خامنہ اي رہبر ما۔ يہ واقعاً دست خدا ہے يہ اللہ کا ہاتھ ہے اور اگر کوئي چيز پھينک دے توخداوند کا خطاب آتاہے کہ ’’ وما رميت اذ رميت ولا کن اللہ رما‘‘ يہ تو نہيں پھينکا بلکہ خدا نے پھينکا ہے يوں ولي بن جاتا ہے انسان اس کے مرتبے ہيں کمالات کے مرتبے ہيں سب ايک جيسے نہيں ہيں کوئي کمالات ميں بہت آگے ہے امام کاملين ہے نہ صرف امام کامل بلکہ امام کاملين ہے اور ايک جو ہے وہ بقول مولانا روم ہے کہ ’’ ہفت شہر عشق را عطار گشت‘‘ ما ہنوز اندر خميد کوچہ اين‘‘ عشق کي سات وادي عطار طے کرگئے ليکن ہم پہلے شہر کے پہلے کوچہ کے پہلے موڑ ميں ہيں۔ مرتبہ ہميں اپنے اپنے کوئي ہفت شہر عشق طے کرجاتا ہے کوئي پہلے کوچے ميں پہلے موڑ ميں پھنسا ہوا ہے فرق ہے لوگوں ميں يہ ہے ولايت تکويني ۔
سوال: کہ رسول اللہ نے اپنے بعد حضرت علي ٴ کو مقرر کيا ولي تو ان کا وقت مرگ قريب تھا تو اس کے بعد انہوں نے انہيں مقرر کرديا اور اسي طرح يہ سلسلہ امام زمانہ تک پہنچا امام زمانہ کا وقت مرگ قريب نہيں تھا وہ اپنے بعد ولي مقرر کرتے ہيں اور خود غيبت ميں جارہے ہيں کيا کوئي ايسا کام تھا جو امام خود نہيں کرسکتے تھے جو ولي کي ضرورت پيش آئي يا اگر ہم کہيں کہ مصيبتيں بہت زيادہ تھيں توکيا امام خود پردے ميں چلے گئے تو کيا ولي مصيبتيں سہے گا ولي فقيہہ مصيبتيں سہے گا يا دوسرے لفظوں ميں ايسا محسوس نہيں ہوتا کہ ايک ملک کا صدر جو ہے اپنے ملک نہيں ہے اور اپنا قائم مقام وہ جو ہے نامزد کررہا ہے اس کي ذرا تشريح کريں؟
جواب: اس سوال کو ذرا بڑھا سکتے ہيں ميں آپ کے سوال کو وسعت ديتا ہوں عميق تر ہوجائے تھوڑا سوال يہ ۔ يہ خود خداوند تبارک و تعاليٰ نے فرمايا ’’ اني جاعل في الارض خليفہ‘‘ ميں زمين پر اپنا خليفہ بنارہا ہوں خوب اے خدا معاذ اللہ آپ کا وقت مرگ قريب آگيا ہے کيا معاذ اللہ ۔ العياذ باللہ کہ وہ حي لا يموت ذات خدا حي لا يموت ہے اس حي لا يموت نے کہا ميں اپنا خليفہ بنارہاہوں فرشتوں نے بھي يہ سوال نہيں کيا کہ آخر ضرورت کيا پڑي ہے ؟ ضرورت کا انہيں احساس تھا فقط اس خليفہ کي اہليت ميں انہيں صلاحيت ميں تھوڑا چہ بہ چين ہونے کہ ہمارے ہوتے ہوئے اس کا نام کيوں ليا آخر کيوں خدا تو غائب نہيں ہے؟ خوب زمين يہ خدا نہيں ہے؟ يا زمين پہ خدا نے استعفيٰ دے ديا معاذ اللہ چھوڑ ديا زمين کسي اور کو سونپني ہے نا ۔ خدا زمين پہ ہے خدا آسمان پہ ہے ’’ في اسمائ الہ وفي الارض الا‘‘ ليکن پھر بھي خليفہ بنايا يہ خلافت يہ جانشيني ابھي معني کيا نا آپ کي خدمت ميں اس کو کہتے ہيں ’’ خلافت توصيفي‘‘ يا خلافت اتصافي نا خلافت جو خلا پورا کرتي ہے ايک وہ خلافت ہے جو کوئي خلا بھرتي ہے ايک وہ خلافت ہے جو خلا نہيں بھرتي چونکہ خلا ہے نہيں کہيں بلکہ متصف ہوتا ہے ايک انسان دوسرے کي صفات سے يعني ذات خدا نے کوئي خلا نہيں چھوڑا کوئي ايسا نقطہ نہيں ہے اس عالم ميں جہاں خدا نہ ہو بد ہر چہ بنگرم تو پديد ار بو دے اي۔ اے نا نمود رخ بسيار بو دے اي۔ کہتے ہيں نا کہ جد ھر ديکھتاہوں ادھر تو ہي تو ہے ہر جگہ تو ذات خدا ہے يہ خدا جو ہر جگہ ہے آسمان ميں ہے زمين ميں ہے ذرے ميں ہے ہر جگہ خدا ہے اس خدا کو کيا ضرورت پڑي ہے خليفہ جانشين بنانے کي يہ خلافت توصيفي ہے يعني يہ خلافت اس لئے تھي کہ خدا نے چاہا کہ ميں کيا ديکھوں اب ہر ايک نے اس کا جدا معني کيا خلافت کا نيابت کا ايک وہ پنجابي شاعر بھي ہيں فيض نے بھي خلافت کا تصور پيش کيا فيض احمد فيض نے يہ دين کے وہ ذہني طور پر اعتقادي طور پر اس نے پنجابي ميں ہے نا انکا ايک شعر پڑھا ہوگا شايد آپ نے ’’ رب سچليا تو تے آکھيا سي جاو بندياں جگ در شاہ ہے تو ساڈھياں دولتاں تيرياں نعمتاںني ہے ساڈھا نائب تے عالي جاں ہے تو۔ چنگا شاہ بناڑي اور رب مائياں پھولے کھاديں وار نہيں آندي ہے۔ يہ نظم ہے نہ ان کي يعني انہوں نے اس خلافت سے يہ سمجھتا کہ تونے مجھے بھيجا ہے خليفہ بنا کر اس کا مطلب ہے يہ ساري چيزيں ميري ہے چنگا شاہ بناڑي اور رب سائياں اور آخر ميں جا کر اپنا اس ذہن کي بھي عکاس کردي۔ پرياں منے تے تيرياں ميں منا، سوں رب دي ہے ھل يک ہوڑا يعني توميري مان تو ميں تيري مانوں اگر يہ ہوجائے تو تيري کوئي بات نہيں ٹھکراو ں گا۔ جسے پچھ دي نہيں گلاب ميرے تے پھر جاوا ميں اب کوئي ہور وڑا۔ جو کہ ذہني طور پر تھا وہ تو الحاد کي طرف کميونزم کي طرف اور ان مکاتب کي طرف زيادہ توجہ تھي ان کي يعني عرض کيا کہ نيابت کا تصور اس آدمي کے ذہن ميں يہ آيا کہ رب کا نائب اور اللہ کا نائب يعني يہ کہ يہ دولتيں تيري ہيں يہ نعمتيں تيري ہيں يہ حکومتيں تيري ہيں يہ وزارتيں تيري ہيں خوب وہ تو ملي نہيں ہميں عمر ساري چپل ميں کٹي ايک خلافت کا يہ تصور ہے کہ جو شاہوں کے جانشين بنتے ہيں وزيروں کے جانشين بنتے ہيں نا يہ اس باب سے نہيں ہے خلافت قرآني خلافت الٰہي اسي باب سے نہيں ہے يہ خلافت ہے اتصافي تو صيفي يعني جس کا خليفہ بن رہاہے اس کے ہوتے ہوئے يہ خليفہ ہوگا ورنہ اگر وہ نہيں ہے تو خلافت بھي ختم ہوجائے گي خلافت کا موضوع ہي منتفي ہوجاتا ہے اگر خدا نہيں ہے خليفہ خدا نہيں ہے اس کو کہتے ہيں خلافت يہ طولي ہے عرض نہيں ہے طولي ہے يعني ہم مرتبہ نہيں ہے درجات ہيں مراتب ہيں اس کے مختلف ہيں مرتبے اس کے اب ايک سوال کا حصہ چونکہ ايک سوال ميں کئي سوال تھے ايک حصہ جو آپ کے سوال کا ہے وہ يہ تھا کہ کيوں غيبت کا سلسلہ شروع کيوں ہوا؟ کيا وجوہات تھيں اس کي اس کے لئے تھوڑا ہميں تاريخ کي طرف بھي جانے کي ضرورت ہے تھوڑا سا مدد دے گي تاريخ اس مسئلے کو سمجھنے کے لئے کہ فلسفہ غيب سمجھ ميں آجائے آپ آئيں ديکھيں خداوند تعاليٰ نے جو يہ نظام مقرر کيا انسان کي ہدايت کا ہے سلسلہ انبيائ کے ذريعے آئمہ ہديٰ کے ذريعہ يہ ايک پورا نظام ہے امامت و امت صرف امامت نہيں ہے امامت تنہا قابل تصور نہيں ہے امامت و امت يہ پورا نظام ديني يعني نظام کے سياسي ديني و الٰہي اس کا نام ہے امامت و امت يا کم زاکم تشيع کے اندر اماميہ کے نزديک يہ ہے کہ اس کا امامت اس کا ايک حصہ ہے اور جب تک اس کا دوسرا حصہ اس کے ساتھ مل نہ جائے يہ نظام کامل نہيں ہوتا اور وہ ہے امت۔ امام کا کام ہے ہدايت کرنا امت کا کام ہے بڑھ کر اس سے ہدايت کو لے لينا اور امت تکميل نظام امامت ميں ايک اہم اکئي ہے اب خداوند تبارک نے جو آئمہ نصب کئے وہ آئے انہوں نے آکر امامت کي ليکن اس امامت کو جو دوسرا حصہ تھا نقطہ مقابل تھا يعني امت اس نے بڑھ کر اس ہدايت امامت کو تھا ما نہيں۔ يہاں سے اب تاريخ کي طرف آئيں آپ مثلاً خود رحلت رسول کے بعد امام اول ان کي زندگي کا آپ جائزہ ليں امام ہيں زمام امامت لے کر منتظر ہے امت نہيں علي امام بلا امت ہيں نہج البلاغہ پڑھ کر ديکھيں گلا يہ ہے شکوہ يہ ہے علي ٴ کا کہ ميں امام بلا امت ہوں وہ ايک علي کا تاريخي اقدام کيا شاہد چھوڑا کيا مدرک چھوڑا مولا نے خدا شاہد ہے قيامت تک انسان روتا رہے اس پر افسوس کرتا رہے تو حق ہے اس کا علي ٴ بہت مظلوم امام ہيں بعض بزرگ علمائ نے مراجع نے يہ کيا ہے حتيٰ سيد الشہدائ سے بھي زيادہ مظلوم ہے علي بہت مظلوم امام ہيں کيا ہے مظلوميت ۔ مظلوميت يہ کہ بات کرنے کے لئے کنويں کا انتخاب کيا کنويں ميں جا کر اپنا راز دل بيان کيا کنويں ميں کوئي انسان راز دل بيان کرے کيوں کررہا ہے يہ کام آيا کنواں اس کي بات سمجھتا ہے يا کنويں ميں کوئي مخلوق ہے يا کنويں کا پاني سمجھتا ہے يہ ساري باتيں مٹي سمجھتي ہے زمين سمجھتي ہے يہ ساري باتيں يہ تو معلوم ہے کہ نہيں ہے پھر کيوں کنويں کو مخاطب ہے؟ آيا بولنے والے کو نہيں ہے علم يہ کنواں ہے يہ بے جان ہے مٹي ہے يہ پاني ہے پتھر ہے معلوم ہے پھر کيوں کنويں ميں بولتاہے؟ کنويں ميں بولتا ہے اس لئے کہ تاريخ ميں لکھ ديا جائے کہ اتنے لوگوں کے ہوتے ہوئے پھر بھي جب رازدل کنويں کو بتايا علم کو تحمل کرنے والا کوئي نہيں ہے صرف يہ مدرک چھوڑا تاريخ ميں نہ يہ کہ واقعاً کنواں سمجھتا تھا کنواں بھي نہيں سمجھتا تھا تاريخ کو يہ بتايا کہ ميں امام بلا امت ہوں ميں خطيب بلا مخاطب ہوں واقعاً علي ٴ خطيب بلامخاطب ہے کون ہے ماطب آج وہ شخص مسيحي غالباً ابو لو الآئمہ يا کون ہے آج اس شخص نے کہا يہ نہج البلاغہ علي ٴ کا کلام نہيں ہے انکار کرديا اس نے کيوں نہيں ہے؟ کيا اس لئے علي ٴ آج سے چودہ سو سال پہلے شتربانوں کے اندر عرب صحرانشينوں کے اندر يہ خطبات چودہ سو سال پہلے ان شتربانوں ميں علي نے بيان فرماتے ہيں يہ وہ خطبات ہے کہ آج کے اس عقلاني دور ميں آج کے اس فلسفي دور ميں آج کے اس سائينسي دور ميں آج کے اس علم و شعور کے دور ميں آض جب انساني عقل اتني ترقي کرچکي ہے يہ خطبے آج بھي سمجھنا مشکل ہيں تو چودہ سو سال پہلے ان شتربانوں کو کيسے سمجھ ميں آتي ہوں گے؟ پھر کس کے ہيں کہا معلوم نہيں کس کے ہيں؟ کيا سيد رضي نے خود لکھے ہوں گے يعني اس قدرکلام علي عظيم ہے اورمخاطب علي چھوٹا کہ يہ محقق شک کرنے لگا ہے کہ يہ مولا کا کلام بھي يانہيں علي ٴ واقعاً خطيب بلا مخاطب ہے پھر آجائيں اور بہت پہلو ہيں اس کے بہت پہلو ہيں علي ٴ سالار بلا سپاہ ہے ديکھيں جنگ صفين ميں واقعاً سالار بلا سپاہ ہے علي امير ہے با رعيت خود نہج البلاغہ ميں فرمايا کہا کہ دنيا کا نظام يہ ہے کہ رعيتيں اميروں سے ڈرتي ہيں ليکن ميرا زمانہ يہ ہے کہ امير کو رعيت کا خوف ہے يعني ہميشہ امير باغي ہوتے ہيں امير ظالم ہوتے ہيں رعايا پر ظلم ڈھاتے ہيں علي ٴ وہ امير ہے مظلوم کہ جس پر رعايا نے ظلم ڈھايا اب علي ٴ کے بيٹے کي طرف آئيں حضرت مجتبيٰ کيسے امام ہيں امام ہيں امام تنہا محراب ميں تنہا گھرميں تنہا ميدان ميں تنہا جنگ ميں تنہا نبرد ميں تنہا حکومت سے پہلے تناہ حکومت کے دوران تنہا يہ تنہائي نہيں ہے؟ کہ امام ايک شخص اس کي زوجہ اٹھے اور اس کو زہر دے دے تنہائي کا احساس کريں گھر ميں بھي تنہا سيد الشہدائ کي غربت تو آپ نے زيارت ناموں ميں پڑھتے ہيں ’’ السلام عليک ايھا الوتر الموتور‘‘ پڑھتے ہيں نا يہ جملہ کيامعني ہے اس کا تنہائے تنہا درود ہوں اس پر جو تنہا تھا حسين ٴ امام تنہا پھر آپ نے سيد سجاد کو ديکھا سيد سجاد جو کربلا کا بقيہ ہے بقيہ کربلاترکہ کربلا ہے سيد سجاد ترکہ کربلا ہے کربلا جيسا واقعہ آج بھي انسان سن کر بيٹھ نہيں سکتا گھر ميں سيد سجاد نے اپني آنکھوں سے سب کچھ ديکھا نہ صرف کربلا بلکہ کوفہ و شام کا منظر اور پھر آکر کيا ہوا باقي زندگي کدھر گذري ايک مجاہد مجاہد کا بيٹا ايک اسير ايک قيد و بند کي صعوبتيں برداشت کرنے والا سب کچھ برداشت کرکے آکر مخاطب کس کو قرارديا صحيفہ سجاديہ پڑھ کر ديکھيں سجاد کا مخاطب کون ہے فقط ذات خدا ايک ايک امام کو ديکھيں اس طرح گنتے آئيں حضرت امام باقر ٴو امام صادق ٴجن کا دور کو ہم سمجھتے ہيں کہ بہت سنہري دور ہے پورے آب و تاب سے ذکر کرتے ہيں اما م حاکم و ولي و والي آخرکار مجبور ہو کر کام کرنا پڑا ايک کتاب لے کر چند شاگرد بٹھا کر درس شروع کرديا امام اور مدرس ميں فرق نہيں ہے جس کو ہم سمجھتے ہيں يہ بہت بڑ اکارنامہ ہے يہ سب سے بڑا قابل افسوس زمانہ ہے ديکھئے يہ بہت عجيب زمانہ ہے امام باقر ٴ کا امام صادق ٴ کا وہ يہ کہ دو بڑي طاقتيں مسلمانوں کے اندر بنو اميہ اور بنو عباس دونوں کمزور ہيں اس زمانے ميں بنو اميہ آنے والے ہيں اور بنو عباس آنے والے ہيں۔دونوں کے قدم مضبوط نہيں ہيں اور ايسے ميں جن کا حق ہے حکومت وخلافت بنو اميہ بھي کمزور ہو چکے ہيں بنو عباس بھي کمزورہوچکے ہيں ليکن يہ باپ بيٹا دونوں مدينے ميں بيٹھ کر درس پڑھا رہے ہيں کيوں کوئي پوچھے تو کيوں؟