کتاب امر بالمعروف اور نہي عن المنکر

امر بمعروف اور نہي از منکر کے شرائط
امر بمعروف اور نہي از منکر کے مراتب

#کتاب امر بالمعروف اور نہي عن المنکر
}(٢٧٨٢)امر بمعروف اور نہي از منکران شرائط کے ساتھ جو ذکر ہوں گے واجب ہے اور اس کا ترک گناہ ہے اور مستحب و مکروہ چيزوں ميں امرونہي مستحب ہے۔
}(٢٧٨٣)امر بعمروف اور نہي از منکر واجب کفائي ہيں اور جس وقت مکلفين ان کو انجام ديں تو دوسروں سے ساقط ہيں اور اگر معروف کو قائم کرانا اور منکر سے روکنا چند اشخاص کے اجتماع پر موقوف ہو تو ان کے لئے اجتماع واجب ہے۔
}(٢٧٨٤)اگر بعض لوگ امر و نہي کريں ليکن موثر نہ ثابت ہوں اور کچھ دوسرے اشخاص کا احتمال ديں کہ ان کا امر و نہي موثر ثابت ہوگا تو واجب ہے کہ وہ امر و نہي کريں۔
}(٢٧٨٥)مسئلہ شرعيہ کا صرف بيان کردينا امر بمعروف اور نہي از منکر کے لئے کافي نہيں بلکہ مکلف کے لئے ضروري ہے کہ وہ امر و نہي کرے۔
}(٢٧٨٦)امر بمعروف اور نہي از منکر ميں قصد قربت ضروري نہيں بلکہ اس کا مقصد واجبات کا قائم ہونا اور حرام افعال سے منع کرنا ہے۔
#امر بمعروف اور نہي از منکر کے شرائط :
}(٢٧٨٧)امر بمعروف اور نہي از منکر کے واجب ہونے ميں چند شرط ہيں :
١۔ يہ کہ جو شخص امر و نہي کرنا چاہتا ہے۔ اسے معلوم ہو کہ جس چيز کو مکلف بجانہيں لارہا اس کا بجالانا واجب ہے اور جس کا م کو وہ بجالارہا ہے اس کو ترک کرنا چاہيے اور جس شخص کو معروف و منکر کا علم نہيں اس پر واجب نہيں ہے ۔
٢۔ احتمال دے کہ اس کے امر و نہي تاثير کريں گے پس اگر اسے معلوم ہو کہ ميرے کہنے سے کوئي اثر نہيں ہوگا تو پھر واجب نہيں ہے۔
٣۔ يہ کہ اسے علم ہو کہ گناہگار کا ارادہ ہے کہ وہ اپنے گناہ کا تکرار کرے پس اگر اسے معلوم ہو يا گمان يا صحيح احتمال کہ وہ يہ کام دوبارہ نہيں کرے گا تو پھر واجب نہيں ہے۔
٤۔ يہ کہ امر و نہي کرنے ميں کوئي مفسدہ نہ ہو پس اگر اسے يقين يا گمان ہو کہ اگر امر يا نہي کي تو اس کي جان ، عزت و آبرو يا قابل توجہ مال کا ضرر اسے پہنچے گا تو اس پر واجب نہيں بلکہ اگر ايسا احتمال صحيح ہو کہ جس سے مذکورہ مضرات کا خوف ہو تو واجب نہيں بلکہ اگر اسے خوف ہو کہ اس سے متعلقين کو ضرر پہنچے گا تو بھي واجب نہيں بلکہ اگر يہ احتمال ہو کہ بعض مومنين کو عزت و آبرو يا مال جو موجب حرج ہے کا ضرر پہنچے گا تو بھي واجب نہيں بلکہ بہت سے موقع پر حرام ہے۔
}(٢٧٨٨)اگر معروف يامنکر ان امور ميں سے ہو کہ جنہيں شارع مقدس نے زيادہ اہميت دي ہے مثلاً اصول دين و اصول مذہب اور حفاظت قرآن يا مسلمانوں کے عقائد کا محفوظ رکھنا يا ضروري احکام تو اہميت کا لحاظ رکھنا چاہيے اور وہاں صرف ضرر اس کے واجب نہ ہونے کا سبب نہيں بن سکے گا پس اگر مسلمانوں کے عقائد کي حفاظت يا ان احکام کي حفاظت جو ضروريات دين ميں سے ہيں۔ جان و مال خرچ کرنے پر موقوف ہو تو خرچ کرنا واجب ہے۔
