’’ولایتِ فقيہ‘‘
 


کسي موضوع کے بارے میں دو قسم کے سوالات پیدا ہوتے ہیں کچھ سوالات ایسے ہیں جو موضوع کے واضح اور روشن نہ ہونے کي وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اور کچھ سوالات ایسے ہیں کہ جو موضوع روشن ہوجانے کے بعد موضوع کو آگے بڑھانے کیلئے ذھنوں میں اُٹھتے ہیں ہماري سر زمین پر خصوصيت کے ساتھ پاکستان میں ولایتِ فقيہ یا حکومتِ اسلامي جیسے موضوعات کے متعلق جو کثرت سے سوالات ذہنو ں میں مو جود ہیں اسکي وجہ یہ ہے کہ یہ موضوع ولایت ِ فقيہ یا حکومتِ اسلامي بقدرِ کافي واضح نہیں کیا گیانہ صرف اس سرزمین پر بلکہ اس واقع کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ کچھ عرصہ سے بہت دراز عرصہ ہے البتہ ہماري مذہبي تعليمات میں یہ ایک فر اموش شدہ با ب رہا ہے صدیوں فراموش رہا ہے اور اسکي فرموشي کے اپنے اسباب ہیں بعض اوقات پڑھنے میں بھي یہ باتیں آتي ہیں اور سننے میں کثرت سے آتي ہیں کہ ولایتِ فقيہ ایک جديد چيز ہے ،اس صدي کي پیداوار ہے اور بعض تو یہ کہتے ہوئے بھي نہیں جھجکتے اور لکھ بھي دیتے ہیں کہ گزشتہ دو دہائيوں میںیہ نظریہ شيعہ مکتب میں ایک ذہن کے شخص کي اختراع ہے ،اس سے آگے بڑھ کر يہ کہا جاتا ہے کہ آیا ایک فقيہ کو ولایت حاصل ہے یا نہیں حقِ حکومت ہے یا نہیں؟۔
امامیہ علمائ میںشيعہ علمائ میں صاحبِ نظر فقہائ ،مراجع میں اختلافِ نظر پایا جاتا ہے بعض قائل ہیں بعض قائل نہیں ہیں ،ایک بات جو اکثر کہي جاتي ہے اور لکھي بھي جاتي ہے یا یوں کہا جاتا ہے کہ ولایت فقيہ جیسا عنوان اور موضوع نظريہ ضرورے کے تحت سامنے آیا ہے پیش آیا ہے ورنہ دين میں اسکي کوئي جڑیں موجود نہیں لہذا اسکا ذائچہ تعليمات ديني ميں موجود نہیںاور اس قسم کے بيسيوں اور مسائل جو اس عنوان کے بارے میں پیش کئے جاتے ہیں عرض کیا ہے کہ اکثر سوالات اور بعض اوقات یہي سوالات جو شبہات کي شکل اختیار کر لیتے ہیںکيونکہ سوال کو جب قانع کنندہ جواب نہ ملے تو یہي سوال بڑھ کر شبہ بن جاتا ہے اور ہر سوال کو حل ہونا چاہیے ورنہ خطرناک شکل اختیار کر جاتا ہے لہذا سوالات اور سوالات سے زیادہ مہلک شبہات اس موضوع کے بارے میں اور اس جیسے بہت سارے موضوعات کے بارے میں موجود ہیں اُسکي ایک بنیادي وجہ ہے یہ وجہ بھي میں اُسي بزرگ ہستي کي زبان سے آپکي خدمت میں عرض کرونگا جس نے ہمیں ولایت فقيہ جیسے عنوان سے آشنا کیا ہماري توجہ اس طرف مبذول کراوئي ہے یعني’’ رہبرِ عظيم الشان حضرت امام اُمت خميني کبير‘‘کہ اس انسان نے حقيقتاً اس زمانے میںاسلام کو مسلمانوں کے سامنے بھي اور غیر مسلمانوں کے سامنے بھي متعارف کروایا ۔اُ ن کا ایک جملہ جو ابھي کتاب میرے پاس موجود نہیں ہے میں خود کتا ب سے آپکي خدمت میں عرض کردیتالیکن یہ ہے ایک مجموعہ ہے امام امت کے کلام کا بنام ’’’مجموعہ تبیان ‘‘امام خمیني کے کلمات ،خطبات اور خطابات موضو عي ترتیب سے مدوّن ہوئے ہیں اور چھپے ہوئے ہیں اُسکي ظاھراً پانچويں جلد ہے بنام ’’اسلامِ ناب ‘‘اسکے آوائل کے صفحوں میںیہ جملہ موجود ہے فرمایا کہ’’اسلام گمشدہ است اسلام را پیدائش کنيد ‘‘یعني کہ اسلام گم ہو چکا کھو چکا ہے جاؤ اور اسلام کو تلاش کرویوں نہیں کہ امام نے یہ جملہ افريقہ کے بارے کہا ہو کہ افريقہ میں اسلام گم ہوچکا ہے یا دور دراز جنوبي امريکہ لاطيني امريکہ میں گم ہو چکا ہے یا یورپ کي بعض سر زمينوں پہ اسلام کھو چکا ہے وہاں کے متعلق نہیں فرمایا بلکہ خود ایک فقيہ ہے فرزندحوزہ ہے فرزند مدرسہ ہے ایک مجتہد ہے مرجع تقليد ہے صاحب قلم ہے مدرس ہے استاد ہے فقيہ ہے فیلسوف ہے مفسر ہے عارف ہے حوزہ علميہ ميں رہ کرحوزہ علميہ میں کہہ رہا ہے اسلام گمشدہ است یعني حوزوں میں اسلام گم ہو چکا ہے مدرسوں ميں اسلام گم ہوچکا ہے کتابوں میںاسلام گم ہو چکا ہے اسلامي سر زمينوں میں اسلام گم ہو چکا ہے مساجدسے اسلا م گم ہو چکا ہے امام بارگاہوں میں اسلام گم ہو چکا ہے مذہبي مراسم میں اسلام گم ہو چکا ہیمکہ میں حج کے دوران اسلام گم ہو چکاہے مدينہ میں اسلام گم ہوچکا ہے یہاں بھي اسلام گم ہو گیا۔پیدائش کنيد،جاؤ ڈھونڈو، تلاش کرو ، جستجو کرو اسلام ڈھونڈو تم اسلام گم ہوچکا ہے یہ اُن کو خطاب کيا ہے جو اپنے آپ کو اسلام شناس سمجھتے ہیںاپنے آپ کو اسلام پر کار بند سمجھتے ہیںاور اسلام میں اپنے آپ کو صاحب نظر سمجھتے ہیں اُنھیں بتایا اگر ایک باپ ہو والد اور اُسکا بچہ گم ہوگیا ہو تو یہ گمان کرے کہ کمرے میں ٹي وي آن ہے وہ یہ سمجھ رہا ہے کہ بیٹا کھیل رہا ہے بیٹا صبح سے گم ہو چکا ہے ٹي وي کي آواز کو ریڈیو کي آواز کواپنے بیٹے کي آواز سمجھ کر خوش ہے لگا ہوا ہے اپنے کام میںاگر اسکو کوئي آکر دروازہ کھٹکھٹا کر کہہ دے کہ تمھارا بچہ گم ہوچکا ہے اور اسے احساس بھي ہو جائے کہ گم ہو گیا ہیاُس کي کیا حالت ہوگي ؟یہي مدعیان اسلام جس رنگ میں ہوں جس مذہب میں ہوں جس فرقے میں ہوں جس طائفے میں ہوںاس بزرگ اسلام شناس کے نزدیک اسلام سے بہت دور ہیںاور اسلام ان سے بہت دور ہیں گم ہو چکا ہے اسلام تم سے تو پھر آج جو ہمارے پاس ہے يہ کيا ہے مسجدوں ميں يہ جو نمازيں ہوتي ہيں يہ جو حج ہوتا ہے عبادتيں ہوتي ہيں مدارس ميں جو پڑھايا جاتا ہے پڑھا جاتا ہے لکھا جاتا ہے يہ سب اسلام نہيں ہے اس کو پھر کيا کہيں گے ہم فرمايا کہ وہ اسلام اسلامِ حقيقي البتہ حقيقي ميں تعبير کررہا ہوں امام امت کي تعبير ہے اسلام ناب يہ اصطلاحيں محفوظ رہني چاہئيں بعض ہمارے بزرگوں نے ترجمہ کرديا ہے ان کا اردو ميں اور ترجمہ کرکے نہ صرف ان کي چاشني اور لذت ختم کردي ہے بلکہ ان کا مضمون و مفاد اور انکا پيغام بھي گم کرديا ہے ان کو اسي طرح رہنے ديں فٹ نوٹ ميں ان کي وضاحت کرديا کريں تفسير کرديا کريں بريکٹ ميں ۔اسلام ناب محمدي
