|
#دفاع
کے مسائل :
}(٢٨٢١)اگر دشمن مسلمانوں کے شہروں اور سرحدوں پر ہجوم کرے تو تمام
مسلمانوں پر واجب ہے کہ جس طرح ممکن ہو اس سے دفاع کريں اور اس
معاملے ميں جان و مال خرچ کرنے کے لئے حاکم شرع کي اجازت ضروري
نہيں۔
}(٢٨٢٢)اگر مسلمانوں کو يہ خوف ہو کہ دشمن بغير واسطے کے يا اپنے
خارجي کارندوں کے ذريعے مسلمانوں کے شہروں پر غلبہ حاصل کرنے کا
نقشہ تيار کرچکے ہيں تو مسلمانوں پر واجب ہے کہ جس طرح ممکن ہو
ممالک اسلاميہ سے دفاع کريں۔
}(٢٨٢٣)اگر ممالک اسلاميہ کے اندر مخالفين کي طرف سے ايسا نقشہ بن
چکا ہو کہ جس سے خوف ہو کہ وہ ممالک اسلاميہ پر تسلط حاصل کرليں گے
تو تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ جس طرح ممکن ہو وہ دشمنوں کے بنے
بنائے کھيل کو بگاڑ ديں اور اسے وسعت پانے سے روک ديں۔
}(٢٨٢٤)اگر مخالفين کے سياسي اقتصادي اور تجارتي نفوذ کي وسعت کي
وجہ سے يہ خوف ہو کہ وہ مسلمانوں کے شہروں پر تسلط حاصل کرليں گے
تو تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ جس طرح ممکن ہو دفاع کريں اور
مخالفين کي دسترس ختم کرديں۔ چاہے داخلي کارندوں کي وجہ سے ہو يا
خارجي۔
}(٢٨٢٥)اگر اسلامي اور غير اسلامي حکومتوں کے سياسي روابط سے يہ
خوف ہو کہ مخالفين ممالک اسلامي پر تسلط حاصل کرليں گے۔ اگرچہ وہ
تسلط سياسي و اقتصادي ہو تو تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ ايسے
روابط کي مخالفت کريں اور مملکت اسلاميہ کو اس قسم کے روابط منقطع
کرنے پر مجبور کريں۔
}(٢٨٢٦)اگر مخالفين کے ساتھ تجارتي روابط کي وجہ سے يہ خوف ہو کہ
مسلمانوں کے بازاروں پر اقتصادي صدمہ وارد ہوگا اور يہ تجارتي اور
اقتصادي نقصان کا سبب بنے گا تو اس قسم کے روابط کا منقطع کرنا
واجب اور ايسي تجارت حرام ہے۔
}(٢٨٢٧)کسي اسلامي سلطنت کا غير اسلامي ممالک کے ساتھ ايسا معاہدہ
کرنا جو اسلام اور مسلمانوں کي مصلحت کے خلاف ہو ، چاہے سياسي ہويا
تجارتي جائز نہيں ہے اوراگر کوئي حکومت اسلامي ايسا اقدام کرے تو
باقي ممالک اسلاميہ پر واجب ہے کہ وہ اسے مجبور کريں کہ جس طرح
ممکن ہو يہ معاہدہ ختم ہوجائے۔
}(٢٨٢٨)اگر بعض سربراہان ممالک اسلاميہ يا بعض وکلائ مجلس مشاورت
مخالفين کے نفوذ کي وسعت کا سبب بنيں چاہے وہ نفوذ سياسي ، اقتصادي
يا نظامي ہو کہ جو اسلام اور مسلمانوں کے مصالح کے خلاف ہو تو اس
خيانت کي وجہ سے جو مقام بھي وہ شخص رکھتا ہے اسے اس سے معزول کيا
جائے اور اگر فرض کريں کہ يہ مقام اسے بوجہ استحقاق ملا تھا تو
مسلمانوں پر واجب ہے کہ جس طرح ممکن ہو اس سے باز پرس کريں۔
}(٢٨٢٩)تجارتي اور سياسي روابط ايسي حکومتوں کے ساتھ رکھنا جائز
نہيں جو کسي بڑي جائر حکومت کي آلہ کار ہيں جيسے کہ حکومت اسرائيل
، مسلمانوں پر واجب ہے کہ جس طرح ممکن ہو ان روابط کي مخالفت کريں
اور وہ تجار جو اسرائيل اوراس کے کارندوں کے ساتھ تجارتي روابط
رکھتے ہيں وہ اسلام اور مسلمانوں کے خائن اور احکام اسلام کے مٹانے
کے لئے معين و مددگار ہيں تو تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ ان خيانت
کرنے والوں سے چاہے وہ حکومتيں ہوں يا عام تاجر، قطع روابط کريں
اور انہيں مجبور کريں کہ وہ توبہ کريں اور ان حکومتوں کے ساتھ
روابط چھوڑديں۔ جان و عزت کے دفاع کے مسائل کتاب ’’ تحرير الوسليہ
‘‘ ميں ہيں وہاں رجوع کيا جائے۔
|