|
امام
خميني کي خدمت ميں چند جديد سوالات اور ان کے جوابات
#مسائل تقليد :
سوال : حضرت عالي کے رسالے ميں بعيد نہيں ، قرب سے خالي نہيں ، يا
وجہ سے خالي نہيں ، کي عبارت سے مراد فتويٰ ہے يا نہيں ؟ اور اگر
فتويٰ کے بعد ’’ احتياط ترک نہ کي جائے ‘‘ کے الفاظ ہوں تو کيا اس
سے مراد احتياط واجب ہے ؟
جواب : مذکورہ تعبيرات سے فتويٰ مراد ہے مگر يہ کہ کوئي قرينہ اس
کے خلاف ہو اور ’’ احتياط ترک نہ کي جائے ‘‘ کے الفاظ اگر فتويٰ کے
بعد ذکر ہوں تاکيد حسن احتياط کے بيان کے لئے ہيں۔
س: مومنين کي تقليد اغلب طور پر اعلم کي تحقيق و تشخيص کے بغير ہے
مثلاً ماہ مبارک ميں کوئي مبلغ کسي ديہات ميں تشريف لے جاتا ہے اور
لوگوں کو کسي مرجع و مجتہد کے فتويٰ سے آگاہ کرتا ہے يا رسمي طور
پر لوگوں کے درميان اس کي تعريف کرتا ہے۔ لوگ حسن نيت کے طور پر اس
کو قبول کرليتے ہيں۔ کيا اس قسم کي تقليد بھي ثمر آور ہے يا نہيں ؟
اور کيا ضروري ہے کہ ان کو آگاہ کيا جائے کہ وظيفہ کيا ہے ؟ يا
چونکہ غير اعلام کي تقليد کرتے ہيں اور معلوم نہيں کہ ان کا فتويٰ
اعلم کے فتويٰ کے مخالف ہے ۔ لہذا اس ميں اشکال نہيں ؟
ج: حکم شرعي کو بيان کرنا چاہيے ليکن خصوصي طور پر لوگوں کو آگاہ
کرنا ضروري نہيں ہے اور اگر تقليد شرعي اصولوں کے مطابق نہ ہو تو
صحيح نہيں ہے۔
وضو کے بارے ميں
س : اگر وقت نماز سے پہلے کوئي وضو کرے کيا وہ وضو نماز کے لئے
صحيح ہے يا نہيں ؟ اور صحيح ہونے کي صورت ميں کيا وقت نماز قريب
ہونے يا نہ ہونے ميں کوئي فرق ہے يا نہيں ۔
ج : اس کا وضو صحيح ہے، وقت سے پہلے اور وقت کے بعد وضو کرنا مستحب
ہے۔
س: ميت کو غسل سے پہلے ياغسل کے بعد مسجد ميں رکھنا اور مسجد کے
صحن ميں ميت کو دھونا اور غسل دينا جائز ہے؟
ج: ميت کو غسل سے پہلے مسجد ميں رکھنے سے اگر نجاست کے پھيلنے اور
مسجد کي بے حرمتي کا باعث نہ ہو تو کوئي حرج نہيں اور غسل دينے کے
بعد کوئي اشکال نہيں اگر مسجد کا صحن مسجد نہ ہو اور ميت کے وہاں
دھونے اور غسل دينے ميں وقف کي مخالفت لازم نہ آتي ہو اور مسجد کي
بے حرمتي کا باعث بھي نہ ہو تو کوئي حرج نہيں ہے۔
#اوقات نماز و روزہ :
س: وہ راتيں جن ميں چاند ني صبح تک رہتي ہے اگر کوئي يقين کرے کہ
صبح صادق طلوع ہوچکي ہے ۔ کيا نماز پڑھ سکتا ہے يا صبر کرے تاکہ
صبح کي سپيدي واضح طور پر آشکار ہوجائے اور اسي طرح ماہ رمضان کے
روزہ کو بند کرنے ميں اس کے لئے کيا حکم ہے اور جب وقت نماز سپيدي
کے آشکار ہونے سے شروع ہوجاتا ہو، بادل والي راتوں ميں يا ان شہروں
ميں جن ميں بجلي کي روشني اتني زيادہ ہوتي ہے کہ کافي دير تک صبر
کرنے کے بعد سپيدي واضح ہوجاتي ہے اگر فجر يقيني کے بعد تقريباً دس
منٹ تک صبر کرے يا دس منٹ بعد صبح کي نماز کا وقت ہے يا نہيں؟
ج: چاندني راتوں ميں احتياط لازم يہ ہے کہ صبر کرے تاکہ صبح کي
سپيدي افق پر ظاہر ہوجائے اور چاند کي چاندني پر غالب ہوجائے بلکہ
وجہ سے خالي نہيں ہے اور يہ حکم بجلي کي روشني اور بادل والي راتوں
ميں نہيں ہے اور چاندني راتوں ميں روزہ کے لئے احتياط پر عمل کرے۔
اگرچہ بعيد نہيں ہے کہ جيسا اوپر ذکر کياگيا ہے اس سے قبل روزہ بند
کرنا لازم نہ ہو۔
#بعض مسائل نماز :
س: اگر کوئي شخص عصر کي نيت سے نماز شروع کرے او درميان ميں خيال
آجائے کہ نماز ظہر پڑھ رہا ہے چنانچہ اسي خيال سے نماز کا کچھ حصہ
بھي ادا کرے اور نماز ختم کرنے سے پہلے ياد آجائے کہ اس کي ظہر کي
نماز نہيں ہے بلکہ عصر کي ہے اور اس نے عصر ہي کي نيت سے نماز شروع
بھي کي تھي تو کيا اس کي نماز صحيح ہے ؟ اسي طرح اگر نماز ختم ہونے
کے بعد ياد آجائے تو اس کي تکليف کيا ہے؟
ج: نماز صحيح ہے چاہے نماز ختم ہونے سے پہلے ياد آئے يا بعد ميں ۔
س: اگر کسي کو حالت قيام ميں شک ہوجائے کہ پہلي رکعت ہے يا دوسري
تو کيا وہ شخص اسي شک کي حالت ميں قرا ت کو تمام کرکے رکوع ميں
جاکر تروي (فکر )کرسکتا ہے يا نہيں؟ اسي طرح افعال ميں مثلاً سجدہ
ميں شک ہو کہ يہ پہلا سجد ہ ہے يا دوسرا اور اسي حالت شک ميں ذکر
سجدہ مکمل کرے پھر بيٹھ کر تروي کرے کيا يہ جائز ہے ؟
ج: جس وقت شک پيدا ہو اسي وقت تروي (فکر )کرے اور اگر تروي (فکر)کے
بغير اس خيال سے کہ بعد ميں فکر کرے گا کہ ميري تکليف کيا ہے نماز
کو جاري رکھے تو حالت شک اور جہل ميں جو بھي عمل بجالايا ہے اس کي
صحت محل اشکال ہے۔
#احکام نماز :
س: زمانہ غيبت ميں نماز جمعہ واجب عيني ہے يا تخيري ؟ نيز جمعہ کے
بعد ظہر کي ضرورت رہتي ہے يا نہيں ؟ اور اگر جمعہ کے بعد ظہر کي
ضرورت رہتي ہے توکيا جو پيش نماز جمعہ کو واجب جانتا ہے اس کي
اقتدا ميں نماز عصر پڑھي جاسکتي ہے ؟ يا يہ کہ اگر عصر جماعت سے
پڑھ لي ہے تو اسے دوبارہ پڑھنا ضروري ہے ؟
ج: نماز جمعہ واجب تخيري ہے اور جمعہ کے بعد ظہر کا پڑھنا احوط
استحبابي ہے ۔ عصر کي نماز ايسے امام کے پيچھے با اقتدا پڑھي
جاسکتي ہے۔
س: جس کے ذمہ سجدہ سہو واجب ہو اور وہ بھول جائے اور نماز شروع
کردے نماز کے درميان ميںياد آئے کہ سجدہ سہو نہيں کيا تو اس کي
تکليف کيا ہے؟
ج: اگر واجب نماز پڑھ رہا ہے تو نماز ختم کرکے فوراً سجدہ سہو کا
بجالانا لازم ہے۔
#روزہ کے مسائل :
