بعض جدید مسائل جو اس زمانے ميں مورد حاجت ہيں

سفتہ (پرونوٹ)پرائمري نوٹ
پگڑي لينا
بنک کے معاملات
بيمہ انشور کرنا
لاٹري
تلقيح (مني کا پيوند لگانا) مصنوعي طريقہ سے حمل اور پيدائش
تشريح پيوند (پوسٹ مارٹم)
خاتمہ
نماز جمعہ
شرائط نماز جمعہ
جن لوگوں پر نماز جمعہ واجب ہے
نماز جمعہ کا وقت
فروع

#سفتہ (پرونوٹ)پرائمري نوٹ:
}(٢٨٣٣)پرونوٹ کي دو قسميں ہيں:
١۔ پرونوٹ حقيقي : کہ کوئي آدمي جو کہ مقروض ہے اپنے قرض کے مقابلہ ميں پرونوٹ دے۔
}(٢٨٣٤)٢۔ پرونوٹ دوستانہ : کہ وہ کسي شخص کو ديا جائے ۔ بغير اس کے کہ اس کے مقابلے ميں وہ مقروض ہو۔
}(٢٨٣٥)پرونوٹ حقيقي : اگر کوئي شخص مقروض سے لے لے تاکہ کسي اور شخص کے ساتھ اس سے کم رقم پر معاملہ کرے تو اس طرح معاملہ کرنا چاہيے کہ جس ميں سود لازم نہ آئے۔ مثلاً يہ کہ وہ نوٹ جو مقروض کے ذمے اس کا قرض ہے وہ کمي پر بيچ دے اور اس کي رقم لے لے اور پرونوٹ اس کو دید ے تاکہ تيسرا شخص مقروض سے پورا مال لے لے۔ اس قسم کے تنزيلي معاملہ ميں کوئي اشکال نہيں۔
}(٢٨٣٦)پرونوٹ پيسہ نہيں ہے اور خود اس سے معاملہ نہيں ہوسکتا بلکہ رقم نوٹ ہے اور معاملہ اس سے ہوتا ہے اور پرونوٹ برآت اور قبض ہے اور تضميني چيک جو ايران ميں رائج ہے وہ مثل نوٹ کے پيسے ہيں اور ان سے خريدو فروخت کرنا کمي و زيادتي کے ساتھ کوئي اشکال نہيں رکھتا۔
}(٢٨٣٧)جس کے پاس پرونوٹ ہے اگر اپنے مدمقابل سے رقم بطور قرض لے اور اسے پرونوٹ ديدے تاکہ مقررہ وقت پر لئے ہوئے قرض سے زيادہ لے تو وہ سود حرام ہے اور قرض باطل ہے۔
}(٢٨٣٨)پرونوٹ دوستانہ جو آدمي کسي کو ديتا ہے کہ وہ تيسرے شخص کے پاس کمي پر معاملہ کرے اور تيسرا شخص وقت مقررہ پر صاحب پرونوٹ جو کہ پہلا شخص ہے سے حق رجوع رکھتا ہو، يہ چند طرح سے صحيح بن سکتا ہے۔
١۔ يہ کہ اس معاملے کہ برگشت اس طرف ہو کہ پہلا شخص دوسرے کو وکيل کرے کہ اس کے ذمے ميں تيسرے شخص سے معاملہ کرے اور دوسرا شخص وکيل ہو کہ جو رقم لے رہا ہے وہ بطور قرض لے اور پہلا شخص جو قرض دينے والا ہے وقت مقررہ پر قرض کا مطالبہ دوسرے شخص سے کرے۔ اس بنائ پر معاملے کے بعد پرونوٹ کا پہلا صاحب جو واقعہ ميں مقروض نہيں تھا۔ تيسرے شخص کا مقروض ہوجائے گا اور دوسرا شخص قرض لينے کے بعد جتني مقدار کہ اس نے تيسرے شخص سے لي ہے وہ پرونوٹ کے پہلے صاحب کا مقروض ہوجائے گا اور يہ قرض قرار داد نفع کے بغير ہونا چاہئيے ورنہ باطل و حرام ہوگا۔ البتہ اگر زيادتي مفت ميں ديدے يا کام کے مقابلے ميں بطور استحباب شرعي ديدے تو کوئي حرج نہيں۔ اس بنائ پر معاملہ کرنے کے بعد تيسرا شخص مدت مقررہ پر پہلے شخص کي طرف رجوع کرے اور اپنا قرض لے لے اور اگر ان پرونوٹوں ميں متعارف يہ ہو کہ اگر پہلا شخص قرض نہ دے تو دوسرا رجوع کرسکتا ہے تو اس بنائ پر شرط ضمني ہوگي اور وہ رجوع کرسکے گا۔
٢۔ يہ کہ پرونوٹ دوستانہ دوسرے شخص کو دينا تاکہ وہ تيسرے کے پاس تنزيل کرے اور تيسرا شخص بھي يہ حق رکھتا ہو کہ وہ دوسرے کي طرف رجوع کرے تو يہ دو چيزوں کا سبب بنے گا۔ ايک يہ کہ پرونوٹ دينے کي وجہ سے لينے والا تيسرے کے نزديک صاحب اعتبار ہوجائے گا او ر اس وجہ سے خود اس کے ساتھ معاملہ کرسکے گا اور دوسرا شخص تيسرے کا مقروض ہوجائے گا۔ دوسرا يہ کہ ان اشخاص کے نزديک پہلا شخص ملتزم ہوگا کہ مقدار معلوم اگر دوسرے نے ادا نہ کي تو وہ دے گا۔ تو اس بنا پر معاملے کے بعد تيسرا شخص وقت مقرر پر دوسرے کي طرف رجوع کرے گا۔ اور چونکہ يہ امور عام ہيں اور ضمني قرارداديں ہيں لہذا ان سے کوئي حرج نہيں ہے اور کچھ اور وجوہات بھي صحت کے لئے ہيں۔
}(٢٨٣٩)چونکہ بنک اور تجارت کے معاملات ميں يہ معمول ہے کہ جو شخص پرونوٹ پر دستخط کرے۔ اس کي طرف رجوع کيا جاتاہے۔ اگر پرونوٹ دينے والا اپنے مقروض کو نہ دے تو چونکہ يہ ضمني قرار داديں اس معاملے کے ضمن ميں ہے لہذا اس کي رعايت ضروري ہے ليکن اگر طرف مقابل اس معاہدہ کي اطلاع نہ رکھتا ہو تو اس کي طرف رجوع نہيں ہوسکتا۔
}(٢٨٤٠)اگر قرض کو تاخير ميں ڈالنے کے لئے قرض خواہ چاہے بنک ہو يا کوئي اور مقروض سے کوئي چيز لے تو وہ حرام ہے ۔ اگرچہ مقروض اس پر راضي ہو۔
}(٢٨٤١)کرنسي، کاغذي دينار اور باقي کاغذي رقوم مثلاً ڈالر، ليراترکي، ميں چونکہ قرضي کے علاوہ سود محقق نہيں ہوتا۔ تو ان ميںسے بعض دوسرے بعض کے مقابلے ميں کم و زيادہ دينے لينے جائز ہيں ۔ البتہ قرض والا سود سب ميں تحقق رکھتا ہے لہذا جائز نہيں کہ دس دينار، بارہ دينار کے مقابلے ميں دے۔
#پگڑي لينا :
}(٢٨٤٢)جو لوگ مکان ، دکان يا کوئي چيز مالک سے بطور کرايہ ليتے ہيں تو کرائے کي مدت ختم ہونے کے بعد ان پر حرام ہے کہ مالک کي اجازت کے بغير ان ميں رہيں بلکہ اگر مالک راضي نہيں تو فوراً چھوڑديں اور اگر ايسا نہ کيا تو وہ غاصب اور اس جگہ کے ضامن ہوں گے اور وہ کرايہ مثل کے ضامن ہوں گے اور انہيں کسي قسم کا حق شرعي نہيں ہے چاہے کرايہ کي مدت کم ہو يا زيادہ ہو اور چاہے کرائے کي مدت ميں اس کا وہاں رہنا موجب ارزش محل اجارہ ہوئي ہو يا نہيں اور چاہے وہاں سے ہٹنا کرايہ دار کے لئے نقصان دہ ہو يا نہيں۔
}(٢٨٤٣)اگر کوئي شخص پہلے کرايہ دار سے وہ جگہ کرائے پر لے کہ جس کے کرائے کي مدت ختم ہوگئي ہو تو اس کي اجازت صحيح نہيں مگر يہ کہ مالک اجازت ديدے اور اس کا وہاں رہنا حرام اور غصب ہے اور اس کا رہنا اگر اس جگہ کے نقصان کا سبب ہو يا وہ تلف ہوجائے تو يہ شخص ضامن ہوگا اور جتني دير تک وہاں رہے اس کے کرائے کا مثل صاحب محل کو ادا کرے۔
}(٢٨٤٤)اگر غاصب جو کہ پہلا کرايہ دار ہے کوئي چيز پگڑي کے طور پر اس شخص سے لے کہ جس کو اس نے کرايہ پر جگہ دي ہے تو حرام ہے اور اگر وہ چيز تلف کردے يا خود بخود تلف ہوجائے تو دينے والے کا ضامن ہے۔
}(٢٨٤٥)اگر انسان کوئي جگہ کچھ مدت کے لئے کرايہ پر لے اور اسے يہ حق ہو کہ اس مدت کے درميان کسي اور کو کرايہ پر دے سکے اور اس جگہ کا کرايہ زيادہ ہوجائے تو يہ اسے پہلے کرايہ پرلي ہوئي رقم کے مقابلے ميں کرايہ پر دے اور کچھ رقم بطور پگڑي اس سے لے سکتا ہے مثلاً اگر ايک دکان دس سال کے لئے کرايہ پر لي ہے کہ جس کے ہر مہينہ کے دس روپے تھے اور کچھ مدت کے بعد اس کا کرايہ بڑھ کر سو روپيہ مہينہ ہوجائے تو جب اسے کرايہ پر دينے کا حق ہو تو باقي مدت دس روپيہ ماہانہ کرايہ پر دے اور ايک ہزار روپے مثلاً طرفين کي رضا سے اس شخص سے لے سکتا ہے کہ جسے کرايہ پر دے رہا ہے۔
