رہبری قانون کی روشنی میں

 

جمہوری اسلامی ایران کے بنیادی آئین میں رہبری سے متعلق اصول :
اصل 2: جمہوری اسلامی
اصل 5: عادل اور متقی ولایت فقیہ
اصل57: ‎‎ جمہوری اسلامی میں حاکم قوا
اصل60: قوہ مجریہ
اصل91: گارڈین کونسل (شورای نگہبان)
اصل107: خبرگان کونسل کے ذریعہ رہبر کا تقرر
اصل109: رہبر کے شرائط اور صفات
اصل110: رہبر کے اختیارات اور وظائف
اصل111: رہبر کا انتقال یا استعفی یا برطرفی اور معزولی
اصل112: تشخیص مصلحت نظام کونسل
اصل113: صدر جمہوریہ
اصل131: صدر کا انتقال یا استعفی
اصل 142: رہبر، صدرجمہوریہ اوردیگرحکام کے اموال
اصل157: عدلیہ کا سربراہ
اصل175: جمہوری اسلامی ایران کا ٹی وی اور ریڈیو
اصل177: بنیادی آیین میں تجدید نظر

اصل2
جمہوری اسلامی، ایمان کی بنیاد پر ایک ایسا نظام ہے جو:
1-
خداوند متعال کی وحدانیت ( لاالہ الا اللہ )، اس کی حاکمیت اوراسکی طرف سےاسکی تشریع اور اسکے امر کے سامنے تسلیم ہو جانے پر مبنی ہے۔
2-
قوانین کے بیان میں وحی الہی اوراسکا بنیادی نقش۔
3-
خداوند متعال کی طرف انسان کے سیر تکامل میں قیامت اور اسکا تعمیری نقش۔
4-
خلقت اور تشریع میں خداوند متعال کی عدالت ۔
5-
امامت اور رہبری کا استمراراورانقلاب اسلام کے تداوم میں اسکا بنیادی کردار
6-
خداکے سامنےانسان کی اعلی اقدار وکرامت اور مسؤلیت اورذمہ داری کے ہمراہ اسکی آزادی جومندرجہ ذیل طریقے پر مشتمل ہے:
الف: کتاب اورسنت معصومین (ع) کی روشنی میں جامع الشرائط فقہاء کے اجتہاد کا استمرار
ب: انسان کے ترقی پر مبنی تجربوں اور علوم و فنون سے استفادہ اور انکو آگے بڑہانے کی تلاش وکوشش
ج: ہر قسم کی جارحیت اور ظلم و ستم روا رکھنے یا تحمل کرنے کی نفی
عدل وانصاف کے ذریعہ ، سیاسی ، اقتصادی ، سماجی اور ثقافتی استقلال اورقومی یکجہتی حاصل ہوتی ہے

اصل5:
حضرت ولی عصر( عج ) کی غیبت کے دور میں، جمہوری اسلامی ایران میں ولایت امر اور امت کی امامت و زعامت، عادل و باتقوی، زمانہ شناس ، شجاع ، مدیر و مدبر فقیہ کے عہدے پرہے اور اصل 107 کے مطابق وہ اس منصب پر فائز ہوتاہے

اصل 57 :
جمہوری اسلامی ایران میں حاکم قوا مندرجہ ذیل ہیں ؛
قوہ مقننہ، قوہ مجریہ اور قوہ عدلیہ ولایت مطلقہ امر اور امت کےرہبر کے زیر نظر ہیں جوان قوانین کےآئندہ اصولوں کے مطابق وظائف انجام دیں گے ۔ یہ تینوں قوا ایک دوسرے سے مستقل ہیں

اصل 60 :
قوہ مجریہ کی اجرائی ذمہ داری صدر جمہوریہ اور وزراء کے عہدے پر ہے اور وہ امور مستثنی ہیں جو براہ راست رہبر سے متعلق ہیں