س: اگر کوئي بچہ اس گمان سے کہ بلوغ کي مدت پندرہ سال شمسي ہے ماہ
رمضان ميں روزہ نہ رکھے اور بعد ميں معلوم ہوجائے کہ ماہ رمضان سے
پہلے ہي پندرہ سال قمري پورے ہوچکے تھے تو کيا اس پر روزہ کا کفارہ
بھي لازم ہے؟
ج: کفارہ لازم نہيں ليکن قضا بجالانا چاہيے۔
س: بالغ بچے يا وہ جوان جن کے لئے زيادہ کمزوري اور ضعف کي وجہ سے
روزہ رکھنا سخت ہے وہ کياکريں؟
ج: روزہ کي وجہ سے پيدا ہونے والي کمزوري سے روزہ کو ترک کرنا جائز
نہيں ہے ، ہاں اگر حرج لازم آئے تو ضرورت کو رفع کرنے پر اکتفا کيا
جائے اور قضا کريں۔
س: جو شخص ماہ رمضان ميں اپنے وطن سے دن کو سفر کرتا ہے اور اسي
روز آفتاب سے پہلے واپس پلٹ آتا ہے اور کوئي ايسا کام بھي نہيں
کرتا جو مبطل روزہ ہو آيا اس کا حکم اس شخص کے حکم کي طرح ہے جو
مسافر تھا اور ظہر سے پہلے واپس وطن آجاتا ہے يا اس کے لئے کوئي
اور حکم ہے؟
ج: اگر وطن لوٹنے تک روزہ باطل کرنے کا کوئي کام انجام نہيں ديا
اور روزہ کي نيت کے ساتھ امساک کيا تو روزہ صحيح ہے۔
س: جب کوئي اپنا روزہ جان بوجھ کر باطل کردے۔ اب اگر وہ دن ميں غسل
ارتماسي کرے تو اس کا غسل صحيح ہے يا نہيں؟
ج: غسل ارتماسي کا صحيح ہونا مشکل ہے اور احوط يہ ہے کہ غسل نہ
کرے۔
س: جو افراد افيون کے عادي ہيں اور اس کو ترک بھي نہيں کرسکتے اور
ايسي صورت ميں روزہ نہ بصورت ادا اور نہ ہي قضا رکھ سکتے ہيں کيا
اس قسم کے افراد مريض کے حکم ميں ہيں اور کيا ہر روزہ کے بدلے ايک
مد کفارہ اداکريں يا ان کے لئے کوئي اور حکم ہے؟
ج: ان کے لئے روزہ رکھنا واجب ہے اور سخت مجبوري کے عالم ميں حالت
روزہ ميں دفع ضرورت کے مطابق افيون کااستعمال کرنا جائز ہے۔
#احکام نماز جماعت :
س: جناب عالي کے رساليہ عمليہ ميں ہے کہ اگر نماز جماعت پڑھنے والا
ستون کے پيچھے کھڑا ہو اور سامنے والي صف سے اتصال نہ ہو تو اس کي
نماز ميں اشکال ہے۔ کيا داہنے اور بائيں جانب ميں سے کسي ايک جانب
سے اتصال ہونے کي صورت ميں بھي نماز ميں اشکال ہے جبکہ سامنے والي
صف ديکھ سکتا ہو؟
ج: احتياط لازم يہ ہے کہ سامنے سے اتصال قائم ہو۔
س: نماز جماعت ميں تجافي کي حالت ميں (تجافي يعني جب امام تشہد
پڑھنے ميں مشغول ہو تو ماموم کو گھٹنوں کو بلند کئے ہوئے ہاتھوں کي
انگليوں اور پا وں کے تلوو ں کے بل بيٹھا رہنا چاہيے اور جب امام
سلام شروع کرے تو کھڑا ہوجائے )آيا ماموم خاموش بيٹھ سکتا ہے يا
واجب تخيري کے طور پر تشہد يا ذکر تسبيح پڑھتا رہے اور اسي طرح اگر
تجافي جان بوجھ کر يا جہالت کے طور پر يا بھول کر ترک کردے تو نماز
يا جماعت ميں اشکال نہيں ہے؟
ج: ذکر تشہد و تسبيح لازم نہيں ليکن تجافي کرنا ضروري ہے اور اگر
نہ کرے تو نماز اور جماعت باطل نہ ہوگي۔
#نماز عيدين :
س: پہلے آپ نے نماز عيدين (فطر و قربان )کو باجماعت پڑھنے کي اجازت
نہيں فرمائي تھي ليکن اخيراً سننے ميں آيا ہے کہ آپ نے اجازت
فرمائي ہے کيا يہ صحيح ہے ؟
ج: احتياط واجب يہي ہے کہ ان کو جماعت کے ساتھ نہ پڑھاجائے البتہ
رجائے مطلوبيت کي نيت سے پڑھ سکتے ہيں ۔ ليکن اگر فقيہہ عادل جماعت
پڑھائے تو اس کے ساتھ باجماعت پڑھنے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
#مسافر کي نماز و روزہ کے احکام :
س: جو لوگ جہاز يا ريل گاڑي ميں چائے پلانے وغيرہ کا کام کرتے ہيں
اور کبھي کبھي اپنے وطن ميں دس دن يا زيادہ رہتے ہيں ان کے لئے
نماز و روزہ کا کيا حکم ہے؟
ج: اگر جہاز اور ريل گاڑي کے ملازم شمار ہوتے ہيں تو انہيں ، نماز
بھي پوري پڑھني چاہيے اور روزہ رکھنا بھي واجب ہے ليکن اگر دس دن
وطن ميں يا وطن کے علاوہ ٹھہرتا ہے پہلے سفر ميں دس دن قيام کے
بعدمسافر کا حکم رکھتاہے۔
س: جو شخص سال ميں دو تين مرتبہ سفر کرتا ہے اور ہر سفر تين چار
ماہ تک جاري رہتا ہے اور سال کے باقي دن وطن ميں رہتا ہے اس کے لئے
نماز روزے کا کيا حکم ہے۔
ج: اگر اس کا سفر شغل نہيں ہے تو سفر ميں نماز و روزہ قصر ہيں۔
س: وہ چرواہا جو سال ميں نو مہينے بھيڑ بکريوں کے ساتھ باہر رہتا
ہے اور کسي جگہ پر بھي دس دن قيام نہيں کرتا اور تين ماہ سرديوں
ميں اپنے وطن ميں رہتا ہے اس کے نماز و روزہ کا کيا حکم ہے؟
ج: چرواہے کے زمانے ميں اگر سفر کي شرعي مقدار تک بھي جائے تو بھي
نماز تمام ہے۔
س: طالب علم جو قم ميں مدت معينہ کے قصد سے ٹھہرے ہوئے ہيں اگرہفتہ
ميں ايک مرتبہ سفر کريں تو کيا ان کا قصد اقامت ختم ہوجائے گا يا
کيونکہ يہ افراد مدت معينہ کا قصد کئے ہوئے ہيں قم ان کا وطن شمار
ہوگا؟ اور ان کي نماز تمام ہوگي؟
ج: وطن شمار نہيں ہوگا اور ان کي نماز قصر ہوگي مگر يہ کہ اقامت کا
ارادہ کريں۔
س: کيا وطن سے اعراض کا مقصد يہ ہے کہ وہاں ہميشہ رہنے کا خيال نہ
ہو يا يہ کہ بطور کلي قطع رابطہ کرے اور اپني جائيداد کو فروخت کرے
؟
ج: وطن ميں ٹھہرنے سے اعراض ہي کافي ہے ضروري نہيں کہ اپني جائيداد
کو فروخت کرے ليکن واپس نہ پلٹنے کا ارادہ ہونا چاہيے۔
#نماز مسافر کے بعض احکام
س: وہ افراد جن کا شغل سفر نہيں بلکہ مثلاً کسي جگہ استاد کے عنوان
سے ڈيوٹي پر ہيں اور ان کے محل سکونت سے ڈيوٹي کي جگہ تک مسافت
شرعي کا فاصلہ ہے اور وہ ڈيوٹي والي جگہ سے ہر روز يا دس دن توقف
