني کيا
کرتے ہيں غير حاضر ليکن اگر ہميں يہ يقين ہو کہ امام حاضر ہے نہ امام
غائب ہم ايک امام موجود امام زندہ ايک امام حاضر کي امامت ميں زندگي
بسر کررہے ہيں آيا پھر بھي زندگي يوں ہي ہوگي ہماري دل خوش کيا ہوا کہ
امام غائب ہيں حالانکہ خود غائب ہيں امام حاضر ہيں امام ناظر ہيں آپ کے
فردي ترين اعمال پر امام حاضر ہيں ناظر ہيں کون سا عمل ہے جو امام کي
ديد سے مخفي ہے ہمارا ليکن امام کے اطوار امام کي زندگي امام کي وہ
نورانيت ہم سے اوجھل ہے يعني ہم غيب ميں ہيں سورج تو کبھي نہيں جھپتا
آنکھيں چھپ جاتي ہيں بعض اوقات ابھي سورج نکلا ہوا آنکھ کے سامنے انگلي
رکھيں آپ سورج نظر آئے گا انگي سے سورج چھپاتا ہے يا انگلي سے آنکھ
چھپتي ہے انگلي رکھيں آپ اپني آنکھ کے آگے محسوس يہ ہوتا ہے کہ سورج
چھپ گيا ہے۔
عبوري زمانہ طولاني بھي ہوسکتا ہے ضروري نہيں مختصر ہو يہ ايک عبوري
زمانہ ہے وہي ولايت جو خدا سے آئي معصوم تک اب معصوم سے آئي غير معصوم
تک اس ميں کوئي تعجب کي بات نہيں ہے آپ کہيں کہ ايک معصوم سے غير معصوم
تک کيسے آگئي؟ خوب سوال ۔ خالق سے مخلوق تک کيسے آگئي؟ کون سي رگ ملتي
ہے خالق اور مخلوق سے مخلوق تک آگئي وہاں آپ کو تعجب نہيں ہوا حالانکہ
مشکل مرحلہ وہ تھا مرحلہ خالق سے مخلوق تک آنے ميں تھا ہي نہيں تعجب
نہيں ہوا مخلوق سے مخلوق تک جانے ميں ہميں تعجب ہے کہ معصوم سے غير
معصوم تک يہ مطلب کيسے جا پہنچا؟ يہ ايک زمانہ ہے عبوري اب آئيں ايک
زمين ديکھيں مثلاًا مير المومنين ٴ کے زمانے ميں کوفہ ميں حضرت کا پايہ
تخت تھا حکومت تھي مصر ميں حضرت موجود نہيں تھے خود مدينے ميں نہيں تھے
يہ شہر تھے کہ جس ميں خود معلوم نہ نفس نفيس نہيں ہيں بصرہ اور مصر کي
حکومت کيسے چلتي تھي؟ حضرت ٴ کے دور ميں والي مقرر کئے تھے عثمان ابن
حنيف ، مالک اشتر، محمد ابن ابي بکر اوراس طرح کے اور بزرگوار تھے ان
کو حضرت نے منصوب کيا ہوا تھا بعنوان عالي کس طرح سے والي مقرر کيا ہوا
تھا مثلاً اہل مصر کي طرف جناب مالک اشتر کو روانہ کيا کہ پہنچنے سے
پہلے شہيد ہوگئے ساتھ خط لکھ کے ديا عہد نامہ مالک اشتر نہج البلاغہ
ميں معروف ہے خوب مصر ميں علي ٴ نہيں ہيں کس کو بھيجا مالک اشتر کو
مالک اشتر معصوم ہيں؟ محمد ابن ابي بکر معصوم ہيں؟ عثمان ابن حنيف
معصوم ہيں؟ عبد اللہ بن عباس معصوم ہيں يہ سب غير معصوم ہيں اہل مصر پر
اطاعت مالک اشتر کي واجب ہے يا نہيں ہے؟ اگر کوئي مالک اشتر کے غير
معصوم ہونے کا بہانہ کرکے کہے ميں تو صرف معصوم کا پيروکار ہوں۔ مالک
اشتر نہيں مانتا کوئي بھي مالک اشتر کون ہوتا ہے۔ آپ کيا کہتے ہيں کيا
رائے رکھتے ہيں اس کے بارے ميں؟ حضرت نے خود مقرر کيا جناب مالک کو کہ
جاو مصر پر حکومت کرو وہاں کا ايک اسلام شناس ديندار وہ کہے ميں اپنے
امام سے بھي زيادہ دين سمجھتا ہوں ہيں بعض لوگ ايسے جن کا دعويٰ يہ ہے
کہ ہم آئمہ سے زيادہ دين سمجھتے ہيں کسي زمانے ميں ايران ميں بھي تھا
ايران سے باہر بھي تھا کچھ لوگ انقلاب کے حامي تھے انہيں کہا جاتا تھا
کہ يہ امام خميني
۲
سے بھي زيادہ بڑے آدمي ہيں انقلابي ہيں آخر امام خميني
۲
سے بڑا انقلابي تو کوئي ہو ہي نہيں سکتا کچھ لوگ ايسے ہيں جو کہتے ہيں
ہم امام سے بھي بڑے دين شناس ہيں کيوں اس لئے کہ غير معصوم کيسے ولي
ہوسکتا ہے غير معصوم کو کيسے حق حکومت ہوسکتا ہے يہ غير معصوم ہے کوئي
غلطي کردے گا اشتباہ کردے گا حکم ادھر ادھر کا ديدے گا پھر کيا ہوگا؟
خوب آپ کي دين شناس ميں نہيں ہوسکتا ليکن يہ جو نکتہ آپ کي سمجھ ميں
آيا ہے يہ تومعصومين ايسا نہيں کرتے تھے وہ تو اپنا نمائندہ غير معصوم
کو اس زمين پر مقرر کرتے تھے جہاں پر خود نہيں تھے کيا فرق پڑتا ہے ايک
زمين وجود امام سے خالي ہو اور اس زمين پر امام اپنا نمائندہ غير معصوم
کو بنا کر بھيج ديں اور وہاں کے رہنے والوں پر اس زمين کے باسيوں پر
غير معصوم کي اطاعت واجب ہوجاتي ہے تو ايک زمانہ اگر ايسا ہوکہ جس ميں
عام لوگ معصوم تک دسترس نہ رکھتے ہوں محبوب ہوں اس زمانے کے رہنے والے
ان کے لئے معصوم نے خود ايک غير معصوم اپنا نمائندہ اور نائب مقرر کيا
ہو تو آيا کہہ سکتے ہيں کہ اس زمين والوں کے لئے تو واجب تھا غير معصوم
کي اطاعت ليکن اس زمانے والوں کے لئے واجب نہيں ہے کيا فرق ہے خالي
زمين اور خالي زمين ميں ؟ واجب ہے۔ اگر کل کو وہ مالک اشتر کو
ٹھکراديتے اور علي ٴ کي ولايت کا دم بھرتے علي ٴ آيا قبول کرتے ان کي
طرف سے اس ولايت کو ممکن نہيں ہے کيوں کہ تم نے ميرے مقرر کردہ کو
ٹھکرايا ہے لہذا کتنے لوگ ايسے تھے جو علي ٴ کے مقرر کردہ والي کو نہيں
مانتے تھے خود حضرت کو مانتے تھے اس توجيہہ کو قبول نہيں کيا کيا يہ
جواز نہيں بنتا لہذا ولايت علي ٴ ولايت فقيہہ کيوں اس لئے کہ فقيہہ
خالي زمين کا والي ہے جس ميں خود علي ٴ تک ہماري دسترس نہيں جس طرح سے
مالک اشتر اس خالي زمين کا ولي ہے جہاں پر علي ٴ نہيں ہيں تو جس طرح اس
کي اطاعت واجب و لازم ہے تو اسي طرح اس کي اطاعت بھي لازم اور واجب ہے
بہت چيزيں مختلف ہيں کہاں ہم شخصيت امام ہو مسئلہ ولايت فقيہہ ہو يا
کوئي دين سے بہت دور ہيں حقيقتاً
دين گمشدہ ہے اس گم شدہ دين کو پہلے ڈھونڈيں پہلے اس کے منابع تلاش
کريں پھر آکر ہم تشريح کريں پھر يہ مسائل روشن ہوں مرجعيت اور ولايت
