|
ميرے پاس
ان کے زيادہ سمجھدار ہونے کي دليل ہے ميرے پاس کيا دليل ہے بتاو کيا
دليل يہ ہے کہ جب خليفہ اول کي رحلت ہوئي وقت موت آيا اس دنيا سے جانے
لگے تو اپنے بعد امت کے لئے انتظام کرکے گئے حکومت کا سياست کا اپنا
جانشين مقرر کرکے گئے اور امت کو اپنے حال نہيں چھوڑا چونکہ جانتے تھے
اگر ميں ايسے ہي چھوڑ گيا بعد ميں فتنے ہوں گے ليکن رسول اللہ کو يہ
نقطہ سمجھ ميں نہيں آيا وہ ايسے ہي رحلت کا وقت آيا ايسے ہي چھوڑ کے
چلے گئے يہ تو امت کا بھلا ہو کہ انہوں نے بيٹھ کر يہ مسئلہ حل
کرلياورنہ خود انہوں نے نہيں کيا اب وہ سمجھ گئے کہ يہ چالاکي کي ہے اس
نے ہمارے ساتھ خوب عرض کيا ميں نے يہ نقطہ کہيں دل آزاري کے لئے يا کسي
اور مطلب کے لئے نہيں عرض کيا يہ صرف ايک واقعہ کے طور پر عرض کيا ميں
نے نہ کسي اہل سنت ميں سے کسي کا اعتقاد ہے يہ نہ کسي اماميہ کا اعتقاد
ہے يہ رسول اللہ سے کوئي بھي افضل نہيں ہے۔ غير از خد ابزرگ تو ہي قصہ
مختصر۔ يہ ايک لطيفہ کہہ ليں يا ايک بات يا ايک حکايت کي ايک بات
سمجھنے کے لئے اور سمجھانے کے لئے کہ اگر اس وقت ضرورت تھي حکومت کي
ضرورت احساس کي جاتي ہے سياست چاہئيے تھي اس وقت تو يہ ضرورت ہر دور کے
لئے ہر زمانے کے لئے ايک دو تين باتوں ميں اہل سنت اور اہل تشيع ميں
فرق ہے ميں ان ميں سے دو ويسے تو کافي ہيں جو ان کے جدا جدا مسائل ہيں
دو مسئلے يہ ہيں بنيادي فرق ان ميں يہ ہے ايک اہل سنتے کا يہ اعتقاد ہے
کہ رحلت رسول اللہ کے بعد خداوند تعاليٰ کي طرف سے کوئي مقرر منسوب
نہيں خود امت اپنا چارہ جوئي خود کرلے ايک ان کا عدالت صحابہ کے بارے
ميں ہے کہ تمام صحابہ رسول اللہ کے جوبھي صحابي ہے کہ وہ عادل ہے صحيح
ہے وہ درست ہے چونکہ حديث بھي نقل کرتے ہيں کہ اصحاب رسول اللہ مثل
نجوم ہيں مثل ستارگان ہيں ستارے کي طرح ہيں جس کے نور سے استفادہ کرو
وہي نوراني ہے يہ ايک نظريہ ہے ابھي اس ميں نہ کنڈم کرنا ہے نہ حمايت
کرني ہے وہ اپني جگہ اختلاف يہاں پر اماميہ کا يہ نظريہ ہے کہ رحلت
رسول اللہ کے بعد خداوند تبارک و تعاليٰ نے ايک اہتمام کيا جانشين اور
ادھر بھي کہتے ہيں کہ صرف صحابي ہونا تومعيار نہيں ہے يعني يہ کہ صرف
رسول اللہ کو جس نے ديکھا ہو بلکہ رسول اللہ سے کچھ ليا بھي ہو ان کي
پيروي بھي کي ہو اطاعت بھي کي ہو وفادار بھي ہو جيسے بزرگوار صحابہ
تھے۔
ان جيد بزرگوار صحابہ کي طرح ہوں ٹھيک ہے ورنہ يہ کہ جو بھي آپ ايک دن
آيا ہو آپ کي محفل ميں بيٹھا ہوا اور وہ نا بہت سارے ايسے تھے جو خود
قرآن نے فرصت کي ہے ان کي رسول اللہ کي محفل ميں بيٹھنے والے تھے خود
قرآن نے کہا ہے کہ يہ صحيح نہيں ہيں جيسے وہ مصروف آيہ ہے کہ ان جائ کم
فاسقون بنبا ان فتبينوا وہ ساتھ بيٹھنے والا ايک آدمي تھا اس کو بھيجا
جاو زکوٰۃ لے کر آو لوگ آئے اس کے استقبال کے لئے اس نے سمجھا حملہ
کررہے ہيں مجھ پر عربوں کا ايک طريقہ تھا استقبال کے لئے آتے تھے اسلحہ
لے کر وہ اسلحہ لے کر رسول اللہ کے نمائندہ کا استقبال کرنے آئے يہ
نمائندہ سمجھا ميرا مقابلہ کرنے آئے ہيں مارنے آئے ہيں مجھے يہ بھاگ کے
آگئے کہا کہ حضور وہ زکوٰہ نہيں ديتے بلکہ نہ صرف زکوٰۃ نہيں ديتے وہ
تو مجھے مارنے پر تل آئے تھے ادھر سے بھي مسلمان جوش ميں آگئے جنگ کي
تيارياں شروع ہوگئي قريب تھا حملہ کرديتے اس قبيلے پر جا کر ادھر سے
آيت نازل ہوئي پہلے تفتيش کرلو پہلے پوچھ لو کہ اصل ماجرا کيا ہے اصل
ماجرا يہ نہيں تھا وہ قتل کرنے نہيں آئے تھے بلکہ استقبال کرنے آئے تھے
ايسا نہ ہو جہالت کے ساتھ جاکر وار دات کردو مارو ان کو خوب يہ بھي ايک
ساتھ بيٹھنے والا آدمي جس کو قرآن نے کہا يہ فاسق ہے اور اس قسم کے بہت
تھے دو موقعے ايسے آتے ہيں کہ جہاں پر اماميہ بھي ہم قول ہوجاتے ہيں
اہل سنت کے ساتھ جب ايک بزرگ وار نے ايک کتاب لکھي ہے کہ شيعہ ہي اہل
سنت ہيں ۔ اب انہوں نے اپنے دلائل سے کيا شيعہ ہي اہل سنت ہيں يہاں
ہميں کچھ اور دلائل نظر آتے ہيں کہ شيعہ ہي اہل سنت ہيں ايک يہ کہ رسول
اللہ کے بعد ضرورت نہيں ہے خدا کي طرف سے حکومت کے لئے کوئي اہتمام با