}(٢٨٤٦)اگر کوئي جگہ مالک سے کرايہ پر لے اور اس سے شرط کرے کہ مثلاً بيس سال تک کرايہ کي رقم ميں کسي قسم کا اضافہ نہ کرے اور يہ بھي شرط کرے کہ اگر ميں يہ جگہ کسي اور کے حوالے کردوں تو مالک تيسرے شخص کے ساتھ بھي يہي معاملہ کرے گا اور اگر تيسرے نے کسي اور کو دي تو اس سے بھي يہي معاملہ ہوگا اور کرايہ زيادہ نہيں لے گا تو کرايہ پر لينے والے کے لئے جائز ہے کہ کسي دوسرے شخص کو ديدے اور اس سے کچھ پگڑي لے اور اس قسم کي پگڑي لينا حلال ہے اور دوسرا تيسرے سے اور تيسرا چوتھے سے قرارداد کے مطابق حوالے کرکے پگڑي لے سکتا ہے ۔
}(٢٨٤٧)اگر کرايہ پر لينے والا مالک سے عقد کرايہ کے ضمن ميں شرط کرے کہ ايک مدت تک کرايہ زيادہ نہيں کريگا اور اسے حق نہيں ہوگا کہ وہ اسے اس جگہ سے نکالے اور اسے حق ہوگا کہ اتنے ہي کرايہ پر کئي سالوں تک اسے کرائے پر ليتا رہے اور مالک کے لئے ضروري ہے کہ وہ اسے کرايہ پر دے تو اس کو حق ہے کہ مالک سے ياکسي اور سے اس حق کو ساقط کرنے کے لئے يا جگہ چھوڑنے کے لئے کچھ رقم لے اور اس قسم کي پگڑي لينا حلال ہے ۔
}(٢٨٤٨)مالک کو يہ حق ہے کہ جسے جگہ کرايہ پر دے رہا ہے اس سے جتني چاہے پگڑي لے اور اگر کرائے دار دوسرے کو کرايہ پر دينے کا حق رکھتا ہو تو وہ بھي اس سے پگڑي لے سکتا ہے اور اس قسم کي پگڑي ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
#بنک کے معاملات :
}(٢٨٤٩)لوگ جو کچھ بنک سے بعنوان قرض يا کسي اور عنوان سے ليتے ہيں جب کہ معاملہ شرعي طور پر انجام پذير ہو تو حلال ہے اور اس ميں کوئي حرج نہيں۔ اگرچہ وہ جانتا ہو کہ بينکوں ميں حرام کا پيسہ ہے يا اسے احتمال ہو کہ جو رقم اس نے لي ہے يہ حرام سے ہے۔ البتہ اگر اسے معلوم ہو کہ جو رقم اس نے لي ہے وہ ساري يا اس کا کچھ حصہ حرام ہے۔ تو پھر اس ميں تصرف کرنا جائز نہيں اور مجتہد کي اجازت سے اس کے ساتھ مجہول المالک والا معاملہ کرے شرطيکہ مالک نہ مل سکتاہو اور اس مسئلہ ميں خارجي اور داخلي حکومتي اور غير حکومتي بينکوں ميں کوئي فرق نہيں ہے۔
}(٢٨٥٠)جو پيسہ بنک ميں رکھا جاتا ہے اگر قرض کے عنوان سے ہو اور اس ميں نفع کي قرارداد نہ ہو۔ تو اس ميں کوئي اشکال نہيں اور بنک کے لئے جائز ہے کہ اس پيسے ميں تصرف کرے اور اگر نفع کي قرارداد ہو تو قرض باطل اور بنک اس ميں تصرف نہيں کرسکتا۔
}(٢٨٥١)نفع کي قرارداد جو سود کا سبب ہے اس ميں فرق نہيں کہ قرارداد صريح ہو يا قرض ليتے وقت طرفين کي بنائ پر ہو پس اگر بنک کا يہ قانون ہے کہ وہ جو قرض ليتا ہے اس کا سود دے گا تو جو قرض اس پر مبني ہو وہ حرام ہے۔
}(٢٨٥٢)اگر قرض ليتے وقت نفع کي قرارداد نہ ہو نہ بطور صريح اور نہ اس کے بغير تو قرض صحيح ہے اور قرارداد کے بغير جو چيز قرض لينے والے کو بنک دے وہ حلال ہے۔
}(٢٨٥٣)جو پيسہ بنک ميں وديعت اور امانت کے عنوان سے رکھا جائے گا اگر مالک اجازت نہ دے کہ بنک اس ميں تصرف کرے تو تصرف جائز نہيں اگر اجازت ديدے يا راضي ہو تو پھر جائز ہے۔ اگر بنک اس کي اجازت سے کچھ دے يا لے تو حلال ہے مگر تصرف کي رضامندي کي برگشت حقيقتاً قرض کي طرف ہو يعني تملک بضمان تو اس صورت ميں اگر کوئي چيز قرارداد کے ماتحت ہو تو حرام ہے اور وديعت بنک ظاہراً اسي قسم سے ہے۔ اگرچہ وديعت کا نام اسے ديا گيا ہے تو اس صورت ميں سود سے کسي طرح چھٹکارا حاصل کيا جائے۔
}(٢٨٥٤)وہ انعامات جو بنک يا کوئي اور قرض دينے والوں کو شوق دلانے کے لئے ديتے ہيں يا دوسرے ارادے بيچنے اور خريدنے والے کو شوق دلانے کے لئے قرعہ اندازي کے ساتھ ديتے ہيں وہ حلال ہيں ، وہ چيزيں جو بيچنے والے اپني جنس کے اندر رکھ ديتے ہيں ۔ خريداروں کو کھينچنے اور زيادہ کرنے کے لئے مثلاً سونے کا سکہ گھي کے ڈبے ميں رکھ ديتے ہيں تو وہ حلال ہے اور اس ميں کوئي اشکال نہيں۔
}(٢٨٥٥)بنک اور تجارت کے حوالے کے جنہيں صرف برآت (ڈرافٹ)کہتے ہيں ان ميں کوئي حرج نہيں۔پس اگر بنک يا تاجر کسي سے رقم لے لے اور حوالہ دے کہ دوسري جگہ کے بنک يا کسي شخص سے يہ رقم لے لے اور اس کے اس حوالے کے مقابلے ميں حوالہ دينے والا کچھ رقم لے تو اس ميں کوئي حرج نہيں اور وہ حلال ہے مثلاً اگر ہزار روپيہ طہران کے بنک ميں کوئي شخص دے اور بنک اسے حوالہ دے کہ اصفہان ميں اس بنک کي شاخ سے ہزار روپيہ لے لے اور اس کے مقابلے ميں طہران کا بنک اس سے دس روپے لے تو کوئي اشکال نہيں اور اگر ہزار روپيہ اور دوسري جگہ کے لئے ساڑھے نو سو کا حوالہ دے تو بھي کوئي حرج نہيں چاہے بنک جو رقم لے رہا ہے وہ قرض کے عنوان سے ہو يا کسي اور عنوان سے اور اس قرض ميں اگر زيادتي حق العمل کے عنوان سے لے تو اس ميں کوئي حرج نہيں۔
}(٢٨٥٦)اگر بنک يا کوئي اور کمپني کسي شخص کو کچھ رقم دے اور حوالہ دے کہ يہ شخص يہ رقم بنک کي دوسري جگہ کي شاخ کو يا کمپني کي شاخ کو ادا کرے تو اگر حق زحمت کے عنوان سے کچھ پيسے لے لے تو کوئي حرج نہيں اور اسي طرح اگر نوٹ کے بيچنے کے عنوان سے زيادہ لے لے توکوئي حرج نہيں ہے اور اگر قرض دے اور قرارداد ہو تو حرام ہے اگرچہ قرارداد نفع صراحۃً نہ ہو ليکن قرض کي بنائ اسي پر ہو ۔
}(٢٨٥٧)اگر گروي لينے والے بنک يا کوئي اور بنک قراداد نفع پر قرض ديں اور کوئي چيز گروي رکھ ليں کہ وقت مقررہ پر اگر مقروض نے قرضہ ادا نہ کيا تو وہ اسے بيچ کر اپنا قرضہ وصول کرليں گے تو يہ قرض باطل اور حرام ہے اور رہن بھي باطل ہے اور بنک کے لئے اس کا بيچنا جائز نہيں اور جو شخص اسے خريدے وہ اس کا مالک نہيں ہوگا بلکہ ضامن ہوگا اور اگر قراداد نفع نہيں اور حق زحمت ليتا ہے اور قرض کے مقابلے ميں رہن ليتا ہے تو کوئي حرج نہيں ہے اور دستور شرعي کے مطابق رہن کے بيچنے اور خريدنے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
#بيمہ انشور کرنا :
}(٢٨٥٨)بيمہ ايک قرارداد اور عقد ہے جو بيمہ کرانے والے اور موسسہ يا بيمہ کي کمپني يا مسؤل بيمہ کے درميان ہوا کرتا ہے اور يہ عقد باقي عقود کي طرح ايجاب و قبول کا محتاج ہے اور موجب و قابل اور عقد کے شرائط جو باقي عقود ميں معتبر ہيں وہ اس ميں بھي معتبر ہيں اور يہ عقد ہر زبان ميں ہوسکتا ہے۔