۰ يعني اسلام ناب گم ہوچکا ہے ، اسلام خالص اسلام حقيقي گم ہوچکا ہے ، اسلام مخلوط اسلام منسوخ مسخ شدہ وہ موجود ہے اسلام جس پر بہت سارے چہرے چڑھے ہوئے ہيں بہت سارے نقاب ميں بہت سارے پردے ہيں بہت غبار ہے صديوں کا غبار جس کے چہرے پر چڑھا ہوا ہے اس غبار کے نيچے اسلام ناب گم ہوچکا ہے ايک مخلوط اور ملاوٹ والا اسلام تمہارے پاس ہے اسلام خالص نہيں ہے امام کا ايک عظيم کارنامہ يہ تھا بہت سارے کارنامے ہيں ايک عظيم کام جو اس بزرگ انسان نے انجام ديا اور بہت عظيم کام انجام ديا اس کام کي وسعت کو سمجھنے کے لئے شايد آج کي نسل کافي نہيں ہے اس کي عمر اتني نہيں ہے بہت چھوٹي عمر کي يہ نسل ہے جو اس عظيم کارنامے کو درک کرسکے کہ کيا ہے ابھي وقت آنے ديں چند نسليں گزريں بعض اساتيد کي تعبير کے مطابق چند سو سال گذرنے ديں پھر دنيا کو پتا چلے گا خميني نے دنيا ميں کيا کيا ہے تھا کون يہ انسان کيا کيا ہے اس نے ايک بہت عظيم کارنامہ جو اس عظيم ہستي نے انجام ديا وہ يہ تھا کہ گم شدہ اسلام کو ڈھونڈ ليا اس نے گم شدہ اسلام تلاش کرليا تلاش کيا کہاں سے خرافات کے غبار کے نيچے سے بدعتوں کے انبار ميں جا کر تلاش کرليا من گھڑت افکار اور نظريات ان کے ڈھير سے جا کر نکالا اسلام خالص اسلام ناب کو تلاش کا اور تلاش کرکے متعارف کروايا بتايا کہ يہ اسلام ناب ہے يہ اسلام حقيقي ہے يہ بہت عظيم کارنامہ ہے يہ عرض کيا کہ اس نسل کو نہيں سمجھ ميں آئے گا يہ کارنامہ چونکہ جيسے چھوٹے بچہ کے کوئي بات سمجھ ميں نہيں آتي بڑوں کي ابھي بہت چھوٹا ہے جب آپ سے باپ سے پوچھنا ہے کہ يہ کيا چيز ہے تو باپ اس کو جواب ديتا ہے کہ ابھي بڑے ہوجاو خود سمجھ آجائے گي يہ کيا ہے گھريلو تعلقات مثلاً يا بعض لين دين بيٹا قدم قدم پہ سوال اٹھاتا ہے اباجان يہ کيا ہے باپ کا ايک ہونے ديں اس کو پھر اس کي آنکھيں کھوليں گي پھر اسے معلوم ہوگا کيا ہوا؟ متعارف کروايا اس اسلام کو اب ظاہر سي بات ہے کہ اگر وہ حقيقي اسلام اسلام ناب انسان سمجھا ہو اہو يا يہ پيش کيا گيا ہو اور انسان اس سے کسي حد تک آشنا ہو بہت سارے سوالات ذہن ميں آتے ہي نہيں ہيں اور بہت سارے آئے ہوئے سوالات کا جواب مل جاتا ہے انسان کو بہت سارے شبہات حل ہوجاتے ہيں انسان کے چونکہ اسلام گم شدہ ہے لہذا بہت سارے سوالات ميں ہمارے ذہنوں ميں لہذا اس قسم کے مسائل حل اس وقت ہوں گے بالترتيب منطقي يہ ہے کہ کوئي بھي يہ کام کرنا چاہے اگر ايسے نہ کرے جيسے ہم کررہے ہيں اس محفل ميں کہ بيچ ميں سے ايک نقطہ اٹھا کر اس کو سمجھنے کي کوشش کرتے ہيں ہر وہ شہ جس کا تعلق پہلے سے بھي ہو اور بعد کے ساتھ بھي ہو اس کو پہلے اور بعد کے اندر جب رکھ کر ديکھيں تو بات سمجھ ميں آتي ہے کہ يہ کيا ہے يعني اس سے پہلے بھي بہت کچھ ہو اور اس کے بعد بھي بہت کچھ ہو آپ پہلے کو بھي نظر انداز کرديں اور بعد کو بھي نظر کرکے بيچ ميں سے اٹھا کو اس کو ديکھيں ہزار سال جھانکتے رہيں بات پلے نہيں پڑے گي ضروري ہے کہ اس کو اس قبل و بعد کے ساتھ ملا کر ديکھيں تاکہ اپنا معني و مفہوم ڈھونڈ لے وہ چيز اور ہمارے ذہن ميں بھي منتقل ہوجائے لہذا صحيح طرز بحث ولايت فقيہہ کو سمجھنے کے لئے عنوان و موضوع ولايت فقيہہ کو درک کرنے کے لئے يہ ہے کہ ہم اس سے پہلے اس سے مربوط چيزيں ہم درک کرليں ميں ايک خيريت عرض کرتا ہوں ولايت فقيہہ در حقيقت ايک حصہ ہے بحث ولايت کا جسے کے يہاں بحث ولايت حل شدہ نہيں ہے ولايت فقيہہ کيسے حل ہو اس کے لئے بحث ولايت ايک حصہ ہے بحث امامت کا پس فلسفہ امامت روش ہو پہلے اور امامت پھر ايک مجموعہ دين ميں ہے اس کي بنياديں ہيں جب تک وہ بنياديں حل نہ ہوں فلسفہ امامت سمجھ ميں نہيں آتا ہر چيز کے بارے ميں سوال اٹھيں گے ذہن ميں پس ولايت فقيہہ کو اس تناظر ميں ديکھ کر ہميں ديکھنا ہوگا اور پھر حل ہوگا يہ مسئلہ ہمارے لئے ہمارے بزرگو کا يہ فرمانا ہے امام خميني ۲ کا کہ ايک بہت بڑي آفت اور ايک بہت بڑي مشکل جو جہان اسلام کو صديوں سے درپيش ہے اور آج اپنے اوج پر ہے وہ يہي ہے کہ دين کو سياست سے جدا سمجھنا بنيادي خرابي دين اور سياست ميں فرق ڈالنا ديانت ديانت سے مراد ديني اردو ميں ديانت استعمال ہوتا ہے سچائي کے معني ميں يا ايمانداري کے معاني ميں استعمال ہوتا ہے ليکن آپ جب ميں استعمال کروں ديانت تو اس سے مراد آپ دين ليں سياست و ديانت دين و سياست ان کو دور کردينا يہ امام کے نزديک ايک بہت بڑي مشکل ہے جو عالم اسلام کو درپيش ہے نا عوام عالم اسلام کو درپيش ہے علمائ عالم اسلام کو درپيش ہے فقہا عالم اسلام کو درپيش ہے صاحبان نظر کو در پيش ہے کہ سياست اور دين کو دور الگ الگ چيزيں سمجھتے ہيں يہ دو سمجھنا اس بات کي دليل ہے کہ نہ مفہوم سياست روشن ہے اور نہ ہي صحيح معانوں ميں ديانت اور فلسفہ دين روشن ہے ان کے لئے يعني ناقص فہم دين کي اور ناقص فہم سياست کي باعث بنتي ہے کہ يہ دونوں جدا ہوجائيں ليکن جو دين سمجھ جائے جو سياست سمجھ جائے اس کو دو نظر نہيں آتے يہ جملہ خود ان ہي بزرگوار کا ہے کہ لوگ يہ کہتے ہيں کہ دين کا سياست سے کيا تعلق کيا ربط دين کيا چيز ہے اور سياست کيا چيز ہے۔ فرمايا کہ ميں نے جو دين پڑھا ہے اب ہميں معلوم ہونا چاہئيے کہ اس بزرگوار نے کيا دين پڑھا ہے يعني وہ تمام کتب فقہي تمام کتب اصولي تمام کتب کلامي تمام کتب فلسفي وہ نصاب جو ايک مرجع ايک فقہي ايک اسلام شناس پڑھتا ہے وہ سب کچھ پڑھا اور اس سے مازاد بہت کچھ پڑھا جو شايد معمولي علمائ دين نہيں پڑھتے يا جائز بھي نہيں اسے پڑھنا وہ بھي سب کچھ پڑھا دين کا ايک بہت ہي ابتدائي باب يعني دين کتاب کھوليں تو پہلي کتاب جو کھلتي ہے دين کي ابتدائي شروع کے لئے ’’ الغاب‘‘ دين کے احکام شرعيہ ہيں جس کو ہم کہتے ہيں فقہ ، شريعت ، دين صرف شريعت نہيں ہے شريعت دين کا ايک حصہ ہے اور بہت ابتدائي حصہ شريعت يا فقہ دين کا ايک پہلا باب ہے يہي فقہ جو حوزوں ميں مدارس ميں پڑھائي جاتي ہے احکام شرعيہ توضيح المسائل آيا اس کا کوئي تعلق ہے سياست سے اسي کے بارے ميں کہا جاتا ہے کہ دين کا سياست سے کوئي تعلق نہيں ہے اب امام نے يہ پورا نصاب پڑھا اور پڑھايا يعني اس سطح کا انسان علمي سطح کا انسان کم ازکم اس کو پڑھنے ميں بيس سال کما زکم مدت ہے 20سے 25سال کہ ايک انسان صرف فقہ پڑھ لے فقہ اور فقہ سے مربوط علوم امام نے 20سال سے 25سال تک اس مضمون کو پڑھا اور اتني مدت يا اس سے زيادہ مدت 40سال تک اس مضمون کو پڑھايا اور وہ بھي اعليٰ سطح کي تدريس کي اور ايک بہت ہي نام آور نامدار فقيہہ فقہ شناس، شريعت شناس ، احکام شناس کتاب طہارت سے لے کر آگے جتنے ابواب ہيں کتاب طہارت ميں آپ کو معلوم ہے کہ وضو کا تذکرہ ہے پاني کا تذکرہ ہے نجاست و طہارت کا تذکرہ ہے غسل کا تذکرہ ہے اس ميں نماز ميت کا تذکرہ غسل ميت کا اس ميں ذکر ہے اور يہ چيزيں ہيں کتاب طہارت ميں نماز کا باب آجاتا ہے بعد ميں پھر اس کے روزہ ہے زکوٰۃ ہے يہ چيزيں جو احکام شرعيہ کو تشکيل ديتي ہيں امام کا يہ فرمانا ہے کہ ميں نے جو دين پڑھا ہے حتيٰ يہ فقہ کتاب طہارت يہ وضو و غسل کي بحث جو ميں نے پڑھي ہے دين آپ يہ کہتے ہو کہ دين کا سياست سے کيا تعلق کہاں دين ميں سياست ہے امام خميني ۲ فرماتے ہيں ميں نے جو دين پڑھا ہے ميں نے جو فقہ پڑھي ہے مجھے دين ميں سياست کے علاوہ کوئي چيز نظر ہي نہيں آئي عجيب نگاہ ہے مثلاً يہاں اس کمرے ميں کسي کو بھيجا جائے کہيں کہ جا کر ديکھو ادھر کوئي انسان ہيں يا نہيں ہيں وہ آيا يہاں پر پورے ہال پر نگاہ کرکے جائے کہے کہ يہاں تو تو کوئي انسان نہيں ہے ايک دوسرا آدمي آئے اور آکر کہے مجھے يہاں پر سوائے انسان کے کچھ اور نظر نہيں ہے صرف انسان ہي تو تھے اور کوئي نہيں تھا کتنا فرق ہے ديد ميں ايک نے يہي فقہ پڑھي يہي فقہ پڑھائي يہي اسلام پڑھا اور اس کو ہي پورے اسلام ميں سياست نامي کوئي چيز نظر نہيں آئي اور دوسرے نے آکر يہي کتاب پڑھي اور يہي کتاب پڑھائي ديني نصاب وہي ہے بلکہ بعض کتابيں جو امام نے پڑھي اور پڑھائي ہيں آج مطروب ہوچکي ہے فقہ کي کتابيں آج کے طلبائ بھي يہي پڑھتے ہيں نام آپ نے بھي سنا ہوگا شرح المعہ مثلاً ايک کتاب ہے جو علمي حوزوں ميں پڑھائي جاتي ہے ’’ شرائع الاسلام ‘‘ ايک کتاب ہے جو پڑھائي جاتي ہے جو اہرالکلام ہے جو فقہ کي بہت بڑي کتاب ہے اور امام خميني ۲ بڑے دل سے معتقد ہيں جو اہر کے يہ وہ کتابيں ہيں جو آج کل رائج ہيں پڑھي جاتي ہيں چھوٹي اور بڑي سلحوں ميں فرمايا کہ يہ فقيہہ شريعت جو ميں نے پڑھي ہے مجھے سياست کے علاوہ اس مي کچھ نظر نہيں آيا سب ہي تو سياست ہے يہ مگر سياست غير از ديانت ہے مگر سياست غير از دين ہے کوئي چيز دين عين سياست ہے لہذا ايک بہت اہم ترين فرق اسلام شناسي ميں جو پيش آيا يوں نہيں کہ جو آدمي چند کتابيں پڑھ لے يا ايک نظرئيے کو رد کرسکتا ہے يا ايک نظرئيے کو قبول کرسکتا ہے بلکہ پہلے آئيں ہم يہ ديکھيں کہ ہم نے بس اسلام کو بچانا ہے جس اسلام کي شناخت کي ہے اس اسلام کي بنيادوں ميں سے ہم نے کس بنياد کو قبول کيا مانا يا نہيں کيسے ديکھا اس کو پڑھاکيسے ہم نے اس کو اگر ديانت غير از سياست ہو اس دين ميں کبھي بھي نوبت ولايت فقيہہ کي نہيں آئے گي کبھي بھي بحث ولايت فقيہہ کے چيپٹر پر جائے گي نہيں ہزار سال آپ فقہ پڑھتے رہيں اس بحث ميں کہيں بھي تذکرہ نہيں آئے گا بعض علمائ ہے انہوں نے ولايت فقيہہ کي بحث کي ہے اور وہ بھي جا کے معاملات ميں معاملات ميں بے ميں بے ميں جا کے بے فضولي ميں بے فضولي ايک خاص اصطلاح ہے پہلے کي بے فضولي اس کو کہتے ہيں کہ کس کا مال مالک کا مال بغير مالک کي اجازت کے