ميں فرق ہے جيسا کل عرض کيا تھا کہ وکالت اور ولايت ميں فرق ہے وکالت
يہي ہے جيسا آپ لوگ کرتے ہيں پارليمنٹ ميں اپنے نمائندے بھيجتے ہيں وہ
آپ کے وکلائ ہوتے ہيں جن کو آپ کہتے ہيں کہ يہ نمائندہ ہے ہمارے علاقہ
کا نمائندہ فارسي لفظ ہے اور وکيل عربي لفظ ہے معنيٰ دونوں کا ايک ہے
وکيل وہاں چنا جاتا ہے کہ جہاں پر موکل کوئي اختيار ہو حق ہو وہ اپنا
حق کسي اور کو دے دے کہ تم جاو ميري طرف سے نمائندگي کرو يہ وکالت ہے
جمہوريت ميں کہتے ہيں کہ حق حکومت لوگوں کو حاصل ہے عوام اپنا حق سونپ
ديتے ہيں کسي دوسرے کو يہ لو ہماري طرف سے جا کر ہم پر حکومت کرو ووٹ
ڈالتے ہيں صدر چن ليتے ہيں اپنے لئے وزير اعظم چن ليتے ہيں اپنے لئے يا
کوئي اور عنوان چن ليتے ہيں اپنا حق حاکميت اپنا حق حکومت ووٹ کے ذريعے
سے اس کو ديديتے ہيں کہ جاو تمہيں حق حکومت ملتا ہے ہماري طرف سے ہم
منبع ہيں تمہارے لئے اس کو کہتے ہيں وکالت ۔ وکالت کے لئے اليکشن کے
علاوہ کوئي اور چارہ ہي نہيں ہے انتخابات کے لئے کوئي اور ذريعہ ہي
نہيں ہے وکيل لا محالہ چنا ہے آپ کو اپنے لئے ايک مقولہ مرجعيت مرجع
ولي نہيں ہوتا مرجع يعني مفتي مفتي کس کو کہتے ہيں ؟ ايک ايسا عالم
دانشور انسان جس نے دين پڑھا ہوا ہے جس نے احکام شرعيہ کو پڑھا ہوا ہے
اور علمي مہارت اس کو اتني حاصل ہوگئي ہے کہ عدليہ شرعيہ سے منابع ديني
سے حکم ديني نکال سکتاہ ے اس علمي مہارت والے انسان کو ہم مرجع کہتے
ہيں مرجع اس کو کيوں کہتے ہيں اس لئے کہ يہ حکم اپنا يہي استنباط شدہ
حکم دوسرے کے زمانے پيش کرے تو وہ لوگ جو مجتہد نہيں ہيں وہ اس کے
استنباط شدہ حکم کو اپنا سکتے ہيں اس پر عمل کرسکتے ہيں يعني وہ اس کي
طرف رجوع کرسکتے ہيں ضرورت کے وقت ايک عالم ايک ماہر کے طور پر جيسے آپ
مثلاً طبيب نہيں ہيں خدانخواستہ گھر ميں کوئي مريض ہوا آپ رجوع کرتے
ہيں ڈاکٹر کي طرف ڈاکٹر کس انسان کو کہتے ہيں ايک ايسا آدمي جس نے علم
طب کو پڑھا ہوا ہے اپني علمي مہارت کي بنا پر بيماري کو سمجھتا ہے
بيماري کے اسباب کو سمجھتا ہے بيماري کے علاج کو بھي سمجھتاہے لہذا آپ
اس کي طرف رجوع کرتے ہيں کہ اس بيماري کو ختم کرنے کے لئے مجھے طريقہ
کار بتاو اگر خود طبيب نہيں ہيں توکسي طبيب کے پاس جاتے ہيں آپ اسي طرح
آپ خود شريعت شناس اور فقہ شناس نہيں ہيں پہلے تو خود ہونا چاہيئے فرد
فرد کو خود اگر نہيں ہيں آپ تو جو جانتا ہے اس کے پاس جاو تم بہترين
دليل جو مرجعيت کے لئے يعني جواز تقليد کے لئے يا آيا تقليد کرنا کسي
مجتہد کي جائز ہے يا نہيں ہے بہترين دليل کيا ہے سيرت عقلائياں ہے سيرت
عقلائياں سے مراد يعني عام عقلائے عالم يہي کام کرتے ہيں جو چيز خود
نہيں جانتے اس ميں ان لوگوں کي طرف رجوع کرتے ہيں جو جانتے ہيں اب يہ
الگ بات ہے کہ دين ايک ايسا شعبہ ہے کہ جس ميں کوئي قبول کرنے کے لئے
تيار نہيںہے کہ ميںنہيں جانتا بعض اوقات پوچھتے ہيں جي پاکستان ميں
مجتہد کوئي نہيں ہے حالانکہ آج تک پاکستان ميں غيرمجتہد نہيں ديکھا
کوئي سب ہي تو مجتہد کوئي کہے کہ ميں دين نہيں سمجھتا ايک آدمي کہہ دے
مجھے دين سمجھ ميں نہيں آيا ميں جاہل ہوں ميں نادان ہون اور سب کہتے
ہيں ہم سمجھتے ہيں۔ مرجع تقليد اس کو کہتے ہيں مرجع تقليد ولي نہيں ہو
تاريک علميت کي بنائ پر اس کو افتائ کا حق ہے۔افتائ يعني فتويٰ دے سکتا
ہے فتويٰ دينا دليل کے مطابق حکم بيان کرتا ہے يعني يوں کہتا ہے کہ اس
دليل سے مجھے يوں ميں نے سمجھا اور اگر عام آدمي اس کے اس فہم کو لے لے
يہ تقليد ہوجائے گي اس کي کافي ہے دونوں کے لئے مرجع تقليد ذمہ دار
نہيں ہے کہ اس کے فتويٰ پرکوئي عمل کرے يا نہ کرے ممکن ہے وہ ہزار فتوے
دے کر رکھ لے اپنے پاس کسي کو نہ دے حق ہے اس کو دو ہزار فتوے دے کر
کسي کو دے دے اور وہ آدمي جو لے کر چلا گيا ہے اب ان فتووں پر عمل
کررہا ہے يا نہيں کررہا مرجع تقليد نہيں ہے ذمہ دار اس کا کررہا ہے تو
خود اپنے لئے نہيں کررہا تو بھي اپنے لئے اگروہ اس کو آکر کہے آغا ميں
نہيں کررہا آپ کے فتاويٰ پر عمل وہ کيا کہے گا اس کو نہيں کررہے تو
نہيں کريں بقول فارسي زبان پر نہيں کررہے تو برو جہنم۔ جہنم اگر نہيں
کررہے تو کيا کرسکتا ہوں تمہارے لئے ليکن جودين کا ولي ہے نہ دين کا
مفتي جو دين کا ولي ہے اس کا کام فقط فتويٰ دينا نہيں ہے اس کا کام حکم
خدا کو نافذ کرنا وہ ذمہ دار ہے اس کو اس کو نہيں کہہ سکتے کہ آغا ميں
نہيں کرتا اس پر عمل يہ دو ہزار فتاويٰ پر عمل نہيں کرتا وہ ذمہ دار ہے
نفاذ دين کا نہ فقط علمي مہارت کے ذريعے سے دليل کے ذريعے سے حکم شرعي
استنباط کرلے اور اس کا وظيفہ ختم بلکہ يہاں سے اس کا وظيفہ شروع ہوتا
ہے چونکہ فقيہہ ہے چونکہ دانشور ہے سمجھتا ہے مسائل کو اب جبکہ سمجھتے
ہو تمہيں ولايت حاصل ہے جو کچھ سمجھتے ہو اسے نافذ کرو ۔ دين اسلام ايک
نظام ہے اسلام کے اندر مختلف نظامات ہيں نظام ہميشہ نظام پڑھنے سے تعلق
نہيں رکھتے جہاں بھي نظام ہو کوئي يوں نہيں کہ ہم اس نظام کو
پڑھ رہے ہيں بس اس نظام کا حق ادا کررہے ہيں جمہوريت ايک نظام ہے
پاکستان اس وقت تک جمہوري ملک نہيں بنے گا جب تک اس ميں جمہوريت پڑھائي
جاتي ہے بلکہ اس وقت جمہوري بنے گا جب اس ميں جمہوريت نافذ ہوجائے ہم
لوگ اس وقت تک مسلمان نہيں ہيں جب تک اسلام پڑھ رہے ہيں کوئي اسلام
پڑھنے سے تھورا ہي مسلمان ہوجاتا ہے جب تک دين نافذ نہ ہوجائے۔ دين