کے بغير محل سکونت کي طرف رفت و آمد کرتے ہيں۔ ان کے لئے نماز و
روزہ کا کيا حکم ہے؟ آيا نماز و روزہ کے حکم ميں فرق ہے؟
ج: ان کي نماز قصر ہے اور روزہ نہيں رکھ سکتے اور نماز و روزہ کے
درميان کوئي فرق نہيں ہے ليکن اس سال کے روزوں کي قضا دوسرے ماہ
رمضان سے پہلے بجالائيں۔
س: جو شخص مختلف شہروں کے درميان بجلي يا ٹيليفون کي تاروں کو درست
کرنے پر مامور ہے کہ روز جائے اور جنگلوں ميں پھرے تاکہ کوئي تار
خراب ہوجائے تو اس کو درست کرے اور قصد و ارادہ سے مسافت شرعي يا
اس سے بھي زيادہ جائے ، کيا اس کي نماز قصر ہے يا تمام ؟
ج: فرض سوال کي صورت ميں سفر شغل شمار ہوگا اور نماز تمام ہے۔
س: جو افراد محکمہ خون گيري ميں ملازم ہيں اور اپنے افسران کے حکم
کے مطابق ہر روز لوگوں سے خون لينے يا خون دينے کے لئے سفر ميں ہيں
ان کے لئے نما زو روزہ کے بارے ميں کيا حکم ہے؟
ج: اگر ان کا کام ہر وقت چکر لگاتے رہنا ہے تو سفر شغل شمار ہوگا
ورنہ مسافر والا حکم جاري ہوگا۔
س: جو لوگ سڑک کي تعمير پر مامور ہيں کہ ہر روز جا کر بيابان ميں
سڑک درست کريں جس کے نتيجہ ميں مسافت کي مقدار يا اس سے دور تک چلے
جاتے ہيں کيا ان کي نماز قصر ہے يا پوري ؟
ج: فرض سوال کي صورت ميں نماز قصر ہے مگر يہ کہ ابتدائے حرکت کے
وقت مسافت کا قصد نہ کيا ہو بلکہ بتدريج انجام کار کے لئے حد مسافت
سے آگے چلے جائيں تو اس صور ت ميں نماز تمام ہے۔
س: مثلاً وہ طالب علم جو دوسرے شہروں سے قم ميں آئے ہوئے ہيں اور
مشغول تحصيل علم ہيں اور آئندہ ہميشہ رہنے کا ارادہ بھي نہيں رکھتے
کيا قم ان کے لئے وطن شمار ہوگا۔ اور اسي طرح جب ان کا ارادہ ہو کہ
تحصيل علم کے بعد اپنے وطن يا کسي دوسري جگہ چلے جائيں گے تو ايام
تحصيل ميں ان کے لئے کيا حکم ہے؟
ج: واپس پلٹنے کا پکا ارادہ ہو تو مسافر والا حکم جاري ہوگا اور
واپس لوٹنے يا رہنے ميں تردد کي صورت ميں اگر مدت اقامت اتني
طولاني ہوجائے کہ عرفاً اسے مقيم کہا جائے تو حکم وطن جاري ہوگا۔
اور اگر عرفاً اسے مقيم نہ کہا جائے تو حکم مسافر جاري ہوگا ۔
س: ايک شخص مستقل طور پر حکومتي ادارہ ميں مشغول کا رہے اور ايک دو
دن اس کا شغل ڈرائيوري ہے يعني دو دن وطن ميں ہے اور ايک دود ن
سفرميں ڈرائيوري کے کام ميں مشغول ہے کيا مدت مسافرت ميں اس کي
نماز قصر ہے يا تمام ؟
ج: اگر سفر ميں ڈرائيوري بطور شغل کے شمار ہو تو نماز تمام ہے۔
س: استاد ہفتہ ميں تدريس کے لئے چھ دن سفر ميں ہے اور ايک دن واپس
وطن آجاتا ہے اس کے لئے نماز و روزہ کا کيا حکم ہے؟
ج: سفر ميں اس کي نماز قصر ہے اور روزہ بھي نہيں رکھنا چاہيے مگر
يہ کہ ظہر کے بعد وطن سے باہر جائے ۔وطن ميں نماز تمام ہے اور روزہ
بھي رکھے۔
س: ايک استاد تين سال کے لئے کسي ديہات ميں تدريس کے لئے مامور ہے
اور ہر شب جمعہ اس شہر سے سفر کرتا ہے ليکن ايک ايسے شہر کے لئے جو
اس کا وطن نہيں ہے اس کے لئے نماز و روزہ کا کيا حکم ہے؟
ج: غير وطن ميں اس کي نماز قصر ہے اور روزہ بھي نہ رکھے ليکن
احتياط لازم يہ ہے کہ روزوں کي قضا ميں آئندہ سال کے ماہ رمضان سے
تاخير نہ کرے۔
#خمس کے جديد مسائل :
س: اگر کسي کو سال کے پہنچنے کے قريب ہي کسي سے اپني رقم قرض واپس
ليني ہو اور واپسي کا وقت بھي پہنچ چکا ہو ليکن شرم اور حيا کي وجہ
سے مطالبہ نہيں کرتا يا مطالبہ ميں چشم پوشي سے کام ليتا ہے۔ يا
مطالبہ کرتا ہے ليکن مقروض اد نہيں کرتا ۔ يہاں تک کہ سال گذر جاتا
ہے اور دوسرے سال ميں وہ رقم وصول ہوتي ہے آيا يہ رقم گذشتہ سال کي
در آمد شمار کي جائے يا اس سال کي در آمد شمار ہوگي جس ميں وصول
ہوئي ہے۔
ج: اگر مطالبہ کرنے سے وصول ہوجائے اور اس ميں کوئي حرج بھي لازم
نہ آتا ہو تو لازم ہے کہ اسي سال خمس ديا جائے اگرچہ مطالبہ يا
وصول نہ بھي کيا ہو اور اگر مطالبہ کرنے سے حرج لازم آتا ہے۔ اور
اس کے بغير وصولي مشکل ہے يا مطالبہ کرنے پر فعلاً وصولي ممکن نہ
ہو تو پھر سال وصول کے منافع ميں شمار ہوگي۔
س: اگر کوئي شخص اپنے کاروبار کے نفع سے تجارت کے لئے زمين خريدتا
ہے اور ہر سال بازار کي قيمت ميں اضافہ ہوتا ہے اور چند سال گذرنے
کے بعد فروخت کرتا ہے کيا قيمت فروخت کا پانچواں حصہ ادا کرنے سے
واجب خمس ادا ہوجائے گا يا حساب کرے اور قيمت فروخت کے علاوہ
بازاري قيمت جو پہلے سال ميں چوتھا پانچواں حصہ باقي ہے دوسرے سال
کے شروع ميں ادا کرے اور اسي طرح بازاري زيادہ قيمت جو پہلے سال
ميں چوتھا پانچواں حصہ باقي ہے دوسرے سال کے شروع ميں ادا کرے اور
اسي طرح بازاري زيادہ قيمت مخمس کو تيسرے سال کے شروع ميں ، خلاصہ
يہ ہے اول سال خمس ميں زمين مالکان خمس کي ملکيت ہوجائے گي اور
بازار کي بڑھي ہوئي قيمت اس کي اپني ملکيت ہوجائے گي اور دوسرے سال
ميں باقي بازار کي بڑھي ہوئي قيمت معادل خمس مالکان خمس کي ملکيت
ہوجائے گي اور اس کي بڑھي ہوئي قيمت اس کي اپني ملکيت ہوجائے گي
اور اسي طرح تمام سالوں ميں؟
ج: ہر سال کے شروع ميں خمس ادا کرے اور اگر نہ کرے گا تو اس کي
مقدار ميں حکم شريک رکھتا ہے۔
س: يہ حکم جو بازاري قيمت کے بڑھنے کے بارے ميں ذکر ہوا ہے کيا يہ
درختوں کے بڑھنے ميں بھي جاري ہے يا نہيں جو کاروبار کے لئے کاشت