اقدام ہو رحلت رسول اللہ کے بعد بلکہ خود امت کے لئے چھوڑ ديا گيا يہ
مسئلہ امت حل کرلے گي جيسا کرليا شيعہ کہتے ہيں نہ ۔ خدا کي طرف سے
ہونا چاہئيے پھر بھي خدا کي طرف سے ہونا چاہئيے خوب يہ مسئلہ ڈھائي سو
سال تک تو چلتا رہا وہ کہتے رہے نہيں ہوا خدا کي طرف سے انتظام امت پر
چھوڑ ديا گيا يہ مصر تھا کہ نہيں خد اکي جانب سے ہے انتظام خوب ڈھائي
سو سال تک اس نظريہ پر اصرار کرتے کرتے معلوم نہيں تھک گيا آخر ميں يہ
شيعہ معلوم نہيں کيا ہوا سست ہوگيا ڈھائي سو سال بعد يہ بھي ان کا ہم
قول ہو کر کہنے لگا کہ خدا نے کوئي انتظام نہيں ديا ڈھائي سو سال بعد
ميں کب لمحہ غيبت کبريٰ ميں جب امام معصوم
۰
غيبت کبريٰ ميں گئے مشرف ہوئے يہاں پر اب بعضوں نے يہ سمجھا کہ اس لمحہ
غيبت کبريٰ ميں خدا نے کوئي انتظام نہيں کيا پھر کيا کرکے چھوڑ گئے
امام غيبت صغريٰ ميں تو چار نائب مقرر کرکے گئے غيبت کبريٰ ميں کيا
کرکے گئے کچھ بھي نہيں کرکے گئے ايسے ہي غائب ہوگئے بس ختم اب ہم کيا
کريں ہميں اپنے حال پر چھوڑ گئے خود ہي اپني مشکل حل کرلينا خوب يہ تو
ہمارے بزرگوار پہلے ہي کہہ رہے تھے ڈھائي سو سال پہلے ہي کہہ رہے تھے
يہي مان لو تم وہ کہہ سکتے ہيں نا ہميں يہ ڈھائي سو سال بعد جو تم کہہ
رہے ہو پہلے کہہ ديتے تم کہ خدا نے اس امت کے لئے کوئي انتظام نہيں کيا
يہ ايک نقطہ ہے دوسرا نقطہ بھي بيان کرتا چلوں زيادہ موضوع سے مربوط
نہيں ہے کہ ان بزرگواروں کا يہ نظريہ ہے برادران اہل سنت کا کہ تمام
صحابہ اگرچہ ايک دن بھي مجلس رسول اللہ ميں بيٹھے ہوں وہ نور ہيں وہ
ستارے ہيں آسمان کے اماميہ کہتے ہيں نہيں پہلے يہ ديکھو کہ خدا کي جانب
سے رسول اللہ کي جانب سے يا ان کي سيرت ان کا کردار کہ پاکيزہ صحابہ
تھے بہت صحابہ پاکيزہ تھے بہت اکادکا بيچ ميں ايسے تھے کہ صحابہ نہيں
تھے بيچ ميں گھسے ہوئے تھے البتہ جيسا کہا کہ قرآن نے ايک شخص کي
نشاندہي کي ہے کہ يہ عنقريب تھا کہ رسول اللہ کي جنگ کرواديتا ايک
قبيلے سے وحي نازل ہوئي کہ ايسا نہيں کرنا بھي ايک ساتھي تھا اپنا اس
نے گويا خيانت کرنا چاہي صحابہ کے بارے ميں تو کہتے ہيں کہ سب ايک جيسے
نہيں شيعہ ليکن جب آجاتے ہيں عصر غيبت ميں علمائ ہيں اور وہ بھي
علماذرا بڑے سطح کے علمائ چھوٹے موٹے علمائ نہ علمائ يہاں پر آکر کہتے
ہيں کہ نہيں سب ايک جيسے ہيں جوميں نظرئيے پر ہيں ہماري آنکھوں کا نور
ہے عجيب بات ہے اگر ان کو آنکھوں کو نور بناتا ہے توپھر تو وہ زيادہ
اوليٰ ہيں آنکھوں کا نور بننے کے لئے چونکہ يہ تو چودہ سو سال بعد آئيں
ہيں وہ عصر رسول اللہ ميں تھے وہ نزديک سے ديکھ رہے تھے وہ نزديک سے
بيٹھتے تھے ان کو ايک جيسا نہيں سمجھتے ہو ليکن ان کو ايک جيسا سمجھتے
ہو کہتے ہيں علمائ ہيں جي جس کے پاس بھي عمامہ رکھا ہو جس کے پاس بھي
کتاب ہو جو بھي بڑا ہو جس کا نام ايک دفعہ آجائے جو بھي مثلاً اپنے
وکيل روانہ کردے وہ ہماري آنکھوں کا نور وہ جو بھي کہہ دے آخر وہ بھي
تو مرجع ہے جب کہتے ہيں يہ کہ امام نے يہ فرمايا کہتے ہيں وہ فلان نے
يہ نہيں کہا پھر آکے تقابل کرتے ہيں خوب اگر يہ ايک جيسے نہيں ہيں تو
بہ توبہ يہ کسي بات کرتے ہو ايک جيسے نہيں يہ وہ مسئلہ ہے کہ نہ جانتے
ہوئے بھي اس وادي ميں قدم رکھ ديتا ہے جہاں نہيں رکھنا چاہئيے تھا اسے
يہ مسئلہ اتنا مربوط نہيں تھا خلفائ والا نقطہ اول کہ عصر غيبت کبريٰ
ميں بالآخر کيا ہو تسنن اور تشيع ميں بنيادي فرق يہي ہے کہ آيا ہميشہ
کے لئے خدا نے حکومت کا اہتمام انتظام کيا ہے يا نہيں کيا يہ کام خد
اکے ذمہ ہے يا نہيں ہے اور خدا نے ہر دور کے لئے مقرر کيا ہے يا نہيں
کياا گر کہو کہ ايک زمانے کے لئے کيا بعد کے لئے نہيں کيا یہ تسنن ہیں
اور اگر آپ نے کہا کہ قیا مت تک کیلئے یہ کام فقط خداکا ہے یہ تشیع ہیں
اب خود اپنے بارے ہر آدمي فیصلہ کرے کہ کس اعتقاد پر ہے ہر زمانے میں
لیکن کس طر ح دو طریقے ہیں خدا کي طرف سے منسوب کرنے کے دو طریقے ہیں
انتخاب نہیں ہے انتخاب کا کوئي تصور نہیں ہے کس چيز کے انتخاب میں ولي