آيا امامت يہي ہے کہ فقط احکام شرعيہ بتاديںبس آپ تو گنتے آئے ہيں کہ خلافت ہمارا حق ہے ہم سے چھينا گيا ہے خوب اگر جن لوگوں نے چھينا وہ غاصب آج ضعيف ہيں اٹھو اور اپنا حق لے لو نہيں ليا کيوں نہيں ليا؟اس کے يہ دو امام بھي تنہا تھے لوگ مسئلے پوچھنے تو آجاتے تھے ليکن ساتھ دينے کیلئے تيار نہيں تھے امام صادقٴ کا ایک جگہ سے گذر ہوا ایک شخص نے کہا ماشائ اللہ کتنے لوگ آپ کے پاس آتے ہيں کتنے مريد ہيں کتنے آپ کے پيروکارہيں کتنے آپ کے شاگرد ہيں حضرت نے فرمایاکچھ بھي نہيں ہے ايک ريوڑھ کي طرف اشارہ کيااور کہااگر اتني تعداد ميں ميرے پاس ساتھي ہوتے ميں قيام کرتا ،راوي نے لکھا ہے کہ جب حضرت ٴ گذرگئے ميںنے گنا تو تيس بھيڑيں تھيں جس امام کے چار ہزار شاگرد تھے وہ يہ کہہ رہا ہے کہ اگرتنے بھي ميرے پاس ہوتے تو ميں قيام کرديتاامام تنہا۔امام موسيٰ کاظمٴ وہ امام ہيں جس کے والد کے چار ہزار شاگردہوںبيٹے کا جنازہ پل بغداد پہ پڑا ہوا ہے اور صرف خبر دي جاتي ہے کہ موسيٰ ابن جعفرٴ زندان ميں مر گئے حالت پوچھ رہے ہيں کہ کيا ہوا موسيٰ ابن جعفرٴکاکيا بنا کيا فوت ہوگئے ؟کہا ہم نے نہيں مارا پل پہ جنازہ رکھا ہوا ہے ديکھ لوہم ني نہيں مارا کوئي نشان بدن پہ موجود نہيں ہے آکر کپڑا اٹھا کے ديکھ کر چلے جاتے ہيں جي واقعاًنشان نہيں ہے امام تنہاامام مظلوم۔امام رضاٴ غريب الغربائ مدينے سے نکل رہے ہيں اپني عزا خود کروائي کہا ميري عزاداري کرو کيوں؟تاکہ آپ کو ثواب ہو جائے وہ تو ميرے بعدبھي کرسکتے ہو شھادت کے بعد بھي ثواب کي عزاداري کا تو ہر وقت وقت ہے جب چاہو ليکن ابھي کرو ميري زندگي ميں مدينے سے ميرے نکلنے سے پہلے ميري عزاداري کروخوب کيوں آپ نکل جائيں بعدميں کرينگے نہ ابھي کرو يہ بتانے کیلئے کہ مدينہ بھرا ہوا ہے مسلمانوں سے وہ جو اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہيں ہم بڑے عقيدت مند ہيںبڑے ولائي بڑے شيدائي ہيںان کے کانوں ميں ميري بيٹيوں کي ميري بہنوں کے رونے کي آوازجائے تاکہ انھيں پتاچلے عليٴ ابن موسيٰ ٴرضاکے گھر ميں کچھ واقع رونما ہورہا ہے وہ آئيں آکر پوچھيں کيا ہوا؟پھرميں انکو بتاؤنگا کہ خراسان سے اغوائ کنندگان آئے ہيں مجھے اغوائ کرنے کیلئے شايد مدينے کا کوئي فردحمايت کیلئے اٹھ کر کھڑا ہوجائے امت بن جائے کوئي ،امام کے گھر ميں چيخ وپکار ہوتي رہي مدينہ کا کوئي شخص پوچھنے نہيں آيا مامون کے گماشتے امام کو اٹھا کر بے راہے سے لیکر پہنچایا غريب الغربائ۔امام جوادٴکو ديکھيں کيا مشکلات تھيں اماماننے سے ہي انکار کردياسب سے پہلا اقدام آپ امام ہي نہيں ہيں کس نے جو والد کو امام مانتے تھے اماميہ نے شيعہ نے امام جوادٴکو امام ماننے سے انکار کردياکہا کہ آپ امام ہي نہيں ہيں ایک اور بھي نکتہ ہے تاريخ ميں ہے روايت ميں ہيں بعضوں نے بہت بڑي بات کہدي !اتني بڑي بات کي کہ روایت ميں لکھا ہے کہ امام رضاٴ آخري عمر تک اس بات کاافسوس حضرت کے دل ميں رہا،تہمت لگائي بلکہ قيافہ شناس لائے کہا يہ تو امام رضاٴکے بیٹے ہي نہيں ہيں وجہ موجود تھي کيا؟امام جوادٴ کا رنگ سانولا تھا والد کا رنگ زرد تھا زرد يعني گندم کہيں یا سفيد مائل تھا بيٹے کا رنگ سانولا تھا کہا يہ آپ کا بيٹا نہيں ہے چچامدعي بن بيٹھا امامت کا سگا چچا مدعي بن بيٹھا امامت کا يہ ہيںآئمہ آپ کے آپ سمجھتے ہيں جس طرح آج آئمہ کا نام لينے والے موجود ہيں گلي گلي ،کوچہ کوچہ اور جس طرح آپ خود ہيں آئمہ کا زمانہ بھي ايسا ہي تھا ۔امام نقيٴ اور پھر شھادتیں ميں وہ تذکرہ نہيں کررہا ہوںکہ کس طرح سے اور کن کن ہاتھوں سے اور کن کن سازشوں سے يہ کچھ ہوا امام نقيٴ کا زمانہ کس طرح سے معتصم نے کس بيدردي سے حضرت کو شہيد کيا۔ اور امام عسکريٴ کا زمانہ جب آيا اب حالات اپني اوج پر تھے اب يہاں نکتہ ہے گيارہ امام گزرے بغير امت کے اب وقت آگيا اتمام حجت تھي خدانے حجت ’’للّٰلہ الحجت بالغہ ‘‘ حجت خدا کي تمام ہے اللہ کے مقابلے ميں کسي کي حجت نہيں چلے گي حجت خدا يہ ہے اگر بھيجے ہوتے تو سب يہ کہتے اگر کوئي امام بھيجا ہوتا تو ديکھتے ہم کيا کرتے جس طرح سے آج ہم کہتے ہيں اگر کوئي ليڈر ہوتا ہمارا لبناني بھي شرمندہ ہوتے ہمارے سامنے آج کہتے ہيں نا بعض اوقات اور يہ قرآن ميں بھي ہے ’’اذ قال الملاؤ من بني اسرائيل لنبيہ لھم من بعد موسي‘‘موسيٰ کے بعد ایک دفعہ موسيٰ رہبر بني اسرائيل جب خدا کوپيارے ہوگئے تو بعد ميں ملاح بني اسرائيل سرکردہ لوگ مل کر اپنے زمانے کے نبي کے پاس آئے اور آکرکيا کہا’’اجعل لنا ملعکہ‘‘ہمارے لئے کوئي سالار ہونا چاہیے ليڈر ہونا چاہیے نبي نے کہا چھوڑو تم وہ لوگ نہيں ہو جو لڑو تم پھنس جاؤ گے کہا کہ نہيں نہيں جوش ميں جوشيلے نعرے لگاتے ہيں جذبات ميں حتيٰ نبي کے خلاف پروپيگنڈہ شروع کردياکہا کہ آجکل کے نبيٴ ہوتے ہي ايسے ہيں جيسے کہتے ہيں نا آجکل کے علمائ کہا کہ آجکل نبي ہوتے ہي ايسے ہيں جوانوں کي پرواہ نہيں کرتے قوم کا خيال نہيں رکھتے بس ليڈر مانگو پھر ديکھو ہم کيا کرتے ہيں خداوند تبارک وتعاليٰ نے طالوت کو سالابناديا۔طالوت کا نام سننا تھا سب بپھر گئے طالوت يہ چھوٹا سا لڑکا جسکے پاس نہ پيسہ ہے نہ کوئي فيملي بيک گراؤنڈ ہے اسکے پاس تو کچھ بھي نہيں ہے يہ تو ہم نے ميٹنگيں کي تھيں کہ ہم ميں سے کوئي ہونا چاہیے چھوڑ کے چلے گئے چھوٹي سي تعداد طالوت کے ساتھ رہ گئي طالوت نے کہا چلو اب مقابلہ کرنا ہے راستے ميں نہر آئي کہا کہ يہاں سے پاني نہيں پينا فنڈملا کہيں سے کہا کہ اس فنڈ ميں خيانت نہيں کرنا يہ بيت المال ہے يہاں سے چلو مرنے کے قريب ہو تو چلو پي لينا بس اس سے زيادہ نہيں پيناکہا عجيب بات کرتے ہو اتني بھري ہوئي نہر خوشبودار ميٹھي نہر بہہ رہي ہے ہم پياسے بھي ہيں اور نہ پيئيں کہا نہ پيؤ آدھے وہاں ٹوٹ گئے کچھ آخر کا جا پہنچے جاوت کے مقابلے ادھر سے ديکھاجب جالوت کے پٹھے ديکھے ڈولے ديکھے اس کے کانپ گئے پنڈلياں کانپنے
لگيں طالوت سے کہتے ہيں کہ تم نے ہميں پہلے کيوں نہيں بتایا کہ يہ اتني بڑي طاقت ہے ہم تو سمجھتے تھے کوئي معمولي سا گروہ ہوگا ہميں اندھيرے ميں کيوں رکھا يہاں پر اب ديکھيں کتنے لوگ طالوت سے کٹ کٹ کر آخر مٹھي بھر رہ گئے اور اس ميں کون ایک دو بوڑھے اور چند بچے انھوں نے نعرہ لگایا ’’کم من فئحت قليلا غلبت فئحت کثيرا‘‘يہ نعرہ انکا تھا کہ ڈرو نہيں بے شک ہم بچے ہيں بوڑھے ہيں پريشان نہيں ہو چونکہ بہت دفعہ ايسا ہوتا ہے کہ چھوٹا گروہ بڑے گروہ پر غالب آجاتا ہے يہ نعرہ لگا کر ایک بچہ جوان نہيں نوجوان جوان تو طالوت ہے سالار ایک جوان اسکي سپاہ کا ایک سپاہي داؤد آگے بڑھا جا کر جالوت کا سر قلم کرديا اللہ اکبر وہ ملاح بني اسرائيل وہ بڑے بڑے سياستدان وہ کہاں بيٹھے رہے اور کام کس نے کيا ایک بچے نے کيا بعض اوقات اتمام حجت کي ضرورت ہوتي ہے۔اگر خدا طالوت نہ بھيجتا اور يہ ملاح بني اسرائيل کيا کہتے ؟خدا نے نہيں بھيجا اگر ہوتا تو ديکھتے ہم کيا کرتے ؟خدا نے طالوت بھيج ديا تاکہ ان کا بھانڈا پھوٹ جائے يعني پہلے سمجھایا نبي نے کہ ديکھو شرم کرو حيا کرواپني عزت کا خيال رکھو خدابھيج ديگا کسي کو تم جوکہتے ہو العجل العجل تو خدا بھيج ديگا کسي دن يہ خيال رکھنا تم اپنا اورآگيا طالوت اس طرح اتمام حجت ضروري ہے گيارہ امام آئے گيارہ ہادي آئے کسي وقفے کے بغير آئے پے درپے آئے حجت خدا تمام ہوگئي ليکن گيارہ کے گيارہ امامِ بلاامت اب خدا نے يہ شرط قرار دي کيا شرط قرار دي؟کہ اس آخري کو قرآن نے جو لقب ديا حضرت کو بقيۃاللہ’’بقيۃاللہ خير لکم ان کنتم مومنين‘‘يہ ذخيرہ خدا ہے خدا ذخيرے کو ضائع نہيں کريگا يہ ذخيرہ بچا کے رکھا ہوا ہے کس دن کے لئے پہلے تم امت بن جاؤ پھر تمھيں امام ملے گا چونکہ اگر اسکو بھي بھيج ديا ميں نے يہ بھي امامِ بلا امت رہیگا پہلے تم امت بنو پھر تمھاراامام آئیگا يہ شرط ظہور ہے۔