اصل 91:
بنیادی آئین اور اسلامی احکام کی پاسداری اور پارلیمنٹ " مجلس شورای اسلامی " میں منظور شدہ قوانین کی ان کے ساتھ مطابقت پر نظر رکھنے کیلئے شورای نگہبان (گارڈین کونسل) مندرجہ ذیل طریقے سے تشکیل پاتی ہے ۔
1:
چھ عادل فقہا ء جوموجودہ زمانے اور مسائل سے آگاہ و آشنا ہوں انکا انتخاب رہبر معظم کرتے ہیں
2:
چھ مسلمان ماہر وکلاء جوحقوق کےمختلف شعبوں کے ماہر ہوں انکو عدلیہ کے سربراہ انتخاب کرکے پارلیمنٹ ( مجلس شورای اسلامی ) کو معرفی کرتے ہیں اور پھر پارلیمنٹ انہیں ووٹ کے ذریعہ منتخب کرتی ہے۔

اصل 107:
مرجع عالیقدر و رہبر کبیر انقلاب اسلامی اور جمہوری اسلامی ایران کے بنیانگذار حضرت امام خمینی ( رح )جنکو عوام کی اکثریت نے رہبری اور مرجعیت کے عنوان سے پہچانااور قبول کیا انکے بعد رہبر کا انتخاب خبرگان کونسل کےہاتھ میں ہے جوعوام کے منتخب کردہ نمائندے ہیں،خبرگان کونسل کے اعضاء اصل 15اور 109میں مذکور شرائط کے حامل تمام فقہاء کے بارے میں تحقیق اور مشورہ کرتے ہیں اگر ان میں سے وہ کسی ایک کواحکام اور فقہی موضوعات میں اعلم یا سیاسی و سماجی مسائل یا عمومی مقبولیت یا اصل 109 میں مذکور صفات میں سے کسی ایک میں خاص اہمیت کا حامل قرار دیں تو اسے رہبر کے طور پر انتخاب کریں گے ورنہ پھر ان میں سے کسی ایک کو رہبر کے عنوان سے انتخاب اور معرفی کریں گے خبرگان کونسل کے ذریعہ منتخب ہونے والا رہبر ولایت امر اور اس سے متعلق تمام ذمہ داریوں کا عہدیدار ہوگا۔

‌‎‎‎‎‌‍‍‍‍‍‎‎‎‎اصل 109_
رہبر کے شرائط وصفات:
1:
فقہ کے مختلف ابواب میں افتاء کی لازم عملی صلاحیت کا ہونا
2:
امت اسلام کی رہبری کیلئے عدالت اور تقوی کا پایا جانا
3:
رہبری کا منصب سنبھالنے کیلئے صحیح سیاسی و سماجی فکراور کافی تدبیر وشجاعت و مدیریت اور قدرت کا حامل ہونا
اگر مذکورہ شرائط متعدد افراد میں پائے جاتے ہوں تو وہ شخص مقدم ہوگا جو سیاسی اور فقہی نقطہ نظر سے زیادہ قوی ہوگا

اصل110:
رہبر کے وظائف اور اختیارات:
1:
مجمع تشخیص مصلحت نظام کے ساتھ مشورہ کرنے کے بعد جمہوری اسلامی ایران کے نظام کی کلی اور جامع سیاست کو تعیین کرنا
2:
نظام کی کلی اور جامع سیاست کے حسن اجراء پر نگرانی رکھنا
3:
ریفرنڈم کا حکم صادر کرنا
4:
مسلح افواج کی سربراہی
5:
صلح و جنگ کا اعلان اور فوجی آمادگی
6:
منصوب و معزول اور استعفی قبول کرنا
الف : شورای نگہبان (گارڈین کونسل) کے فقہاء
ب : عدلیہ کے سربراہ
ج : ٹی وی اور ریڈیو کے ڈائریکٹر
د: مسلح افواج کی مشترکہ کمان کے سربراہ
ہ : سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سربراہ
و: فوج اور پولیس کے اعلی کمانڈروں
7:
تینوں قوا کے در میان روابط تنظیم کرنا اور انکے اختلافات کوحل کرنا
8:
مجمع تشخیص مصلحت نظام کے ذریعہ معمولی طریقوں سے حل نہ ہونے والی مشکلات کوحل کرنا
9:
عوام کی طرف سے صدر کےانتخاب کے بعد صدارت کے حکم پر دستخط ، قانون میں بیان شدہ شرائط کے مطابق صدارت کے امیدواروں کی صلاحیت کا انتخابات سے قبل شورای نگہبان کی طرف سے مورد تائید قرار پانا اور پہلے مرحلے میں رہبری کی تائید حاصل کرنا
10:
ملک کے مصالح کو مدنظر رکھتے ہوئے قانونی وظائف سے صدر کی کوتاہی اور تخطی کے خلاف ملک کی اعلی عدالت کے فیصلے کے بعدیااصل 89 کی روشنی میں صدر کی عدم کفایت پر پارلیمنٹ کی طرف سےعدم اعتماد کا ووٹ ملنے کے بعد صدر کو معزول کرنا
11-
عدلیہ کے سربراہ کی تجویز اور پیشنہاد کے بعد اسلامی قوانین کی روشنی میں سزا یافتہ افراد کی سزاؤں کو معاف یا ان میں تخفیف کرنا
رہبر اپنے اختیارات کسی دوسرے شخص کو تفویض کرسکتے ہیں