کے انتخاب میں ولایت ولایت ہے نہ وکالت انتخابات وکالت میں ہوتے ہیں نہ
ولایت میں ہوتے ہیں ولایت نصبي ہے منصوب ہے منصوب من اللہ کہتے ہیں نا
’’س‘‘ کے ساتھ کہیں تو نسبت دینا ربط ہونا مربوط ہوجانا’’ص‘‘کے ساتھ
یعني الیکشن نہ کہ سلیکشن اگر وکالت ہوتي وکالت فقيہ، وکالت
معصوم،وکالت رسول، وکالت خدا پھر الیکشن کي ضرورت تھي وکيل کون ہونا
چاہیے ووٹ ڈالو لیکن یہ ولایت ہے نہ وکالت ہے جب ولایت آگئي الیکشن کا
دروازہ بند ولي کيلئے ولایت کیلئے البتہ جب ولایت نہیں ہے دوسرے شعبوں
کیلئے وہا ںبیشک چن لو ولي چن نہیں سکتے تم تمھارا اختیار نہیں ہے کس
نے حق دیا ہے کہ ولي چنو تم وکيل چن سکتے ہو اپنے لئے اور یہ ولي ہے
اور ظاہر سي بات ہے جب جو کام وکيل کے ساتھ کرنا ہے وہ ولي کے ساتھ
شروع کردیا نا انصافي کررہے ہو پھر حق نہیں ہے کہ چنو ولي ہے تو منصب
ہوگا خدا کي جانب سے اللہ کي جانب سے خداوند تبارک وتعالي کي جانب سے
منصوب کرنے کے دو طریقے ہیں ایک نصب عام اور ایک نصب خاص نصب خاص یہ ہے
کہ ولي کا نام لیکر یعني پہلے ایک معیا ر پھر اس معیا ر پر اترنے والا
مصداق ان دونوں کا نام لیکر کہو کہ یہ ولي ہے جیسا غدیر میں ہوا’’من
کنت مولاہ فھذا عليٴ مولاہ‘‘یہ نصب خاص ہے معصومینٴ جتنے بھي ہیں وہ
منصوب ہیں دو طرح سے منصوب ہیں منصوب عام بھي ہیں اور منصوب خاص بھي
ہیں یعني ایک ایسي نصب بھي آئي ہے جو تمام معصومينٴ کے بارے میںہے اور
ایسي نصب بھي ہے جو ایک ایک کے بارے میں ہے ایسي عدلہ ہیں ہمارے پاس جس
میں کہاگیا ہے کہ یہ اولیائ ہیں تمھارے اور ایک نصب میں کہا گیا ہے
فلاں ولي ہے فلاں ولي ہے تمھارے یعني رسول اللہ۰
نے انتخاب نہیں کیا ولایت حتيٰ رسو ل
۰ا
للہ کو بھي اختیار نہیں ہے کہ ولي چنیں رسول۰
کو اختیار نہیں ہے ولي چننے کا خدا ولایت خدا کا کام ہے بھلے رسول۰
اعلان کر سکتے ہیں رسول۰
ابلاغ کرسکتے ہیں رسول۰
خدا کے ولي کو متعارف کرواسکتے ہیں جیسا کہ غدیر میں کیا نصب خدا کي
جانب سے تھا فعل فعل خدا ہے ولایت یہ ذہن میں رکھ لیں ولایت فعل خدا ہے
وکالت فعل ناس ہے نصب خاص نصب عام نصب خاص میںنام لیکر نصب عام میں
معیا ر بتادیا جاتا ہے جب منصوب کرنا ہو کہ کون جانشين ہے کون ولي ہے
ایک طریقہ یہ ہے کہ کہہ دو کہ زید ولي ہے ایک طريقہ یہ کہ نام نہ لو
اسکا معیا ر بتادو اور اتفاق سے یہ قرآني طریقہ ہییعني قرآن نے بھي یہ
کام کیا ہے ایک سوال عموماًاُٹھایا جاتا ہے کوئي عالمانہ سوال نہیں ہے
بلکہ عام سا سوال ہے یا مثلاً مخالفين کرتے ہیں یا ہم خود یہ سوال
اٹھاتے ہیںذہن میںکہ بلکہ اسي سے کچھ لوگ گمراہ بھي ہوئے ہیں اس سوال
کا جواب قانع کنندہ نہ ملنے کي وجہ سے کہ عليٴ کا نام کیوں نہیں ہے
قرآن میں بعض جذبات میں عقيدت میں آکر کہتے ہیں کہ نام تھ ابعضوں نے
نکال دیا قرآن کي تحريف کے قائل ہوجاتے ہیں(معاذاللہ )نہ یہ غلط ہے یہ
بھتان ہے یہ تہمت ہے یہ گناہ ہے قرآن میں تحریف نہیں ہوئي ہے اور عليٴ
کا اسم گرامي قرآن میںیوں نہیں کہ تھا اور نکال دیا چونکہ قرآن خدا کا
کلام ہے اور قرآن کا محافظ وحافظ ذات خدا ہے’’نحن نزلنا اذکر وان لہ لا
حفظون‘‘کوئي ایک نقطہ قرآن میں اوپر نيچے نہیں کرسکتا اور نہ کیا ہے
خوب پھر کیوں نہیں ہے نام ؟واقعاً نام تو نہیں ہے لیکن آیا نام نہ ہونے
سے کوئي مشکل پیدا ہوتي ہے نہ کوئي مشکل پیدا نہیں ہوتي یعني نام ہونے
سے جو مقصو د تھا وہ نام ہوئے بغیر حاصل ہے وہ نام نہیں ہے وہي مقصود
حاصل ہے وہ مقصود یہ تھا کہ عليٴ کو بعنوان ولي لوگ پہچان لیں بعنوان
ولي خدا نے منصوب کیا ایک طريقہ جس طرح سے رسول۰اللہ
نے ہاتھ پکڑ کے نصب خاص ہے غدیر میں ایک طريقہ جو قرآن نے نازل کیا
’’انما ولیکم اللہ ورسولہ‘‘یہاں نام ہے خدا ولي اور رسول۰
لیکن آگے نام نہیں ہے بلکہ ’’والذین امنو الذین یقيمون الصلوۃ و یعطون
الزاکوۃ وھم راکعون‘‘نام نہیں لیا میزان ذکر کردیا پس ہو سکتا ہے کہ
بعض اوقات نام لیکر کہا ہو کہ فلاں اوت بعض اوقات ایک میزان بتادو ایک
معیا ر بتادو کہ اس معیا ر پر فقط وہي اترتا ہے خوب یہ معیا ر بتادیا