نفاذ کے لئے ہے نہ پڑھنے کے لئے اگر پڑھنے کا حکم ہے تو اس کے لئے نفاذ
تک نوبت جا پہنچے نافذ کرنا ہے ورنہ پڑھ لکھ کر مہارت حاصل کرکے انسان
اپنے آپ کو فارغ سمجھے کہ ميں نے اپنا فريضہ انجام دے ديا ابھي تو
تمہارا فريضہ شروع ہوا ہے دين کو سمجھ گئے اب نافذ کرو اس کو يہ ہے
ولايت پس فقيہہ کي ولايت عالم واجب شرائط مجتہد جامع الشرائط کي ولايت
وہي استمرار ہے ولايت معصوم کا يہ وہ معصوم کي ولايت در حقيقت مکتب ہے
خالق سے اسي کا حصہ ہے يہ اسي کا مظہر ہے وہيں سے ہے يہ ولايت اگر کوئي
ولايت خدا سے نکل گيا اور پھر بھي اپنے آپ کو کو مسلمان سمجھے ولايت
خدا سے نکل شيطان اس نے کہا کہ ميں ولايت خدا سے نکلتاہوں امر خدا کو
قبول نہيں کرتا رحيم ہے مرجوم ہے اگر کوئي ولايت رسول اللہ
۰
سے نکل جائے اگر کوئي ولايت معصوم ٴ سے نکل جائے اور پھر بھي دعويٰ
مسلماني کرتا ہو کيسے وہ مسلمان ہے ممکن نہيں ہے اور اسي طرح اگرمعصوم
کے نامزد ولي کي ولايت سے کوئي باہر نکل جائے اور پھر دعويٰ مسلماني
کرتا ہو يہ بھي نہيں صحيح ۔ سريح حديث ہے امام کي کہ يہ ہماري طرف سے
تم پر حجت ہيں ہم خدا کي طرف سے حجت ہيں جو ان کو رد کرے گا جھٹلائے گا
اس نے ہميں جھٹلايا اور جو ہميں جھٹلائے گا وہ ايسے ہے جيسے خدا کو
جھٹلايا پس يوں نہيں کہ انسان غير جانبدار بن کر رہے کہ ولايت فقيہہ
ايک ايراني مسئلہ ہے خوب ولايت فقيہہ ايک ايراني مسئلہ ہے تو رسالت ايک
حجازي مسئلہ ہے اس کا کيا تعلق ہے برصغير سے سوال يہ کرتے ہيں کہ ہم
ولايت فقيہہ سے کيسے منسلک ہوسکتے ہيں ولايت فقيہہ تو ايک ايراني چيز
ہے خوب رسالت سے کيسے منسلک ہوگئے امامت سے کيسے منسلک ہوگئے جو سرزمين
حجاز سے سيکھا آپ نے وہيں پر اعلان ہوا وہيں سے لوگوں سے سيکھا وہيں پر
جارہو اس کا وہاں مشکل نہيں آئي اسلام تو کسي سرزمين کا نہيں ہوتا يعني
اسلام کي کوئي شق کسي سرزمين کي نہيں ہے يعني اسلام جغرافيہ کو تحمل
نہيں کرتا قبول نہيں کرتا اب آخري خطبہ رسول اللہ کا مشاہدہ فرمائے چار
خطبے اس حجہ الوداع ميں حضرت نے بيان فرمائے تھے معروف ہيں بعض نے کہا
ہے کہ چار سے بھي زيادہ تھے منيٰ ميں بيان فرمايا عرفہ ميں بيان فرمايا
مسجد حنيف ميں بيان فرمايا اور آخري غدير ميں بيان فرمايا اس غدير کے
خطبے ميں حتيٰ ايک جملہ ہميں صرف معلوم ہے مثلاً اسي محفل ميں اگر ہو
کسي سے پوچھو کہ خطبہ غدير پڑھ کر سناديں تو يہ کہے گا ’’ من کنت مولاہ
فھذا علي مولاہ‘‘ تو رسول اللہ نے منبر پر چڑھ کر فقط يہي کہا تھا ’’
ايھا الناس من کنت مولاہ فھذا علي مولاہ‘‘ اور پھر بيٹھ گئے آيا يہي
تھا بس اتنا سا کام تھا ايک مفصل خطبہ ہے اس سے پہلے بھي ايک بڑا حصہ
ہے اور اس کے بعد بھي اس کا ايک دراز حصہ ہے وہ نہيں ہميں معلوم کہ وہ
کيا ہے ؟ اور ان جملات کي قيمت بھي اتني ہے جتني اس ايک جملے کي ہے ان
کو پڑھيں اس ميں سارے امتيازات حضرت نے نفي کے لئے بتايا جغرافيہ ، رنگ
، نسل ، قوميت ، قبيلہ يہ ساري چيزيں يہ بت ہيں ان کو توڑو ان ميں نہ
گرفتار ہوجاو دين کي قلم اور جو ہے وہي ديني حکومت کي قلم رو ہے۔ دين
کي قلم رو جغرافيائي ہے؟ يعني دين ہندي ہے يا حجازي ہے بقول مرحوم
اقبال کے کہ ’’ نغمہ ہندي ہے ميرا تو کيا ہے لے تو حجازي ہے ميري ‘‘
اگر نغمہ ہندي ہو اور اس ميں لے حجازي ہو تو وہ حجازي نغمہ ہوجاتا ہے
دين کي قلم رو کيا ہے دين کہاں کا ہے کس خطے کا ہے ؟ آپ بتائيں دين
عربوں کا ہے دين مکے کا ہے دين مدينے کا ہے دين عراقي ہے دين لبناني ہے
دين ايراني ہے دين کہاں کا ہے آپ ايڈريس بتائيں دين کہاں کا ہے ۔ دين
خدا کا ہے دين بشر کے لئے ہے جس سرزمين سے ظہور ہو اس سرزمين کا ہو
نہيں جاتا خدا کا دين ہے بشر کے لئے ہے بشر جس براعظم ميں ہو جس خطے
ميں جس جزيرے ميں ہو جس ملک ميں ہو وہ دين کا وارث ہے اتنا ہي جتنا
حجازي وارث ہے دين کے سارے حصے ايسے ہيں دين حکومت کي قلم رو بھي نہ
حجاز ہے نہ شام ہے نہ ايران ہے نہ لبنان ہے دين حکومت اس کي قلم رو ہے
اعتقاد ، ايمان اگر دين کے دائرے ميں ہيں قلم روي حکومت دين ميں ہيں آپ
خوب کيسے مرجعيت اس کي کوئي قلم رو نہيں ہے جغرافيائي کي سرزمين کا
آدمي ہو کسي سر زمين کے مفتي کے فتويٰ پر عمل کرے ٹھيک ہے جب ولايت
آجائے حکومت آجائے تو بھي ايسے ہے ديني حکومت کي قلم رو سرزمين نہيں ہے
فرض کرليں کہ آج معصوم کي حکومت ہو اور معصوم ايک خاص سرزمين پر ہوں
اور سر زمين کے دوسرے خطے پر امريکہ کا قبضہ ہو اور جيسا امريکا تو
ہماري جنت ہے خدا کي جنت ادھار ہے زميني جنت نقد ہے آج ويزا لو جنت ميں
پہنچ جاو بڑے بڑے ديندار ان کي آرزو يہ ہے جنت ملے يا نہ ملے امريکا کا
ويزہ
ضرور ملے ايک دفعہ ديکھ کر آجائيں کوشش ہے اکثر مسلمان جب حضرت کا ظہور
ہوگا تو بہر سارے حضرت کے منتظرين امريکہ ميں ہوں گے دشمن امام زمانہ
ميں اس سرزمين پر ہوں گے اور سر زمين حجاز ميں مکہ ميں حضرت کي حکومت
تاسيس ہوگي قائم ہوگي اس دن آپ کيا کريں گے امريکا ميں رہ کر اس گفتگو
ميں پڑجائيں گے وہ تو سرزمين اور ہے ہمارا تو جغرافيہ اور ہے ہم تو آج
جارج بش کي حکومت ميں ہيں ہم تو يہاں پر امريکي آئين کي اطاعت کرتے ہيں
امريکي آئين ميں لکھا ہوا ہے لباس نہيں پہننا ہے حجاب نہيں کرنا ہے آپ
کو آيا کريں گے اس دن اس دن کس کي حکومت ميں شمار کريں گے اپنے آپ کو