کئے گئے ہيں يا خريدلئے گئے ہيں اور چند سالوں کے بعد کاٹ لئے
جائيں گے؟
ج: يہي حکم جاري ہے۔
س: جو خود سہم سادات دينے کا مجاز ہے آيا کسي مستحق سيد کو سہم
سادات بطور پيشکش يا ہديہ کے دے سکتا ہے ؟
ج: اپنے مال سے ہديہ پيشکش دينے ميں کوئي ممانعت نہيں ليکن وہ مال
سہم سادات شمار نہيں ہوگا۔
س: بنک کے ايک ہي حساب ميں کسي شخص کي دو طرح کي رقم جمع ہے ايک
حصہ مخمس ہے اور دوسرا غير مخمس اور ليتے وقت وہ يہ ارادہ کرنا
چاہتا ہے کہ وہ رقم لے جو مخمس ہے يا دوسري کيا اس قصد سے وہ رقم
معين ہوجائے گي يا نہيں؟
ج: فرض سوال کي صورت ميں اس قصد سے تعين پيدا نہيں ہوسکتا۔
س: حضرت عالي کے رسالہ عمليہ ميں ذکر ہوا ہے (کہ جب مال يا اس مال
سے جس پر خمس واجب نہيں ہوتا ، اس غرض سے کوئي جنس خريدي جائے کہ
اس عين مال يا اس کي قيمت کے اضافہ سے تجارت کي جائے يا کوئي مال
کسي کو ميراث ميں ملا ہواور پھر اس کي قيمت بڑھ گئي ہو اور اسکو
بيچ ديا جائے تو قيمت کي زيادتي پر خمس واجب نہيں ہے)اور اس کے
خلاف بھي حضرت عالي کا فتويٰ نقل ہوا ہے کيا حضرت عالي کا فتويٰ
تبديل ہوا ہے؟
ج: جنس کو فروخت کرنے کے بعد اخراجات کو اٹھا کر شروع سال ميں اس
زيادتي کا خمس ديا جائے۔
س: استفتائ ميں جس کي نسبت جناب عالي کي طرف دي گئي ہے يوں بيان
ہوا ہے کہ ’’ اگر کوئي کسي ضرورت کي چيز کو خريدے اورسال گذرنے کے
بعد فروخت کرے تو اسے اس کا خمس فوراً دينا چاہيے ‘‘ لہذا بيان
فرمائيے۔
اولاً کيا يہ حکم قيمت خريد کے ساتھ مخصوص ہے اور قيمت خريد پر
زيادتي جو نفع جديد کي صورت ميں ہے کيا يہ اسي سال فروش کي در آمد
شمار ہوگي يا اس نفع کا خمس بھي فوراً ادا کرنا واجب ہے۔
ثانياً کيا يہ حکم صرف اس صورت کے ساتھ مخصوص ہے جب ضرورت کي چيز
سال کے نفع سے خريدي جائے يا اس صورت ميں بھي يہي حکم جاري ہے جب
مخمس ياميراث کي رقم سے خريدي جائے۔
ج: ١۔ جو چيز مال مخمس يا ميراث يا اس مال سے خريدي جائے جس پر خمس
واجب نہيں ہے، اس چيز پر خمس واجب نہيں ، مگريہ کہ وہ اس چيز کو
بيچ دے اور اس سے نفع حاصل ہو تو اس صورت ميں اس نفع پر خمس لازم
ہے۔
س: سالانہ ضروريات زندگي سے متعلق (کہ جنہيں کاروباري منافع سے
خريدا گيا ہو اور خمس کي تاريخ پہنچ جانے کے بعد فروخت کرديں)جناب
نے فرمايا ہے خمس دينا چاہيے حالانکہ اس چيز کے متعلق جسے ضروريات
زندگي ميں سے نہ سمجھا جائے مثلاً ’’عورتوں کے زيورات‘‘آپ نے
احتياط واجب فرمايا ہے ، آيا اس صورت ميں بھي احتياط ہے؟
ج: دونوں صورتوں ميںجب سالانہ ضروريات زندگي ميں سے شمار نہ کيا
جائے تو خمس واجب ہے۔
س: جس نے سر سال خمس لوگوں کو قرضہ کے طور پر رقم دي ہے اور وصولي
ہونے کا بھي اطمينان ہے ليکن رقم اگلے سال وصول ہوني ہے۔ کيا يہ
رقم اس سال کي در آمد شمار ہوگي يا آئندہ سال کي؟
ج: اس صورت ميں آئندہ سال (جس ميں وصول ہوگي)کي درآمد شمار ہوگي۔
س: کيا کوئي شخص اپنے خمس کے شروع سال کي تاريخ کو تبديل کرسکتا ہے
اور اسکي صور ت کيا ہوگي ؟
ج: اس صورت ميں تاريخ سال کو تبديل کرسکتا ہے کہ اس وقت تک کا خمس
ادا کرے۔
س: وہ پيسے جو حجام داڑھي مونڈنے کے ليتا ہے وہ حلال ہيں يا حرام؟
اور اگر اس کے حلال پيسوں سے مخلوط ہوجائيں اور وہ اپنے مال کا خمس
نکالنا چاہتا ہے توکيا وہ دوبار خمس نکالے يا نہ ؟
ج: داڑھي مونڈھنے کي اجرت لينے سے پيسوں کا معاملہ بنابر احوط حرام
ہوجائے گا اور مال کے مخلوط ہونے کي صورت ميں خمس نکالنا مبني بر
احوط ہے اور جو سال کے دوران کي حلال بر آمد ہے اس کا الگ خمس دينا
چاہيے ۔ ان ميں سے ہر ايک کي ترتيب کتاب تحرير الوسيلہ ميں درج ہے۔
س: کوئي سال کے آخر ميں اپنے زيادہ مال کا حساب کرتا ہے مثلاً نقد
اور جنس سے کل ايک ہزار روپے منفعت ہوئي اور پانچ سو کا مقروض ہے
اور اس نے صرف پانچ سو روپے کا خمس دياہے ۔ کياآپ کي نظر مبارک ميں
وہ درست ہے اور جو زيادہ آيا ہے اس کو قرض کے بدلے دينا سال کے
اخراجات ميں سے شمار ہوگا يا صرف وہي قرض جو سال پورا ہونے سے پہلے
ادا کيا ہے وہي سالانہ اخراجات ميں شمار ہوگا؟
ج: اگرمذکورہ قرض سال کے معاش اور اخراجات کا ہے تو اس کو کل آمدني
سے کم کياجانا چاہيے اگرچہ ابھي ادا نہ کيا ہو ليکن دوسري قسم کے
قرضوں ميں جب تک ادا نہ کرے وہ سالانہ اخراجات ميں سے شمار نہ ہوگا
اس مال کا خمس دينا چاہيے۔
س: اگر کوئي نذر کرتا ہے کہ فلاں معين دنبہ کو فلاں وقت ميں راہ
خير ميں خرچ کرے گا اور اس وقت معين کے پہنچنے سے پہلے آخر سال خمس
آجاتا ہے کيا ايسي صورت ميں اس دنبے کا خمس بھي دے يا نہ ؟
ج: اس کا خمس نہيں ہے۔
س: وہ لوگ جو حکومتي اداروں ميں ملازم ہوتے ہيں جب ان کو تنخواہ دي
جاتي ہے تو وہ ادارہ ان کي تنخواہ سے کٹوتي کرتا ہے اور جب ريٹائر
ہوجاتے ہيں توا ن مذکورہ کٹوتي کے پيسوں ميں سے کچھ مقدار ہر ماہ
ديتے ہيں کيا اس کٹوتي پر خمس واجب ہے ، جواب ان کو پينشن کي صورت
ميں دي جاتي ہے يا نہيں ؟ اور اگر فرضا ً واجب ہے تو پھر کيا خمس
دينا فوري ہے يا وہ سال کے منافع کا جز ہے جو اسے ديا جارہا ہے اور
آخر سال ميں باقي منفعت کے ساتھ ہي حساب ہوگا؟
ج: ہر سال کي پينشن پر سال کے اخراجات پورے کرنے کے بعد آخر سال