فرق نہیں پڑایعني نام نہ ہونے سے کوئي نقصان نہیں ہوا کوئي ضرر نہیں ہے
سب کچھ روشن ہے واضح ہے اب نصب عام عصر غیبت کبري میںغیبت کبري تک نصب
خاص ہے خدا وند تعالي کي جانب سے ولي ،حاکم نام لیکر مشخص کیا کہ یہ
حاکم ہے تمھارا لیکن عصر غیبت کبري کیلئے آپ نہ دیکھیں کہ صرف لگ بھگ
بارہ سو سال زیادہ یا لگ بھگ اتنا عرصہ ہونے کو ہے اور معلوم نہیں اب
کتنے بارہ سو سال اور گذریں گے حکمت الہي ہے مصلحت الہي ہے راز خدا ہے
اس سے کوئي آگاہ نہیں ہے یہ صحيح نہیں کہتے جو وقت تعین کرتے ہیں ظہور
کا خبریں دیتے ہیں غیب کي نہ ،خود حضرت حجتٴ کااپنا فرمان ہے جو عصر
غیبت کبري میں میري زیارت و میري ملاقات کا دعوي کرے جھٹلا دو اسکو کہو
جھوٹ بولتے ہویہ راز خدا ہے اور خدا اپنے راز ہر ایک نہیں بتاتا فلسفہ
غیبت فوت ہوجاتا ہے اگر ہر منہ پھٹ کي زبان پر راز خدا چڑھا ہوا ہوپھر
تو راز نہیں رہتا راز وہ ہوتا ہے کہ بقول شاعر کے کہ ’’نرمي و رزم و
کنایہ کا تقاضہ یہ ہے ،پرتوے شاخ کہے سایہ ديوار سنے. خلوت دل کے ہر
راز کي سر گوشي کو،یہ نہ ہو جائے کہ بازار کا بازار سنے ‘‘ وہ تو راز
نہیں ہوتا جو سارے بازار میں ہو یہ راز خدا ہے اللہ کو معلوم ہے یہ راز
۔نصب عام ہے یعني ایک ميزان بتادیا اور اسکا اعلا ن اسکے ولي کي زباني
کروایا اسي ولي نے بیان فرمایا ’’اماالحواث الواقعہ‘‘ یہ حضرت حجتٴ کا
فرمان ہے اصطلاح میں اس کو تو قيع کہا جاتا ہے توقیع ان روایات کو کہتے
ہیں جو زمانہ غیبت میں امام معصومٴ نے بیان فرمائي ہیں اور راويوں تک
پہنچي ہیں انکو توقيعات کہا جاتا ہے یہ توقيع حضرت حجتٴ سے ’’اماالحواث
الواقعہ‘‘یعني لوگ پوچھتے تھے آپ تو نہیں ہیں تو ہم کیا کریں اب آپ کے
نائب نے پوچھا ہے کہ جبکہ آپ نے فرمایا ہے کہ میں غیبت کبري میں ہوں تو
پھر ہمارا فريضہ و ظيفہ کیا ہے ہم کیا کرینگے فرمایا میںبتاتا ہوںتمھیں
میں اپنے حال پر چھوڑکر تھوڑا ہي جارہا ہوںجس خدا نے تمھیں اپنے حال پہ
نہیں چھوڑا اور مجھے مقرر کیا اب ميري غیبت کے زمانے میں بھي خدا نے
تمھيں اپنے حال پہ نہیں چھوڑا کسي کو مقرر کیا ہے خوب فرمایا یہ کون
ہیں ؟’’اماالحواث الواقعہ فر جعو ا فيھا الا روات احادیثنا فانھم حجتي
علیکم وانا حجۃاللہ ‘‘اس زمانے میں جو آپ کو مسائل در پیش ہونگے کہاں
رجوع کریں ہم فرمایا کہ ہماري احادیث کے راويوں کي طرف البتہ اس سے
مراد صرف راوي نہیں ہے یعني نقل حدیث کرنے والا چونکہ جو نقل حدیث
کررہاہوتا ہے اسکو تو خود پتا نہیں ہوتا کہ اسکا معني کیا ہے نقل حديث
کرنا جیسے آجکل اخباري رپورٹر ہیں کسي علمي سيمينا میں جاکر اس کي
رپورٹ اخبار میں لکھ دیتے ہیں اب خود اسي رپورٹر سے پوچھو اس کیا معني
ہے وہ کہے گا مجھے کیا معلوم کیا معني ہیں وہ جس نے مقالہ پڑھا ہے اس
سے پوچھو جاکر مجھے تو اتنا لکھنا تھ ا کہ انھوں نے سیمینا ر میں یہ یہ
باتیں کي ہیںنقل کرنا اسکا کام او رنقل کرنے والا توحل مسئلہ تو نہیں
کرسکتا لہذا رجوع بتاتا ہے کہ یہاں پر مراد کچھ اور طبقہ ہے یعني وہ جو
روایات نقل کرتا ہے اور روایا ت کو سمجھتا بھي ہے فقيہ فہم روایت بھي
رکھتا ہے انکي طرف رجوع کرو یہ میري جانب سے تم پر حجت ہیں اور میں حجت
خدا ہوں، میں خدا کي سے حجت اور ان کو خدا کي جانب سے تم پر حجت قرار
دے رہاہوں یہ ہے ولایت پس ولي منصوب کیا نص عام کے ذریعے شرائط کیا
ہونگي اُسکي شرائط پھر معصوم نے بیان فرمائيں’’من کان من الفقھائ سا
ئنا لنفسہ حافظا لدینہ مطيع لامرمولاہ مخالفا لھوائ فللعوام
اےّقلدہ‘‘یعني فقھائ میںسے جس میں یہ شرائط پائي جاتي ہوں اپنے نفس کو
بچاسکتا ہو ،دین کا محافظ ہو ناکہ دین کا مخدوم ہو دیکھیں عالم بن کے
دین کا مخدوم بن بیٹھنا،سمجھتے ہیں نا مخدوم ، مخدوم سے مراد یہ
فیملياں نہیں ہیں جو ادھر پاکستان میں مخدوم فيملي کے نام سے مشہور ہیں
مخدوم یعني جسکي خدمت کي جائے کوئي آقا باقي سب اُس کے نوکر چاکر ہیں
اس کي خدمت کرو یہ مخدوم ہے بعض لوگ واقعاً مخدوم دين ہیں یعني دين
انکي خدمت میں ہے دیندار بھي انکي خدمت میں ہیں خداوند نے فرما یا عالم