کوئي اٹھا کر بيچ دے اس دن آپ کي دکان پر کوئي مہمان بيٹھا ہو اتھا آپ گئے کسي کام سے بعد ميں کوئي گاہگ آگيا اس نے آپ کا مال اٹھا کے بيچ ديا آپ کے لئے بيچا نہ چرا کے غضب نہيں کيا آپ کا مال آپ کے لئے بيچ ديا اس کو کہتے ہيں بے فضولي اس ميں جا کر انہوں نے ولايت فقيہہ کي بحث کو چھيڑا کہ آيا فقيہہ کو يہ حق ہے کہ کسي کا مال اٹھا کر ايسے بيچ دے بيچ دے تو پھر اجازت دے يا کسي حد تک فقيہ کي ولايت کا حکم رو ہے وکالت ہے ليکن جو اسلام کي کتاب اٹھا کر کھولنے اور ديکھيں اور اس کو اسلام ميں سوائے سياست کے کچھ اور نظر نہ آئے دين ميں اس کي دين کي کتاب کا پہلا باب ہي حکومت اسلامي اور پہلا باب ولايت بنتا ہے چونکہ دين غير از سياست نہيں ہے کوئي چيز لہذا يہ فرمايا ’’ ديانت ما عين سياست ما است و سياست ما عين ديانت ما است‘‘ يہ جملہ امام کو بہت اچھا لگتا تھا اور امام خميني سے پہلے ايک شخص نے کہا تھا شہيد سيد حسن مدرس (رضوان) کہ سب سے پہلے انہوں نے يہ جملہ استعمال کيا اور بولا اور اسي وجہ سے شہيد حسن مدرس سے امام کو ايک عجيب لگاو تھا بات بات پر حوالہ ديتے تھے کہ سياست دان اور عالم ہو تو شہيد مدرس جيسا واقعاً دين کو سمجھا جس نے اسلام کو سمجھا اس نے امام کايہ تذکرہ ہے خود اپني زباني نقل کيا فرمايا کہ جب مجھے انقلاب سے پندرہ 20سال پہلے قم سے گرفتار کرکے تہران لے گئے تہران ميں اس زمانے کي فقيہہ پوليس ساواک اس کا چيف آيا اور آکر کہنے ايک بہت خوبصورت انداز سے مجھے شيشے ميں اتارنے کي کوشش کي بہت تيز لوگ ہوتے ہيں اور يہ حربہ ان کا بہت کامياب ہے خصوصاً اہل دين پر بہت کامياب ہے يہ حربہ اگر آپ کسي کو نکالنا چاہتے ہيں يہاں سے اپني محفل سے دو طريقے ہيں ايک يہ کہ اس کو دھکا دے کر باہر پھينک ديں تو اس صورت ميں رد عمل بھي ہوسکتا ہے عکس العمل بھي ہوسکتا ہے وہ آدمي ناراض يہ ہوسکتا ہے وہ آدمي غصے ميں بھي ہوسکتا ہے جو اپني کارروائي بھي کرسکتا ہے وہ ممکن ہے ناجائے وہ کہے کہ جي نہيں جاتا ليکن ايک طريقہ يہ ہے کہ اس طرح سے اس کو نکاليں اتني خوبصورتي سے خوش ہوکر جائے راضي بھي ہو اور آپ کا شکر گذار بھي ہو کہ آپ نے مجھے اپني عقل سے اٹھاديا نکال ديا يا طريقہ ميں بتاتا ہوں اب کسي نے نکالنا ہوا تو اس طرح سے نکالنا چونکہ اہل دين کو دشمنان دين نے اسي طرح نکالا ہے دين سے باہر اجتماع سے باہر سياست سے باہر عملي زندگي سے باہر سماج سے باہر ان کي ذمہ داريوں اور فرائض سے باہر اس طرح سے نکالا ہے خوبصورت انداز سے مثلاً آپ نے ميٹنگ رکھني نہيں چاہتے کہ يہ آدمي آپ کي ميٹنگ ميں بيٹھے کوئي راز کي بات کرنا چاہتے ہيں آپ پسند نہيں کرتے کہ يہ بھي ہو آپ اٹھ کر ان کے پاس جاتے ہيں اور کہتے ہيں کہ جي يہاں پر تو جوان ميں لڑتے ہيں يہ تو ميٹنگ ہے ان بقول يہاں کہ لاہور والوں کے يہ فنڈے ہيں مثلاً آپ بزرگ ہو سفيد ريش ہو بزرگوار ہو آغا ہو ممکن ہے کوئي جسارت ہوجائے يہاں آپ کي شان ميں لہذا آپ مناسب نہيں ہے کہ آپ اس ميٹنگ ميں بيٹھيں آپ تشريف لے جائيں يہاں سے اب ديکھيں جس کو آپ نکالنا چاہيں وہ کتنا خوش ہوگا کيونکہ آپ نے اس کو کيا کہ آپ بزرگ ہيں آپ اغا ہيں آپ عزت مند ہيں آپ آبرو دار ہيں آپ سفيد ريش ہيں اور يہ چھوٹے لڑکے ہيں يہ جوان ہيں ممکن ہے آپ کي شان ميں کوئي گستاخي ہوجائے وہ بڑے خوش ہو کہ وہاں سے اٹھ کے خود ہي چلا جائے گا يعني وہ کلام جو آپ چاہتے تھے وہ خود ہي اٹھ کے کردے گا صرف دو جملے اس کو آپ کہہ ديں بہت خوبصورت تدبير ہے استعمال کي ہوگي آپ نے بھي بعضوں پر اپني ميٹنگ سے نکالنے کے لئے يہ کہا ہوگا مثلاً جب کسي کو نکالنا ہوتا ہے کہتے ہيں آغا صاحب آئے ہوئے آغا صاحب کي پذيرائي کرتے جاو ان کو مثلاً لاہور شہر دکھاو ان کو وہ آغا صاحب خوش ہوجاتے ہيں مجھے سير کرائيں گے يہ انہيں معلوم نہيں ہے مجھ سے راز چھپا رہے ہيں مجھے محرم نہيں سمجھتے ليکن آغا بنا کے نکالنا باہر يہ ہنر ہے فن ہے کہ کسي کو ميدان سے نکالديں باہر اور آغا بنا کر نکاليں باہر اس کو احساس ہو آغائي کا بزرگي کا امام کے نزديک جدائي سياست و ديانت يہ ايک استعماري و شيطاني حربہ ہے اور ہو وہ انسان يہ تشريح ہے امام کے کلام ميں ہو وہ انسان جو سياست کو ديانت سے جدا سمجھتا ہے درحقيقت شيطان کے وسوسے کے عوض ميں ہے چونکہ يہ شيطاني وسوسہ ہے کچھ سياست ديانت سے دور ہے اور جس کے ذہن ميں آگيا يہ وسوسہ وہ معلوم ہے يہ پيچھے سے کارروائي ہورہي ہے يہ استعماري اور شيطاني وسوسہ ہے ليکن يہ استعماري وسوسہ بڑي خوبصورتي سے عملي ہوا کس طرح خود امام نے اپنے بارے ميں فرمايا کيا ميرے پاس آيا يہ ساواکي رئيس اور آکر مجھے کہنے لگا آپ آتي ہو آپ مرجع ہو آپ فقيہہ ہو آپ بزرگ ہو سيد ہو معلوم نہيں کيا کيا مقدس ہو سب کچھ ہو آپ اور يہ سياست کيا يہ سياست فارسي ميں اس نے کہا ميں اس کا اردو متبادل بيان کرونگا اس نے کہا اور سياست پدرسوختگي ہے اب کو فارس تھوڑي بہت سمجھتے ہيں انہيںاحساس ہوگا کہ پدرسوختگي فارسي ميں ايک ناروا کلمہ ہے عام بول چال ميں استعمال کرتے ہيں ليکن ايک ناسزا کے طور پر استعمال کرتے ہيں پدر