}(٢٧٨٩)اگر اسلام ميں کوئي بدعت واقع ہورہي ہو مثلا ً وہ حرام اور منکر چيزيں کہ جنہيں حکومتيں دين اسلام کے نام پر جاري کرتي ہيں تو واجب ہے خصوصاً علمائ اعلام پر کہ وہ اظہار حق اور انکار باطل کريں اور اگر علمائ اعلام کي خاموشي مقام علم کي بے حرمتي اور علمائ اعلام کے متعلق سوئ ظن کا سبب بنے تو واجب ہے کہ جس طرح بھي ہو اظہار حق کريں اگرچہ انہيں يہ علم ہو کہ تاثير نہيں ہوگي۔
}(٢٧٩٠)اگر صحيح احتمال ديا جاسکے کہ خاموشي منکر کو معروف اور معروف کو منکر بنادے گي تو واجب ہے خصوصاً علمائ اسلام پر کہ اظہار و اعلام حق کريں اور خاموش رہنا جائز نہيں۔
}(٢٧٩١)اگر علمائ اعلام کي خاموشي ظالم کي تقويت ، اس کي تائيد يا اس کي باقي محرمات پر جرآت کا سبب بنے گي تو اظہار حق اور انکار باطل واجب ہے اگرچہ فعلاً تاثير نہ رکھتا ہو۔
}(٢٧٩٢)اگر علمائ اعلام کي خاموشي اس بات کي باعث بنے کہ لوگ ان سے بدظن ہوجائيں اور انہيں متہم کريں گے کہ دستگاہ ظلم سے ان کي ساز باز ہے تو اظہار حق اور انکار باطل واجب ہے اگرچہ انہيں معلوم ہو کہ اس سے فعل حرام سے نہيں روکا جاسکے گا اور اسکا اظہار دفع ظلم ميں موثر نہيں ہوگا۔
}(٢٧٩٣)اگر بعض علمائ اعلام کے دستگاہ ظالمين ميںداخل ہونے سے فاسد اور منکرات کي روک تھام ہوسکے تو واجب ہے کہ اس کام کے درپے ہوں مگر يہ کہ اس ميں کوئي اہم مفسدہ ہو مثلاً يہ کہ ان امور کے درپے ہونا لوگوں کے عقائد کي کمزوري يا علمائ سے اعتماد کے اٹھ جانے کا سبب ہو تو اس صورت ميں جائز نہيں ۔
}(٢٧٩٤)علمائ اعلام اور پيش نمازوں کے لئے جائز نہيں کہ وہ ان مدارس دينيہ کي سرپرستي کريں جو کہ ظالم حکومت اور محکمہ اوقاف کي طرف سے ہيں چاہے وہ اپنے اور طلاب علوم دينيہ کے وظائف حکومت سے ليںيا انہيں عوام ديںيا موقوفات سے ليں اگرچہ وہ اسي مدرسہ کا وقف ہو، کيونکہ حکومت کا ان امور اور ان جيسے اور امور ميں دخيل ہونا اساس اسلام کے منہدم کرنے کا پيش خيمہ ہے جس طرح کہ سامراجيوں نے تمام ممالک اسلاميہ ميں ايسے امور جاري کر رکھے ہيں يا جاري کرنے والے ہيں۔
}(٢٧٩٥)علوم دينيہ کے طلبائ کے لئے ان اداروں ميں داخل ہونا جائز نہيں ہے کہ جو دين کے نام پر ظالم حکومت کي طرف سے تاسيس کئے گئے ہيں مثلا ً ان مدارس دينيہ ميں کہ جن ميں حکومتيں دخل رکھتي ہيں اور وہ متوليوں سے لے لئے ہيں يامتوليوں کو اپنے تسلط اور اثر ميں کرليا ہے اور جو کچھ بھي انہيں محکمہ اوقاف کي طرف سے يا ان کي صوابديد پر ملتا ہے وہ سب حرام ہے۔