}(٢٨٥٩)بيمہ ميں علاوہ ان شرائط کے جو باقي عقود ميں ہيں کہ وہ شخص بالغ، عاقل ، مختار وغيرہ ہوچند اور شرائط بھي معتبر ہيں:
١۔ مورد محل بيمہ کا تعين کہ وہ فلاں شخص يا فلاں تجارت خانہ يا فلاں کشتي، موٹر يا ہوائي جہاز ہے۔
٢۔ عقد کرنے والے جانبين کا تعين کہ وہ اشخاص ہيں يا ادارے يا کمپنياں يا حکومت ہے۔
٣۔ رقم کا تعين جو کہ اس کو اداکرني ہے۔
٤۔ قسطوں کا تعين کہ جو ديني ہيں اور ان کے وقت کا تعين۔
٥۔ وقت بيمہ کا تعين کہ فلاں مہينے يا سال سے چند مہينوں يا سالوں تک۔
٦۔ وہ خطرے کہ جو نقصان کا سبب بنتے ہيں ان کا تعين مثلاً جل جانا، غرق ہونا، چوري ہونا يا مرجانا يا مريض ہونا اور وہ تمام آفتيں جو نقصان کا باعث بنتي ہيں انہيں قرارداد ميںداخل کيا جاسکتا ہے۔
}(٢٨٦٠)يہ ضروري نہيں کہ قرار داد بيمہ ميں ميزان نقصان کو مقرر کيا جائے پس اگر يہ قرار داد ہو کہ جتنا نقصان ہو اس کا جبران کريں گے تو صحيح ہے۔
}(٢٨٦١)عقد بيمہ کي کئي ايک صورتيں ہيں۔ ايک يہ ہے کہ بيمہ کرانے والا کہے کہ ميرے ذمے اتني رقم ہے کہ فلاں وقت تک ہر ماہ اتني رقم ادا کروں گا اور اس کے مقابلے ميں جو نقصان ميرے کارخانے کو جلنے يا چوري ہونے کي وجہ سے پہنچے تم اس کا جبران کرو گے اور مد مقابل قبول کرلے اور اس کے مقابلے ميںاتني رقم تجھے ادا کرني ہوگي اور تمام شرائط جو گزشتہ مسئلہ ميں بيان ہوچکے ہيں وہ معلوم اور ان کے مطابق قرارداد ہوني چاہيے۔
}(٢٨٦٢)ظاہراً بيمے کي تمام قسميں ان شرائط کے ساتھ جو ذکر ہوچکي ہيں صحيح ہيں چاہے زندگي کا بيمہ ہو يا تجارتي کارخانوں کا يا مکانات کشتيوں اور ہوائي جہازوں کا يا حکومت اور اداروں ميں کام کرنے والوں کا يا ايک بستي يا شہر کا بيمہ ہو۔ بيمہ ايک مستقل عقد ہے اور اسے دوسرے بعض عقود کے عنوان سے مثلاً صلح ميں اجرائ کيا جاسکتا ہے۔
#لاٹري :
}(٢٨٦٣)لاٹري جو کہ متعارف ہے کہ جسے معين رقم پر بيچا جاتا ہے پھر اس کي قرعہ اندازي ہوتي ہے پھر جن اشخاص کے نام قرعہ نکلتا ہے تو انہيں معين رقم ديتے ہيں اس کي خريدوفروخت جائز نہيں اور باطل ہے اور جو رقم لاٹري کے مقابلہ ميں ليتے ہيں وہ حرام ہے ۔ لينے والا اس کا ضامن ہے اور جو رقم قرعہ اندازي سے ملے وہ حرام ہے اور لينے والا اس رقم کے حقيقي مالک کا ضامن ہے۔
}(٢٨٦٤)لاٹري کي رقم کے حرام ہونے ميں فرق نہيں ہے کہ لاٹري خريد کريں يا لاٹري لے کر پيسے ديں۔ اس اميد کے ساتھ کہ شايد قرعہ ان کے نام پر نکلے۔ دونوں صورتوں ميں لاٹري کے پيسے لينے حرام اور وہ رقم جو قرعہ اندازي کي وجہ سے ملے حرام اور موجب ضمانت ہے۔
}(٢٨٦٥)اس وقت لاٹري کا نام (ايران ميں )بخت آزمائي سے بدل کر اعانہ ملي رکھ ديا گيا ہے ليکن عمل وہي ہے اور چونکہ بخت آزمائي کے ٹکٹ مورد اشکال تھے اور کچھ لوگ ان کے خريدنے سے اجتناب کرتے تھے تو سود کے متلاشيوں نے ان لوگوں کو غافل کرنے کے لئے اس کا نام بدل ديا ہے ليکن عملي طور پر کوئي فرق نہيں تو اس صورت ميں نام بدلنے سے حلال نہيں ہوگا۔ لاٹري اور قرعہ کي رقم حرام اور سبب ضمان ہے۔
}(٢٨٦٦)اگر بالفرض کوئي کمپني يا ادارہ ايسا ايجاد ہو جو خيراتي اداروں کے لئے لاٹري تقسيم کرے مثلاً ہسپتال يا اسلامي مدارس اور لوگ ان اداروں کي اعانت کے لئے کچھ رقم ديں اور وہ کمپني بھي اپني طرف سے لاٹريوں کي تقسيم سے جو رقم وصول کرتي ہے تمام رقم دينے والوں کي اجازت سے اس ميں سے کچھ رقم ان اشخاص کو دے کہ جن کے نام قرعہ اندازي ميں نکلے ہيں تو اس ميں کوئي حرج نہيں ليکن يہ فرض ہي فرض ہے ورنہ لاٹري کے ٹکٹ جو اس وقت بيچے جارہے ہيں اور وہ قرعہ اندازي جو آج کل عمل ميں آرہي ہے وہ اس طرح نہيں لہذا لاٹري اور قرعہ کي رقم حرام ہے۔
}(٢٨٦٧)لاٹري کي رقم کہ جو کمپني کے ہاتھ آتي ہے اور قرعہ اندازي کي رقم جو بعض اشخاص کو ملتي ہے اس کا حکم مجہول المالک والا ہے اور اگر ان کے مالک مل جائيں تو انہيں واپس کي جائے اور اگر نہ مل سکيں تو مالکوں کي طرف سے صدقہ ديا جائے اور احتياط واجب يہ ہے کہ مجتہد جامع الشرائط سے اجازت لے کر صدقہ ديں۔
}(٢٨٦٨)اگر وہ شخص کہ جس کے ہاتھ ميں رقم آئي ہے وہ خود فقير ہوتو صدقہ کے عنوان سے وہ خود نہيں لے سکتا بلکہ احتياط واجب يہ ہے کہ کسي اور فقير کو دے بلکہ يہ بات قوت سے خالي نہيں۔
}(٢٨٦٩)کسي انسا ن کو اگرکافي مال قرعہ اندازي سے مل جائے اور وہ کسي فقير سے قرارداد کر لے کہ اسے بطور صدقہ ديگا اور فقير اس ميں سے کچھ لے کر باقي اسے واپس کردے گا اور اس حيلے سے اسے حلال کرنا چاہے تو جائز نہيں اور حلال نہيں ہوگا۔ البتہ اگر بغير شرط و قيد کے فقير کو دے اور فقير اپني رضامندي سے جتنا مناسب سمجھے واپس کردے تو کوئي اشکال نہيں ہے۔
#تلقيح (مني کا پيوند لگانا) مصنوعي طريقہ سے حمل اور پيدائش :
}(٢٨٧٠)مرد کي مني اس کي بيوي کے رحم ميں آلات کے ذريعے پہچانا مثلاً پچکاري اشکال نہيں رکھتا ۔ البتہ حرام سے اجتناب کرے پس اگر مرد عورت کي اجازت سے يہ عمل خود انجام دے اور اپني مني حلال طريقہ سے حاصل کرے تو کوئي حرج نہيں۔
}(٢٨٧١)اگر مرد کي مني اس کي بيوي کے رحم ميں داخل کريں چاہے حلال طريقہ سے ہو يا حرام سے اور اس سے بچہ پيد اہو تو اس ميں کوئي اشکال نہيں کہ وہ بچہ اسي مرد عورت کا ہے اور تمام بيٹے والے احکام اس پر جاري ہوں گے۔
}(٢٨٧٢)اجنبي مرد کي مني عورت کے رحم ميں داخل کرنا جائز نہيں ۔ چاہے عورت کي اجازت سے ايسا ہو يا بغير اجازت کے چاہے وہ عورت شوہر دار ہو يا بے شوہر اس کے شوہر کي اجازت ہو يا نہيں۔
}(٢٨٧٣)اگر ايک مرد کي مني کسي اجنبي عورت کے رحم ميں داخل کريں اور يہ معلوم ہو کہ بچہ اسي مني سے پيدا ہو اہے تو اگر يہ عمل بطور شبہ ہو مثلاً مرد کا گمان تھا کہ يہ ميري بيوي ہے اور عورت بھي گمان رکھتي تھي کہ يہ ميرے شوہر کي مني ہے اور عمل کے بعد معلوم ہوا کہ اس کے شوہر کي نہيں تو کوئي اشکال نہيں کہ يہ بچہ اسي مرد و عورت کا ہے اور تمام بيٹے والے احکام اس پر جاري ہوں گے۔ البتہ اگرجان بوجھ کر ايسا کيا جائے تو محل اشکال ہے اور تمام مسائل ميں احتياط سے کام ليا جائے ليکن اس ميں کوئي اشکال نہيں کہ اگر يہ بچہ لڑکي ہو تو وہ شخص اس سے شادي نہيں کرسکتا اور اگر لڑکا ہو تو وہ عورت اس سے شادي نہيں کرسکتي اور يہ بھي نہيں کرسکتے کہ اگر عقد صحيح ہوتا تو جو اس کے محارم بنتے لڑکي ان سے اور جو اس کي محارم بنتيں لڑکا ان سے نکاح کرے ليکن باقي تمام مسائل ميں احتياط کريں۔