اصل111
اگررہبر اپنے قانونی وظائف کو انجام دینے سے عاجز اور ناتواں رہ جائے یا اصل پانچ اور ایکسو نو میں مذکور شرائط اس میں نہ پائے جاتے ہوں یا معلوم ہوجائے کہ اس میں بعض شرائط ابتداہي سے موجود نہیں تھے تو وہ اپنے منصب سے الگ ہوجائے گا
اوراس امر کی تحقیق و تشخیص خبرگان کونسل کے عہدے پر ہے جس کا ذکراصل 108 میں گذر چکا ہے رہبرکے انتقال کرنے یا الگ ہونے یا اس کو برطرف کئے جانے کی صورت میں ، خبرگان کونسل کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ جلد از جلد نئے رہبر کی معرفی اور تعیین کا اقدام کرےاور رہبر کے مقرر اور معین ہونے تک وقتی طورایک کونسل تشکیل دے گی جو رہبرکے تمام فرائض کو عملی طورسرانجام دے گی یہ کونسل صدر اور عدلیہ کے سربراہ سمیت گارڈین کونسل کے فقہاء میں سے کسی ایک فقیہ پر مشتمل ہوگی گارڈین کونسل کے فقیہ کا انتخاب تشخیص مصلحت نظام کونسل کرے گی اور اگر اس مدت میں ان میں سےکوئی ایک فردکسی وجہ سےاپنی ذمہ داری کو پورا نہ کرسکے تو مجمع اسکی جگہ مذکورہ کونسل میں فقہاء کی اکثریت کو پیش نظر رکھتے ہوئےکسی دوسرے فرد کو منصوب کریگا
یہ کونسل بند 1و 3و 5و 10 اور اصل 110 کے چھٹے بندکی شق (د)و(ہ)اور(و) کے متعلق تشخیص مصلحت نظام کونسل کے تین چہارم (4/3) اعضاء کی منظوری کے بعد اقدام کریگی
اگر رہبر بیماری یا کسی دوسرے حادثے کی بناپر اپنے وظائف سرانجام دینے میں قاصر رہےتو اس مدت میں مذکورہ کونسل اس اصل میں مذکوروظائف کی عہدیدار ہوگی

اصل 112
تشخیص مصلحت نظام کونسل ایسے موارد میں تشخیص مصلحت کیلئے اجلاس تشکیل دےگی جب پارلیمنٹ میں منظور ہونے والے قانون کو گارڈین کونسل بنیادی آئین یا شرع کے خلاف قرار دیدے اور پارلیمنٹ نظام کی مصلحت کو پیش نظر رکھتے ہوئےگارڈین کونسل کے نقطہ نظر کو پورا نہ کرے یا رہبر نےمشورے کے لئے جو امورانھیں تفویض کئے ہیں اور اس کے ساتھ ان تمام مواردمیں اجلاس تشکیل دے گی جو قانون میں ذکر ہوئے ہیں
اس کونسل کے اصلی اور غیر اصلی ارکان کو رہبر منتخب کریں گے
اس کونسل سے متعلق قوانین کوخود کونسل کے ارکان آمادہ اور منظور کرنے کے بعد رہبر معظم سےانکی تائید حاصل کریں گے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اصل 113
رہبر کے مقام ومنصب کے بعد ملک کا سب سے بڑا سرکاری منصب صدر کا ہے اور ان امور کے علاوہ جو براہ راست رہبر سے متعلق ہیں صدر بنیادی آئین کے اجراء کی مسئولیت اور قوہ مجریہ کی صدارت کا عہدیدار ہوگا