حضرت حجت کي حکومت ميں ہوں گے يعني دين کي حکومت ميں ہوں ليکن اس کے
معني يہ نہيں ہے کہ دوسري سرزمينوں پر جو حکومتيں ہيں مثلاً ايک حقيقي
مثال کے ساتھ گفتگو کريں سمجھ ميں آئے بات ہم پاکستان ميں ہيں سوال بھي
کيا جاتا ہے کہ ہم پاکستان ميں رہ کر کيسے ولايت فقيہہ سے تمسک رکھ
سکتے ہيں درحاليکہ يہ ايراني حکومت ہے اور ہمارے خود پہلے سے ايک حکومت
موجود ہے ہم کيا کريں اس ميں کوئي تضاد ہے يعني ہم اس حکومت سے نکل کر
اس حکومت ميں چلے جائيں اگر حکومت نہ ہو بر فرض امام معصوم موجود ہوں
ليکن حکومت نہ ہو جيسا کہ تاريخ ميں رہا ہے ايسے امام معصوم ہيں بغير
حکومت کے ہيں آپ بنو اميہ يا بنو عباس کي حکومت ميں زندگي بسر کررہے
ہيں ان کي حکومتي قوانين ہيں آپ کيا کريں گے؟ معصوم کي حکومت نہيں ہے
ليکن معصوم موجود ہيں آپ ہر اس مسئلے ميں حکومت کے قوانين کا احترام
کريں گے جو دين کے خلاف نہيں ہيں حتيٰ ايک غير مسلم حکومت ہے چلے جائيں
وہاں کے قوانين کا احترام آپ پر لازم ہے اور يہي امام خميني
۲
جنہوں نے خود حکومت ديني تاسيس کي ديکھيں کس قدر دوسري حکومتوں کے
قوانين کو محترم سمجھتے ہيں ميں ايک واقعہ نقل کرتا ہوں قوانين کے
احترام کا کہ کس قدر آساني سے يہ شخص نہيں آيا حکومت بنانے۔ پيرس ميں
امام کے گھر ميں ايک خاتون تھيں جو پچھلے دورانيے ميں ايراني پارليمنٹ
کي ممبر بھي رہي ہيں‘‘ مرضيہ باغ ۔ ان کا نام ہے ڈاکٹر ہے
P.H.Dيہ
ايک امام کي Cookہو
اکرتي تھيں پيرس ميں ايک يہ خاتون بھي تھيں انہوں نے يہ واقعہ نقل کيا
ہے کہ ايک دن ہم نے گوشت پکايا مہمان آئے ہوئے تھے ادھر ادھر سے گوشت
پکايا اور کھانے کے لئے امام سے بھي کيا دسترخوان بچھايا سب بيٹھے امام
سے بھي کہا کھائيے کھانا کھائيے آگئے امام روٹين ميں جس طرح روزانہ آتے
جا کے بيٹھے ديکھا گوشت پکا ہوا ہے تو امام نے فوراً سوال کيا يہ پيرس
ميں فرانس ميں يہ گوشت کہاں سے آيا؟ ظاہر ہے جب ايک مولانا پوچھتا ہے
گوشت کے بارے ميں تو انسان يہي سوچتا ہے کہ اس کو شک ہو اہے يا نہيں
ذبيحہ ہے يا نہيں ہے حلال ہے يا حلال نہيں ہے ۔ يہي پوچھتا ہوگا چونکہ
ہمارا تقويٰ تو اتنا ہي ہے اس سے زيادہ تو نہيں ہے حلالي و حرام کا
پوچھ ليتے ہيں بہت زيادہ متقي بن جائيں تو کہا کہ ہم نے فوراً فٹ سے
جواب ديا کہ يہ حلال کا ہے تو کہنے لگے يہ حلال کا کہاں سے آيا ہے؟ ہم
نے پھر بتاديا يہ صد در صد حلال ہے اس وجہ سے کہ ہم نے خود ذبح کيا ہے
کہاں کيسے اس لئے کہ ہميں شک تھا کہ يہ لوگ تو صحيح حلال نہيں کرتے اور
يہاں پر جو مسلمان ہميں حتيٰ ان کے ذبيحہ پر شک تھا لہذا ہم نے يہ کام
کيا اور گئے جا کر ايک بکرا خريدا اس کو يہيں پر لے آئے اپنے گھر
ميںاور يہاں پر ہم نے اس کو ذبح کيا کہا کباب بنائے ابھي دسترخوان نوش
جان حلال ہے حلال صد در صد حلال ۔ امام نے عبا قبا سميٹي اور اٹھ کر
کہا خداحافظ کہا اب کيوں جارہے ہيں اب تو ثابت ہوگيا حلال ہے فرمايا کہ
آپ کو نہيں معلوم کہ اس ملک کا قانون ہے کہ آپ جانور اپنے گھر ميں ذبح
نہيں کرسکتے۔ کيا قانون ہے کيوں قانون کي خلاف ورزي کي؟ چونکہ يہ قانون
کے خلاف ذبح ہوا ہے لہذا ميں اس کو ہاتھ نہيں لگاوں گا اٹھ کر چلے گئے
وہ شخص اس قدر قانون کا احترام نہيں کھايا اپنے گھر ميں کوئي ديکھ بھي
نہيں رہا ہے کوئي فرنچ وہاں نہيں بيٹھا ہوا ہے کوئي اخباري رپورٹر نہيں
ہے يہ تو بالکل گھر کے اندر کے افراد ہيں يوں نہيں ہے کہ ہو ملائے مسجد
اٹھ کر انقلاب لے آئے انقلاب لانے کے لئے اپنے اندر پہلے انقلاب لانا
پڑتا ہے پھر باہر انقلاب آتا ہے پہلے اپنے اوپر سلام نافذ کرنا پڑتا
ہے۔ لہذا جو قانون آپ کے ہيں وہ محترم ہيں واجب ہے ان قوانين کا احترام
قانون شکني حرام ہے يہ طے ہے قانون کوئي بھي نہيں توڑ سکتے آپ کسي ملک
کا بھي اور جب بہنے کا ہو بدرجہ اولي نہيں توڑ سکتے اس کو يہ سرزمين ہے
آپ کي يہ سرزمين ہے ہماري آپ اسي سرزمين کے فرزند ہو يہ مادر ہے اس کي
حفاظت اس کا دفاع داخلي دشمنوں سے اور خارجي دشمنوں سے اس کا دفاع کرنا
لازم ہے يوں تو نہيں ہے کہ اسلام بغاوت سکھاتا ہے اپني سرزمين کے خلاف
اپني حکومت کے خلاف نہ البتہ اگر يہاں ايک قانون ايسا ہے جو اسلام کے
خلاف ہے ضرور اسلام اسلام کے منافي ہے وہ پھر کہيں بھي ہو نہ صرف اس
سرزمين کہيں بھي ہو دين کے خلاف ہے ضد اسلام اسلام کے منافي ہے وہ پھر
کہيں بھي ہو نہ
صرف اس سرزمين کہيں بھي ہو دين کے خلاف جو قدم ہوگا وہ برداشت نہيں
کرسکتے لہذا ولايت کے ساتھ تمسک يوں نہيں کہ ہم چونکہ اس سرحد ميں نہيں
ہيں اس سرحد ميں دو چيزيں ہيں ايک ولايت ہے ولايت فقيہہ سرحد کے اندر
اور ايک ولايت فقيہہ کے زير سايہ بني ہوئي حکومت ان دونوں ميں ہميں فرق
کرنا چاہئيے ايران گورنمنٹ اور چيز ہے ولايت فقيہہ اور چيز ہے اور چيز
ہونے سے يہ مراد نہيں کہ آپس ميں مقابلے ميں ہيں متضاد ہے نہ گورنمنٹ
يعني ايک انتظاميہ وہاں کي سرزمين کے لئے اس انتظاميہ سے ہمارا کوئي
تعلق نہيں ہے اس معني ميں کہ ہم اس انتظاميہ کے زير انتظاميہ نہيں ہيں
انکا شناختي کارڈ نہيں ہے ان کا پاسپورٹ نہيں ہے وہ ايک سرزمين ہے اس
کے انتظامات الگ ہيں جيسا کہ خود اس کے اندر اس کے مختلف صوبے ہيں يہ
صوبے کا انتظاميہ جدا ہے خودايران کے ہيں دوسرے صوبے ميں چلے جائيں