#تشريح پيوند (پوسٹ مارٹم) :
}(٢٨٧٤)مسلمان مرنے والے کے جسم کو چيرنا پھاڑنا جائز نہيں اور اگر ايسا کريں تو فعل حرام ہے۔ اور اس کے سر اور ديگر اعضا کو کاٹنے کے لئے ديت دينا ہوگي جو کہ ہم نے کتاب تحرير الوسيلہ ميں ذکر کردي ہے۔ البتہ غير مسلمان مردے کو چيرنا پھاڑنا جائز ہے اور اس کي ديت بھي نہيں ہے چاہے وہ غير مسلمان کافر ذمي ہو يا کوئي اور۔
}(٢٨٧٥)اگر غير مسلمان کو چيرنا پھاڑنا ممکن ہو تو ڈاکٹري مقاصد کے لئے مسلمان کے بدن کو نہيں چير پھاڑسکتے اگرچہ کسي ايک يا کئي مسلمانوں کے جان کي حفاظت اس پر موقوف ہو اور اگر غير مسلمان کے پوسٹ مارٹم کے امکان کي صورت ميں مسلمان کا پوسٹ مارٹم کيا تو گناہگار ہوں گے اور ان پر ديت واجب ہوگي۔
}(٢٨٧٦)اگر کسي ايک يا کئي مسلمانوں کي جان کي حفاظت پوسٹ مارٹم پر موقوف ہو اور غير مسلمان کا پوسٹ مارٹم ممکن نہ ہو تو پھر مسلمان کا کرسکتے ہيں البتہ صرف مہارت حاصل کرنے کے لئے جب کہ کسي مسلمان کي جان کي حفاظت اس پر موقوف نہ ہو تو جائز نہيں اور سبب ديت بھي ہے۔
}(٢٨٧٧)جس مورد ميں مسلمانوں کي جان کي حفاظت مسلمان کے پوسٹ مارٹم پر موقوف ہو تو بعيد نہيں کہ ديت بھي واجب نہ ہو اگرچہ احتياط واجب يہ ہے کہ ديت دي جائے۔
}(٢٨٧٨)اگر کسي مسلمان کي جان کي حفاظت اس پر موقوف ہو کہ کسي مسلمان کي ميت کے عضو کا اسے پيوند لگايا جائے تو اس عضو کا قطع کرنا جائز ہے اور بعيد نہيں کہ ديت دينا پڑے ليکن آيا ديت کاٹنے والے پر ہے يا مريض پر اس ميں اشکا ل ہے۔ البتہ ڈاکٹر مريض سے قرارداد کرسکتا ہے کہ مريض ديت اد اکرے اور اگر مسلمان کے کسي عضو کي حفاظت ميت کے عضو کے کاٹنے پر موقوف ہو تو اس صورت ميں بعيد نہيں کہ جائز نہ ہو اور اگر کاٹے تو ديت دينا پڑے گي ليکن اگر ميت نے زندگي ميںاجازت دے دي ہو تو ظاہراً ديت نہيں ہے ليکن اس کا شرعاً جائز ہونا محل اشکال ہے اور اگر اس نے خود اجازت نہ دي ہو تو اس کے اوليائ مرنے کے بعد اجازت نہيں دے سکتے اور کاٹنے والے سے ديت ساقط نہيں ہوگي اور وہ گناہگار بھي ہوگا۔
}(٢٨٧٩)غير مسلمان مردہ کا عضو پيوند لگانے کے لئے کاٹنا حرام نہيںہے اور اس کي ديت بھي نہيں ہے ليکن اگر پيوند لگايا تو اس کي نجاست اور مردار ہونے کي وجہ سے نماز ميں اشکال پيدا ہوگا۔ اب اگر انسان کا مردہ نما زميں اشکال رکھتا ہو تو اس بنا پر مسلمان کے مردہ ميں بھي اشکال آئے گا اور اگر غسل سے پہلے مسلمان سے قطع کرليں تو نجاست والا اشکال بھي آئے گا۔ ليکن يہ کہا جاسکتا ہے کہ ميت کا عضو اگر حيات پيدا کرلے تو وہ ميت کا عضو ہونے سے خارج ہوجائے گا اور زندہ کا عضو بن جائے گا۔ پھر وہ نجس اور مردار نہيں رہے گا بلکہ اگر نجس العين جانور کا عضو پيوند ہوجائے اور انساني زندگي سے زندہ ہوجائے تو جانورکي عضويت سے نکل کر انسان کي عضويت ميں داخل ہوجائے گا۔
}(٢٨٨٠)اگر قطع عضو مرنے کے بعد جائز سمجھيں تو بعيد نہيں کہ حال حيات اس کا بيچنا بھي جائز ہو اور انسان اپنے اعضائ پيوند کے لئے بيچ دے جہاں کہ ان کا کاٹنا جائز ہے بلکہ پورے جسم کا بيچنا پوسٹ مارٹم کے لئے کہ جہاں جائز ہے زيادہ بعيد نہيں اگرچہ خالي از شکال بھي نہيں ليکن اجازت کے بدلے موجود جواز ميں کچھ رقم لينا کوئي حرج نہيں رکھتا۔
}(٢٨٨١)کھانے کے علاوہ خون سے فائدہ اٹھانا اور نفع حاصل کرنے کے لئے اسے بيچنا حلال اور جائز ہے اور بہتر يہ ہے جو آج کل معمول ہے کہ لوگ بيمار اور زخميوں کے استفادہ کے لئے خون بيچتے ہيں اس ميں کوئي حرج نہيں اور بہتر يہ ہے کہ مصالحت کريں يا يہ کہ رقم حق اختصاصي کے مقابلہ ميں ليں کہ يہ صورت اشکال سے خالي اور احوط ہے بلکہ يہ احتياط حتي الامکان ترک نہ ہو ليکن اگر خون لينا صاحب خون کے لئے مضر ہو تو پھر مشکل ہے خصوصاً اگر زيادہ ضرر ہو۔
}(٢٨٨٢)جائز ہے کہ ايک انسان کے بدن کاخون دوسرے کے بدن کي طرف آلات کے ذريعہ منتقل کريں اور اس کا وزن مقائيس کے ذريعہ تعين کريں جو کہ آج کل بنائے گئے ہيں اور اس کي قيمت وصول کريں اور اگر وزن معلوم نہ ہو تو بطور مصالحت منتقل کريںاور احوط يہ ہے کہ رقم انتقال خون کي اجازت کے مقابلہ ميںقراديں اور يہ احتياط جيسا کہ بيان ہوچکا ہے حتي الامکان ترک نہ ہو۔
#خاتمہ :
}(٢٨٨٣)اگر بھيڑ بکري يا دوسرے جانوروں کو ان مشينوں کے ذريعے ذبح کريں جو آج کل بعض شہروں ميں مرسوم ہيں تو وہ حرام نجس اور مردار ہوجائيں گے اور ان کي خريدو فروخت جائز نہيں رہے گي اور بيچنے والا خريدار کي رقم کا ضامن ہوگا۔ چاہے بجلي کا بٹن مسلمان کھولے اور وہ تکبير بھي کہے اور جانور بھي قبلہ رخ ہو اور اس کے حلقوم کو کاٹے يا ايسا نہ ہو چہ جائيکہ اگر ان امور کي رعايت نہ کي گئي ہو البتہ وہ گوشت جو مسلمانوں کے بازار ميں فروخت ہوتا ہے اور يہ احتمال ہوکہ شرعي طور پر ذبح کيا گيا ہوگا تو وہ حلال اور اس کي خريد و فروخت جائز ہے۔
}(٢٨٨٤)وہ گوشت يا ذبح شدہ مرغ جو بلا د کفر سے آتے ہيں وہ نجس حرام اور مردار کا حکم رکھتے ہيں مگر يہ کہ ثابت ہوجائے کہ انہيں شرعي طور پر ذبح کيا گيا ہے۔
}(٢٨٨٥)ريڈيو اور ٹليويژن جو منافع عقلائي رکھتے ہيں اور اسلامي نظريے کے لحاظ سے حرام منافع بھي ان ميں ہيں تو ان سے حلال قسم کے منافع حاصل کرنا جائز ہے ۔ مثلاً ريڈيو سے خبريں اور مواعظ اور ٹيليويژن سے حلال چيزيں تعليم و تربيت صحيح کے لئے دکھانا يا کارخانے اور عجائبات بحر و بر دکھانا البتہ حرام چيزيں مثلاً گانے اور موسيقي اور بري چيزوں کي اشاعت کرنا مثلاً خلاف اسلام قوانين کا نشر خائن و ظالم کي مدح اور باطل کي ترويج کرنا اور ايسي چيزيں دکھانا جو لوگوں کے اخلاق کو خراب اور ان کے عقائد کو متزلزل کرتي ہيں حرام اور گناہ ہيں۔
}(٢٨٨٦)چونکہ ان آلات کا استعمال وجہ حرام پر شائع اور رائج ہے ايسا کہ ان کا استعمال حلال تقريباً غيرمقصود ہوگيا ہے۔ لہذا ميں ان کي خريدو فروخت کي اجازت نہيں ديتا مگر ان اشخاص کو کہ جو بالکل غير شرعي طور پر انہيں استعمال نہ کريں اور کسي اور کو بھي غير مشروع طريقہ پر استعمال نہ کرنے ديں۔
#نماز جمعہ :
مسئلہ اس زمانے ميں نماز جمعہ واجب تخييري ہے يعني جمعہ و ظہر کے درميان اختيار ہے جسے چاہے پڑھے البتہ جمعہ افضل ہے اور ظہر احوط ہے اور اس سے زيادہ احوط يہ ہے کہ نماز جمعہ اور ظہر دونوں پڑھي جائيں۔ نماز جمعہ پڑھنے والے سے عليٰ الاقويٰ نماز ظہر ساقط ہوجاتي ہے۔ ليکن احوط يہ ہے کہ نماز ظہر کو نماز جمعہ کے بعد پڑھنا چاہيے اور نماز جمعہ نماز صبح کي طرح دو رکعت پڑھي جاتي ہے۔
مسئلہ جس امام کي اقتدائ ميں نماز جمعہ ادا کي ہے اس کي اقتدائ ميں نماز عصر پڑھي جاسکتي ہے البتہ اگرکوئي احتياط پر عمل کرنا چاہے تو عصر کو جماعت سے پڑھنے کے بعد پھر ظہرين کو فراديٰ بھي پڑھ لے۔ ليکن اگر امام و ماموم نماز جمعہ کے بعد عصر سے پہلے احتياطاً نماز ظہر فراديٰ پڑھ ليں تو نماز عصر ميں امام جمعہ کي اقتدائ کي جاسکتي ہے اور اس سے احتياط حاصل ہوجائے گي۔
مسئلہ نماز جمعہ پڑھنے والے ماموم اور امام اگر احتياطاً نماز ظہر پڑھيں تو اس ميں بھي اقتدائ کي جاسکتي ہے ۔ البتہ جن مامومين نے نماز جمعہ نہيں پڑھي بلکہ صرف ظہر احتياطي ميں اقتدائ کي ہے تو ان کے لئے صرف اس نماز کا پڑھنا کافي نہيں ہے بلکہ نماز ظہر کا دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔
#شرائط نماز جمعہ :
اول عدد: يعني امام جمعہ کو ملا کر (کم ازکم )پانچ آدمي ہونے چاہئيں۔ ان سے کم ميں نماز جمعہ نہ واجب ہوتي ہے اور نہ درست ہے۔ ايک قول کے مطابق کم از کم سات آدميوں کا ہونا ضروري ہے۔ ليکن شبہ يہ ہے کہ پانچ کافي ہيں۔ البتہ اگر سات يا اس سے زيادہ جمع ہوجائيں تو جمعہ کي فضيلت ظہر کي نسبت بڑھ جاتي ہے۔
دوم دو خطبے : يہ بھي اصل نماز کي طرح واجب ہيں۔ دو خطبوں کي بغير نماز جمعہ منعقد نہيں ہوتي۔
سوم جماعت : پس نماز جمعہ فراديٰ صحيح نہيں ہے۔
چہارم تين ميل کے اندر دوسري نماز جمعہ منعقد نہ ہوتي ہو۔ اب اگر تين ميل کا فاصلہ ہو تو دونوں جماعتيں صحيح ہيں اور دوري کا معيار دونوں نماز جمعہ کا جائے وقوع ہے نہ وہ شہر جن ميں جمعہ منعقد ہو تي ہو۔ اس لئے بڑے بڑے شہروں ميں جن کي لمبائي چند فرسخ ہے کئي نماز جمعہ منعقد ہوسکتي ہيں۔
مسئلہ اگر نماز جمعہ کے انعقاد کے لئے پانچ نفر جمع ہوجائيں پھر خطبہ کے درميان يا بعد، نماز جمعہ سے پہلے متفرق ہوجائيں اور جانے والے پلٹ کر بھي نہ آئيں اور نہ وہاں اتنے آدمي اور ہوں جن سے واجب عدد پوري ہوجائے تو سبوں پر نماز ظہر معين ہوگي۔
مسئلہ اگر تعداد واجب خطبہ کے درميان متفرق ہوجائيں اور پھر واپس پلٹ آئيں۔ يہاں اگر تفرق واجب بھر خطبہ سننے کے بعد ہو اہو تو ظاہر يہ ہے کہ خطبہ کو دوبارہ نہ پڑھا جائے ، چاہے دير سے واپس پلٹ آئيں ۔ اسي طرح اگر خطبہ کے بعد متفرق ہوجائيں اور واپس پلٹ کے آئيں (تو يہاں بھي خطبہ کا اعادہ کرنا ضروري نہيں ہے) اگر تفريق واجب بھر خطبہ سننے سے پہلے ہي واقع ہوجائے ، يہاں اگر تفرق نماز کو چھوڑ دينے کي نيت سے واقع ہوا ہو تو احتياط يہ ہے کہ ہر حالت ميں پھر سے خطبہ پڑھا جائے۔ ليکن اگرکسي عذر کي وجہ سے گئے ہوئے ہوں مثلاً بارش وغيرہ۔ اب اگر اتني دير ہوجائے جس سے وحدت عرفيہ ختم ہوجاتي ہو تو پھر سے خطبہ کا پڑھنا علي الظاہر واجب ہے ہاں اگر وحدت عرفيہ باقي ہو تو اسي پر بنا رکھتے ہوئے نماز جمعہ پڑھ لي جائے گي اور صحيح ہے۔
مسئلہ اگر تعداد واجب ميں سے بعض مامومين واجب بھر خطبہ سننے سے پہلے ہي اٹھ کر چلے جائيں اور زيادہ دير کئے بغير واپس آجائيں اور امام نے ان لوگوں کے جانے کے بعد سے خطبہ روک ديا ہو تو جہاں سے روکا ہے وہيں سے پھر شروع کردے اور اگر امام نے خطبہ کو نہ روکا ہو تو جہاں سے ان لوگوں نے نہيں سنا اتنے حصے کو دوبارہ پڑھ لے۔ البتہ اگر جانے والے اتني دير کرکے پلٹے ہوں جس سے خطبہ کي وحدت عرفيہ ختم ہوگئي ہو تو شروع سے خطبہ کا اعادہ کرنا چاہيے ۔ اسي طرح اگر جانے والے تو نہيں پلٹے ليکن ان کے بدلے کچھ دوسرے لوگ آگئے تب بھي امام کو خطبہ پھر سے پڑھنا چاہيے۔
مسئلہ اگر لوگوں کي تعداد نصاب جمعہ (يعني پانچ آدمي )سے زيادہ ہو تو کچھ لوگوں کے چلے جانے سے کوئي اثر نہيں پڑے گا بشرطيکہ لوگوں کي تعداد نصاب بھر ہو۔
مسئلہ اگر امام کے نماز شروع کرنے کے بعد مامومين تکبير سے پہلے چلے جائيں تو بظاہر جمعہ منعقد نہ ہوگا۔ اب رہي يہ بات کہ امام ظہر کي نيت کرلے يا بغير ظہر کي نيت کئے اسي نماز کو ظہرکي طرح پڑھے ۔ بلکہ نماز جمعہ کے نہ ہونے سے وہ خود بخود ظہر ہوجائے گي اس لئے چار رکعت پڑھے تو اس ميں اشکال ہے۔ احوط يہ ہے کہ ظہر کي نيت کرکے مکمل کرے۔ پھر دوبارہ نماز ظہر بھي پڑھے۔ اس سے بھي زيادہ احتياط کي صورت يہ ہے کہ شروع کي ہوئي نماز کو تو جمعہ کي طرح پڑھے اس کے بعد ظہر کي نماز پڑھے۔ اگرچہ اس صورت ميں اقرب يہ ہے کہ نماز جمعہ باطل ہے اس لئے اس کو چھوڑ کر نماز ظہر پڑھنا جائز ہے۔
مسئلہ اگر امام کے ساتھ چار آدمي نماز جمعہ شروع کرديں ، چاہے تکبير ہي ميں اقتدائ کي ہو (يعني دو خطبے سننے کے بعد )تو نماز جمعہ کو مکمل کرنا بنابر مشہور واجب ہے ايک آدمي کے علاوہ سب ہي چلے گئے ہوں ياامام کے ساتھ دو آدمي رہ گئے ہوں يا امام چلا گيا ہو اور چاروں ماموم رہ گئے ہوں يا امام کے ساتھ دو ايک ان ميں سے بھي چلے گئے ہوں اور چاہے ان لوگوں نے ايک رکعت يا اس سے بھي کم نماز پڑھي ہو ليکن مناسب نہيں کہ احتياط کو ترک کيا جائے پس نماز جمعہ کو تمام کريں اور اس کے بعد ظہر کو بجالائيں۔ ہاں اگر دوسري رکعت کے بالکل آخر ميں بلکہ دوسري رکعت کے رکوع کے بعد ہي دو ايک ماموم چلے گئے ہوں تو بعيد نہيں ہے کہ نماز صحيح ہے ليکن پھر بھي اس کے بعد احتياطاً ظہر پڑھ لے اور اس احتياط کو ترک نہ کرنا چاہيے۔