عرض ہوا تھا آپ کي خدمت ميں کہ عنوان ولایت فقيہ یا حکومت ا سلامي جو اسلام کے بنيادي اور اساسي ارکان اور مسائل ميں سے ہيں اسکي معرفت اسکي ضرورت اسکي حقيقت شرائط اختيارات طريقہ کار عملي روش اسکے قلم رو يہ سب جاننے کیلئے ہميں کچھ ايسي چيزوں کي معرفت کي ضرورت ہے جو ہميں بحث ولایت فقيہ تک پہنچائيں اگر ان ابحاث کو ہم طے کئے بغير اور ان موضوعات کو حل کئے بغير فوراًولایت تک پہنچ آئيں ایک ذہني تصور ايک علمي مسئلے کے طورپر توممکن ہے ہم اسکے قريب ہوجائيں ليکن ولایت سے اور خصوصاًولایت فقيہ سے جو تمسک ضروري ہے وہ نہ ہونے پائے بلکہ يقينانہيں ہوسکتابہت سارے ایسے افراد ہيں بہت سارے گروہ ہيں نظريات ہيں کہ عنصرولایت فقيہ کوایک مستحب چيز سمجھتے ہيں جو لوگ قائل بھي حتيٰ اب منکرين تو اپني جگہ پر مخالفين اپنے مقام پر جو قائل ہيں ولایت فقيہ کے ایک اضافي چيز ہے ذہن ميں رکھ لينے سے کوئي حرج نہيں ہے ليکن اگر نہ بھي ذہن ميںرکھيں اور ولایت فقيہ کے بغير بھي اگر اس ولایت کے سائے سے ہٹ کر بھي زندگي بسر کرناچاہيں تو بھي انسان انسان بھي ہے ،مسلمان بھي ہے،شيعہ بھي ہے،اماميہ بھي ہے،بہشت ميں بھي جائيگا سارے کمالات بھي حاصل کرے گا ،دين شناس بھي ہے ،ديندار بھي ہے بلکہ دين ميں ايک حجت بھي ہے اور سب کچھ ہے ٹھيک ہے ہوتو بہتر نہ ہو توبھي سب کچھ ہے انسان کوئي فرق نہيں پڑتا اس سے ،عملي طور پر آپ ديکھيں اس وقت ايسے ہي ہيں لوگ يہ سب اس وجہ سے ہے کہ ہم نے ولایت فقيہ کو صرف اس لفظ کو سنا ہے اور اسکے اس سے قبل جو مسائل ہيں اس کے بعد کے جو مسائل ہيں ان ميں سے انھيں نظر انداز کرکے بيچ ميں سے اچک کے اور اس کو ایک علمي مسئلے کے طور پر ديکھا آپ نجي محفلوں ميں چند گفتگو بھي اس پر کر ليتے ہيں عرض ہواتھا کہ ولایت فقيہ ایک ايسانکتہ نہيں ہے کہ ایک شخص کے ذہن کي اختراع ہو کہ جيسے بعض تعبير کرتے ہيں ناجاننے کي وجہ سے نافہمي کي وجہ سے ولايت درحقيقت اسلام کے ارکان ميں سے ہے اسلام کي بنیادوں ميں سے ہے ولايت يعني ولايت فقيہ اسي ولايت ہي کا حصہ ہے استمرار ہے ولايت رکن دين ہے،اساس دين ہے ،بنياد دين ہے ،دين ہے ہي ولايت محور دين کا تشخص کوئي پوچھنا چاہے دين کي ماہيت وحقيقت پوچھنا چاہے کہ دين کا رنگ کيا ہے ؟کہہ سکتے ہيں کہ دين ولايت محور ہے،ولايت مدار ہے يعني دين کا سارا دارومدار ولايت پر ہے اگر ولايت کو دين سے لے ليں تو پيچھے کچھ بھي نہيں رہتاوہ دين ہي نہيں ہے وہ خرافات کا ایک مجموعہ رہ جاتاہے اگر دين سے ولايت کو لے ليں عمارت دين دھڑام سے گر جاتي ہے ،مسمارہوجاتي ہے نابود ہو جاتي ہے روح روان دين ولايت ہے ، اساس دين ولايت ہے،رکن دين ولايت ہے،دين ولايت مدار ہے يعني رنگ ولايت دين کے ہر شعبے پر چڑھا ہوا ہے جس طرح سے رنگ توحيد دين توحيدمداربھي ہے دين توحيد محور بھي ہے رنگ توحيد دين کي ہر چيز پر رنگ توحيد چڑھا ہوا ہے ہر چيز پرنہ صرف يہ کہ تو حسين کے مقابلے ميں نہيں ہے کوئي چيز ہو بھي نہيں سکتي بلکہ ہر چيز پر توحيد کا رنگ چڑھا