}(٢٧٩٦)طلاب علوم دينيہ کے لئے ايسے مدارس ميں داخل ہونا جائز نہيں جو بعض عمامہ پوش لوگوں اور پيش نمازوں نے ظالم حکومت کي طرف سے يا ظالم حکومت کے اشارہ پر کھول رکھے ہيں چاہے انہيں سند حکومت کي طرف سے ملے يا اس قسم کے لوگوں سے جو کہ حکومت جور کے کارندہ ہيں کيونکہ ان امور ميں آثار اسلام اور احکام قرآن کے مٹانے کا نقشہ بنايا گيا ہے۔
}(٢٧٩٧)جو اشخاص اہل علم کے لباس ميں ان اداروں ميں جو ظالم حکومت کے اشارے سے بنائے گئے ہيں وارد ہوتے ہيں ۔ مسلمانوں اور ديندار لوگوں کے لئے ضروري ہے کہ وہ ان سے اعراض کريں اور ان سے ميل جول نہ رکھيں اور ايسے اشخاص عدالت سے خارج ہيں اور اان کے پيچھے نماز پڑھنا جائز نہيں اور ان کے حضور ميں طلاق دينا باطل ہے اور سہم مبارک امام عليہ السلام و سہم سادات عظام انہيں نہيں دينا چاہيے اور اگر انہيں ديں گے تو بري الذمہ نہيں ہوں گے اور اگر ايسے اشخاص اہل منبر ہيں تو ضروري ہے کہ انہيں منبر پر جانے کي دعوت نہ ديں اور ان مجالس ميں شرکت نہ کي جائے کہ جو اس قسم کے لوگ حکومت کي طرف سے ترويج باطل اور خلاف اسلام چيزوں کي تشريح کے لئے منعقد کرتے اور منبر پر جاتے ہيں۔
}(٢٧٩٨)ايسے عمامہ پوش لوگوں کا جوکہ ظالموں کے کارندہ ہيں ۔ ان امور ميں داخل ہونا بہت زيادہ مفاسد رکھتا ہے کہ جن کے آثار تدريجاً ظاہر ہوں گے لہذا مسلمان ان کے ان عذروں کي پرواہ نہ کريں کہ جو وہ لوگ ان امور کے درپے ہونے ميں پيش کرتے ہيں اور علمائ اعلام کے لئے بھي ضروري ہے کہ ايسے اشخاص کو حوزہ ئ علميہ سے نکال ديں اور ان سے ميل جول نہ رکھيں اور تمام علمائ اعلام علوم دينيہ خطبائ محترم اور باقي طبقات کے لوگوں (جو اجانب کے کارندوں کے وسائس سے واقف ہيں ) پر لازم ہے کہ ان فاسق و فاسد اشخاص سے ملت کو آگاہ کريں اور لوگوں کو ان کے شر سے بچائيں۔
}(٢٧٩٩)اگر قرآئن سے يہ گمان پيدا ہوجائے کہ يہ کارندہ جوکہ لباس اہل علم ميں ہے اس نے يہ ادارہ ظالم حکومت کي طرف سے کھول رکھا ہے تو مسئلہ نمبر کے مطابق اس سے سلوک کيا جائے يا يہ کہ اس کي برآت ثابت ہوجائے۔
#امر بمعروف اور نہي از منکر کے مراتب :
}(٢٨٠٠)امر بمعروف اور نہي از منکر کے کئي مراتب ہيں اور اس احتمال کے ہوتے ہوئے کہ نچلے درجہ سے مقصد حاصل ہوجائے گا۔ دوسرے مراتب پر عمل کرنا جائز نہيں۔
}(٢٨٠١)پہلا مرتبہ يہ ہے کہ گناہگار شخص سے اس طرح معاملہ کيا جائے کہ وہ سمجھ جائے کہ مجھ سے يہ سلوک اس لئے کيا جارہا ہے چونکہ ميں نے فلاں گناہ کا ارتکاب کيا ہے مثلاً اس سے روگرداني کرے يا ترش روئي سے اس سے ملاقات کرے يا اس سے ميل جول ترک کردے اور اس سے اعراض کرے اس طرح کہ معلوم ہورہا ہو کہ يہ امور اس لئے ہورہے ہيں کہ وہ گناہ کو چھوڑدے۔