مسئلہ دونوں خطبوں ميں حمد واجب ہے اور اس کے بعد بنا بر احتياط وجوبي اللہ کي ثنائ و توصيف کي جائے اور احتياط وجوبي يہ ہے کہ حمد لفظ اللہ سے ہو اگرچہ اقويٰ يہي ہے کہ حمد ہر اس عبارت سے کي جاسکتي ہے جس کا شمار اور ارشاد پہلے خطبہ ميں علي الاقويٰ اور دوسرے ميں علي الاحوط واجب ہے۔ نيزايک چھوٹے سے سورہ کا پہلے خطبہ ميں پڑھنا علي الاقويٰ اور دوسرے ميں علي الاقويٰ اور دوسرے ميں علي الاحوط واجب ہے۔ نيز ايک چھوٹے سے سورہ کا پہلے خطبہ ميں پڑھنا علي الاقويٰ اور دوسرے ميں علي الاحوط ضروري ہے۔ دوسرے خطبہ ميں علي الاحوط الاوليٰ رسول خدا
۰ پر درود و سلام کے بعد آئمہ معصومين پر درود بھيجنا اور تمام مومنين و مومنات کے لئے استغفار کرنا بھي ضروري ہے۔ ويسے سب سے بہتر يہ ہے کہ مولائے کائينات ۰ يا اہل بيت عليہم السلام کے جو خطبے منقول ہيں ان ميں سے کسي ايک خطبہ کو پڑھنا چاہئيے۔
مسئلہ حمد و صلوات کو علي الاحوط عربي ميں ہي پڑھنا چاہئيے ۔ چاہے خطبہ پڑھنے والا اور سننے والے دونوں غير عربي ہوں ۔ البتہ وعظ وغيرہ کو علي الاقويٰ غير عربي ميں بھي کہا جاسکتا ہے۔ بلکہ احوط تو يہ ہے کہ وعظ اور ديگر امور جو مسلمانوں کے مصالح سے متعلق ہوں سننے والوں ہي کي زبان ميں ہوں اگر وہ مختلف زبانوں کے جاننے والے ہوں تو ان کي زبان ميں کہا جائے۔ البتہ اگر تعداد واجبي تعداد سے زيادہ ہے تو واجبي تعداد سے زيادہ ہے تو واجبي تعداد والوں کي زبان پر اکتفائ جائز ہے ليکن احوط ہے يہي ہے کہ سننے والوں کي زبان ميں خطبہ کہا جائے۔
مسئلہ خطبہ پڑھنے والے امام جمعہ کو اپنے خطبہ ميں مسلمانوں کے ديني اور دنياوي مصالح ممالک اسلاميہ وغير اسلاميہ ميں مسلمانوں کے لئے نفع بخش اور نقصان دہ حالات ، مسلمانوں کے ديني اور دنياوي ضرورتوں کو اور ايسے سياسي اور اقتصادي مسائل جو براہ راست معاشرہ اسلامي کے استقلال اور حيثيت کے متعلق ہوں ، ان کو مسلمانوں کي دوسروں کے ساتھ طرز معاشرت کوبيان کرنا چاہيے۔ اسي طرح ان کو دوسري ظالم اور سامراجي حکومتوں کے دخيل ہونے سے ڈرانا چاہيے۔
خصوصاً اس بات سے ڈرنا چاہئيے کہ وہ ان کے سياسي و اقتصادي مسائل ميں اس طرح دخل نہ ديں جس کے ذريعہ وہ مسلمانوں کا استحصال کرسکيں۔ ان تمام چيزوں کا ذکر خطبہ ميں کرنا چاہيے۔ مختصر يہ ہے کہ حج و عيدين کي طرح نماز جمعہ اور اس کے خطبے بہت بڑي اہميت کے حامل ہيں۔ ليکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مسلمان اپنے سياسي اور غير سياسي جملہ مسائل سے بہت ہي زيادہ غفلت برتتے ہيں جبکہ اسلام وہ دين ہے جس کي ہر شان و حالت سياست پر مبني ہے اور اسلام کا دين سياست ہونا ہر اس شخص پر ظاہر ہے جو اسلام کے سياسي حکومتي، اقتصادي ، اجتماعي احکام پر ادنيٰ تدبر رکھتا ہو۔ پس وہ لوگ جو خيال کرتے ہيں کہ دين کو سياست سے کوئي لگاو نہيں ہے اور يہ دو عليحدہ عليحدہ چيزيں ہيں وہ جاہل اور بے خبر ہيں اور يہ حقيقت ميں نہ اسلام کي معرفت رکھتے ہيں اور نہ سياست کو جانتے ہيں۔
مسئلہ جمعہ کے خطبوں کو زوال سے اتنے پہلے شروع کرنا جائز ہے کہ خطبوں کے ختم ہوتے ہوتے زوال کا وقت ہوجائے ليکن احوط يہ ہے کہ زوال کے وقت خطبے پڑھے جائيں۔
مسئلہ دونوں خطبوں کا نماز جمعہ سے پہلے ہونا واجب ہے۔ پس اگر کسي نے خطبوں سے پہلے نماز پڑھ لي تو باطل ہے اور خطبوں کے بعد اگر وقت باقي ہو تو دوبارہ نماز پڑھنا واجب ہے۔ ہاں اگر بھولے سے يا معلوم نہ ہونے کي وجہ سے نماز پڑھ لے توبظاہر خطبوں کے بعد صرف نماز کا پڑھ لينا کافي ہے (خطبوں کا پھر سے پڑھنا واجب نہيں ہے)۔ بلکہ اگر يہ کہا جائے کہ نماز کا دوبارہ پڑھنا بھي واجب نہيں تو اس کے لئے وجہ اول دليل ہے۔
مسئلہ خطيب کا کھڑا ہونا خطبہ پڑھنے کے وقت واجب ہے نيز خطيب اور امام کا ايک ہي ہونا ضروري ہے اگر خطيب کھڑا نہيں ہوسکتا تو جو شخص کھڑے ہو کر خطبہ پڑھے وہي نماز بھي پڑھائے اور اگر عاجز خطيب کے علاوہ کوئي دوسرا نہيں ہے تو نماز ظہر پڑھني چاہيے ہاں اگر جمعہ واجب عيني ہو تو عاجز خطيب بيٹھ کر خطبہ پڑھے ليکن اس صورت ميں جمعہ کے بعد ظہر کا پڑھنا احوط ہے۔ دونوں خطبوں کے درميان تھوڑي دير بيٹھنا بھي واجب ہے۔
مسئلہ اگر اقويٰ نہ بھي ہو تب بھي اتني زور سے خطبہ پڑھنا احوط ہے کہ جسے کم ازکم چار آدمي سن ليں۔ بلکہ بظاہر آہستہ پڑھنا جائز نہيں ہے۔ بلکہ اس ميں کوئي اشکال نہيں کہ وعظ و نصيحت آہستہ جائز نہيں ہے۔ بہتر يہ ہے کہ اتني زور سے خطبہ پڑھے کہ تمام حاضرين سن ليں۔ بلکہ ايسا کرنا احوط ہے ورنہ وعظ و نصيحت کے لئے اور ضروري مسائل بتانے کے لئے بڑے مجمع ميں لاو ڈ اسپيکر استعمال کرے۔
مسئلہ احوط بلکہ اوجہ يہ ہے کہ خطبہ کو کان لگا کر سننا واجب ہے اسي طرح خطبہ کے درميان باتيں نہ کرنا احوط ہے اگرچہ اقويٰ يہ ہے کہ گفتگو مکروہ ہے ۔ ہاں اگر گفتگو خطبہ کے سننے ميں حارج ہوتي ہے اور اس کي وجہ سے خطبہ کا فائدہ حاصل نہ ہوتو گفتگو نہ کرني چاہيے۔ سننے والوں کا امام کي طرف خطبہ پڑھتے وقت رخ رکھنا اور نماز ميں جتني توجہ جائز ہے اس سے زيادہ خطبہ ميںبھي ادھر ادھر ملتفت نہ ہونا احوط ہے، خطيب کو خطبہ ديتے وقت حدث وخبث سے پاک رہنا۔ اسي طرح سننے والوں کا بھي با طہارت ہونا احوط و اوليٰ ہے نيز يہ بھي احوط و اوليٰ ہے کہ خطيب خطبہ کے دوران خطابت سے مربوط باتوں کے علاوہ دوسري گفتگو نہ کرے ۔ ہاں خطبوں کے بعد نماز شروع کرنے تک گفتگو کرسکتا ہے۔ خطيب کو بليغ ہونا چاہيے۔ يعني موقع و محل کي مناسبت سے خطابت کرنے کا اہل ہو اور وہ ايسے جملے استعمال کرے جو فصيح ہوں۔ ان ميں سخت اور مشکل عبارت نہ ہو۔ دنيا ميں مسلمانوں پر جو بيت رہي ہے اس سے واقف ہو ۔ خصوصاً اپنے اطراف کے حالات سے باخبر ہو۔ اسلام اور مسلمانوں کي مصلحتوں کو پہچاننے والا ہو۔ بہادر ہو۔ اللہ کے بارے ميں ملامت کرنے والوں کي ملامت سے نہ ڈرتا ہو زمان و مکان کے لحاظ سے اظہار حق اور ابطال باطل کرنے والا ہو جن چيزوں سے تاثير کلام پڑھتي ہے ان کا پابند ہو۔ مثلاً اوقات نماز کا پابند ہو۔ اس ميں اوليائ و صالحين کے اوصاف پائے جاتے ہوں۔ اس کے قول و فعل ميں مطابقت ہو جن چيزوں سے خود اس کي يا اس کے کلام کي اہميت گھٹتي ہو ان سے پرہيز کرنے والا ہو۔ يہاں تک کہ زيادہ مزاح کرنے والا، باتوني اور لايعني کلام کرنے والا نہ ہو اور يہ سب باتيں دنيا اور رياست دنيا کے لئے نہ ہوں۔ کيونکہ ہر غلطي اور اشتباہ کا سبب اور سر يہي حب دنيا ہے۔ بلکہ خالصتاً لوجہ اللہ ہو تاکہ اس کا کلام لوگوں کے دلوں ميں اثر انداز ہو اور مستحب ہے کہ گرمي، سردي ہر زمانہ ميں وہ عمامہ باندھے ، يمني يا عدني ردا اوڑھے پاک و پاکيزہ لباس پہنے اور خوشبو لگائے ۔ سکون و وقار سے رہے۔ منبر پر جاکر حاضرين کو سلام کرے، اس کا رخ لوگوں کي طرف ہو اور لوگوں کا رخ اس کي طرف ہو ۔ خطبہ پڑھتے وقت کمان ، عصا ، تلوار وغيرہ پر ٹيک لگائے ہو۔ خطبہ سے پہلے موذن کے اذان کہتے وقت منبر پر بيٹھا رہے۔