خادم دین ہے نہ مخدوم دین ہے یعني دين کو اپني خدمت میں نہ لے بلکہ خود
دين کي خدمت کرے خوب جو دين سے خدمت لیتے ہیں کون ہیںسب کچھ تودین سے
لیتے ہیں عزت دين سے لیتے ہیں ،احترام دين سے لیتے ہیں ،مال دين سے
لیتے ہیں ،وقار دین سے لیتے ہیں ،شخصیت دین سے لیتے ہیں ،حیثیت دین سے
لیتے ہیں تو یہ دين نے خدمت کي ہے ان کي ان سے پوچھو تم نے دين کو کیا
دیا ،لہذا فرمایا ولي وہ نہیں ہوتا جو دين کا مخدوم ہوولي وہ ہوتا ہے
جو دين کا خادم ہو حفاظت کرے دين کي تو کہاں حفاظت کرے حفاظت وہاں ہوتي
ہے جہاں خطرہ ہوتا ہے دين کو خطرہ کیا ہے کسي سرداب میں ،کسي زيرزمین
میںدين کو خطرہ ہوتاہے، کسي حجرے میں ،مدرسے میں دين کو خطرہ ہوتا
ہے،مسجدوں ميں دين کو خطرہ ہوتا ہے دين کو خطرہ کہا ہوتا ہے یعني ایک
عالم دين فقط مسجد آکے سنبھال لے اور بس اور کہے کہ میں دين کا محافظ
ہوں مثلاً پاکستاني فوج حملہ انڈ یا کررہا ہے مثلاً ادھر آپکے قریب جو
بارڈر ہے حملہ يہاں سے ہورہا ہے اور وہ پاکستان کا دعاع کرنے کیلئے
مثلاً ٹکٹ لیکر پيرس پہنچ جائيں جيسا کہ سنا ہے کہ ان دنو بہت رش تھا
باہر جانے والوں کے لئے مريضوں کا ٹکٹ نہيں ملتا تھا سب پاکستان کي
حفاظت کي خاطر ملک چھوڑ رہے تھے دفاع ،حفاظت وہيں ہوتي ہے جہاں خطرہ ہو
۔خطرہ لاہور کو ہے پشاور بچانا شروع کرديں جاکے خطرہ کہاں ہوتا ہے جہاں
دشمن ہوتا ہے اگر آکے صرف مسجد سنبھال لي مدرسہ سنبھا ليا اور بيٹھ گئے
اور دعويٰ يہ ہے کہ دين بچارہے ہيں ہم دين تو وہاں بچاؤ جہاں دين کو
خطرہ ہے يہاں تو دين کو خطرہ نہيں ہے کوئي ’’حافظاًلدينہ ‘‘ دين کو
کہاں خطرہ ہے دين کو ہميشہ سے عالمي استعماري طاقتوں سے خطرہ ہوتا ہے
ظالم اور جابر حکمرانوں سے خطرہ ہوتا ہے دين کو دين فروش لوگوں سے خطرہ
ہوتا ہے دين کو درباري علمائ سے خطرہ ہوتا ہے سرمايہ داروں سے خطرہ
ہوتا ہے یہ ديم کے خطرات ہيں تو دين بچانا ہے تو ان کے مقابلے ميں آکر
کھڑے ہو بس ہر ایک ولي بن بيٹھے اُٹھ کر وہ بھي نہيں ہے يوں نہيں کہ اب
جبکہ روایت ميں آگیا ہے کہ فقہائ ولي ہوتے ہيں تو بقول مولانا روم کے
’’ ناہر کہ سر نہ تراشت قلندري داند ‘‘ جسکي زلفيں ہوں وہ قلندر نہيں
ہوتا قلندري کے کچھ اپنے آداب ہوتے ہيں لہذا ’’حافظاً لدينہ‘‘ دين کي
حفاظت کرے۔
سوال:تاريخ کا ایک واقعہ ہے کہ جب سيدالشہداٴ کا سر جب يزيد کے دربا ر
ميں آیا تو وہ چھڑي مارہاتھا سيد الشہداٴ کے ہونٹوں پر اور ساتھ اسکا
یہ جملہ تھا کہ یہ جو اسلام ہے يہ تو بني ہاشم کا ڈھونگ تھا ور اصل
مقصد جو تھا انکا وہ تو عرب کي سلطنت اور حکومت حاصل کرنا تھي تو اسي
تناظر ميں ہم ان دونوں باتوں کو کس طرح ديکھيں گے آيا دين جو ہے وہ عين
سياست ہے یا سياست جو ہے وہ دين کا ايک حصہ ہے؟
جواب:از ديانت الہي نہ سياست الہي يعني يہ ايک ڈھونگ تھا جو بني ہاشم
نے مچایا(معاذاللہ)يزيد کا جملہ يہ تھا کہ يہ کوئي وحي نازل نہيں ہوئي
کوئي فرشتہ نہيں آيا کوئي منبع نہيں ہے کوئي عالم غيب سے ارتباط نہيں
ہے يہ دعوي جو کرتے ہيں معاذاللہ يہ کوئي بے بنياد دعوي تھا نہ يہ کہ
وہ کہنا چاہتا تھا کہ يہ ديانت نہيں رکھتے ليکن سياست رکھتے ہيں نہ وہ
يہ کہتا تھا کہ نہ ديانت ہے نہ سياست ہے جيسا کہ نہج البلاغہ
ميںاميرالمومنينٴ نے امير شام کو ايک خط کے جواب ميں يہي کہاديانت کو
تو سمجھتا نہيں تو سياست کب سے سمجھنے لگا تجھے تو سياست کي بھي ابجد
معلوم نہيں تجھے کيا معلوم کے سياست کيا ہوتي ہے؟سياست عين ديانت یا
عرض کيا تھا کہ ایک زمانہ تھا جب سياست اور ديانت کو آگ اور پاني کي
طرح سمجھا جاتا تھا بعد ميں کچھ اہل فکر اہل نظر پيدا ہوئے جنہوں نے
ہمت کي کہاکے نا سياست بھي دين ميں فرض کي جاسکتي ہے بعض تھوڑا بڑھے اس
حد تک کہ دين کا حصہ ہے سياست جز ہے بہت سارے ايسے ہيں جو معاصر ہيں
اور کچھ اس زمانہ معاصر سے قبل کے لوگ ہيں ليکن امام نے ايک بالکل
منفرد بات کي دين شناسي اور سياست شناسي ميں اوروں کيا کہ سياست عين
ديانت و ديانت عين سياست ہے۔ ديانت سے مراد عرض کيا دين لے آپ سچائي ،