ميں خمس ہے۔
س: اگرکوئي شخص پانچ ہزار روپے سر قفلي (بطور پگڑي) کے صاحب
جائيداد کر دے تاکہ مالک اپني ملک کو اسے اجرت پردے اور اگر وہ
مستاجر پگڑي کي رقم سال کے دوران اپنے کاروباري سالانہ اخراجات ميں
سے دے تو کيا اس کا خمس دينا ہے يا وہ کاروبار کے اخراجات کي طرح
ہے (جيسا دکان کا کرايہ)اور اس پر خمس نہيں ہے؟
ج: وہ رقم جو پگڑي کے طور پر دي گئي ہے اور کاروباري منافع ميں سے
ہے اس کا خمس دينا چاہيے۔
س: مالک جو پگڑي کي رقم وصول کرتا ہے وہ اس کے لئے بطور ھبہ شمار
ہوگي ؟ اور کيا اس پر خمس نہيں ہے ؟ يا کاروباري منافع ميں ہے اور
خمس لازمي ہے؟
ج: پگڑي کي رقم بھي کاروباري منافع ميں سے ہے اور اس پر خمس واجب
ہے۔
س: وہ سواري جو کاروباري منافع سے اس لئے خريدي جائے تاکہ اس پر
سوار ہو کر تجارت خانہ ، کھيتي ، دکان يا رہنے کے کاروباري مکان تک
جائے ليکن اس کو جنس تجارت وغيرہ لانے لے جانے کے لئے استعمال نہ
کيا جائے تو کيا اس پر خمس واجب ہے يا نہيں ؟
ج: اس کا خمس دينا چاہيے۔
س: کسي شخص کا کارخانہ بس يا کوئي اور کاروباري چيز ہے جس کو اس نے
قيمت سے خريدا ہے اور اس کا سرمايہ بھي ہے اور کام ميں لانے کي وجہ
سے پرانا ہوچکا ہے جس وجہ سے اس کي قيمت کم ہوگئي ہے ليکن پھر بھي
انہي اوزار اور وسائل سے کاروبار کرتا ہے اور اسي سے اپني زندگي کے
اخراجات نکالتا ہے۔
کيا سال کے آخر ميں وہ مقدار جو پرانا ہونے کے اعتبار سے مشينري
اور ابزار کار کي قيمت سے کم ہوگئي ہے منفعت سے کم کرسکتاہے تاکہ
اس کمي کو پورا کرسکے اور باقي منفعت کا خمس دے يا سال کے تمام
منافع کا خمس دينا واجب ہے۔ جو سال کے آخر پر اس کے پاس موجود ہيں۔
ج: ابزار اوروسيلہ کام جو حصول منافع اور کام کرنے سے بوسيدہ اور
پرانے ہوئے ہوں اور ان کي قيمت کي کمي کے سبب ہوئے ہوں ، اس کمي کو
منافع ہي سے کم کيا جائے اور بقيہ کا خمس ديا جائے۔
س: اگرکسي نے زمين ادھار خريدي ليکن معاملے کے وقت اس بات کا خيال
نہ رکھا کہ بعد ميں قيمت کن پيسوں ميں سے دے اور معاملہ تمام ہونے
کے بعد اپنے کاروباري منافع سے قيمت اد اکي جن پر ابھي سال پورا
نہيں ہوا ہے اب چند سالوں کے بعد اس زمين کي قيمت بڑھ گئي ہے تو
کيا موجودہ قيمت کا خمس دينا چاہيے يا قيمت خريد کا خمس کافي ہے؟
ج: سر سال زمين کي موجودہ قيمت کا خمس دينا چاہيے اور قيمت کي ترقي
اور زيادتي کا خمس اس خمس کي ادائيگي کے بعد اس وقت واجب ہوگا جب
زمين کو فروخت کرے۔
س: ايک شخص خود اور اسکے بالغ اور نابالغ بچے اور بچياں کام کرتے
ہيں اور مزدوري کي رقم سب کے سب اسي کو ديتے ہيں تاکہ زندگي کے
اخراجات پر خرچ کرے اور بقيہ رقم کو باغ ، گھر اور ديگر سرمايہ کي
جمع آوري پر خرچ کرے ۔ اب چند برسوں کے بعد ان کے اخراجات زندگي سے
بچي ہوئي زيادہ رقم پر خمس واجب ہے؟ جبکہ بالغ اولاد نے اپني
مزدوري کي رقم بطور ہبہ يا قرض يا امانت اپنے والد کے پاس نہيں
رکھي تھي يعني مصرف کا کوئي خاص نام معين نہيں کيا تھا؟
ج: اگر مال مشترک کو بالغوں کي رضا اور نابالغوں کے ولي ہونے کي
حيثيت سے زندگي کے امور ميں خرچ کيا تھا اور بقيہ کو باغ اور
سرمايہ کي جمع آوري کے لئے خرچ کيا تواس باغ اور سرمايہ ميں بالغ
اور نابالغ سب شريک ہيں اور ان ميں سے ہر ايک اپنے حصے کے خمس کا
ضامن ہے اور اگر گھر کا بنانا سالانہ اخراجات ميں سے ہے تو خمس
نہيں ہے۔ ورنہ باغ اور سرمايہ کے حکم ميں ہے۔
س: اگر خمس کے کچھ مقدار پيسے اد اکرے اور کچھ مقدار قرض کے طور پر
اور کچھ مقدار منفعت سے بھي ، زمين کو قابل کاشت کرنے پر خرچ کئے
ہوں اور يہ معلوم نہيں ہے کہ ہر ايک ميں سے کتني مقدار خرچ کي ہے
کيا اب کچھ مقدار کے مصالحہ کے لئے زمين کي قيمت کا حساب کرے يا اس
تمام مقدار کا حساب کرے جو خرچ کرچکا ہو؟
ج: وہ پيسے جو منفعت کے علاوہ خرچ کئے ہيں وہ مستثنيٰ و خارج ہيں
اور بقيہ کو زمين کي موجودي قيمت سے قرض اد اکرنے کے بعد خمس کا
حسب کرے۔
س: اگر زمين کو گھر بنانے کي غرض سے کاروباري منفعت سے خريدا ہو
اور پھر چند سال تک گھر نہ بنايا جاسکے کيا اس پر خمس واجب ہے؟
ج: جب تک گھر بنانے کا ارادہ ہے اس وقت تک خمس واجب نہيں ہے ليکن
اگر اس ارادے سے پھر جائے تو خمس واجب ہوجائے گا۔
س: اگر مسائل کو بيان کرنے والا يا امور حسبيہ ميں مجاز شخص (امور
حسبيہ وہ ہيں جن ميں مجتہد عادل کي نگراني يا اجازت شرط ہوئي ہے
جيسے يتيم بچوں کے اموال کي نگراني وغيرہ )بھول کر مسئلہ کو غلط
بيان کرے اور دنبہ حکم شرعي کے خلاف ذبح ہوجائے يا لوگوں سے خمس
اور زکواۃ کي مقدار اصل قرض سے زيادہ لے اور خرچ کرے اور بعد ميں
مسئلہ اس کے خلاف ظاہر ہوجائے تو کيا وہ ضامن ہے؟
ج: وہ ضامن ہے۔
س: اگر کوئي مذہبي خطيب اکثر مفت مجلسيں پڑھتا ہے اور يہ ضروري
نہيں کہ مجلس پڑھنے کے اسے کچھ پيسے دئے جائيں۔ ليکن يہ جانتا ہے
کہ بعض بانيان مجالس اس کو نامعلوم مقدار پيسے ديں گے اب اگر اس
قسم کے پيسے سال کے اخراجات سے زيادہ آئيں تو کيا ان پر خمس ہے يا
نہيں؟
ج: ان پيسوں کا خمس دينا چاہيے۔
س: اگر کوئي اپنے رہائشي مکان کو اس لئے فروخت کرتا ہے تاکہ دوسري
جگہ پر گھر خريدے اور اس کي قيمت کي رقم سے چند ماہ کاروبار کيا