}(٢٨٠٢)دوسرا مرحلہ امر بمعروف اور نہي از منکر کا زبان سے امر و نہي کرنا ہے۔ پس جب تاثير کا احتمال ہو اور باقي گزشتہ شرائط حاصل ہوں تو واجب ہے کہ گناہگار لوگوں کو منع کريں اور واجب کے ترک کرنے والوں کو اس واجب کے بجالانے کا حکم ديں۔
}(٢٨٠٣)اگر گناہگار سے اعراض کرنے اور ميل جول چھوڑنے سے گناہ ميں تخفيف آجائے يااحتمال ہو کہ تحفيف کا سبب ہوگا تو واجب ہے اگرچہ وہ جانتا ہو کہ وہ گناہ کلي طور پر ترک نہيں ہوسکتا اور يہ معاملہ تب ہے جب کہ باقي مراتب سے گناہ کو نہ روک سکتا ہو۔
}(٢٨٠٤)اگر علمائ اعلام احتمال ديں کہ ظالمين اور سلاطين جور سے ان کا اعراض کرنا ان کے ظلم کي تخفيف کا باعث ہوگا تو واجب ہے کہ ان سے اعراض کريں اور ملت اسلاميہ کو سمجھائيں کہ ہم ان سے اعراض رکھتے ہيں۔
}(٢٨٠٥)اگر علمائ اعلام کا ظالمين اور سلاطين جور سے ميل جول ان کے ظلم کي تخفيف کا سبب ہو تو ملاحظہ کريں کہ آيا ان سے ترک معاشرت کرنا اہم ہے کيونکہ ممکن ہے کہ ان سے ميل جول لوگوں کے عقائد کي کمزوري ہتک اسلام اور مراجع اسلام کا سبب بنے گا يا تخفيف ظلم اہم ہے پس ان ميں جو اہم ہو اسي پر عمل کريں۔
}(٢٨٠٦)اگر علمائ اعلام کا ظالمين سے ميل جول اور معاشرت کسي مصلحت راجحہ ملزمہ سے خالي ہو تو ان سے ميل جول نہ رکھيں کيونکہ يہ بات ان کے متہم ہونے کا سبب ہے۔
}(٢٨٠٧)ظالمين سے علمائ کا ارتباط اگر ان کي تقويت يا بے خبر لوگوں کي نظر ميں ان کي برآت يا ظالمين کي جرآت اور مقام علم کي ہتک حرمت کا سبب بنے تو اس کا ترک واجب ہے۔
جو لوگ ظالموں کے مقاصد کي ترويج ان کے جشنوں ، گناہوں اور ظلم ميں ان کي مدد کرتے ہيں مثلاً بعض تاجر اور کاسب تو مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ انہيں منع کريں اور اگر منع کرنا موثر نہ ہو تو ان سے اعراض کريں اور ان سے معاشرت و معاملہ نہ کريں۔
}(٢٨٠٨)دوسرا مرحلہ امر بعمروف اور نہي از منکر کا زبان سے امر و نہي کرنا ہے۔ پس جب تاثير کا احتمال ہو اور باقي گزشتہ شرائط حاصل ہوں تو واجب ہے کہ گناہگار لوگوں کو منع کريں اور واجب کے ترک کرنے والوں کو اس واجب کے بجالانے کا حکم ديں۔
}(٢٨٠٩)اگر احتمال ديں کہ وعظ و نصيحت سے گناہ چھوڑ ديگا ہے تو ضروري ہے کہ اسي پر اکتفا کرے اور اس سے تجاوز نہ کرے۔
}(٢٨١٠)اگر جانتا ہے کہ نصيحت تاثير نہيں کرتي تو واجب ہے جب کہ احتمال تاثير نہ ہو کہ الزامي طور پر امر و نہي کرے اور اگر يہ بھي موثر نہ ہو تو پھر لازم ہے کہ گفتار ميں سختي برتے اور مخالف پر ڈرائے ليکن جھوٹ اور دوسرے گناہوں سے احتراز کرے۔