اور ايمانداري نہيں لے ديانت عين سياست و سياست عين ديانت ہے مراداس سے
يہ ہے کہ آپ آئيں دين کو اندر سے کھول کے ديکھيں تعريف کريں دين کي کيا
ہے دين تو صرف چند احکام کا نام نہيں ہے حتيٰ کہ يہ احکامت حتيٰ فقہ
امام کا يہ کہنا تھا کہ ميں نے جو دين پڑھا ہے مجھے سياست کے علاوہ کچھ
نظر نہيں آيا ’’ اس ميں خوب پہلے آئيں سياست کي تعريف کريں سياست کيا
ہے دين کي تعريف کريں دين کيا ہے؟ آپ کو روح دونوں کي ايک نظر آئے گي
لفظ دو ہيں دين اور سياست روح دونوں کي ايک ہے سياست سے مراد چالاکي
نہيں ہے سياست سے مراد دھوکہ اور فريب نہيں ہے سياست سے وہ چيز نہ مراد
ليں جو آپ کے معاشرے ميں ہے يہ تو نہ ديانت ہے نہ سياست ہے يہ بقول اس
ساواکي کے پدر سوختگي ہے يہ جو يہاں کے سياست دانے بھي کرتے ہيں اور
ساري دنيا کے سياست دان کررہے ہيں جس کا امام ’’ جارج بش‘‘ ہے سياست کا
وہ سياست نہ وہ تو سياست نہيں سرے سے کون اس کي سياست کہتا ہے يہ تو
سياست کا نام بدنام کيا ہے ان لوگوں نے بہت سارے الفاظ ايسے اچھے اور
محترم الفاظ تھے جو غلط لوگوں نے اپنے لئے استعمال کئے الفاظ بھي بد
ہوگئے مثلاً خود لفظ يزيد کرنے صحابہ کا نام يزيد ہے آئمہ معصومين کے
صحابہ ميں سے بعض ايسے ہيں کہ يزيد ناک ہے ان کا ليکن ايک شخص نے اپنے
لئے اتنے بدکار انسان نے يہ لفظ استعمال کيا لفظ بھي برا ہوگيا شخص تو
برا تھا ہي مسلمہ تو تھا ہي اسم بھي برا ہوگيا آج کوئي سننے کے لئے
تيار نہيں ہے اپنے لئے يزيد يہ گالي بن چکا ہے بہت سارے ايسے الفاظ تھے
کہ جو ايسے برے لوگوں نے اپنے لئے استعمال کئے کہ وہ برے ہوگئے بہت
سارے ہيں مثلاً نمونے کے طور پر ايک لفظ ہے جو اہل مطالعہ جانتے ہيں ’’
سفسطي‘‘ آج کل سفسطي کسي کو کہيں تو وہ بہت برا مانتاہے سفسطي ايک گالي
ہے عالمانہ گالي کسي کو کہو تم سفسطي ہو اور سمجھتا ہو کہ کيا کہہ رہا
ہے مجھے اس شخص کي طرح نہ ہو جو گيا کسي عرب ملک ميں اس کا عربي سے
جھگڑا ہوا اس نے عربي ميں گالياں ديں اس نے کا سبحان اللہ کتنا اچھا
اخلاق ہے رسول اللہ کي قوم کا ميں نے لڑائي کي گالي دي اس نے قرآن پڑھا
اس کے مقابلے ميں نہ ايسے آدمي کو نہ جو واقعاً تھوڑا کچھ سمجھتا ہے اس
کو کہو سفسطي بگڑ جائے گا ليکن يہي سفسطي کسي زمانے ميں بہت ہي
محترمانہ لفظ تھا يا صوفي جتنے بدعمل جتنے بد عمل بيکار نکمے ، اجڈ تھے
انہوں نے اپنا نام صوفي رکھ ليا آج چڑ ہوتي ہے لوگوں کو صوفيائ کہنے سے
يا تصوف کہنے سے کيوں اس لئے کہ ايسے لوگوں نے اپنے لئے کلمہ تصوف
استعمال کيا ورنہ صوفي کسي زمانے ميں دانشور دانشمند جس کو آپ ڈاکٹر
کہتے ہيں آج P.H.Dآج
سے سو سال پہلے اس کو P.H.Dڈاکٹر
نہيں بلکہ صوفي کہا جاتا تھا بڑا خوش بھي ہوتا تھا صوفي صاحب آئيں ہيں۔
آج کل يہاں داڑھي والے کو صوفي کہتے ہيں مثلاً بسوں والے صوفي صاحب
کہتے ہيں لہذا يہ الفاظ برے لوگوں نے استعمال کيے ہيں اگر انہوں نے
اپنے لئے سياست کا لفظ چن ليا ہے تو اس کے معني يہ نہيں ہيں کہ يہ
سياست دان ہيں يہ دھوکہ باز ہيں ان کے لئے بہترين لفظ ہيں کہ يہ دھوکہ
باز ہيں کہ جب ہم اخبار ميں پڑھتے ہيں ديکھيں ہر زبان کو سمجھنے کے لئے
اس کي لغت کا سہارا ليا جاتا ہے مخصوصاً کچھ لوگوں نے آئي کوئي زبان
مثلاً فارسي زبان تو فارسي کتاب پڑھتے ہوئے ساتھ ڈکشنري رکھتے ہيں آپ
عربي زبان نہيں جانتے تو اگر عربي کي کتاب پڑھنا چاہيں تو ساتھ ڈکشنري
رکھتے ہيں يا انگلش مثلاً انگلش نہيں آتي تو اگر عربي کي کتاب پڑھنا
چاہيں تو ساتھ سمجھتے ہيں کہ يہ کيا ہورہا ہے اسي طرح جب ميڈيا ميں يا
سياستدانوں کي زبان استعمال ہوتو ساتھ ايک ڈکشنري رکھيں آپ جب وہ کہتے
ہيں سياستدان اس مراد وہ نہيں ہے جو لغت ميں لکھا ہوا ہے دوسري ادبيات
کي ڈکشنري ميں بلکہ سياستدان ان کي ڈکشنري ميں ان کي ڈکشنري کون سي ہے
سياست کي ڈکشنري معلوم ہے کون سي ہے نکاولي کے معروف کتاب کے ’’The
Prince‘‘
شہريار وہ سياست کي ڈکشنري ہے اگر معني ديکھنے ہيں وہاں جا کر ديکھيں
سياست دان يعني مکار، سياست دان يعني درندہ، سياستدان يعني دھوکہ باز
