خاتمہ

#خاتمہ :
}(٢٨٣٠)وہ قوانين جو مجلس قانون سے مخالفين کے کارندوں کے حکم سے (خدا انہيں رسوا کرے)صادر ہوتے رہتے ہيں اور ہوچکے ہيں جو کہ صريح قرآن کريم اور سنت پيغمبر
۰ کے خلاف ہيں وہ نظر اسلام ميں لغو اور نگاہ قانون ميں بے قيمت ہيں اور مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس قسم کا حکم دينے اور رائے دينے والوں سے جس طرح ممکن ہو اعراض کريں اور ان سے ميل جول اور معاملہ نہ کريں اور وہ مجرم ہيں اور ان کے رائے پر عمل کرنے والا گناہگار اور فاسق ہے۔
}(٢٨٣١)پچھلے دنوں جو قانون بنام خانوادہ مخالفين کے کارندوں کے حکم سے احکام اسلام کے مٹانے کے لئے اور مسلمانوں کے خانوادہ کے اجتماع کو ختم کرنے کے لئے غير قانوني اور غير شرعي مجالس قانون سے صادر ہوا ہے۔ وہ احکام اسلام کے خلاف اور اس کے حکم کرنے والے اور اس ميں رائے دينے والے شريعت اور قانون کي نظر ميں مجرم ہيں اور وہ عورتيں جو محکمہ کے حکم سے طلاق ليتي ہيں ان کي طلاق باطل اور وہ شوہر دار ہيں کہ اگر کوئي اور شوہر کريںتو زنا کار ہوں گي اور جو شخص يہ جانتے ہوئے ايسي عورت سے نکاح کرے وہ زنا کار اور مستحق حد شرعي ہے اور ان کي اولاد غير شرعي ہے اور وہ ميراث نہيں لے سکے گي اور اولاد زنا کے باقي احکام ان پر جاري ہوں گے چاہے محکمہ خود اسے طلاق دے يا طلاق دينے کا حکم کرے اور شوہر کو مجبور کريں کہ وہ طلاق دے۔
}(٢٨٣٢)علمائ اعلام ايديھم اللہ تعاليٰ پر لازم ہے کہ وہ ان قوانين کے مقابلے ميں (جو اسلام اور قانون کي نظر ميں بے قيمت ہيں)اعتراض شديد کريں نہ يہ کہ اصلي مجرم سے رحم کي اپيل کريں اور ان لوگوں کے لئے دولت خواہي کريں جوکہ مخالفين اسلام کے احکام کے اجرائ پر مامورہيں کيونکہ اس قسم کے تقاضے اور ايسي دولت خواہي جرم کي توجہ مامورين درجہ دوم کي طرف مبذول کرتي ہے جس سے اصل مجرموں کي پاک دامني اور ان کي ہمتيں احکام الہي کے نيست و نابود کرنے کے لئے بڑھ جاتي ہيں اور تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ ان قوانين کے مقابلے ميں (جو دين ودنيا اور ان کے خاندان کو تہديد کرتے ہيں اور ان کي بيچارہ لڑکيوں کو (سرباز ، پوليس اور ملٹري کي تريننگ کي جگہ)کھينچ لاتے اور انبيائ عظام اور اوليائ کرام
۰
کي زحمتوں کو ضائع کرتے ہيں )کھڑے ہوجائيں اور ان سے اظہار نفرت کريں اور ان مخالف اسلام قوانين پر عمل نہ کريں اور جس طرح ممکن ہو ابھي سے احکام اسلام سے دفاع کريں تاکہ خدانخواستہ تاريک اور وحشت ناک مستقبل ميں جو اسلام اور مسلمانوں کے لئے سامراج کے کارندے خدا انہيں رسوا کرے نظر ميں رکھتے ہيں مبتلا نہ ہوں۔

 

احکام تقليد احکام طہارت احکام نماز  احکام روزہ
احکام خمس   احکام زکواۃ احکام حج خريد و فروخت کے احکام
احکام شرکت احکام صلح اجارہ (کرايہ )کے احکام احکام جعالہ
احکام مزارعہ مساقات (آبياري )کے احکام وہ اشخاص جو اپنے مال ميں خود تصرف نہيں کرسکتےکے احکام احکام وکالت
قرض کے احکام حوالہ (ڈرافٹ)دينے کے احکام رہن کے احکام ضامن بننے کے احکام
کفالت کے احکام وديعت (امانت)کے احکام عاريتاً دينے کے احکام نکاح (شادي بياہ)کے احکام
طلاق کے احکام غصب کے احکام جو مال انسان پالے اس کے احکام جانوروں کے ذبح اور شکار کرنے کے احکام
کھانے پينے کي چيزوں کے احکام نذر اور عہد کے احکام قسم کھانے کے احکام وقف کے احکام
وصيت کے احکام ميراث کے احکام احکام امر بالمعروف اور نہي عن المنکر دفاع کے مسائل و احکام
خاتمہ کے احکام بعض مسائل جو اس زمانے ميں  مورد حاجت ہيں امام خميني کي خدمت ميں چند جديد سوالات اور ان کے جوابات