سوختگي کا لفظي لغوي معني يہ ہے کہ پدر تو باپ کو کہتے ہيں سوختگي جلنے کو کہتے ہيں يعني يہ باپ کا جلنا ہے باپ کا جلنا تو وہ معني نہيں بنتا درحقيقت فارسي ميں پدر سوختگي کہتے ہيں اب اردو ميں متبادل اچھي تعبير نہيں ہے ليکن معني يہي بنتا ہے چونکہ اس نے آکے امام کو يہ جملہ کہا لہذا ميں ترجمہ کررہا ہوں تاکہ سمجھيں يہ کہا کہ سياست حرامي پنا ہے پدر سوختگي يعني حرامي پنا خود کہہ رہا ہے ان کو کہا کہ آپ بزرگ ہو آپ آغا ہو آپ مرجع ہو آپ سيد ہو آپ مقدس ہو اور سياست ايک غليظ چيز ہے ايک آلودہ چيز ہے ايک پليد چيز ہے پدرسوختگي ہے اگر آپ سياست ميں آئيں گے آپ الودہ ہوجائيں گے آپ نہيں آئيے يہ چھوڑ ديں ہمارے لئے يہ ہم جيسوں کو راس آتي ہے جچتي ہے ہمارے ساتھ آپ کو نہيں جچتي آپ ديکھ ليں کہ يہ جملہ پہلے سے آزمايا ہوا تھا يوں نہيں کہ پہلي دفعہ ايک عالم دين کے بارے ميں يہ جملے تھے بلکہ اس سے پہلے سينکڑوں عالمائ کو ان ہي جملات کے ساتھ سياست کے ميدان سے اٹھا کر باہر حجروں ميں گھروں ميں قيد خانوں ميں مدرسوں ميں گوشہ کنار ميں لاکر جا بٹھايا گيا اور بہت کامياب حربہ تھا سينکڑوں تاريخ پوري شاہد تھي لہذا يہ بھي ايک عالم دين يہ بھي ايک مولانا خوب اس مولانا کو ہم شيشے ميں اتاريں گے کہيں گے تم بہت بزرگ تم بہت مقدس ہو اور يہ آلودہ کام يہ بھي چھوڑ چھاڑ کے چلا جائے گا حوزہ ميں اپنا درس پڑھانا شروع کردے گا ليکن يہ وہ عالم نہيں تھا کہ جو ان کي چال ميں آجاتا اور استعماري و شيطاني حربے نہ سمجھتا اسے معلوم ہے کہ يہ آواز کہاں سے آرہي ہے فرمايا کہ ٹھيک کہتے ہو تمہارے سياست حقيقتاً پدر سوختگي ہے تمہارے نزديک سياست يہي ہے ليکن ميري سياست عين ديانت ہے عين دين ہے مقدس ہے خود سين ہے امام خميني کي تعليمات ميں يہ اہم نقطہ ہے يوں نہيں کہ سياست دين کا مخبر ہے بہت سے روشن فکر گذرے ہيں اہل سنت ميں بھي اور اماميہ ميں بھي علمائ گذرے ہيں صاحبِ نظر گذرے ہيں بہت آگے آئے ہيں ليکن اتنا آگے آئے ہيں اور آکر انہوں نے ثابت کيا کہ سياست دين کا حصہ ہے جز ہے امام خميني نے فرمايا نہ آئے ہو ليکن صحيح پٹي پر نہيں آئے ہو سياست دين کا جز نہيں ہے سياست عين ديانت ہے خود ديانت ہے نفس دين ہے عين دين ہے اس وجہ سے يہ فرمايا کہ ميں نے جو دين پڑھا ہے مجھے اس دين ميں سوائے سياست کہ کچھ نظر نہيں آتا اب مجھے بتاو کونسا حکم ديني غير سياسي سب ہي تو سياست ہے البتہ وہ پدر سوختگي الگ چيز ہے وہ سياست نہيں ہے ۔ يہاں سے اب حيران ہموار ہوتا ہے اب مسئلہ ولايت کا اگر يہ مشکل کسي کے لئے حل نہيںہوئي ارتباط سياست و ديانت ارتباط دين و سياست ولايت کا ايک معمہ ہے ہميشہ کے لئے اس کے لئے بلکہ نہ صرف معمہ ہے بلکہ افسانہ ہے جينا کہ آپ نے ديکھا چونکہ مسئلہ سياست و ديانت روشن نہيں ہے واضح نہيں ہوا حتيٰ ولايت معصوم ۰ کو بھي افسانہ بناديا جب اپنے ماحول کے اندر نہ ہو ايک چيز جيسا کہ عرض کيا کہ قبل و بعد کے اندر اس سے پہلے جو کچھ اور اس کے بعد جو کچھ ہے اس Setupميں نہ ہو يہ چيز اپنا مفہوم کھو بيٹھتي ہے حتيٰ ولايت معصوم اگر اس دين شناسي کي بنياد پر نہ ہو ولايت معصوم ۰ بھي ايک افسانہ بن جاتي ہے اب ايک اشارہ کروں ديکھيں جيسے اس وقت حضرت حجت ٴ اور يہ زمانہ غيبت کبريٰ، انتطار ظہور، کيا کچھ ہے مشہور اس کے بارے ميں اس وقت امام غائب ہيں کہا ں ہيں انتظار ہو رہا ہے کيسے ہورہا ہے ظہور ہوگا ظہور کے بعد کيا ہوگا کتني معقول باتيں سنتے ہيں اس بارے ميں ہم کتني صحيح تفسيريں ہوتي ہيں اس کي فلسفہ غيبت کيا ہے فلسفہ انتظار کيا ہے فلسفہ ظہور کيا ہے فلسفہ قيام کيا ہے اکثر آپ کو افسانے نظر آئيں گے پيش کرنا اس طرح سے امام غائب ہيں معاذ اللہ يہ ايک تعبير ہے اب موضوع نہيں ہے مناسب نہيں ليکن اس سے بہتر تعبير نہيں ہے ہماري اس حرکت کو ہمارے اس الٹے تصور کو بيان کرنے کے لئے اس سے زيادہ فصيح تعبير نہيں ہے موجود امام غائب ہے آپ ڈھونڈو امام کو گويا ايک آنکھ مچولي ہے جيسا چھپتا ہے ايک آدمي دوسرا ڈھونڈتا ہے اس کو کيوں چھپتا ہے کيوں ڈھونڈتا ہے کيونکہ تھوڑي سي سرگرمي ہوجائے کچھ سرگرمي چھپنے والے کے لئے کچھ تھوڑي سي سرگرميوں ڈھونڈنے والے کے لئے تھوڑا سا ٹائم پاس ہوجائے وقت گذر جائے ۔
يہ ہے غيبت کا تصور يہ ہے امامت کا تصور کہ محض ايک افسانہ بن جائے پھر خود ہي لاکے ظاہر ہے کہ جس طرح سے خود تصور امامت حل نہيں ہے ولايت خود ہي لاکے امام غائب کو ايک سرزمين پر آباد بھي کردينا خود پورا ايک جزيرہ بنانا پھر اس جزيرے ميں محل بنانا اس محل ميں امام بسانا پھر اس امام کي شادي کروانا پھر اس امام کي شادي سے اولاد کروانا پھر اس اولاد سے ملاقات کرنا پھر اس ملاقات کے بعد معجزے دکھانا پھر يہ سب کچھ اب يہ امام آکر کسي کے سامنے پيش کريں وہ کيا کہے گا يہ امامت ہے اگر آپ نہ لکھيں نام نہ لکھيں عليہ السلام نہ لکھيں نہ لکھيں شيعہ ہيں ہم يہي کتاب لکھ کر رکھ دو لوگ کيا کہيں گے يہ اردو کا کوئي نيا اديب پيدا ہوا ہے جس نے بہت اچھا ناول لکھا ہے وہ يہي کہے گا اتنا سسپنس اتني حيرت اس کے اندر قدم قدم يہ حيرت ہے امام ہے پکڑ پکڑ کے کشتياں ڈبو رہا ہے امام ہے مثلاً ايک شخص ہے جو ہوا سے ہيلي کاپٹر ڈبو ديتا ہے کشتياں ڈبو ديتا ہے جہاز ڈبو ديتا ہے جس کي اپني ديکھيں ہم کس سرزمين پر ہيں ہم ايک جاگير زدہ اور ايک جاگيرداري معاشرے ميں ہيں۔ ہمارا نظام جاگيردارہ ہے ۔ فيڈرل معاشرہ ہے ہمارا ہم جاگيردار ہونا ضروري نہيں ہے يہ ريڑھي والا يہ ٹانگنے والا جب ايک دوسرے سے جيسے کوئي جاگيردار ہوں انداز ہمارے ايسے ہيں ايک ملازم ہے گورنمنٹ کا وہ بھي اپنا انداز اپنا اسٹائيل اس نے زندگي کا جاگيردارانہ بنايا ہوا ہے جس طرح جاگيردار گھر لوٹ کر آتے ہيں واپس اس کو اپنے بيوي بچے وہ بيوي اس کي بيوي نہيں ہوتي اس کي جاگير ہوتي ہے لہذا اپني جاگير ميں آتا ہے وہ اور اسي انداز سے اس کو اوئے کرکے بلاتا ہے اور جب ايک عام آدمي گھر ميں آئے۔ بيوي کو اسي انداز ميں بلائے وہ کيا فرق ہے اس جاگيردار ميں اور اس ميں يعني دونوںنظام جاگيرداري ميں جکڑے ہوئے ہيں آداب جاگيردارانہ ہے تہذيب جاگيردارانہ بول چال جاگيردارانہ ہے کلچر جاگيردارانہ ہے سوچ جاگيردارانہ ہے اس جاگيردارانہ ماحول کا رنگ دين پر بھي چڑھ گيا ہے اور جب دين پر چڑھا آپ ديکھيں ہر چيز ہماري اس سے متاثر ہے جب تک ہم جاگيردار ثابت نہ کريں اپنے معصومين کو اپنے انبيائ کو اپنے امام کو ہم سے سمجھتے ہيں گويا نے ان کي تمجيد و تقديس کا حق ادا نہيں کيا حتماً جاگيرہوني چاہئيے ان کي کيوں اس لئے کہ پنجاب ميں جس کي جاگير نہيں ہے اس کي کوئي ويليو ہي نہيں ہے ايسا ہي ہے نا پہلے لوگ پوچھتے ہيں جي کتني املاک ہيں کتني فيکٹرياں ہيں کتني زمين ہے سرداري نظام جاگيرداري نظام تعبيريں اپني ديکھيں ہم کيا کرتے ہيں سب سے مقدس ترين تعبير امام زادہ ہے ۔ امام سب سے بالا رتبہ ہے چونکہ خداوند تعاليٰ نے قرآن ميں امامت کا تذکرہ نبوت سے بھي بالاتر کا ہے حضرت ابراہيم نبوت و رسالت و عبوديت سب چيزوں کے بعد آکر خداوند تعاليٰ نے فرمايا کہ اب ميں نے آپ کو منصب امامت عطا کيا پس معلوم ہوا کہ قلم روي بشريت ميں سب سے اعليٰ ترين مرتبہ جو خدا کي طرف سے کسي کو مل سکتا ہے مرتبہ امامت ہے اگر کسي وک بہت اچھے نام سے پکارنا ہے تو کيا کہو اس کو امام يا کہو امام زادہ ليکن جب تک ہم امام زادوں کو شہزادہ نہ کہيں اس وقت تک ہمارا جي راضي نہيں ہوتا بي بيوں کو جب تک شہزادي نہ کہيں ہم سمجھتے ہيں ہم نے تقديس کا حق ادا نہيں کيا کيوں اس لئے کہ ہمارے يہاں امامت نہيں شاہ بڑا ہوتا ہے نہ امام بڑا ہوتا ہے امام کا بيٹا کوئي نہيں ہے شاہ کا بيٹا برا ہوگيا ہے لہذا جب تک اس کو شاہ ثابت نہيں کريں گے اور اس کو شہزادہ نہيں بنائيں گے اس وقت تک جي راضي نہيں شاہ کيا ہے ان کے مقابلے ميں شہزادے کيا ہيں ان کے مقابلے ميں يہ امام زادے ہيں يہ بني زادے ہيں يہ آلِ رسول و آلِ رسول اللہ ہيں آپ شہنشاہوں سے لفظ مستعار لے کے ان کے لئے استعمال کرتے ہيں يہ نہيں ہے ادب ليزا جب تک امام کي جاگير نہيں بنائيں گے اس وقت تک جي راضي نہيں ہوتا اور جاگير دار ايسا ہوتا ہے کہ اپني جاگير ميں کسي کو قدم رکھنے نہيں ديتا خوب کيوں کشتياں ڈوبتي ہيں کيوں جہاز گذرتے ہيں اس لئے کہ نيچے ان کے قلم روئے جاگير ہے اور ان کي جاگير ميں جو قدم رکھ ديا وہ ڈوب جائے گا گناہ کيا کيا ہے اس نے گناہ يہي ہي ہے کہ ہمارے جاگير ميں قدم رکھا ہے اس نے اجازت کے بغير۔ ايک طرف سے کہتے ہو منجي بشريت يعني بشر کو نجات دلانے والا نجات دہندہ انسانيت ليکن جب واقعات نقل کرتے ہو تو کہتے ہو تو وہ بے گناہوں کو ڈبوتا ہے منجي بشريت جن کا کوئي قصور نہيں صرف اس وجہ سے کہ ان کي قلم رو سے رد ہوگئے ہيں مگر علي ٴ کے گھر کے قريب سے جو گذرے تھے فدک ميں جو گذر جاتے تھے ان کو جاکے جدہ کے اندر ڈبو کے آجاتے تھے تم نے ہماري جاگير سے قدم کيوں رکھا ہے مسجد نبوي سے کوئي گذرتا تھا رسول اللہ حکم ديتے تھے جاو اس کو جا کے دريا نبرد کر آو کسي امام کے بارے ميں سنا ہے کہ انہوں نے صرف اس وجہ سے ڈبو ديا ہو کہ انہوں نے ہماري جاگير ميں قدم کيوں رکھا ہے ليکن ايک پاکستاني ايک جاگيردارانہ کلچر ميں پلا ہوا جب تک اپنے امام کي جاگير نہ بنالے اور جب تک وہ جاگير دارانہ ماحول نہ فرض کرے اور جب تک جاگيردارانہ سزائيں نہ دلوالے اس وقت تک راضي نہيں کتنا دور ہے تصور امامت سے يہ افسانہ ہے اور ظاہر افسانہ افسانہ ہي ہوتا ہے بحث ولايت اس وقت پيش آئے گي کہ جب آپ دين کو بنياد سے سمجھيں ولايت معصوم بھي پھر معلوم ہوجائے کہ کيا چيز ہے غدير ميں کيا ہوا غدير روز ولايت ہے اگر ديانت و سياست کا فلسفہ سمجھ ميں آيا تو فلسفہ غدير بھي سمجھ ميں آئے گا ورنہ خود غدير بھي ايک افسانہ بن جائے گا حقيقت غدير، غدير روز ولايت ہے کونسي ولايت نہ ہوولايت جو عرفاني ولايت جس کو ہم مانا کرتے ہيں چونکہ اس کے لئے غدير نہيں چاہيے يعني وہ مرتبہ قربِ خداوندي جو ولايت ہر دلي کے پاس ہوني چاہئيے نبي کے پاس ہر رسول کے پاس ہر امام کے پاس ہر ولي وصي کے پاس ہوني چاہئيے يہ شرط ولايت اس ولايت کے لئے تو غدير نہيں چاہئيے چونکہ تمام انبيائ اس ولايت پر فائز تھے البتہ درجات مراتب مختلف ہيں اس ولايت کے سب ايک مرتبے کے ولي نہيں ہيں ولي اعظم ہيں ولي متوسط ہيں ولي دوسرے ولي کے تحت ہيں ولايت کا ايک اپنا نظام ہے تمام انبيائ اوليائ اللہ ہيں تمام اوصيائ اللہ ہيں تمام آئمہ اوليائ اللہ ہيں وہ ولايت حقيقي وہ ولايت تکويني اس کو غدير کي ضرورت نہيں ہے چونکہ خود رسول اللہ ولي ہيں ليکن غدير جيسے کسي معمر کے ميں آکر ہاتھ بلند نہيں کيا گيا رسول اللہ کا کہ يہ اللہ کے ولي ہيں رسول اللہ نے فرمايا کہ ’’ من کنت مولاہ ‘‘ جس کا ميں مولا ہوں خوب آپ کو اگر ولايت ملي تو آپ کي ولايت کے لئے ايسا اہتمام ہوا کہيں بھي نہيں ہوا کسي رسول کي ولايت کے لئے ايسا اہتمام نہيں ہوا پوري تاريخ بشريت ميں صرف ايک دفعہ ولايت کے لئے ايسا انتظام و اہتمام ہوا يہ کونسي ولايت تھي ولايت يعني سياست ولايت يعني حکومت ورنہ ولايت تو ولايت عرفاني تو اس سے پہلے بھي علي ٴ کو حاصل تھي ولايت حقيقي يا تکويني ولايت تکويني غدير سے پہلے بھي مولا کو حاصل تھي اعلانانہ بھي کرتے تو علي ٴ ولي اللہ يہ ولايت يعني حکومت اتنا اہم مسئلہ تھا حکومت کا وہ خاص اہتمام ہوا وہ انتظام ہوا وہ موقع وہ وقت وہ جگہ کہ آپ کے سامنے ہے شان نزول غدير کا اور اس کے اوپر وہ قرآني نغمے ’’ اليوم اکملت لکم دينکم واتممت عليکم نعمتي و رضيت لکم اسلاما دينا‘‘ اليوم يئس الذين کفروا يہ سب قرآني نغمے ہيں جو اس ولايت پر پڑھے گئے وجد ہے عالم قدس وجد ميں ہے کيوں اس لئے کہ آج ہم وہ ديانت کو وہ اصلي ستون مل رہا ہے يہ تکميل دين يہ ہے يعني دين کا اہم ترين رکن حکومت اسلامي حکومت ہے اور يہ رکن آج ہميشہ کے لئے يعني اس کي ضمانت فراہم کي جارہي ہے توجہ فرمائيں تھوڑا سا يہاں مسئلے کو کھولتا جاوں شايد اشارہ بعض اوقات مفيد ہونے کے بجائے مضر ثابت ہوتا ہے چوں کھلتا نہيں ہے مطلب رسول اللہ کي زندگي ميں لوگوں کو ايک المفيد تھي دشمنان دين کفار و مشکرين ان کا يہ نظريہ تھا کہ يہ دين صرف يہ رسول جس وقت تک ہيں اس وقت تک ہے يعني ايک شخصيت کا مسئلہ ہے يہ سارے مسلمان جو ہورہے ہيں يہ شخصيت پرست ہيں کيونکہ اس انسان کي ذات ميں کچھ خوبياں ہيں يہ خوبياں ديکھ کر اس کي شخصيت کي مقناطيسيت نے ان کو جذب کر ليا ہے اور ان کي شخصي خوبيوں کے بس ديوانے ہوگئے ہيں لہذا جب تک يہ شخص رہے گا يہ دين رہے گا پہلے کوششوں کي کہ شخص رسول اللہ کو شہيد کرديں مکہ ميں کوشش کي مدينہ ميں کوشش کي مختلف حربے استعمال کئے کہ يہ شخصيت بيچ ميں سے ہٹ جائے اس اميد سے کہ جب يہ ہٹيں گے تو ختم ہر چيز تمام ہوجائے گي آخر کار ديکھا نہيں کرسکے يہ جنگيں لڑيں شہيد کرنے کا شب ہجرت کا واقعہ پيش آيا سارے کچھ پيش آئے نہيں کرسکے آخري اميد ان کي يہ تھي چونکہ مسئلہ شخصي ہے ايک شخصيت کي حد تک ہے يہ سب کچھ آخري اميد يہ تھي کہ بالآخر خود رسول ا للہ بھي تو کہہ رہے ہيں کہ خدا نے فرمايا ہے ’’ اے رسول آپ کو بھي موت آئے گي جس طرح سے سب کو موت آئے گي يہ تو حکم خداندي ہے کہ سب کو موت آئے گي پس ايک دن طے ہے کہ يہ رسول کي رحلت ہوجائے گي جس دن رسول اللہ اس دن دين کا کام بھي تمام ہوجائے گا ظاہر ہے شخص کے ہٹنے سے محور کے ہٹنے سے يہ سارا نظام خود ہي درہم برہم ہوجائے گا غدير کے اندر شخصي مسئلہ نہيں تھا يعني يوں نہيں کہ ايک شخص نے ايک شخص متعارف کروايا غدير کا بہت عظيم فلسفہ ہے ايک شخص نے شخص نے متعارف کروايا بلکہ ايک رسول نے ايک دين کے وارث اور ذمہ دار نے ايک دين کو بيان کرنے والے نے دين تاسيس کيا متعارف کروايا نظام نا ايک شخص ايک نطام متعارف کروايا اور يہ نقطہ بہت اہم ہے يہاں آنے سے پہلے کچھ برادران تشريف فرماتھے ان سے گفتگو ميں يہي ايک نقطہ ملا کہ بعض لوگ ہوتے ہيں بہت کام کرتے ہيں بہت محنت کرتے ہيں بڑي خدمت کرتے ہيں اور جب اٹھ جائيں ان کے اٹھ جانے کے بعد اندھيرا چھا جاتا ہے تاريکي چھا جاتي ہے جب تک وہ ہوتے ہيں سب کچھ ہوتا ہے کن جب وہ نہ ہو پھر کچھ بھي نہيں ہورہا ہوتا اس کے معني يہ ہيں کہ جب تک وہ تھے اور کرتے رہے فقط خود ہي تھے سسٹم نہيں بنايا نظام نہيں بنايا اور وہ چيزيں باقي رہتي ہيں جو نظام کي شکل اختيار کرليں سسٹم ميں تبديل ہوجائيں ليکن جو شخص سليقے رہے ہيں وہ اشخاص کے اٹھنے سے ختم ہوجاتے ہيں کفار کو يہ اميد تھي يہ دين ايک شخصي سليقہ ہے يہ رسول اللہ کي ذاتي شخصيت کا صرف اثر ہے بس اور جس دن يہ شخصيت مسلمانوں ميں نہيں ہوئي يہ نظام سارا ختم ہوجائے گا لہذا بعض لوگ ايسے تھے روز رحلت رسول اللہ بعض شخصيات کي آنکھوں ميں اندھيرا چھا گيا روز رحلت جنازہ رسول اللہ موجود تھا اسي ميں تلوار نکال لي کہا کہ جو بھي کہے گا رسول رحلت کہ گئے ہيں ميں ان کي گردن کاٹ دوں گا خون کس لئے گردن کاٹ ديں گے اس لئے گردن کاٹ دوں گا کہ نہ کہو کہ رحلت ہوگئي ہے چونکہ رحلت ہوگئي ہے چونکہ رحلت سے گويا سب دين کا کام ختم ہوگيا کسي نے آکے سمجھايا يا نہيں بھئي دين کہاں ختم ہوا ہے خد اتو باقي ہے دين بھيجنے والي ذات تو باقي ہے رسول اللہ ظاہراً ہماري آنکھوں سے ليکن خدا نے تو اہتمام کيا ہوا ہے لہذا جو چيز نظام مند ہوجائے قانون مند ہوجائے سسٹم ميں آجائے يعني اس کو آپ نے ضمانت ديدي بقائي غدير کے اندر رسول اللہ نے دين کو ايک نظام فراہم کرديا ايک بنياد فراہم کردي ہميشہ کے لئے بقا کے لئے اور وہ بقا يہي مسئلہ حکومت و سياست ہے لہذا امام خميني