وہ نہيں ہے سياست وہ عين ديانت نہيں ہے وہ دھوکہ ہے وہ مکاري ہے سياست
عين ديانت ہے نہ دھوکہ عين ديانت ہے انہوں نے غلط يہ لفظ محترم اٹھا کر
اپنے نام کے ساتھ چسپاں کرليا سياستدان کا ہے کہ سياستدان
B.Aکي
ڈگري مانگتے ہيں اب کہتے ہيں ملت کے ساتھ خيانت ہورہي ہے عجيب ہے آپ سے
کہتے ہيں کہ B.Aکي
ڈگري لے کر آو تاکہ اليکشن لڑ سکو کہتے ہيں کہ قوم پہ ظلم ہورہا ہے يہ
سبحان اللہ پڑھے لکھے لوگوں کے تم سياست دان ہو رہبر ہو تو قوم پہ ظلم
ہور ہا ہے ۔ لہذا سياست کي تعريف اور ديانت کي اگر تعريف کريں روح
دونوں کي ايک نکلے گي۔
سوال: ولايت تکويني کيا ہے کون سے اس کے اہل لوگ اس کے اہل ہيں ولايت
تکويني کے؟
جواب: آپ کو زيادہ دلچسپي تکويني سے ہے تکويني ہميں اس صورت ميں معلوم
ہوگا جب ولايت روشن ہوجائے ظاہر سي بات ہے جب تک ولايت کا مفہوم واضح
نہيں ہوگا۔ وہ تکويني کا واقعہ ہے معني رہے گا يہ معلوم تو ہو ولايت
تکويني و تشريعي کيا ہوتي ہے ولايت کيا ہے پھر اس کے دو حصے ہيں اور يہ
ساري باتيں وہ نہيں کہ ديکھيں مختصر سوال بہت مختصر ہوتا ہے ميں پہلے
بھي اسي ہال ميں يہ مطلب عرض کرچکا ہو ں کہ توقع يہ ہوتي ہے کہ ہميں
يوں جواب ديں ہاں يا ناں ميں جواب مختصر سوال ہو تو اتنا جواب ديں بعض
تو لکھ کر بھي کہتے ہيں کہ مولانا سوال ہم ايک منٹ کا بلکہ ايک سيکنڈ
کا کرتے ہيں جواب آپ آدھے گھنٹے کا ديتے ہيں ہوتا ہي يوں ہے سوال يعني
کہتے ہيں ’’ مفتاح العلم‘‘ علم کي چابي ہے چابي چھوٹي سي ہوتي ہے ليکن
چابي لگا کے جو ہال کھلتا ہے وہ بہت بڑاہوتا ہے۔ يہي ہال جس ميں آپ
بيٹھے ہوئے ہيں چھوٹي سي چابي سے کھلا ہے ليکن 200آدميوں کے بيٹھنے کي
جگہ ہے اس ميں تو اگر يہ ہال بھي چابي جتنا ہوتا آئندہ جتنے ہال بنائيں
چابي جتنے ہونے چاہئيے چھوٹے چھوٹے پھر تو يہ بات نہيں بنتي جواب اس
چابي جو آپ جواب مانگنا چاہتے ہيں وہ بہت بڑا ہوتا ہے يعني چھوٹي سي
چابي لگا کر ايک بہت بڑي دنيا کھول دي آپ نے ولايت کي بات کرکے آپ نے
چھ مہينے کا ايک دروازہ کھول ديا بحث کا گفتگو کا جب جا کے کہيں بات
سمجھ ميں آئے گي اور مجسم اور مختصر جواب نہ صرف قانع نہيں کرتے بلکہ
شبہات ميں اضافہ کرتے ہيں اکثر شبہات ہمارے اسي وجہ سے ہيں کہ راستے
ميں پوچھے چوک پہ پوچھيں ٹيلي فون پر پوچھيں يہ سوال وہ بے حال تھے
نيند آئي ہوئي تھي آغا صاحب کو انہوں نے بھي نيند کے عالم ميں کيا ٹھيک
ہے ہم اعتقاد بنا کے بيٹھ گئے بس انہوںنے کہا ہے ٹھيک ہے نا يہ وہ
چيزيں ہيں جنہيں ’’As Student‘‘
ميرا مشورہ ہے يہ آپ کو ايک طالب علم کي حيثيت سے دين کے طالب علم بنيں
دين کے سامعين نہ بنيں دين کو سامعين نہيں چاہئيں اور سامعين بننے سے
دين سمجھ ميں نہيں آتا ہم صرف سامعين دين ہيں بس رياضي کو سامعين نہيں
چاہئيے رياضي کو اسٹوڈنٹس چاہئيے فزکس، کيمسٹري کو اسٹوڈنٹس چاہئيے نا
کہ سامعين سامعين کو ايک فزکس سمجھ ميں آئے گي رياضي سمجھ ميں آئے گي
تو دين بھي سمجھ ميں نہيں آئے گا قرآن کے سامعين نہ بنيں قرآن کے طالب
علم بنيں ولايت کے سامعين نہ بنيں ولايت کے طالب علم بنيں طالب علم
بنانے سے ميرا مقصود يہ نہيں ہے کہ کل عمامہ باندھ کے چلے جاو مدرسے
ميں سارے داخلہ لينے کے لئے نہ طالب علم گھر ميں بن سکتے ہيں اپنے
کاروبار بھي جاري رکھيں ۔ تعليم بھي جاري رکھيں وہيں پر دين کے بھي
طالب علم بن جائيں بعنوان طالب علم دين سيکھيں آپ اس وقت دين سمجھ ميں
آئے گا لہذا ان گفتگو کو بہت وقت چاہئيے ولايت کے مسئلے کو ورنہ اسي
طرح ’’ لايخل‘‘ رہے گا ہميشہ کے لئے اور اضافہ بن جائے گا اشارہ اب آغا
صاحب کے سوال کے احترام ميں عرض کررہا ہوں کہ ليکن عادت نہيں ہے مختصر
جواب دينے کي يہاں يہ بات ميں اپني عادت کے برخلاف کررہا ہوں مختصر
جواب دے رہا ہوں اگر شبہہ پيدا ہوتا ہے تو وہ آپ کي اپني ذمہ داري ہوگي
ولايت لغت ميں قرب کو کہتے ہيں عربي لفظ ہے ولا، ولا کے معني ہے قرب
ولي يعني قريب يہ ولايت جب ذات خدا کے بارے ميں استعمال ہو تو اس سے