اس کے دوسرے صوبہ کا آدمي وہاں کي انتظاميہ اس کو قبول نہيں کرتي جب تک
وہ اس ميں شفٹ نہ ہو جيسے يہاں پاکستان ميں ہے اگر کوئي پنجاب کا آدمي
يہاں سے جاتاہے تو يہاں سے پہلے مائي گريٹ ہوتاہے مائيگريشن کرنا پڑتي
ہے پھر جاتا ہے اس کو قبول کرناے چونکہ صوبے کي انتظاميہ اپني اپني ہے
ايک ہي ملک ميں ہيں ليکن صوبے کا انتظامات اپنے اپنے ہيں ليکن باوجود
اس کے کہ انتظامي حالات
ليکن سب کے سب ايک گورنمنٹ کے تابع ہيں تو گورنمنٹ بھي ايک انتظاميہ ہے
جس کو سونپا گيا ہے کہ اس زمين کے اندر انتظامات تم نے انجام دينے ہيں۔
ليکن ولايت کا تعلق وسيع ہے ولايت گورنمنٹ سے کہيں زيادہ وسيع ہے
گورنمنٹ اس ولايت کا ايک جز ہے وہاں کي وزارتيں اس ولايت کا ايک جز ہے
ليکن وہ بہت وسيع ہے وہ ولايت سرحدوں سے باہر ہے گورنمنٹ سرحدوں کے
اندر ہے البتہ فرق ہے تمسک ميں جو سرحدوں سے باہر رہ کر ولايت سے تمسک
ہے اور جو سرحد کے اندر رہ کر تمسک چونکہ آپ کو اپنے قانون کا احترام
کرنا ہے اس ميں رہ کہ آپ کو ولايت سے متمسک ہونا ہے ولايت يعني رہبري
اور اس سرزمين پر ہو بھي رہا ہے اس سرزمين پر رہ کر اسماعيليوں کا رہبر
آغا خان ہے جو دستور دے ديتا ہے ہوتا ہے اور اصلاً پاکستان کے قانون سے
نہيں ٹکراتي کوئي چيز نہ اسے يوں کہتے ہيں کہ اسٹيٹ کے خلاف ہے نہ اسے
کہتے ہيں کہ يہ غدار وطن ہے نہ اسے کہتے ہيں کہ يہ محب وطن نہيں ہے نہ
سارے اسماعيلي محب وطن ہيں بلکہ وہ تو اتنے محب وطن ہے کہ جب يہاں
اسماعيل خان آتے ہيں يہاں آغا خان آتے ہيں تو ہمارا پريزيڈنٹ جاتا ہے
ائرپورٹ پر ان کو لينے کے لئے جبکہ اس کي کوئي حکومتي حيثيت نہيں ہے يہ
خود غداري ہے وطن کے ساتھ کہ ہمارا ايک پريزيڈنٹ ہو پاکستان کا اور وہ
جائے ايک غير پريزيڈنٹ کے استقبال کے لئے يہ پاکستان کي توہين ہے اس
ميں چونکہ سارے ملکوں کا يک پروٹوکول ہوتا ہے ليکن پھر بھي جاتے ہيں
برہان الدين بوہر يوں کے جو رہبر ہے پيشوا سارے بوہري قوم ان کے تابع
فرمان ہيں اس سے کوئي مشکل پيش نہيں آتي اس کے اند ريہاں ليکن مشکل
شيعہ کو پيش آجاتي ہے کہ جب وہ اپنے رہبر سے وابستہ ہو اپنے ولايت سے
وابستہ ہو اس کو مشکل پيش آجاتي ہے يہاں کيوں مشکل پيش آتي ہے۔بلکہ
مشکل حل ہوتي ہے نہ کہ مشکل پيش آتي ہے بشرطيکہ ہميںپتہ چلے مفہوم
ولايت کيا ہے؟ رہبري، امامت مرکزيت چونکہ ہم نے سمجھا ہوا ہے بعض اوقات
تو ہم ايسے مقام تک جاپہنچتے ہيںکہ معاذاللہ خدا کے بغير بھي دين رکھا
جاسکتا ہے يعني ایک انسان جو اصلاً توحيد پر اعتقاد نہيںہے ليکن اپنے
آپ کو مسلمان سمجھتا ہے ظاہر ہے ايسي سرزمين جس پر خداکے بغير بھي دين
ہوسکتا ہے وہاں ولایت کے بغير متّدين ہونا کوئي دور کي بات نہيں ہے يہ
وہ چيزيں نہيں ہیں جو دين سے باہر ہوں فضول ہوں یا مستحبات ہوں يہ
ارکان دين ہيں اس کے بغير تدين کيسا ہے ناممکن ہے بہت سارے شعبے ہيں
ولايت کے بحث ولايت کے يہ ولايت ديکھيں ايک طرزحکومت ہے ديني نظريہ ہے
آپ خود يہاںسے ديکھ ليں کہ کس قدردين مہجور واقع ہوا ہے کس قدر دين
مظلوم واقع ہوا ہے کہ دين کا ايک اہم ترين حصہ اور دين کا ايک اہم ترين
نظام حکومت صديوں سے مہجورومتروک رہاہے اور اس قدر کے آج بيان کيا گيا
تو ذہنوں ميں آيا کہ گويا يہ تو نئي بات ہے دين کا حصہ ہي نہيں ہے
الميہ کا اندازہ يہاں سے ہوتا ہے مثلاً جب حضرت اميرٴ کي شہادت ہوئي
مسجدکوفہ ميں خبر شام ميں پہنچي شام ميں آپ کو پتہ ہے بنو اميہ کي
حکومت ہے لوگوں نے پوچھا خوب دلچسپي تو تھي آج جيسے مثلاًکوئي بڑا دشمن
اپنا مرجائے تو سب انسان پوچھتے ہيں کيسے ہوا دلچسپي ليتے ہيں خوب عليٴ
شاميوں کیلئے ايک بہت بڑے حريف ايک بہت بڑے دشمن کے طور پرجانے جاتے
ہيں لہذا سب کو دلچسپي تھي کہ کيسے شہيد ہوئے کيسے قتل ہوئے پوچھتے تھے
ايک دوسرے سے کہاں ہوا يہ قتل جواب ملتا مسجد ميں
اس قدر شامي حيرت سے پوچھتے اس قدر حيرت سے پوچھتے کہ علي ٴ کا مسجد
ميں کيا کام کل عرض کيا تھا بہت مظلوم ہيں علي ٴ بہت مظلوم امام ہيں
علي ٴ اپنوں ميں بھي بہت مظلوم ہے علي ٴ بيگانوں ميں بھي بہت مظلوم ہے
حقيقت ہے علي ٴ کو دشمن بھي ملے بہت خونخوار اور علي ٴ کو حامي بھي ملے
تو بہت نادان کہا کہ علي ٴ کا مسجد ميں کيا کام ہے؟يعني مسجد اور علي ٴ
اس شام ميں متعارف کروايا گيا تھا يہ تعارف تھا جو بعضوں نے علي ٴ کا
کروايا تھا شاميوں کو يہ افسوس ہوا خوب آپ يہيں سے سمجھ ليجیے يہ اسلام
ہے جو ہميں متعارف کروايا گيا ہے کہ آج جب بات ہوئي ولايت کي حکومت کي
توہم کہتے ہيں ولايت کا اور سياست کا حکومت سے کيا رابطہ اسلام سے کيا
رابطہ يہ کونسا اسلام ہے جو ہميں متعارف کروايا گيا يہ وہي تعارف ہے جو
علي ٴ کا شام ميں کروايا گيا تھا اس کو سن کر لوگ حيرت ميں پڑگئے کہ
علي ٴ اور مسجد کيا داستان مظلوميت ہے يہ علي ٴ جو پيداہي کعبے ميں
ہوئے خانہ خدا ميں پيدا ہوئے علي ٴ جنکا نور عين نماز ہے جس طرح رسول
اللہ
۰
نے فرمایا کہ ’’قرۃ عيني في الصلوۃ‘‘يہ سب کا فرمان ہے سب کا قول ہے يہ
’’قرۃ عيني في الصلوۃ‘‘نماز ہماري آنکھوں کي ٹھنڈک ہے نماز کے وقت راحت
ہوتے ہيں نمازان کو آسودہ کرتي ہے يہ پيغمبراکرم
۰
کا فرمان ہے’’ارھني يا بلال‘‘وقت نماز جب ہوتا تھا اس قدر شدت سے
انتظار ہوتا تھا اور اضطراب ہوتا تھا رسول اللہ۰
پر طاري کہ کب زوال ہو اور ميں بارگاہ خدا ميں حاضر ہوں لہذا