مسئلہ تين ميل سے کم ميں ہونے والي دو نماز جمعہ اگر ايک ساتھ شروع ہوں تو دونوں باطل ہيں۔ ورنہ جو پہلے شروع ہوئي ہو وہ صحيح ہے چاہے صرف تکبيرۃ الاحرام پہلے کہي گئي ہو اور چاہے نمازي جانتے ہوں کہ دوسري نماز بعد ميں ہوئي ہو يا نہ جانتے ہوں۔ اسي طرح بعد والي نماز باطل ہے اس کے نمازيوں کو معلوم ہو کہ اس سے پہلے نماز جمعہ ہوئي ہے يا نہ معلوم ہو۔ نماز کي صحت کا دارو مدار نماز ہي کے تقدم و تاخر پر ہے۔ خطبہ کے آگے پيچھے ہونے سے کوئي فرق نہيں پڑے گا۔ اس لئے اگر ايک جماعت کا خطبہ پہلے شروع ہوا اور دوسري کي نماز پہلے شروع ہوئي تو دوسري نماز صحيح رہے گي ، پہلي باطل ہوجائے گي۔
مسئلہ جس جگہ نماز جمعہ پڑھنا چاہيں وہاں احتياطاً پہلے يہ معلوم کرلينا چاہيے کہ حد شرعي کے اندر اسي وقت يا اس سے پہلے کوئي نماز جمعہ تو نہيں ہوتي اگرچہ شبہ يہ ہے کہ جب تک دوسري نماز جمعہ کے ايک ساتھ ہونے يا مقدم ہونے کا علم نہ ہوجائے اس وقت تک نماز جمعہ کا منعقد کرنا صحيح ہے اور جمعہ بھي صحيح رہے گا بلکہ بظاہر يہ جانتے ہوئے کہ نماز جمعہ ہوتي ہے، دوسري نماز جمعہ منعقد کرسکتا ہے۔ بشرطيکہ پہلے جمعہ کا اسي وقت ميں ہونا يا ا س سے پہلے ہونا مشکوک ہو۔
مسئلہ نماز جمعہ پڑھ لينے کے بعد اگر دوسري نماز جمعہ ہونے کا علم ہو اور دونوں جماعتوں کے بارے ميں آگے پيچھے ہونے کا احتمال ہو تو بظاہر دونوں پر نہ جمعہ کا اعادہ واجب ہے نہ ظہر کا ۔ اگرچہ احوط يہي ہے کہ اعادہ واجب ہے ۔ اب اگر کوئي تيسري جماعت جو ان دونوں جمعوں ميں شريک نہيں ہوئي ہے ، تيسرا جمعہ پڑھنا چاہتي ہے تو جب تک اسے دونوں جمعوں کے باطل ہوجانے کا علم نہ ہوجائے، اس وقت تک تيسرا جمعہ نہيں پڑھا جاسکتا۔ بلکہ اگر ايک نماز کے صحيح ہونے کا احتمال بھي ہو تب بھي تيسري جماعت کا برپا ہونا جائز نہيں۔
#جن لوگوں پر نماز جمعہ واجب ہے :
مسئلہ نماز جمعہ واجب ہونے کي چند شرائط ہيں ۔ انسان مکلف ہو ، مرد ہو ، آزاد ہو، مسافر نہ ہو ، اندھا نہ ہو ، مريض نہ ہو ، بہت زيادہ بوڑھا نہ ہو، اس کے گھر اور نماز جمعہ کي جگہ تک دو فرسخ (چھ ميل شرعي)سے زيادہ کا فاصلہ نہ ہو اگر ہم جمعہ کو عيني مانيں تو ان لوگوں کے اوپر جمعہ ميںپہنچنا واجب نہيں ہے۔ اور نہ ان نماز پر جمعہ واجب ہوگي۔چاہے پہونچنے ميں ان لوگوں کو کوئي مشقت اور زحمت بھي نہ ہوتي ہو۔
مسئلہ يہ لوگ اگرکسي طرح جمعہ ميں پہنچ جائيں اور نماز جمعہ پڑھ ليں تو نماز جمعہ صحيح ہے اور نماز ظہر کي ضرورت نہيں ہے يہي حکم ان لوگوں کا بھي ہے جن کو کسي وجہ سے جمعہ نہ پڑھنے کي اجازت دي گئي ہے جيسے بارش ہورہي ہو، بہت سردي پڑ رہي ہو ، يا کسي کے پير نہ ہوں يا اسي طرح کے دوسرے اسباب جن کي وجہ سے وہاں جانے ميں سخت زحمت ہو۔
البتہ ديوانہ کي نماز جمعہ صحيح نہيں ہے ، بچہ کي نماز صحيح ہے ، ليکن بچہ سے تکميل عدد جائز نہيں ہے اور نہ صرف بچوں سے نماز جمعہ منعقد ہوسکتي ہے۔
مسئلہ مسافر اگر نماز جمعہ پڑھ لے تو صحيح ہے ۔ پھر ظہر پڑھنے کي ضرورت نہيں ہے ۔ البتہ اگر بہت سے مسافر ، غير مسافر کو لئے بغير کسي جگہ نماز جمعہ منعقد کرنا چاہيں تو نہيں ہوسکتي ۔ بلکہ مسافرين پر ظہر پڑھني واجب ہوگي ليکن اگر تمام مسافر دس دن ٹھرنے کي نيت کرليں تب جمہ منعقد کرسکتے ہيں ۔ مسافر سے بھي عدد واجب کي تکميل نہيں کي جاسکتي ۔
مسئلہ عورت نماز جمعہ پڑھ سکتي ہے ۔ اگر پڑھ لے تو صحيح ہے ظہر کي ضرورت باقي نہيں رہتي۔ بشرطيکہ جمعہ ميں عورت کے علاوہ پانچ مرد ہوں ۔ ليکن صرف عورتوں کے ذريعہ سے عدد واجب مکمل ہوتا ہو، تب بھي نماز جمعہ منعقد نہيں ہوسکتي ۔ نماز جمعہ صرف مردوں سے منعقد ہوسکتي ہے۔
مسئلہ شرائط مکمل ہونے کے بعد ديہاتيوں اور شہريوں سب پر نماز جمہ واجب ہے۔ بلکہ خيموں ميں زندگي بسر کرنے والوں اور صحرا نشينوں پر بھي واجب ہے ۔ بشرطيکہ کسي جگہ پر مستقل سکونت پذير نہ ہوجائيں۔
مسئلہ خنثيٰ مشکل کي نماز صحيح ہے ليکن نہ اسے امام بنايا جاسکتا ہے اور نہ اس کے ذريعہ سے عدد واجب کي تکميل ہوسکتي ہے اس لئے اگر عدد واجب کي تکميل خنثيٰ پر موقوف ہو تو جمعہ کے بدلے ظہر واجب ہوگي۔
#نماز جمعہ کا وقت :
مسئلہ نماز جمعہ کا وقت زوال شمس سے داخل ہوتا ہے جب زوال ہوجائے تو نماز جمعہ واجب ہوجاتي ہے ۔ اس لئے اگر امام ٹھيک زوال کے وقت دونوں خطبوں سے فارغ ہوجائے اور نماز جمعہ شروع کردے تو صحيح رہے گي۔ البتہ جمعہ کا وہ آخري وقت کہ جس کے بعد جمعہ پڑھي نہ جاسکے ، اس ميں اختلاف ہے۔ احوط يہ ہے کہ عر ف عام ميں زوال کے بعد اوائل کا اطلاق جہاں تک ہوتا ہے ، اس سے تاخير نہ کرنا چاہيے ۔ اگر اس وقت تک نماز جمعہ پڑھي ہے تو پھر علي الاحوط نماز ظہر پڑھني چاہيے۔ اگرچہ بعيد نہيں ہے کہ عام لوگوں کے سايہ کے دو قدم برابر پہنچنے تک نماز جمعہ کا وقت ہے۔
مسئلہ اگر جمعہ کا وجوب عيني ہو تو اتنا لمبا خطبہ پڑھنا جائز نہيں ہے جس سے نماز کا وقت نکل جائے۔ اگر کسي نے اتنا لمبا خطبہ پڑھا تو وہ گناہگار ہے۔ اب اسے جمعہ کے بدلے ظہر پڑھني چاہيے۔ يہي صورت جمعہ کو واجب تخييري ماننے پر رہے گي ۔ وقت گذر جانے کے بعد نماز جمعہ کي قضا نہيں ہوتي۔
مسئلہ اگر لوگوں نے نماز جمعہ شرو ع کي اور جمعہ کا وقت ختم ہوگيا تو ايسي صورت ميں اگر ايک رکعت بھي وقت کے اندر ہوگئي ہو تب توجمعہ صحيح ہے ورنہ علي الاشبہ باطل ہے۔ احوط يہ ہے کہ جمعہ مکمل کرکے نماز ظہر بھي پڑھے ۔ اگر جان بوجھ کر جمعہ ميں اتني تاخير کردے کہ صرف ايک رکعت کا وقت باقي رہ جائے تو اگر جمعہ کو عيني مانا جائے تو يہ لوگ گناہگار ہوئے ليکن ان کي نماز صحيح ہوگي۔ ليکن اگر جمعہ کو واجب تخييري ماناجائے جيسا کہ اقويٰ يہي ہے تو احوط يہ ہے کہ اب ظہر پڑھي جائے۔ بلکہ تقاضائے احتياط تويہ ہے کہ اگر جمعہ کا وجوب تخيري مانا جائے توپہلي صورت ميں بھي جمعہ کے بعد ظہر پڑھني چاہيے۔