اور اس طرح نفع حاصل کيا اور سال
پوراہونے سے پہلے ہي نيا گھر خريدا تو اس کے لئے اصل رقم اور منافع
ميں خمس کے بارے ميں کيا حکم ہے؟
ج: تمام رقم کا خمس دينا چاہيے۔
س: وہ مال جو معين قيمت کے حساب سے ارث ميں ملا ہے اگر چند سال کے
بعد اسے زيادہ قيمت پر فروخت کرے تو کيا زيادہ پر خمس ہے يا نہيں؟
ج: احتياط اس ميں ہے کہ اس کا خمس ديا جائے بلکہ يہ احتياط قوت سے
خالي نہيں۔
س: اگر کسي کا سرمايہ کم ہوگيا ہو ليکن تھوڑا بہت اناج باقي رہا ہو
جو اسي سال کي منفعت سے خريدا گيا ہے کيا اس پر خمس ہے؟
ج: جو مقدار سال کے اخراجات سے بچ گئي ہے اگر وہ سرمايہ کے نقصان
کے برابر يا اس سے کم ہو تو اس پر خمس نہيں ہے۔
س: سہم امام اور سادات کے بارے ميں حضرت عالي کا نظريہ کيا ہے؟ کيا
خود حضرت عالي يا مخصوص و معين وکلائ کو ديا جائے ياان کي اجازت سے
خرچ کيا جائے يا اگر دوسروں کو بھي دے دي جائے تو کيا جائز ہے؟
ج: مرجع تقليد کودينا چاہيے يا پھر اس کي اجازت سے خرچ کرنا چاہيے۔
س: کچھ لوگ ايسے ہيں جن پر خمس واجب تھا ليکن اب تک اد انہيں کيا
اور اب وہ ادا نہيں کرسکتے يا ان کے لئے بہت مشکل ہے ۔ان کے بارے
ميں کيا حکم ہے؟
ج: جو واجب الادا ہے اسے ادا کرے، خواہ بتدريج ہي کيوں نہ ہو، اگر
اس کے لئے ممکن نہيں ہے تو انتظار کرے تاکہ امکان پيد اہوجائے ۔
واجب الادا کو ادا کئے بغير بري الذمہ نہيں ہوگا۔
س: جن افراد نے بالکل خمس نہيں ديا اور نہ ہي ديتے ہيں۔ ان کے
ہمسايوں اور رشتہ داروں کا وظيفہ کيا ہے؟
ج: امر بہ بمعروف کے شرائط کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کو امر
بالمعروف کريں ليکن جس مال کے بارے ميں جانتے ہيں کہ اس پر خمس
واجب تھا ليکن انہوں نے ادا نہيں کيا اس ميں تصرف نہيں کرسکتے۔
س: اگر کوئي جوان جانتا ہے کہ مزيد پانچ سال کے بعد شادي کرکے عيال
دار ہوجائے گا اور اس وقت اسے گھر کي ضرورت پيش آئے گي۔ اگر ان
پانچ برسوں کي مدت ميں اپني آمدني سے گھر بناليتا ہے کيا اس کا خمس
واجب ہے يا نہيں ؟
ج: اگر ضرورت کے وقت گھر نہ بناسکتا ہو تو اسے بتدريج گھر کے
لوازمات کو مہيا کرنا چاہيے اور اس پر خمس نہيں ہے ليکن اگر پيسوں
کو جمع کرتا ہے تو گذشتہ برسوں کا خمس دينا چاہيے۔
#حج کے بعض احکام :
س: ايک شخص ايک باغ رکھتا ہے جس سے چند برسوں سے کوئي منفعت حاصل
نہيں ہوئي ہے ليکن قيمت کے لحاظ سے سفر حج کے لئے کافي ہے اور اس
کا مالک عرفي طور پر مطمئن ہے کہ جب باغ پھل دينے لگ جائے تو وہ
بھي کاروبار کے قابل نہيں رہے گا اور اس باغ کي درآمد سے ہي
ضروريات زندگي کو مہيا کرنا ہوگا ، کيا ايسے شخص پر حج واجب ہے يا
نہيں؟
ج: اگر باغ کي درآمد کے علاوہ ضروريات زندگي کے لئے کوئي اور ذريعہ
نہيں تو وہ مستطيع نہيں اور حج اس پر واجب نہيں ہے۔
س: اگر کسي کي نيابت ميں کوئي حج کرنے کے لئے اجير مقرر ہوا ہے اور
اس کے بعد خود بھي اسي سال مالي طور پر مستطيع ہوجائے تو اس کا
وظيفہ کيا ہے؟
ج: نيابت والا حج بجالانا چاہيے۔
س: اگر کوئي شرعي طورپر غني ہو اور اس کاکام چل رہا ہو اور اپنے
رہائشي گھر کو اس غرض سے فروخت کردے کہ اس سے بہتر خريدلے جب کہ اس
کے لئے يہ بھي ممکن ہے کہ کرايہ کے گھر ميں زندگي گذارے کيا گھر کي
قيمت سے وہ مستطيع ہوجائے گا يا نہ ؟ اور کيا گھر خريد سکتاہے يا
نہيں؟
ج: اگر استطاعت کے شرائط حاصل ہوں اور ذاتي گھر خريدنا اس کے لئے
ضروري نہيں تو وہ مستطيع ہے۔
س: کيا حج کي استطاعت کا اول سال ماہ شوال کي اول سے شروع ہوجاتا
ہے اور ماہ شوال سے پہلے اگر مالي قدرت پيد اہوجائے تو کيا جائز ہے
کہ اس مال کو دوسرے مصارف ميں خرچ کرے اور اب اس پر حج واجب نہيں ؟
يا ايام حج کے بعد دوسرے سال تک سال استطاعت شمار ہوگا اور مستطيع
کے لئے جائز نہيں کہ اپنے کو استطاعت سے خارج کرے۔
ج: اگر بدني و مالي اور استطاعت کے تمام شرائط حاصل ہوجائيں تو خود
کو استطاعت سے خارج نہيں کرسکتا خواہ اوائل سال ہي ميںکيوں نہ ہو۔
#وقف کے بعض مسائل :
س: اگر کوئي موقوفہ بستي وسعت پيدا کرنے کي وجہ سے موقوفہ حدود ميں
حمام ، مسجد اور سڑک کي تعمير کي احتياج پيدا کرے۔ کيا ان کا تعمير
کرنا اس وقف کي درآمد سے جائز ہے؟
ج: جائز نہيں ہے۔
س: اگر کوئي کھيت اس لئے وقف ہوکہ اس کي درآمد حضرت امام حسين عليہ
السلام کے عزا کي مجالس ميں صرف کي جائے کيا مصلحت کي بنا پر جائز
ہے کہ اس کي درآمد کي کچھ مقدار کو اس کھيت کي وسعت اور درخت لگانے
پر صرف کيا جائے؟
ج: جائز نہيں ہے۔
س: کوئي موقوفہ بستي اگر خشک سالي کي وجہ سے بالکل برباد اور بنجر
ہوجائے اور اس کے ساکنين اس جگہ کو چھوڑ کر چلے جائيں پھر چند سال
کے بعد کوئي شخص اپنے مال اور پاني کي فراواني کي وجہ سے اس زمين
کو قابل کاشت بنائے کيا وہ اس زميں کا مالک بن جائے گا؟
ج: وہ بستي وقف کے حکم ميں باقي ہے اور آباد کرنے والا مالک نہيں
بن سکتا۔
س: کيا کسي جگہ کو دس سال کے لئے مسجد کے عنوان سے وقف کيا جاسکتا
ہے، اس شرط کے ساتھ کہ اس کے بعد وہ محل مالک يا اس کے وارث کي
ملکيت ميں واپس پلٹ جائے۔
ج: مسجد نہيں ہوگي۔
س: کسي جگہ کو سقاخانہ (پاني پينے کي جگہ)يا گاو ں کا حمام کے نام