۲ تشريح کرتے ہيں اس بارے کہ غدير، غير از سياست غدير ميں کچھ بھي نہيں ہے تعجب ہے ان لوگوں سے جو اپنے آپ کو اہل غدير سمجھتے ہيں اہل ولايت سمجھتے ہيں ليکن سياست کي ابجد بھي نہيں جانتے يعني غدير کي ابجد نہيں جانتے کيا سمجھتے ہوں پھر غدير سے خوب لا محالہ پھر غدير ايک افسانہ ہي ہوگا پھر بناليتے ہيں عرض کيا ولايت تکويني وہ ايک الگ باب ہے اس کے لئے غدير کي ضرورت نہيں ہے نا کسي کے لئے غدير کا مسئلہ پيش آيا ہے ليکن حکومت کو چونکہ نظام بنانا تھا سسٹم بنانا تھا اس اہتمام کے ساتھ رسول اللہ نے امر غدير کو انجام ديا اور ولايت کا باب تاسيس ہوا اور اک يہ ضرورت عقلي ہے عقلائي ہے حکومت يعني يوں نہيں کہ ايک روايت مل گئي تو اسلام ميں حکومت ہے سارا دارومدار آکر کل دين کا اجتماع کا معاشرے کا سماج کا سارا نظام آکر ايک روايت پر ختم ہوجائے منحصر ہوجائے ايک روايت پر يہ روايت ٹھيک ہوئي دين ميں حکومت ہے يہ ايک روايت اگر صحيح نہ نکلي تو دين ميں حکومت نہيں ہے باب بند ہے ايسے تو کوئي بھي کام نہيں کرتا کسي آبادي کسي قبيلے ميں چلے جائيں کسي بزرگ کے ايک قول پر اس قبيلے کا سارا دارومدار ہو گار وہ قول ثابت ہوا اس قبيلے کو رہنا چاہئيے ورنہ نہيں رہنا چاہئيے يہ نہيں کہ ايک روايت اگر ثابت ہوئي تو ہے ورنہ نہيں يہ ايک ضرورت عقلي ہے اور ضرورت عقلائي ہے يہ دو الگ دليليں ہيں عقلي ضرورت اور عقلائي ضرورت حکومت ايک عقلائي ضرورت ہے يعني تمام عقلائے عالم خواہ ديندار ہو يا نہ ہوں اتفاق رکھتے ہيں اجماع رکھتے ہيں اس بات پر بالآخر بشر کے لئے حکومت چاہئيے نظام چاہئيے سياست چاہئيے اس کے لئے تدبير چاہئيے اس کے لئے اب ايک طرف سے ہم کہتے ہيں دين ايک مکمل نظام سے ايک مکمل ضابطہ حيات ہے غدير ميں دين کي تکميل کي آيت ہمارے سامنے ہے پس دين مکمل ہے کامل ہے مکمل ضابطہ حيات ہے مکمل ضابطہ حيات اس وقت ہوسکتا ہے کہ جس ميں يہ رکن اساسي اس ميں موجودہو ورنہ دين ناقص ہے يہ عقلائي ضرورت دين کے اندر حتماً ہوني چاہئيے ورنہ ناقص ہے دين رحلت رسول اللہ بعد يہي مشکل پيش آئي کہ آيا دين نے اب کوئي نظام بنايا ہے ديا ہے يا نہيں ايک طبقہ جدا ہوگيا وہاں سے کيا نہيں ہے خد اکي جانب سے کوئي انتظام اہتمام نہيں ہوا لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ ديا کہ جس طرح بہتر سوچ ليں جو اپنے لئے مناسب سمجھيں وہي کريں خوب ايک طبقہ اس نے قبول نہيں کيا کہ ايہ ضرورت عقلائي اور يہ ضرورت عقلي کے جيسے رسول اللہ کي زندگي ميں تھي اب ہے اور بعد ميں بھي ہے يہ ہميشہ کے لئے ہے ايک نقطہ ہے پہلے ميں حکايت بيان کردوں يہ حکايت کسي دل آزاري کے لئے يا کسي اسي تناظر ميں نہيں معني کريں جو عام طور پر اسٹيج سے جو نقطہ ہوتا ہے نہ ہي دل آزاري يا مذہبي نقطہ سنجي يہ وہ نہيں ہے اپني بحث کي خاطر يہ نقطہ ميں يہ نقطہ آپ کي خدمت ميں عرض کررہا ہوں اس کو اسي معني ميں ليں اور کسي معني ميں نہيں ليں نقل کيا جاتا ہے کہ ايک واقعہ ہے کہ شيعہ عالم دين تھے ان کا گذر کسي اہل سنت کي بستي سے ہوا انہوں نے کہا مجھے رات يہاں ٹہرنے ديں آپ معروف تھے جاني پہچاني شخصيت تھے وہاں کے لوگوں نے يا علمائ نے يہ شرط لگائي کہ آپ کو اس شرط پر ہم يہاں رکنے ديں گے کہ آپ کوئي اختلافي بات نہيں کريں يہاں اگر اختلافي بات کرني ہے پھر چلے جائيں ظاہراً شايد ايسے ہوں گے جو ہميشہ اختلافي باتيں کرتے ہوں بہرکيف لوگوں نے يہ شرط لگادي کہ آپ کو حق نہيں پہنچتا يہ مان گئے کہا ٹھيک ہے مجھے رات لينے دو ميں کوئي اختلافي نقطہ بيان نہيں کروں گا يہ کہہ کر آپ خود ہي آکر اسے گھير بھي ليا چونکہ وہ تو وعدہ کرچکا تھا کہ ميں نہيں کروں گا بات اور اسي سے فائدہ اٹھا کر خود انہوں نے بات چھيڑ دي کہا کہ يہ بتاو تمہارا نظريہ خليفہ اول کے بارے ميں کيا ہے؟ ادھر سے پابندي بھي لگادي کہ اختلافي بات نہيں کرني ہے اور ادھرسے يہ نازک مسئلہ بھي پوچھ ليا اب طاہر ہے کہ انہيں توقع بھي تھي يہ اماميہ ميں سے ہے شيعہ ہے يہ تو اہل سنت کا اعتقاد نہيں رکھتا اور پابند بھي ہے کہ اختلافي بات نہيں کرے تو آج رات چلو تھوڑي تفريح ليتے ہيں اس سے ليکن وہ تيز آدمي تھا اس نے کہ اکہ ميرے نزديک خليفہ اول رسول اللہ سے زيادہ سمجھدار ہيں ان کو توقع نہيں تھي يہ جملہ سننے کي انہوں نے کہا کہ اگر وعدے کا اس نے پاس کيا تو کچھ نہيں بولے گا اگر وعدہ خلافي کي تو پھرخلاف بولے گا ليکن اس نے تو حد کردي يہ تو کوئي سني بھي قائل نہيں ہے کہ خليفہ اول رسول اللہ سے زيادہ افضل ہے زيادہ سمھجدار ہيں يہ تو کوئي بھي نہيں سني بھي نہيں اہل سنت بھي نہيں کہتے واقعاً کوئي نہيں کہتا ليکن اس نے کہہ ديا ان کو تعجب ہوا تو ہم بھي نہيں کہتے جو مانتے ہيں ان کو آپ شيعہ ہوکر يہ بات کررہے ہو کيا دليل ہے ميرے پاس ان کي فضيلت کي دليل ہے۔

Page No : 1  2  3  4