اصل131
صدر کے انتقال، معزول، مستعفی، غائب یا دو مہینے سے زیادہ بیمار رہنے کی صورت میں یا صدارت کی مدت ختم ہونے اور بعض رکاوٹوں کی وجہ سے نئے صدر کے منتخب نہ ہونے یا اس قسم کے دوسرے موارد میں رہبر کی موافقت سے نائب صدر، صدر کے تمام اختیارات و ذمہ داریوں کا عہدیدار ہوگا اور پارلیمنٹ کے اسپیکر و عدلیہ کے سربراہ اور نائب صدر پر مشتمل ایک کونسل تشکیل پائے گی جو زیادہ سے زیادہ پچاس دنوں کے اندر نئے صدر کو انتخاب کرنے کی پابند ہوگی نائب صدر کے انتقال یا دوسرے امور جو اس کے وظائف انجام دینے میں رکاوٹ ہیں یا یہ کہ صدر کا کوئی نائب صدر ہی نہ ہو تو اس صورت میں رہبر کسی دوسرے شخص کو اسکی جگہ منصوب کریں گے

اصل142
رہبر، صدر، صدر کے نواب ومعاونین، وزراء اور انکی ہمسروں و فرزندوں کے مسئولیت سے قبل و بعد کے اموال کی جانچ عدلیہ کے سربراہ کریں گے اور دیکھیں گے کہ غیر قانونی طور پر ان کے اموال میں اضافہ تو نہیں ہوا ہے

اصل 157
تمام قضائی، اداری اور اجرائی امور میں عدلیہ کی ذمہ داریوں کونبھانے کے لیے رہبرمعظم ایک مجتہد ،عادل ، اور قضاوت کے امور میں مدیر و مدبراور آگاہ فرد کو 5 سال کی مدت کیلئے عدلیہ کے سربراہ کے عنوان سے مقرر کریں گے جو عدلیہ کا سب سے بڑا اور عالی منصب ہوگا

اصل 175
جمہوری اسلامی ایران کے ریڈیو اور ٹی وی کی اہم ذمہ داری ہے کہ وہ آزادی اظہار اور اسلامی قوانین اور ملکی مصلحتوں کے پیش نظر صحیح افکار کے نشر کرنےکی راہیں ہموار کرے ریڈیو اور ٹی وی کے ڈائریکٹر کا تقرر یا اسکی معزولی کا اختیار رہبر کے ہاتھ میں ہے ریڈیو اور ٹی وی کے امور پر ایک ایسی کونسل نگرانی رکھے گی جسمیں صدر ، عدلیہ کے سربراہ اور پارلیمنٹ کی طرف سے دو دو نمائندے شامل ہونگے اس ادارے اور اس نگرانی کے تمام ضوابط قانون میں معین ہیں

اصل 177
جمہوری اسلامی ایران کے بنیادی آیین میں ضروری مواقع پرتجدید نظر مندرجہ ذیل صورتوں میں انجام پذیر ہوگی
رہبر ، مجمع تشخیص مصلحت نظام کے ساتھ صلاح و مشورے کے بعد صدر کو ایک حکم کے ذریعہ بنیادی آئین میں اصلاح وتتمیم وتکمیل کے موارد کو بنیادی آیین میں تجدید نظر کرنے والی کونسل میں پیش کرنے کی تجویز دیں گے جو مندرجہ ذیل ارکان پر مشتمل ہوگی
1-
گارڈین کونسل کے ارکان
2-
تینوں قوا کے سربراہ
3-
تشخیص مصلحت نظام کے اصلی ارکان
4-
خبرگان رہبری کونسل کے ارکان
5-
رہبر کے منتخب کردہ دس افراد
6-
ہیئت وزراء میں سے تین افراد
7-
عدلیہ کے تین افراد
8-
پارلیمنٹ کے دس نمائندے
9-
یونیورسٹیوں کے تین افراد
اس کونسل میں منظور ہونے والے دستورات کو رہبر کی تائید اور دستخط کے بعد ووٹنگ کے لئےعوام کے سامنے پیش کیا جائے گا تا کہ عوامی ریفرنڈم میں اسے واضح اکثریت حاصل ہوجائے