سے بنايا گيا ہے اور وقف کياگيا ہے ليکن اب کئي سال سے وہ خرابہ کي
حالت ميں تبديل ہوگئي ہے اور پاني کا انتظام اور جديد حمام کي وجہ
سے اب اميد نہيں کہ ان عمارات کي تعمير کي جائے اور مطابق وقف قابل
استفادہ ہوجائے۔ کيا جناب عالي اجازت فرمائيں گے کہ ان جيسے
مخروبوں کو مسجد يا امام باڑہ کے صحن ميں منضم کيا جائے يا کسي
ايسي عمارت ميں تبديل کيا جائے جو امور خير ميں استعمال ہو؟
ج: اگر ان کي تعمير اور استفادہ مطابق وقف ممکن ہو تو وقف ميں تغير
و تبدل جائز نہيں ہے۔
#معاملات کے چند مسائل :
س: ايک سات سو روپے والے قالين اور ہزار روپے کو اگر دوہزار روپے
ميں ادھار پر فروخت کيا جائے اور قيمت چھ مہينے بعد وصول کي جائے
تو اس کا حکم کيا ہے۔
ج: اگر قرض سود سے بچنا مقصود ہے تو معاملہ باطل ہے۔
س: نو سو والے نقدي چيک کو ايک ہزار کے ايک مہينہ بعد کيش ہونے
والا چيک کے بدلے بيچنا جائز ہے؟
ج: اگر قرضي سود سے بچنا مقصود ہے تو معاملہ باطل ہے۔
س: اگر سود والے قرض کو ادا کيا ۔ کيا اس ملک کا وہ مالک بن جائے
گا۔
ج: اس ملک کا مالک بن جائے گا۔
س: وہ قرار داد جو ارباب اور دلالوں کے درميان (قولنامہ )کے نام سے
معمول ہے جس ميں ايک رقم کو معين کرتے ہيں اس قولنامہ کے بعد طرفين
ميں سے کوئي معاملے پر حاضر نہ ہوا تو اس کو معينہ رقم دوسرے کو
ادا کرني ہوگي کيا اس قسم کي قرارداد اکا وفا کرنا لازم ہے يا
نہيں؟
ج: وفاکرنا لازم نہيں ہے۔
س: اگر کوئي متولي کي طرف سے اس زمين ميں دکان بنائے جو مسجد کے
نام سے ہے اور يہ قرار پائے کہ پانچ سال تک بنانے والا خود اس ميں
کاروبار کرے اب پانچ سال کے بعد دکان کي پگڑي کي رقم کس کي ملکيت
ہے ؟
ج: مسجد کي ملکيت ہے۔
#بنک کے چند مسائل :
س: وہ رقم جو محفوظ رہنے کي خاطر نہ کہ سود لينے کي غرض سے بنکوں
ميں جمع کرائي جاتي ہے اور واپس نکالتے وقت بنک والے اصل رقم سے
کچھ رقم صاحب حساب کو ديتے ہيں جو انہوں نے خود حساب کي ہوتي ہے۔
کيا يہ مبلغ حلال ہے يا نہيں؟
ج: اگر سود کے عنوان سے دين تو اس کا لينا جائز نہيں اگرچہ پہلے سے
يہ شرط قرار نہ پائي ہو۔
س: وہ سود جو حکومت کے بنک ، بنک ميں پيسہ رکھنے کے لئے ديتے ہيں
کيا جائز ہے اس کو ماليانہ کے بدلے يا انکم ٹيکس جس کي ادائيگي پر
وہ اور اس کے رشتہ دار حکومت يا بنک کو مجبور ہيں تقاص (ادارے کا
بدلہ )کے طور پر اخذ کرے يا نہيں؟
ج: سود حرام کا پيسہ ہے ليکن تقاص کے طوراپنے يا دوسروں (جب ان کے
وکيل ہوں)کے قانوني ٹيکس کے بدلے لينے ميں کوئي اشکال نہيں۔
س: بنکوں سے بغير لفظي اور تحريري قرار داد کے نفع لينا يا دينا
حلال يا حرام ہے؟
ج: نفع کے عنوان سے لينا جائز نہيں اگرچہ شرط اور قرارداد نہ رکھي
ہو۔
س: جناب عالي کي نظر مبارک ميں بنکوں کے سود سے خلاصي کس طرح ممکن
ہے جس ميںاکثر تاجر بلکہ دوسرے افراد بھي مبتلا ہيں۔
ج: سود سے چھٹکارا حاصل کرنا ميرے نزديک مشکل ہے بلکہ اس کا جائز
نہ ہونا قوي ہے۔
#متفرقہ مسائل :
س: مسلمان عورت کا بہائي فرقے کے مرد سے شادي کرنے کا کيا حکم ہے۔
ج: بہائي گمراہ فرقے سے ازدواج کرنا باطل ہے۔
س: کيا اداروں ميں کام کرنے والوں کي پنشن ان کي ميراث کي طرح فوت
ہونے کے بعد تمام ورثا ميں تقسيم ہوگي يا نہيں۔ کيونکہ حکومت کے
قانون کے مطابق بعض وارثوں کو نہيں دي جاتي۔
ج: اگر پنشن کي رقم ملازمت کے زمانہ ميں تنخواہ سے کم کي گئي ہے
اور ريٹائر ہونے کے بعد دي جاتي ہے تو وہ ترکہ کا حصہ ہے اور تمام
وارثوں کو ملے گا اور اگر ادارہ وہ اپني طرف سے ادا کرتا ہے تو جس
کو وہ دے اسي کے ساتھ وہ خاص ہے۔
س: وہ مچھلياں جو پکائي ہوئي ، بند ڈبوں ميں غير مسلم ملکوں سے
لائي جاتي ہے کيا وہ حلال ہيں يا نہيں ؟
ج: اگر معلوم نہيں کہ يہ حلال مچھلي کي قسم سے ہے اور پاني سے زندہ
پکڑي گئي ہے اور پاني کے باہر مر چکي ہے يا نہيں تو وہ حرام کے حکم
ميں ہے۔ ليکن اگر اس بات کا علم ہوکہ پاني سے زندہ پکڑي گئي ہے اور
پاني کے باہر مرچکي ہے تو حلال کے حکم ميں ہے اگرچہ اس بات کا علم
نہ ہو کہ حلال قسم ميں سے ہے يا حرام ميں سے۔
(مسئلہ )وہ گوشت جو غير اسلامي ممالک سے وارد ہوتا ہے ، حرام ہے
اور اس کا معاملہ باطل ہے اور اس کي قيمت اور منافع سے استطاعت
حاصل نہيں ہوتي۔
س: بليڈ يا اس مشين سے داڑھي مونڈھنا جو بليڈ کي طرح تہہ سے مونڈتي
ہے کا کيا حکم ہے؟
ج: احتياط واجب اس فعل کے ترک کرنے ميں ہے۔
س: وزرش کے وقت ايک مخصوص قسم کا باجا بجايا جاتا ہے، کيا يہ عمل
جائز ہے؟ اسي طرح وہ طبل و ساز و ميوزک جو فوج ميں بجايا جاتا ہے
جائز ہے کہ نہيں؟
ج: اگر لہو و لعب کي مجالس ميں شمار ہوں توجائز نہيں ہے۔
س: والدين کي اطاعت پر کس حد تک لازم ہے اور اجداد بھي والدين کے
حکم ميں ہيں؟
ج: وہ امور جو ان کي ناراحتي کے باعث ہوں انہيں ان کي شفققت پدري و
مادري کے مطابق اطاعت کرني چاہيے اور والدين اور اجداد ميں کوئي
فرق نہيں ہے۔
س: يہوديوں کے ادارات اور موسسات ميں مسلمانوں کا ملازمت کرنا جائز
ہے يا نہيں ؟ جبکہ وہ جانتے ہوں کہ وہ اسرائيل کي مدد کرتے ہيں اور
اگر نہ جانتے ہوں تو روزانہ مزدوري کا کيا حکم ہے؟
ج: ملازمت کرنا جائز نہيں اور ان کي تنخواہ يا روزانہ اجرت حرام ہے