فوراًفرماديتے ’’ارھني يا بلال‘‘جلدي کر و بلال اذان دو يہ سب معصومين
کہا کرتے تھے وہ علي ٴ جب شہيد ہوں تو انکے بارے ميں کہا جائے کہ علي ٴ
کا مسجد سے کيا تعلق ہے؟خوب آج پتہ چلتا ہے ہو سکتا ہے يہ کام
واقعاًسمجھ نہيں آتي تھي يہ بات ہم سمجھتے ہيں کہ شايد آج کسي نے بنادي
يہ بات جھوٹي بات ہوگي کب ہوسکتا ہے ايسا کہ علي ٴ جيسي شخصيت کے بارے
ميں کوئي شک کرنے لگے کہ مسجد اور علي ٴ کا کيا تعلق ہے ليکن آج جب ہم
ديکھتے ہيں جب حکومت کي بات ہو توکہتے ہيںاسلام کا حکومت سے کيا
تعلق؟تو بات سمجھ ميں آجاتي ہے کہ ہو سکتا ہے اتنے شبہات بھي ڈالے
جاسکتے ہيں اسلام سے اتنا لوگوں کو دور کيا جاسکتاہے کہ بالکل حيرت ميں
پڑ جائيں يہ اسلام اور سياست، اسلام ا ور حکومت ،اسلام اور ولايت يہ
ہوسکتا ہے اور ہوا ہے گم شدہ اگر اسلام ہو مدفون اسلام ہو اس ميں يہ سب
کچھ ہوسکتا ہے اور ہوا بہت سارے سوالات آپ کے ذہنوں ميں موجود ہيں
ولايت فقيہ يا امامت يا ولايت ديکھيں ہم دين کے ساتھ ايک بہت ناروا
سلوک کرتے ہيں معلوم نہيں اس سلوک پر بخشے جائيں گے يا نہيں وہ سلوک يہ
ہے کہ ہم دين فہمي ،دين شناسي کیلئے جو وقت نکالتے ہيں وہ ايک مجلس ميں
جا بيٹھے اسکا ايک ٹاپک رکھ ديا اور توقع يہ ہوتي ہے کہ يہيں پر حل
ہوجائے يہ خطيب شروع کرے بسم اللہ اور آخر ميں جب والسلام کہے تو يہ
ٹاپک ہمارے لئے بالکل کھل کے روز روشن کي طرح ہوجائے کيوں اس کے علاوہ
وقت نہيں ہے ہمارے پاس جاکے ورلڈ کپ ديکھنا ہے ہميں ڈرامہ ديکھنا ايک
ويڈيو ليکر آئيں ہيں اس کو ديکھيں گے آج ويک اينڈ ہے آج فيملي کو پارک
ميں لے کے جانا ہے فرصت نہيں کہ ہم دين پڑھيں ہم کون لوگ ہيں ہم کونسي
مخلوق ہيں ہم کيا کررہے ہيں کل بھي عرض کيا کہ دين کو سامعين کے طور پر
نہ سنيں دين کو طالبعلم دين کے طور پر حاصل کريں اور پڑھيں شاگرددين
بنيں سب اپنے اپنے گھروں ميں جہاں ہيں شاگرد دين بن جائيں اور اسکو وقت
ديں دين وقت مانگتا ہے فہم کیلئے سمجھ کیلئے عمل کيلئے يوں نہ کہيں کہ
چند آدمي مدرسوں ميں بيٹھے ہوئے ہيں ہماري نيابت ميں دين سيکھ رہے ہيں
وہ جب سيکھ کر آجائيںگے ہمارا کام بھي چلے گا انکا بھي کام چلے گا خوب
اچھي بات ہے وہ آپ کو دورکعت نماز پڑھائيںگے آپ ان کو دو ٹائم کي روٹي
ديدو گے ليکن دين دونوں کا چھٹي پر ہے نہ اسکا نہ اسکا کبھي آپ نے يہ
کہا کہ ميرے پاس فرصت نہيں ہے سانس لينے کي اور يہ مولانا جو سانس لے
ہي رہاہے ابھي تو ميں کيوں سانس لوں کبھي کہا کہ يہ مولانا کھانا
کھارہاہے مجھے کيا ضرورت ہے کھانا کھانے کي آج تک کہا ہے ہم نے نہيں
مولانا کھائے یا نہ کھائے ہم نے ضرورکھانا ہے اس لئے کہ جب ميں کھانا
کھاؤں گا تو ميں زندہ رہوںگا مولانا کے کھاناکھانے سے ميں زندہ نہيں رہ
سکتا تو جب آپ کھانا کھائيںگے تو آپ زندہ رہيںگے مولانا کے کھانا کھانے
سے آپ زندہ نہيں رہ سکتے تو دين بھي جب خود سيکھو گے اپناؤ گے تو
ديندار بنوگے مولانا کے سيکھنے سے آپ ديندار نہيں بنو گے خود دين سيکھو
وقت نکالو اس کیلئے مقصود ہرگز يہ نہيں ہے کہ آپ ترک زندگي کرکے مدرسے
ميں آجائيں نہ چونکہ باقي کام ہم ترک کرکے نہيں جاتے اپنے گھر ميں سارا
کچھ مثلاً آپ ميں سے کچھ لوگ کرکٹ بہترين کھيلتے ہيں کہاں سے سيکھي ہے
يہ ويسٹ انڈيز ميں گئے ہيں ؟يہيں اسي لاہور کي گلي ميں سيکھ لي چھٹي سي
گلي ميں جہاں بلا مارنے کا بھي ماحول نہيں تھا ليکن وہاں سيکھ ليا ہم
نے نالي کے کنارے پر تو جب اتني تنگ گليوں ميںبلا چلانا سيکھ ليا تو
اپنے کمرے ميں بيڈروم ميں دين تو سيکھسکتے ہو آپ فساد فاحشہ تو
وہيںسيکھتے ہيں ہم نغمے
گانے وہيں بيٹھ کر سنتے ہيں ڈرامے فلميں اسي ڈرائنگ روم ميں سيکھتے ہيں
تو دين بھي اسي ڈرائنگ روم سيکھا جاسکتا ہے ديني مسائل بھي اتنے ہيںوقت
ديں دين کے شاگرد بن جائيں ي موضوعات اس وقت حل ہوںگے اتني سي فرصت ميں
ولايت کا صرف تعارف کروايا جاسکتا ہے ولايت نہيں بيان کي جاسکتي نہ
ولايت فقيہ اور نہ ولايت معصوم اور نہ ولايت خداوقت نکاليں اس کیلئے
بہت سارے سوالات آپ کے ذہنوں ميں موجود ہيں ليکن انکاراہ حل يہ نہيں ہے
کہ يہاں پر آکر ہاں یا نہ ميں ایک جواب لے ليں راہ حل يہ ہے ولايت فقيہ
پر الحمداللہ کافي مواد چھپا ہوا ہے اور کافي مقدار اردو ميں بھي منتقل
ہوچکا ہے پہلے تو يہ ہماري کمزوري ہے آپ کہيں اب ہم فارسي سيکھيں عربي
سيکھيں خوب جي ہاں انگلش سيکھ سکتے ہيں تو يہ زبانيں بھي سيکھ سکتے ہيں
اگر پدري زبان سيکھ سکتے ہيں تو ہم مادري زبان بھي سيکھ سکتے ہيں ديني
زبان بھي سيکھ سکتے ہيں سيکھنا چاہیے ہميں کيوں انگلش کيوں سيکھي آپ نے
ملازمت کیلئےstatus
کیلئے تو دين ملازمت جتني بھي حيثيت نہيں رکھتا ہمارے لئے کتنے پيسے
لگائے آپ نے اس زبان کو سيکھنے کیلئے دوسري زبانيں تو فري ميں مفت ميں
سيکھيں آپ دين کي زبان کم ازکم سيکھيں تاکہ آپ کے مطالعے کي دنيا بڑھے
ابھي جب انگلش سيکھتے ہيں انگلش ميں آپ کو ناول تو بہت مليںگے دين کا
مواد نہيں ہے اس ميں انگلش کلچر تو ملے گا آپ کو يورپين کلچر توملے گا
آپ کو ليکن دين نہيں ملے گادين کي زبان سيکھيں دين بھي سيکھيں کلچر بھي
دين کا سيکھيں لہذا ميرا مشورہ مطالعہ ہے آپ کو کتاب رکھيں ہر آدمي
مثلاً کريں کہتے ہيں کہ فلاں ذاکر نے کربلا کے واقعات يوں پڑھے فلاں نے