مسئلہ اگر يقين ہے کہ ابھي اتنا وقت باقي ہے جس ميں مختصر واجبي خطبے اور مختصر طريقہ سے دونوں رکعتيں پڑھي جاسکتي ہيں تو نماز جمعہ اور ظہر کے پڑھنے ميں اختيار ہے ۔ جس کو چاہے پڑھے ۔ ليکن اگر يقين ہوجائے کہ اب اتنا بھي وقت باقي نہيں ہے تو ظہر کا پڑھنا واجب ہے اور اگر وقت باقي ہونے ميں شک ہو اور نماز پڑھ لے تو صحيح ہے ليکن اگر بعد ميں معلوم ہوجائے کہ ايک رکعت کے لئے بھي وقت باقي نہيں تھا تب ظہر پڑھني چاہيے۔ اگر يہ معلوم ہو کہ وقت باقي ہے ليکن اس ميں شک ہے کہ اتني ديرميں نمازجمعہ پڑھي جاسکتي ہے يا نہيں تو نماز جمعہ کا شروع کردينا صحيح ہے۔ اب اگر اتنا وقت تھا تو نماز جمعہ صحيح رہے گي۔ورنہ نماز ظہر پڑھني پڑھے گي ليکن احوط يہ ہے کہ اس صورت ميں نماز ظہر ہي پڑھے ۔ بلکہ اس سے پہلے والي صورت ميں جبکہ ايک کا وقت ہو اس ميں بھي ظہر پڑھني چاہيے ۔
مسئلہ اگر وسيع وقت ميں معتبر تعداد کے ساتھ امام نماز جمعہ شروع کردے اور موجودہ مامومين کے علاوہ کوئي دوسرا ماموم خطبہ اور نما زکے ابتدائي حصہ کو نہ پاسکے مگر اسے امام کے ساتھ ايک رکعت مل جائے تو اسے امام کے ساتھ ايک رکعت جمعہ کي پڑھنا چاہيے اس کے بعد ايک رکعت اور فراديٰ پڑھني چاہيے اس طرح اس کي نماز صحيح ہوگي۔ امام کو رکوع ميں پالينا پوري رکعت کا پالينا ہے۔ لہذا اگر کوئي شخص رکوع کرے اور امام نے قيام کے لئے سر نہ اٹھايا ہو تو اس کي نماز صحيح ہوگي۔
البتہ اگر کوئي شخص رکوع کي تکبير (امام کے ساتھ)نہ پاسکے تو اس کے لئے افضل يہ ہے کہ چار رکعت ظہر کي پڑھے اور اگر تکبير کہہ کر رکوع ميں جائے پھر اسے شک ہو کہ امام رکوع ميں تھا يا نہيں اور ميں نے اسے رکوع ميں پاليا ہے يا نہيں تو اس کي يہ نمازجمعہ کي نماز نہ ہوگي۔ البتہ اسے اس سلسلہ ميں اشکال ہے کہ يہ نماز باطل ہوجائے گي يا صحيح ہوگي اور اسے ظہر قرار دے کر مکمل کرنا چاہيے۔ يہاں پر احتياط يہ ہے کہ اسے ظہر قرار دے کر مکمل کرے اور دوبارہ نماز ظہر پڑھے۔
#فروع :
نماز جماعت کي تمام شرائط نماز جمعہ ميں بھي ضروري ہيں مثلاً
١۔ درميان ميں کوئي آڑ نہ ہو، امام اونچي جگہ پر نہ کھڑا ہو، امام و ماموم ميں دوري نہ ہو، وغيرہ وغيرہ ۔ اسي طرح امام جمعہ کے لئے وہي باتيں ضروري ہيں جو امام جماعت کے لئے ضروري ہيں ۔ مثلاً عاقل ہو، مومن ہو، حلال زاد ہ ہو، عادل ہو وغيرہ وغيرہ البتہ جمعہ ميں عورتيں اور بچے امام نہيں ہوسکتے اگرچہ جمعہ کے علاوہ دوسري نمازہائے جماعت ميں اس کو جائز بھي مانا جائے کہ عورتيں اور بچے اپنے ہم صنفوں کے امام ہوسکتے ہيں۔
٢۔ جمعہ کے دن دوسري اذان بدعت ہے۔ اسي کو تيسري اذان بھي کہا جاتا ہے۔ شايد اس کي وجہ يہ ہو کہ اذان و اقامت کے بعد تيسرے نمبر پر پڑتي ہے يا مومنين کي اطلاع اور نماز کے لئے يہ تيسري اذان ہوتي ہے اور يا پھر اس کي وجہ يہ ہو کہ اذان صبح اور اذان ظہر کے بعد ہوتي ہے۔ اس لئے اس کو تيسري اذان کہتے ہيں۔ بظاہر يہ وہ اذان نہيں ہے جو عصر کے لئے کہي جاتي ہے۔
٣۔ خريد و فروخت يا اس کے علاوہ دوسرے معاملات جمعہ کے دن اذان کے بعد ہمارے زمانے ميں جب کہ نماز جمعہ واجب عيني نہيں ہے حرام نہيں ہے۔
٤۔ پہلي رکعت ميں امام کے ساتھ رکوع پاجانے والا ماموم اگر اژدھام وغيرہ کي وجہ سے امام کے ساتھ سجدہ نہ کرسکے اور اسے امام کے بعد سجدہ کرکے رکوع سے پہلے يا رکوع ميں امام سے مل جانا ممکن ہو تو ايسا کرلينا چاہيے اس کي نماز صحيح رہے گي ۔ اور يہ ممکن نہ ہوتو رکوع ميں امام کي متابعت نہ کرے۔ بلکہ جب امام دوسري رکعت کے لئے سجدہ اول ميں پہنچے تو اس کے ساتھ سجدے بجالائے۔ اور نيت يہ رہے کہ يہ دونوں سجدے پہلي رکعت کے ہيں۔ ايسا کرنے سے امام کے ساتھ ايک رکعت ہوجائے گي پھر دوسري رکعت کو اکيلا کھڑا ہوکر پڑھ لے اس کي نماز مکمل ہوجائے گي ليکن اگر اس نے يہ نيت کرلي کہ يہ دونوں سجدے دوسري رکعت کے ہيں تو بعض علمائ کا خيال ہے ان دونوں کو کالعدم سمجھ کر پہلي رکعت کے لئے سجدہ کرے اور دوسري رکعت فراديٰ پڑھ لے تو اس کي نماز صحيح رہے گي ۔ روايت ميں بھي يہي وارد ہے اور بعض علمائ کا يہ خيال ہے کہ اگر اس نے دوسري رکعت کي نيت سے سجدے کئے ہيں تو نماز باطل ہے۔ ويسے يہاں پر ايک احتمال اور بھي ہے اور وہ يہ کہ اگر اس نے دوسري رکعت کي نيت سے غفلت يا جہالت کي وجہ سے سجدے کرلئے ہيں تب تو دونوں سجدوں کو پہلي رکعت ميں شمار کرليا جائے گا اور دوسري رکعت فراديٰ پڑھ لے ۔ ليکن بہر صورت مسئلہ محل اشکال ہے ۔ احوط يہ ہے کہ دونوں سجدوں کو کالعدم کرکے پہلي رکعت کے لئے اور سجدے کرے اور اس کے بعد دوسري رکعت نماز پڑھ کر تمام کرے۔ پھر بعد ميں نماز ظہر بھي پڑھے ۔ اسي طرح سے اگر يہ دونوں سجدے امام کي متابعت کے قصد سے بجالائے جب بھي يہي حکم ہے۔
٥۔ نماز جمعہ دو رکعت ہے۔ نماز جمعہ نماز صبح کے طريقے سے پڑھي جاتي ہے۔ اس ميں حمد و سورہ آواز سے پڑھنا مستحب ہے۔ پہلي رکعت ميں حمد کے بعد سورہ جمعہ اور دوسري رکعت ميں حمد کے بعد سورہ منافقون پڑھنا مستحب ہے۔ نماز جمعہ ميں دو قنوت ہيں ايک قنوت پہلي رکعت کے رکوع سے پہلے پڑھا جاتا ہے اور دوسرا قنوت دوسري رکعت کے رکوع کے بعد پڑھا جاتا ہے۔

 

احکام تقليد احکام طہارت احکام نماز  احکام روزہ
احکام خمس   احکام زکواۃ احکام حج خريد و فروخت کے احکام
احکام شرکت احکام صلح اجارہ (کرايہ )کے احکام احکام جعالہ
احکام مزارعہ مساقات (آبياري )کے احکام وہ اشخاص جو اپنے مال ميں خود تصرف نہيں کرسکتےکے احکام احکام وکالت
قرض کے احکام حوالہ (ڈرافٹ)دينے کے احکام رہن کے احکام ضامن بننے کے احکام
کفالت کے احکام وديعت (امانت)کے احکام عاريتاً دينے کے احکام نکاح (شادي بياہ)کے احکام
طلاق کے احکام غصب کے احکام جو مال انسان پالے اس کے احکام جانوروں کے ذبح اور شکار کرنے کے احکام
کھانے پينے کي چيزوں کے احکام نذر اور عہد کے احکام قسم کھانے کے احکام وقف کے احکام
وصيت کے احکام ميراث کے احکام احکام امر بالمعروف اور نہي عن المنکر دفاع کے مسائل و احکام
خاتمہ کے احکام بعض مسائل جو اس زمانے ميں  مورد حاجت ہيں امام خميني کي خدمت ميں چند جديد سوالات اور ان کے جوابات