مراد ہوتي ہے قربت خداوند قرب الٰہي قرب الٰہي صرف ايک ذہني تصور نہيں
ہے يعني يہاں پر آپ تصور کرکے بيٹھ جائيں تو خدا کے قريب ہيں آپ مسجد
ميں جا بيٹھے تو خدا کے قريب ہيں آپ يا حتيٰ کعبہ ميں جابيٹھے تو خدا
کے قريب ہيں آپ ۔ خدا کسي مکان ميں نہيں ہے قرب خدا زميني، زماني،
مکاني نہيں ہے چونکہ ذات حق تعاليٰ مکاني نہيں ہے ذات حق کمال محض ہے
صرف الکمال ہے محض کمال ہے فقط کمال ہے اس ذات باکمال کا قرب نہ باتوں
سے ہوتا ہے نہ عبادتوں سے ہوتا ہے نہ سفر کرنے سے ہوتا ہے نہ کعبے اور
مسجد ميں بيٹھنے سے ہوتا ہے کامل کا قرب اس صورت ميں ہوتا ہے جب انسان
خود اپنے اندر کمال پيدا کرے ناقص آدمي اپنے اندر کمال جب پيدا کرے تو
وہ کامل کے قريب تر ہوتا جاتا ہے اگرچہ زميني لحاظ سے بہت دور ہوتاہے
مثلاً آپ يوں فرض کرليں کہ ايک بچہ جو پہلے دن گيا مدرسہ ميں اسکول ميں
اور اس کا استاد ان دونوں ميں بہت فاصلہ ہے ليکن نہ زماني اور زميني
چونکہ ظاہراً تو ايک ٹيبل کا فاصلہ ہے ٹيبل کے اس طرف شاگرد بيٹھا ہوا
اس طرف استاد بيٹھا ہوا ہے يہ توکوئي فاصلہ نہيں ہے ليکن کمال علمي کے
لحاظ سے ديکھيں بڑا فاصلہ ہے حتيٰ تصور سے بھي باہر فاصلہ ہے اس بچے نے
قربت شروع کردي اپنے معلم کي قربت شروع کردي قربت ٹيبل ميں ا سکے ساتھ
بيٹھنے سے حاصل نہيں ہوتي معلم کي قربت کے معني يہ ہيں کہ جوں جوں يہ
بچہ ايک ايک علمي مسئلہ پڑھتا جاتا ہے معلم کے قريب ہوتا جاتا ہے يعني
وہ علمي فاصلہ کم کرنا يہ قربت ہے اور ايک دن آتا ہے کہ وہ اپنا علمي
فاصلہ بہت کم کرليتا ہے اس دن وہ اپنے معلم کے قريب ہوتا ہے ورنہ اس سے
بہت دور ہے کمالات کي دنيا سے ذات خدا کمال محض ہے اور انسان ہے ناقص
’’ اسفل سافلين‘‘ خالي ہر قسم کے کمال سے يہ کمال کا سفر طے کرتا ہے
يعني وادي کمال ميں قدم رکھتا ہے ايک ايک کرکے کمالات حاصل کرتا ہے اور
جوں جوں کمالات حاصل کرتا جاتا ہے مظہر صفات کماليہ خدا بن جاتا ہے اور
جس قدر يہ سفر تکامل بيشتر طے کرے گا مظہر کامل و تام بن جائے گا مظہر
اتم بن جائے گا اور جتني حد ممکن ہے اس کے لئے اتني حد پر جا پہنچے تو
يہ قرب کے آخري مقام تک جاپہنچے گا جس کو سورہ نجم ميں خدا وند نے بيان
فرمايا سورہ نجم حقيقتاً سفر تکامل انسان بيان کررہي ہے ’’ والنجم اذا
ھويٰ‘‘ ہے نہ اس ميں ذہن ميں مطلب ’’مکان کعبہ و قوسين اوادنيٰ ‘‘ اس
سے پہلے ہے ’’ فدنيٰ ، فتدليٰ ‘‘ يہ قربت انساني ہے اتنا قريب ہوا اتنا
قريب ہوا اتنا قريب ہوا کہ دو قوس کا فاصلہ آپس ميں رہ گيا ’’ فدنيٰ
فتدليٰ فکان کعبہ و قوسين اوادنيٰ‘‘ اس سے بھي کم تر يہ سفر تکامل
انسان ہے اس سفر کے نتيجے ميں جو قربت انسان کو پيدا ہوتي ہے اور جو
مظہريت انسان کے اندر پيدا ہوتي ہے اس کو ولايت کہتے ہيں يہ ہے ولايت
تکويني اس ولايت کے نتيجے ميں قرب کے نتيجے ميں چونکہ مظہر صفات خدا
بنتا ہے ان صفات کا اثر انسان کے وجود ميں آجاتا مثلاً مظہر علم خدا
بنتا ہے علم ظاہر و غائب و شاہد سب کي خير و بقا ہے مظہر علم خدا بن
گيا مظہر قدرت خدا بنتاہے جب مظہر قدرت خدا بن جائے تو پھر يوں نہيں کہ
باب خيبر کو ہاتھ لگانا پڑتا ہے بلکہ خود علي ٴ کا اپنا فرمانا ہے
ہمارے ذاکر توپڑھتے ہيں ناکہ فلاں انگلي سے اٹھايا اس انگلي سے اٹھايا
يا خود مولا کہتے ہيں ميں نے اس کو ناخنن تک نہيں لگايا ہاتھ تک نہيں
لگايا کيونکہ ميں نے اس کو اپني جسماني طاقت سے نہيں اکھاڑا بلکہ ميں
نے اس کو الٰہي طاقت سے اکھاڑا يہ اپنا فرمان ہے مولا کا ’’ ما قلات
باب الخيبر بقوت جسدانيہ بل بقوتہ رحمانيہ ‘‘ يہ ولي ہوجاتا ہے يہ نگاہ
کرے کسي چيز کو اس نگاہ ميں وہ مظہر ديد خدا ہوجاتي ہے وہ نگاہ ’’ فانہ
ينظر بنور وجہ اللہ‘‘ وہ نور خدا سے ديکھتاہے اپني نور سے نہيں ديکھتا
اب اگر کوئي کام کرتاہے وہ کام پھر خدا کا ہوجاتاہے کسي کے ہاتھ پہ
ہاتھ تو رکھتا ہے تو خطاب آتاہے کہ ’’ يد اللہ فوق ايديکم‘‘ کہ يہ اللہ
کا ہاتھ ہے تمہارے سروں کے اوپر آج کل آپ بھي نعرہ ليتے يہں نا ’’ دست
خدا بر سر ما است خوب کہہ ديں نا جھجکتے کيوں ہيں’’ دست خدا برسر ما۔
|