يوں پڑھے ميں اکثر ان سے يہ پوچھتا ہوں جو سوال کرتے ہيں کہ فلاں ايسا
کہتا ہے فلاں ايسے کہتا ہے آپ بتاؤ کہ آپ کہا کہتے ہو ؟ہم تو کچھ بھي
نہيں کہتے ہم تھوڑي کربلا ميں تھے يعني آپ نے نذر کي ہوئي ہے کہ ہم نے
صرف ذاکروں سے کربلا سننا ہے کيمسٹري کس ذاکرنے آپ کو سنائي ہے رياضي
کس اسٹيج سے آپ نے سني ہے کہتے يہ تو اسکول ميں پڑھا ہے ہم نے يعني
کربلا ايک اسکول کے ايک موضوع کے برابر بھي حيثيت نہيں ہے کربلا کي کہ
ہم کم ازکم ايک مقتل کي صحيح کتاب پڑھ ليں عمر گزر جاتي ہے یاحسينٴ يا
حسينٴ کرتے ہوئے صرف ي رکھا ہوا ہے کہ ہم سنیں لوگوں سے يہ نہيں ہے
معقول طريقہ شاگرد دين بنيں کوئي ننگ نہيں ہے کوئي عار نہيں ہے يہ کہنے
ميں کہ مجھے معلوم نہيں ہے اور ميں سيکھوں گا امام خميني۲
مرجع ہوتے ہوئے فقيہ ہوتے ہوئے پھر بھي ہميشہ يہ کہتے تھے ميں ايک
طالبعلم ہوں اور يہ کوئي انکسار نہيں تھا يہ واقعيت تھي يہ نہيں تھا کہ
بڑے تھے اور اپنے آپ کو چھوٹا کرکے پيش کرتے تھے نہيں واقعيت کہتے تھے
کہ ميں ايک طالبعلم ہوں جب اتنا بڑا فقيہ کہہ سکتا ہے ميں طالبعلم ہوں
تو ہم بدرجہ اوليٰ دين کے طالبعلم ہيں ان موجوعات کو اس طرح سے حل کيا
جاسکتا ہے کتابوں سے الحمداللہ کافي مواد ہے البتہ ايسي محفليں ايسي
مجالس رہنمائي کیلئے خوب ہوتي ہيں دو روزہ گفتگو کا نتيجہ يہ نہيں کہ
ہم اول وآخر ولايت سب حل کرکے اٹھیں نتيجہ کيا لينا تھا آيا وہ حاصل
ہوا یا نہيں ہوا معلوم نہيں ۔اگر وہ نتيجہ حاصل ہوا پ سمجھ ليں کہ کس
حد تک توفيق نصيب ہوگئي ہميں پ کے سوال تھے بہت سے توقعات تھيں ذہن ميں
لے کر ئے پ يہ بھي ملے گا يہ بھي ملے گا جس طرح کيپسول کھاتے ہيں ہم اس
طرح سمجھتے ہيں علم بھي کيپسولوں ميں ہے اور ايک ايک کيپسول ہر سوال کے
جواب ميں ملے گا بس تشفي ہوجائے گي۔ عادت بھي نہيں ہے ميري کہ معلومات
گفتگو کروں کبھي کوشش بھي نہيں کي کہ ميں پ کو زيادہ سے زيادہ معلومات
دوں معلوماتي گفتگو مفيد ہے ليکن ايک خاص طبقے کے لئے ايک خاص مرحلے کے
لئے معلوماتي گفتگو سے مراد يہ ہوتي ہے کہ اگر ايک دمي واقعاً پياسا ہے
پتا چل رہاہے اُس کے ہونٹ ،اُس کا گلا ،اُس کا چہرہ، اُس کي باتيں سب
بتا رہي ہيں کہ بالکل پياسا ہے نڈھال ہونے کے قريب ہے معلوماتي گفتگو
کرو يعني جگ ميں پاني ہے ايک گلاس ميں پاني ڈال کر اُس کو پلادو پياس
بجھ جائے۔ اُس کي يہ معلوماتي گفتگو ہے ليکن اگر ايک دمي ہے جس کو کئي
دنوں سے پياس ہي نہيں لگي پياس نہ لگنا صحت کي علامت ہے يا بيماري کي ؟
بيماري کي علامت ہے کھانا نہيں کھا رہا ہے کئي دنوں سے کھانا نہيں کھا
رہا اگر ايک دمي اگر زيادہ کھانا شروع کردے تو کوئي پريشان نہيں ہوتا
بلکہ والدين خوش ہوتے ہيںماشائ اللہ ،نوشِ جان ، خدا چشم ِ بد سے دور
رکھے ۔ ليکن اگر ايک بچہ دو وقت کھانا نہ کھائے ماں باپ دونوں پريشان
ہوجاتے ہيں فوراً اُٹھا کر ہسپتال لے جاتے ہيں اُس کا علاج کرو ، اِس
کو بھوک نہيں لگتي ۔ اب ڈاکٹر کہتا ہے کہ کے برياني پلاؤ لے ؤ ميں اس
کو کھلاتا ہوں ۔پ لے کر گئے تھے کہ بھئي اِس کو بھوک نہيں لگتي نہ يہ
کہ اس کو کھانا نہيں ملتا اِس کو بھوک لگاؤ، اس مريض کے ساتھ علاج يا
اُس پر احسان کا بہترين طريقہ يہ ہے کہ اُس کو ايسے پڑيا دو کہ اُس کو
بھوک لگ جائے اس کو پياس لگ جائے ہماري مشکل يہ نہيں ہے کہ ہم پياسے
ہيں پاني نہيں ملتا نہ ہماري مشکل يہ ہے پاي کي
تو مشکيں بھري ہوئي ہم پياسے نہيں ہيں کوئي ئے جو ہميں پياس لگا دے اس
وقت جو پياس بجھانے کي کوشش کرتے ہيں وہ ہم پر احسان کررہے ہيں بلکہ وہ
ہم پر احسان کررہے ہيں جو ہميں پياس لگا رہے ہيں ايک دفعہ لگ جائے پياس
پياسا پھر خود ڈھونڈ ليتا ہے کہ مجھے بجھانا کہاں ہے ليکن مصنوعي پياس
ہو پ باہر کوک پي کر ئيں ہيں جو جوس پي کر ئيں مثلاً پ کسي کے گھر ميں
گئے انہوں نے سادہ پاني پ کو دے ديا يا ايک بے مزہ شربت پ کے گے رکھ
ديا دو گھڑے بھر کے رکھ ديا۔ پ کہتے ہو دھوپ ميں ئے ہو گرمي ميں ئے ہو
پاني پي لو کہتا نہيں ميں تھوڑا ہي پاني پيتا ہو زيادہ پاني پينا نقصان
دہ ہے جھوٹي پياس دو گھونٹ سے بجھ جاتي ہے ليکن صحيح پياس جگ بھي پي
جائيں تو نہيں بجھتي کوشش کريں اپنے پ کو پياسا کريں ، تشنہ کريں اپنے
پ کو تسکين نہ دلائيں يعني يہ نہ کہو کہ ايک ايسي چيز موجود ہے مجھے
رام جائے بلکہ کہو کہ مجھے ايسي چيز دو کہ ميں دردمند بن جاؤں۔ ہميں
درد کي دوا نہيں چاہيے بلکہ ہميں درد چاہيے يہ پياس ہے اگر يہ پياس لگي
ہے اس موضوع کے بارے ميں کہيں يا اور مسائل کے بارے ميں اگر تشنگي آئي
ہے اگر اور پياسے تھے تو اور پياسے ہوئے ہيں اگر ايک سوال تھا تو اب دس
ہوگئے ہيں اگر پہلے دس تھے تو اب بيس ہوگئے ہيں اس کا مطلب ہے ہماري
گفتگو خوب ہوئي ہے ليکن اگر چار سوال تھے اب دو رہ گئے ہيں تو اسکا
معني يہ ہے کہ ابھي صحيح بات ہضم نہيں ہوئي ہے
سوال:آپ کي گفتگو سے يہ اندازہ ہوا کہ ولايت کي جو منتقلي ہے وہ اس سے
بڑے درجہ کي جو ولايت ہے اسکے تقرب سے یا اس کے مشخص کرنے سے ہوتي ہے
ليکن جب ہم ديکھتے ہيں ولايتِ فقيہ کے عنوان سے يعني باقي ولايتِ
معصومين ٴ ہيں تو اللہ نے تقرر کرديا، مشخص کرديا کہ فلاں شخص جو ہے وہ
پ کا ولي ہے ليکن ولايتِ فقيہ کے اندر اس طرح مشخص نہيں کيا گيا يا
مقرر نہيں کيا گيا اور جہاں تک امام زمانہ ٴ کي خري جو حديث ہے چوتھے