ہوا ہے جس چيز پر توحيد کا رنگ نہيں ہے وہ دوسرے سے دين کا حصہ نہيں ہے توحيد روح دين ہے اور ولايت و توحيد ولايت توحيد ہي کا نتيجہ ہے جيسے اشارہ کيا تھا کل آخر ميں ايک سوال کے جواب ميں ولايت توحيد کي قربت کا نتيجہ ہے توحي سے نزديکي کا نتيجہ ہے ليکن جب دين آجاتا ہے انسان کے لئے دستور بن کر منشور بن کر آتا ہے ايک آئين بن کر آتا ہے اس کي اساس ولايت پر ہے لہذا دين ولائي ہے يہ کون سا اسلام ہے يہ وہ اسلام نہيں ہے جو آج رائج ہے متعارف ہے ميڈيا ميں ہے معاشروں ميں ہے زبانوں پر ہے اور کتابوں ميں ہے نہ يہ اسلام گم شدہ اسلام گم شدہ ولايت مدار ہے ورنہ اسلام موجود اس ميں سب کچھ ہے سوائے ولايت کے اس ميں انسان ولايت کے بغير بھي کامل ہے اس ميں بہترين مسلمان ہے بہترين انسان ہے جنتي ہے سب کچھ ہے بہشتي ہے اسلام موجود اور اسلام گم شدہ حضرت امام کي يہ تعبير تھي کل آپ کي خدمت ميں عرض ہوئي کہ اسلام گم شدہ است حوزہ علميہ ميں بيٹھ کر يہ فرمايا کہ اسلام گمشدہ است عرض کيا کہ يوں نہيں کہ صحراوں ميں افريقہ ميں گمشدہ است نہ مدرسہ ميں گمشدہ است مسلمانوں کے اندر اسلام گم ہوچکاہے ديني مراکز کے اندر اسلام گم ہوچکا ہے ديني محافل سے پيدائش کنيد ڈھونڈئيے بس اسلام ميں ديکھيں جا کر وہ ولايت مدار ہے اسلام گمشدہ جس کو خود کہا اسلام ناب نہ اسلام مخلوط ملاوٹ والا اسلام نہ جس ميں اسلام اور غير اسلام مل کر ايک چربہ بنا ہوا ہے اور جيسے عرض کيا کہ اگر مفہوم ولايت ہميں سمجھ ميں آجائے اور دين کي روح سمجھ ميں آجائے ہميں يہ دين لا محالہ پہنچاتا انسان کو لا کر ولايت فقيہہ تک يعني جو بھي دين ميں قدم رکھے گا ’’ لالالہ الا اللہ‘‘ کہے گا دائرہ دين ميں آئے گا قدم رکھے گا وادي ولايت ميں لا محالہ يہ دوسرے دن ولايت کي اس شاخ پر آجائے گا آپ ايک نہر ميں رنگ پھينکئے کوئي اور اسي نہر سے ايک نالي نکالي کے کہيں لے جائيے يہ رنگ چونکہ پاني نہر کا جارہا ہے ادھر يہ رنگ وہاں جا پہنچے گا نہ چاہتے ہوئے بھي آپ کو يہاں پہنچنا پڑے گا اگر دين ميں قدم رکھا اگر دين مدار ديندار اور دين محور بنے ہم خواہمخواہ آنا پڑے گا يہاں پر يہ وہ نقطہ ہے يہ وہ اسلام ہے کہ جس کے بارے ميں امام نے فرمايا تھا کہ ميں نے تو اسلام جتنا پڑھا ہے ميں نے جو دين پڑھا ہے مجھے غير از سياست اس ميں نظر کچھ نہيں آيا دين ولايت مدار خوب ديانت و سياست الگ چيزيں نہيں ہيں دو حکومت اس مبنيٰ کے تحت ضروري ہوجاتي ہے اس نظرئيے کے تحت اہميت پيدا کرليتي ہے ورنہ آپ پہلے دن سے دين ميں آئيں اور دين کو بغير ولايت کے سمجھيں اور بغير حکومت کے سمجھيں پھر اس کے بعد دين کو سياست سے جدا کريں پھر سو سال اس دين ميں رہيں يہ دين کبھي بھي حکومت و ولايت فقيہہ تک نہيں پہنچے گا ضرورت نہيں ہے اس دين کو يہ بغير اس کے بھي کامل ہے عرض ہوا تھا کہ جب تک عينيت سياست و ديانت دين اور سياست ايک ہيں جب تک يہ نقطہ اور معمہ حل نہ ہو انسان کے لئے ايک دين شناس کے لئے اس کے دين ميں گنجائش نہيں ہے حکومت و ولايت کي دين کي تعريف کريں سياست کي تعريف کريں آپ دونوں ايک ہي چيزيں ہيں دين يعني خلاصہ اور حاصل روح تعريف دين يہ بنتي ہے دين يعني يہ کہ دستور الٰہي احکام خداوندي کے تحت زندگي بشر کي تدبير اس کا نام ہے دين دستورات الٰہي فرامين الٰہي آئين خداوندي آئين وحي کے مطابق زندگي بشر کي تدبير اس کو کہتے ہيں دين يا تزئين اور ان ہي فرامين اور ان ہي احکام کے مجموعے کو ہم دين کہتے ہيں جو جامع ہيں خواہ وہ شرعي احکام ہوں فقہي احکام ہوں يا وہ حصہ دين کا جو فقہہ سے ہٹ کر ہے دين کا ايک بڑا حصہ فقہ کے علاوہ ہے فقہ اگر آپ ديکھنا چاہتے ہيں کہ دين کا کتنا حصہ فقہ ہے تعريف ہے اور کتنا حصہ فقہ کے علاوہ ہے فراموش شدہ دين گمشدہ دين کي بات کررہا ہوں ميں آپ آئيں قرآن کي آيات کي ترتيب اور ايک محاسبہ سادہ سا کرکے اس ترتيب و تدوين ميں آپ اس نقطہ پر پہنچ سکتے ہيں کہ احکام شرعيہ و احکام فقيہہ دين کے کتنے حصے کو تشکيل ديتے ہيں جيسا کہ برادران اہل سنت چونکہ قرآنيات سے جيسا کہ عام زبان کيا جاتا ہے کہ اماميہ نے اہل بيت کو لے ليا اور انہوں نے قرآن کو لے ليا اور رسول اللہ