اور شک اور شبھے کي صورت ميں بھي ان موسسات ميں ملازمت کے لئے وارد
نہيں ہونا چاہيئے۔
س: وہ اہل کتاب جو اسلامي ممالک ميں زندگي بسر کرتے ہيں اور شرائط
ذمہ پر عمل نہيں کرتے کيا ان کا مال محترم ہے يا نہيں ؟
ج: ان پر کافر حربي کے احکام جاري نہيں ہوں گے۔
س: جوا کھيلنے کے آلات کے ساتھ بغير لين دين کے کھيلنا جائز ہے يا
نہيں؟
ج: جائز نہيں ہے۔
س: اگر شہوت اور ميل جنسي سے غير بيوي کو ديکھے اور علم رکھتا ہو
کہ اس عمل سے حرام ميں مبتلا نہيں ہوگا، کيا اس اطمينان کے باوجود
بھي يہ عمل حرام ہے؟ اسي طرح حيوانات ، مجسمہ اور پيکر بدن کو پردے
کے ساتھ شہوت سے ديکھنے کا کيا حکم ہے؟
ج: شہوت کي نظر سے ديکھنا حرام ہے اور احوط يہ ہے کہ مجسمے کو بھي
شہوت کي نظر سے نہ ديکھے۔
س: اگر کسي نے غصبي پيوند اپنے درخت کو لگايا اس پيوند کا نمو اور
پيداوار کس کي ملکيت ہے ؟
ج: صاحب پيوند کي ملکيت ہے نہ صاحب درخت کي۔
س: يہود ، نصاريٰ اور مجوس جو اسلامي ممالک ميں سکونت کرتے ہيں اور
شرائط ذمہ پر عمل نہيں کرتے يعني اصل ميں ذمہ کا تعہد درميان ميں
نہيں فقط يہي ہے کہ ممالک اسلامي ميں ہيں، کيا ان کا اس طرح رہنا
ان کے مال ، ناموس اور خون کے تحفظ کا سبب ہے؟
ج: ہاں ان کا اس طرح رہنا ان کي تحفظ اور مصونيت کا موجب ہے۔
س: وہ بچے جو بلوغ سے پہلے کام کرتے ہيں اور ان کي مزدوري ان کے
اخراجات سے زيادہ ہے کيا ان کے والدين پر فرض ہے کہ زيادہ مبلغ
محفوظ کريں اور بلوغ کي حالت ميںان کو ديديں۔
ج: ان پر واجب ہے کہ اس کو محفوظ کريں اور بلوغ کي حالت ميں ان کو
ديديں۔
س: جو عورت اپني تعليم کو جاري رکھنا چاہتي ہے تاکہ تحصيل کے بعد
کسي حلال کام کا انتخاب کرے ليکن اس وقت اس کي تحصيل نامحرم کے
روبرو ہونا لازم ہے مثلاً يونيورسٹي کلاس ميں رہنا پڑے گا جس ميں
مرد اور عورتيں ايک ساتھ ہيں کيا اس قسم کي تحصيل علم جائز ہے يا
نہيں؟
ج: تحصيل علم کا جاري رکھنا شعبوں ميں اشکال نہيں رکھتا ليکن
نامحرموں سے پردہ اور اختلاط سے پرہيز کرنا لازم ہے ليکن اگر تعليم
کا جاري رکھنا، نامحرموں کے ساتھ اختلام کا مستلزم ہو اسي طرح ديني
اور اخلاقي مفاسد کے ہمراہ ہو تو اس کو ترک کرنا چاہيے۔
س: وہ کارخانے اور موسسات جن کا رئيس مسلمان ہے ليکن يہودي ان ميں
دخالت اور اثر رکھتے ہيں اوربعض مسلمان ان يہوديوں کے زير دست ہيں
۔ ان مسلمانوں کا فرض کيا ہے؟
ج: اگر ان کے کام سے اسرائيل کو فائدہ نہيں پہنچتا تو اس ميں مانع
نہيں اگرچہ نفس کام کرنا خصوصاً اس فرقے کي نگراني ميں مسلمانوں کے
لئے باعث ننگ و عار ہے اور بعض اوقات جائز بھي نہيں۔
س: بعض ديندار و روشن فکر مسلمان استقلال مالي پيدا کرنے کي غرض سے
يہوديوں سے تجارتي معاملات کرتے ہيں تاکہ بعض اجناس کو اپنے ہاتھوں
ميں لے ليں يہ معاملہ کيسا ہے؟
ج: جب يہ اطمينان ہو کہ اس عمل سے مسلمانوں کے بازار سے يہوديوں کي
بالادستي ختم ہوجائے گي توکوئي حرج نہيں ہے۔
س: کياحکومت ميں نوکري کرنے کے جواز کے بارے ميں يہ ضروري ہے کہ جو
کام اس شخص سے متعلق ہيں تمام يا اس کا بعض مسلمانوں کي مصلحت کے
لئے ہو يا ماموريہ کے علاوہ مصالح
مسلمين کو انجام دينا بھي ضروري ہے ؟
ج: نوکري کے جواز کے لئے کافي ہے کہ وہ کام جو اس کے ذمہ ہو حلال
ہو۔
س: آج کل کي لڑکياں اور لڑکے جو مدارس، يونيورسٹيوں اور موسسات ميں
ايک ساتھ رہا کرتے ہيں وہ محرميت کے لئے اپنا يا اپنے والد يا بچوں
کا صيغہ جاري کرنے کا قصد رکھتے ہيں تاکہ ان کا ميل جول حرام نہ
ہو۔ کيونکہ جناب عالي والد کي اجازت کو باکرہ ميں احتياط واجب
جانتے ہيں ليکن ايسے موارد ميں بعض اوقات والد راضي نہيں ہوتے يا
اجازت نہيں لے سکتے
کيا جناب عالي اجازت فرمائيں گے کہ يہ احتياط لازم نہ ہوتا کہ ولي
کي اجازت کے بغير صيغہ جاري ہو۔ اسي طرح بعض موارد پر لڑکي اور
لڑکا ايک دوسرے کو چاہتے ہيں اور باپ کي اجازت حاصل کرنا شرم و حيا
اور دوسرے موانع کي وجہ سے مشکل ہے کيا اس احتياط کا ترک کرنا ايسي
صورت ميں جائز ہے؟
ج: باپ کي اجازت ساقط نہيں ہوسکتي بلکہ اب ميں باپ کي اجازت کو شرط
جانتا ہوں اور يہ ميرا فتويٰ ہے۔
س: کوئي شخص کسي کمپني ميں ڈرائيور کے عنوان سے ملازم ہے اور کبھي
کبھي وہ ملکي و غير ملکي آفسروں کو سوار ي مرتکب ہوتے ہيں کيا ايسي
صورت ميں کمپني ميں رہنا جائز ہے يا نہيں؟
ج: اس کام کے جاري رکھنے ميں اشکال نہيں ليکن لوگوں کو فساد اور
گناہ کے مراکز تک لے جانے سے اجتناب کرے اور اگر اجتناب ممکن نہ ہو
تو اس ملازمت کو ترک کردے۔
س: بہائي جيسے مرتد فرقے کا مال جو انہوں نے ارتداد کے بعد حاصل
کيا ہو اس کا نقل و انتقال اور اس معاملہ کرنا جائز ہے؟ اور ان کي
اولاد بھي دوسرے کي طرح مرتد ملي حساب ہوگي اور ان کے ساتھ معاملہ
کرنا جائز ہے يا نہيں؟
ج:ان جيسے اشخاص کے ساتھ معاملہ نہيں کرنا چاہئيے اگرچہ وہ مال جو
ارتداد کے بعد انہوں نے حاصل کيا ہے ان کا ملک ہے۔ اور ان کي اولاد
ارتداد سے پہلے مسلمان کے حکم ميں
ہے۔ مگر جب بلوغ کے بعد کفر کا اظہار کرے تو اس صورت ميں اس کا حکم
مرتد ملي کا ہے اور اولاد کا حکم ارتداد کے بعد سب کفار کا ہے اور
مرتد کا حکم نہيں رکھتے۔
تم الکتاب والحمد للہ اولاً و آخراً |