نائب کو جو اُنہوں نے کہي اُس ميں کئي افراد کا تذکرہ ہے يعني ايک ہي
وقت ميں کئي محدثين ہيں جمع کا صيغہ ہے يعني ايک وقت ميں کئي ولي
ہوسکتے ہيں۔ کئي محدثين ہيں کہ جن کو وہ ولايت منتقل ہوئي اور تقسيم
ہوئي اور ساتھ ہيکہ وہاں پر رجوع کا جو لفظ استعمال ہوا ہے کہ حوادثِ
زوال ميں ان کي طرف ہماري احاديث کے روايوں کي طرف رجوع کيا جائے يعني
اس سے پتا چلتا ہے ک وہ مرجع ہے اور مرجع ہي کو کيوں ولايت حاصل ہے نہ
کہ کوئي الگ عہدہ ولي فقيہ کا ہوتا؟
جواب:۔گفتگو ميں سوال کا جواب پہلے ہوچکا تھا مرجعيت اور ولايت ميں فرق
عرض ہوا ۔ مرجعيت يعني مفتي ايک انسان ہے جو فتويٰ دينے کي صلاحيت
رکھتا ہے اور دے فتويٰ کسي کي مرضي ہے ۔ اُس کے فتويٰ پر عمل کرے يا نہ
کرے۔ ولايت اس کو نہيں کہتے ولايت يعني حکومت مرجع ہر مفتي حقِ حکومت
نہيں ہے وہ جو حديث کي طرف پ اشارہ کررہے ہيں اُس ميں فقہا ئ کي بات ئي
ہے اس کو پورا پڑھيں۔ اُس ميں تعبير ہے ’’ من کان من الفقہا‘‘ اب يہاں
علمائ ہيں اس کو کہتے ہيںمن تبيزيہ نہيں کہا گيا کہالفقہا۔ مِن الفقہا
يعني فقہا ئ ميں سے ايسے فقہا ميںاگر کوئي ہوايسے علمائ ميں سے اگر
کوئي نہ يہ کہ فقہا ہوں التبہ اگر ايک شخص نہيں ملتا تو اُس صورت ميں
بھي تصور ہے نظريہ ہے شوريٰ ليکن اسے مراد يہ ہے کہ ولي ہو پ نے ديکھا
کہ ہر دور ميں ولي فعلي ولي بالفعل يعني ايسا ولي جس کے احکام لاگو
ہوتے ہوں ، حکومت چلتي ہو، فرمان جس کا چلتا ہو وہ ايک ہي ہوتا ہے دو
نہيں ہوتے۔ حتيٰ معصوم ٴ بھي دو ايک وقت ميں حاکم نہيں ہوتے ۔ ايک
معصوم ٴ حاکم ہوتا ہے دوسرا اُس کا ماتحت ہوتا ہے ۔ اميرالمومنين ٴ ،
رسول اللہ
۰
کے ماتحت تھے ۔ امام حسن ٴ اور امام حُسين ٴ حضرت علي ٴ کے ماتحت تھے ۔
لہٰذا حاکم ہميشہ ايک ہوگا حاکم تو دو نہيں ہوسکتے البتہ ايک نظام کے
لئے ممکن ہے جب ايک ولي نہ ملے ايک ايسا دور جائے مثلاً بعض سرزمينيں
ايسي ہيں نہيں ہيں اُن پر حاکم ايک بھي فقيہ نہيں ہے ۔ جيسے پاکستان ہے
مثلاً کہ کوئي فقيہ مجتہد نہيں ہے اس سرزمين پر يہاں پر ممکن ہے ايک
شوريٰ بن جائے چن دميوں کي وہ اُس کا طريقہ کار ہے ليکن يوں نہيں کہ سب
کو يہ ولايت سونپي گئي ہو ولايت صرف ايک کو سونپي گئي ہے ۔ البتہ تشخيص
دينا اُس کو طريقہ کار ہے جس طرح سے مثلاً وہ مجتہدين و اہلِ خبريٰ جو
جانتے ہو مجتہد کي شناخت ، فقيہ کي شناخت رکھتے ہوں وہ ئيں اور کر
بتائيں کہ يہ ہے اور صرف اس ميں فقيہ ہونا کفي نہيں ہے بلکہ اُس مين
شرائط بہت زيادہ ہيں اُس کے لئے وہ سياست رکھتا ہو تدبير رکھتا ہو پورے
نظام سے گاہ ہو دين کو نافذ کرسکتاہو شجاع سب سے بڑي شرط ہے شجاعت سب
سے شرط ہے ، گاہي و دانائي ، بصيرت ورنہ ايسا فقيہ جس نے ايک بند کمرے
ميں بيٹھ کر روات ساري پڑھ لي ہيں ليکن اُس کو يہ بھي نہيں معلوم کہ
يہاں نافذ کيسے کرنا ہے ؟ ملک کا جغرافيہ کتنا ہے ؟ ملک کے ہمسائے ميں
کيا ہے؟ گرمي ، سردي کہاں زيادہ ہوتي ہے ؟ کچھ بھي نہيں پتا اُس کو بس
بيٹھا ہوا ہے
چند احکام جانتا ہے ۔ اُس کو پ اُٹھا کر بنا دو ولي وہ تو خود ايک دردِ
سر بن جائے گا دين کے لئے شجاع ہو ، دشمن سے نہ ڈرنے والا ہو ، جو
فقہائ فتويٰ نہيں ديتے کہ عوام ہماري تقليد چھوڑ جائيں گے ڈر ہے ، خوف
ہے ميرے خوف سے ميں ايک عام دمي ہوں ايک فقيہ ہے مجھ سے ڈرتا ہے ۔ کيوں
ڈرتا ہے مجھے سے ميں کل کو خمس نہيں دوں گا اُس کا ، ميں اُس کي تقليد
نہيں کروں گا ، ميں اُس کا جھنڈا نہيں لگاؤں گا، ميں تصوير نہيں لگاؤں
گا جو مجھ سے ڈرتا ہے ايک عام دمي سے تو جارج بش سے نہيں ڈرے گا ؟ جو
اپنے ہي مذہب کے ايک پيروکار سے اتنا ڈرتا ہے مثلاً خواتين سے ڈرتا ہے
کہ خواتين تقليد چھوڑ جائيں گي۔ خوب اِس کو جب اسرائيل سے مقابلہ کرنا
پڑے ، اِس کو جب امريکا سے مقابلہ کرنا پڑے جو اپنے مقلدين سے اتنا
ڈرتا ہے وہ شجاع ہے ؟فتويٰ دينے کے لئے شجاعت نہيں چاہيے۔ بند کمرے ميں
بيٹھ کر فتويٰ ديتے جاؤ ليکن اِن فتاويٰ کو نافذ کرنے کے لئے شجاعت
چاہيے، تدبير چاہيے، حکمت چاہيے فراوان شرائط ہيں لہٰذا ولايت مافوق
مرجيعت ہے مرجع تقليد يعني مفتي جو فتويٰ ديتا ہے يہ خود اور اِس کے سب
کے سب مقلدين ولي کے تابع ہوتے۔ اگر ولي کا ايک دستورِ ولايت جائے ،
حکومت کا ايک فرمان جائے سب پر واجب الادا ہے تم بيشک ايک بہت بڑے فقيہ
ہو ليکن ولي فقيہ نے کہہ ديا نہيں جانا حج پر، نہيں جاسکتا ولي فقيہ نے
کہہ ديا نہيں کرنا يہ کام نہيں کرسکتا لہٰذا ولايت مافوق ہے يہ خود ايک
ظلم ہے کہ ہم ولي کو کر اتنا اُتاريں مفتيوں کي صف ميں لاکر ديکھيں کہ
يہ بھي مفتي وہ بھي مفتي يہ دين سے دوري کا نتيجہ ہے کہ ج ولي کو لاکر
مفتيوں کے نرغے ميں رکھا ، کل کو معصوم ٴ کو بھي لاکر رکھ ديں گے ۔ نا
يہ ناانصافي ہے جس نے گمشدہ اسلام تلاش کيا اور لا کر متعارف کرايا اور
وہ جس نے اسلام سے عزت لي جس نے اسلام کو کچھ ديا مہجور و متروک اسلام
اس کو سرفرازي ، اُس کو عزت دي ، اُس کو شان دي اور وہ جس نے اسلام سے
کچھ ليا يہ دونوں ايک جيسے ہيں؟ دينے والااور لينے والا ايک جيسے ہوتے
ہيں ؟ کب ايک جيسے ہوسکتے ہيں وہ جو دين کي حفاظت کرتا ہے اور وہ دوسرا
محفوظ دين کے سائے ميں زندگي بسر کرتا ہے يہ دونوں ايک جيسي نہيں
ہوسکتے کتنا ہي بڑا دانشور کيوں نہ ہو۔۔ |