۰ نے کہا تھا جو بھي ايک کو لے گا دونوں اس کے ہاتھ سے نکل جائيں گے لينا ہے تو دونوں کو لينا پڑے گا لہذا دونوں کو يہ ديکھنا چاہئيے کہ نہ اہل بيت بغير قرآن کے ہاتھ آتے ہيں اور نہ قرآن بغير عترت کے سمجھ ميں آتا ہے بہرکيف مشہور يہ ہے کہ ان کا تمسک زيادہ ہے ان چيزوں سے خدمات ان کي قرآنيات ميں زيادہ ہيں۔ بہرکيف ايک مطلب تو مسلم ہے وہ يہ کہ تدوين و ترتيب اور اس ميں جو آيات کي تعداد ہے چھ ہزار چھ سو چھياسٹھ يہ اس مبنيٰ کے تحت ہے چونکہ بسم اللہ کو جز قرآن نہيں سمجھتے اس وجہ سے چھ ہزار چھ سو چھياسٹھ اس طرح سے بعض روايات کے بارے ميں بھي تھوڑا سا اختلاف نظر ہے آيا يہ ايک آيت ہے يا دو آيت ہے بعضوں کو وہ ايک آيت سمجھتے ہيں ہم دو آيتيں سمجھتے ہيں بعض جگہ پر وہ دو آيتيں سمجھتے ہيں ہمارے نزديک وہ ايک آيت ہے البتہ يہ جزي ہے بہت
ليکن ايک بہت بڑا جو فرق ہے وہ يہ کہ اماميہ کے نزديک بسم اللہ ہر سورہ کے اندر جز قرآن ہے اور ان کے نزديک جز قرآن نہيں ہے لہذا ابھي اماميہ مطبوعات ميں بھي يعني جو شيعہ قرآ ن چھاپتے ہيں اس ميں بھي آپ ديکھيں بسم اللہ سے سورہ کا آغاز نہيں ہوتا بسم اللہ آيہ اول شمار نہيں ہوتي آيہ اول ’’ الم‘‘ ہے بسم اللہ کو آيہ شمار نہيں کرتے ہم لوگ يہ متاثر ہيں انہيں کي روش سے چونکہ وہ نہيں رکھتے اس کو جز قرآن نہيں سمجھتے لہذا آيہ نمبر 1بھي نہيں لکھتے در حاليکہ بسم اللہ پہلي آيت ہے ہر سورہ کي پہلي آيت بسم اللہ ہے چھ ہزار چھ سو چھياسٹھ يہ اس ترتيب کے مطابق ہے ان ميں بھي البتہ سب ايسے نہيں ہيں کہ جو يہ ايک فرعي ضمني بات تھي چھ ہزار چھ سو چھياسٹھ آيات ميں سے آيات احکام فقہي آيات جن سے علمائ و استنبات کرتے ہيں اجتہاد کرتے ہيں جس پورا توضيح المسائل انہوں نے استنبات کرکے نکالا ہے يہ 500آيات ہيں آيات الاحکام جن کو کہا جاتا ہے اس ميں مکرر تکراري آيات بھي شامل ہيں 500آيات يہ مشتمل ہيں احکام شرعيہ پر اوامر ہيں نہي ہے واجبات ہيں مستحبات ہيں محرمات ہيں يہ ساري چيزيں ان 500آيات ميں ہيں کتني رہ جاتي ہيں پيچھے چھ ہزار ايک سو چھياسٹھ يہ بات ہميشہ ميں کہتا ہوں يہ کس لئے ہيں وہ تو چلو احکام شرعيہ حرام حلال بتارہي ہيں يہ باقي کس لئے ہے قرآن يہ چھ ہزارايک سو چھياسٹھ چھ ہزار ہے آخرمعمولي تو نہيں ہيں چھ ہزار آيات کس کام کي ہيں البتہ ہم نے ان کا صرف ڈھونڈھا ہوا ہے ان کا استعمال کچھ تو کہتے ہيں جي استخارے کے لئے ہيں يہ اتني زيادہ آيات خداوند نے نازل کيں تاکہ استخارہ ہوتا رہے ٹھيک 500ہوتي تو استخارہ مشکل تھا 6000سے استخارہ اچھا ہوتاہے يہ چھ ہزار اس لئے ہيں کہ قسم اچھي کھائي جاتي ہے چھ ہزار آيات ہوں بڑا قرآن ہاتھ ميں ہو پھر اس کي قسم کھا کر کوئي مہنگي چيز بيچيں يا جھوٹ بولے يا اپنا دھوکہ چھپانا چاہيں تو چھ ہزار آيات ذرا اچھي وزن ہے ان کا يا 6000ہزار آيات کس لئے تھيں مردے بخشوانے کے لئے کہ ہم ختم قرآن کريں کہ اس ميں قاري صاحب کو کہيں کہ آکر ان کي تلاوت کريں قرآن کا خود يہ کہنا ہے کہ ’’ھديٰ للناس‘‘ قرآن سب نور ہے اور سب ھديٰ اللناس ہے يعني چھ ہزار چھ سو چھياسٹھ کا ہر ہر لفظ ہدايت ہے وہ 500اگر ہدايت ہے تو 6000بھي ہدايت ہے يہ چھ ہزار کيا چيزيں ہيں اس ميں اس ميں کيا لکھا ہے؟ وہ بھي دين ہے اب آپ خود ديکھ ليں دين کا کتنا حصہ پھر 6666ميں توپانچ فقہ ايک بٹا 12 حصہ بنتا ہے آيات الاحکام کا يعني بارہواں حصہ دين کا وہ ہے احکام فقيہہ گيارہ حصے دين اور باقي ہے ابھي جس نے پورے رسالہ عمليہ پر بھي عمل کرو پھر جا کے ہوجاو گے تم ديندار اسي طرح جو عالم ہوگا عالمِ دين و فقيہہ و فقيہ دين فقہ اور ہے فقيہہ دين اور ہے فقہي فقہ وہ ہے جس کو 50%آيات کے احکام معلوم ہوں احکام شرعيہ جس کو معلوم ہو ليکن فقيہہ دين اس کو مجموعہ دين سارا دين جس کو معلوم ہو مکمل دين جس کے پاس ہو ہر شعبہ دين اس کے پاس ہو ۔

Page No : 1  2  3  4