}(٢٨١١)کسي گناہ کو روکنے کے لئے گناہ کا ارتکاب جائز نہيں مثلاً گالي دينا، جھوٹ بولنا يا اہانت کرنا مگر يہ کہ وہ ايسي چيزوں ميں سے ہو کہ جو مورد اہتمام شارع مقدس ہو اور وہ کسي صورت ميں اس پر راضي نہ ہو مثلاً نفس محترم کا قتل کرنا تو پھر اس صورت ميں اس کو ہر اس طرح سے روکے جو کہ اس کے لئے ممکن ہو۔
}(٢٨١٢)اگر گناہگار گناہ کو اس وقت تک ترک نہ کرے جب تک کہ انکار سے پہلے اور دوسري مرتبہ کو جمع نہ کيا جائے تو جمع کرنا واجب ہے يہ کہ اس سے اعراض اور ترک معاشرت اور ترش روئي سے ملاقات بھي کرے اور زبان سے اسے معروف کا حکم اور منکر سے روکے بھي۔
}(٢٨١٣)تيسرا مرتبہ جبر اور طاقت سے روکنا ہے پس اگر اسے معلوم ہو کہ يہ شخص برائي کو نہيں چھوڑے گا يا واجب کو نہيں بجالائے گا جب تک کہ طاقت و جبر کو نہ استعمال کيا جائے تو واجب ہے کہ طاقت کا استعمال کرے۔ البتہ قدر ضرورت سے تجاوز نہ کرے۔
}(٢٨١٤)اگر ممکن ہو کہ گناہ کي روک تھام اس طرح ہوتي ہے کہ اس شخص اور اس کے گناہ کے درميان کوئي مانع پيدا کردے اور اس سے گناہ رک سکے تو ضروري ہے کہ اس پر اکتفا کرے بشرطيکہ اس کا خطرہ باقي چيزوں سے کم ہو۔
}(٢٨١٥)اگرگناہ کا روکنا اس پر موقوف ہے کہ گناہگار کا ہاتھ پکڑلے يا اسے گناہ کي جگہ سے باہر لے جائے يا آلہ گناہ ميں تصرف کرے تو جائز بلکہ واجب ہے کہ اس پر عمل کرے۔
}(٢٨١٦)گناہگار کے اموال محترمہ کو تلف کرنا جائز نہيں مگر يہ کہ گناہ سے روکنے کا سبب ہو تو اس صورت ميں اگر تلف کرے تو ظاہراً ضامن نہيں ہے اس صورت کے علاوہ ضامن اور گناہگار ہوگا۔
}(٢٨١٧)اگر گناہ سے روکنا گناہگار کو قيد کرنے يا کسي جگہ جانے سے روکنے پر موقوف ہو تو واجب ہے کہ ايسا کرے البتہ مقدار ضروري کي رعايت کرے اور اس سے تجاوز نہ کرے۔
}(٢٨١٨)اگر گناہ سے روکنا گناہگار کے پيٹنے اور اس پر سختي کرنے اور اسے تنگي ميں ڈالنے پر موقوف ہو تو يہ کام جائز نہيں ليکن ضروري ہے کہ يہ رعايت کرے کہ کہيں زيادتي نہ ہوجائے اور بہتر يہ ہے کہ اس معاملہ ميں اور اس کے نظائر ميں مجتہد جامع الشرائط سے اجازت لے۔
}(٢٨١٩)اگرمنکرات کي روک تھام اور واجبات کا ادا ہونا حرج و مرج اور قتل پر موقوف ہو تو يہ چيزيں جائز نہيں مگرمجتہد جامع الشرائط کي اجازت اور ان کے شرائط کے حصول پر۔
}(٢٨٢٠)اگر منکرات ايسي چيزوں ميں سے ہے کہ شارع اقدس نے اس کا بہت اہتمام کيا ہے اور کسي وجہ سے اس کے واقع ہونے پر راضي نہيں تو اس کا دفع ہر ممکن طريقہ سے جائز ہے۔ مثلاً اگر ايک شخص ايک ايسے آدمي کو قتل کرنا چاہتا ہے کہ جس کاقتل کرناجائز نہيں تو اس کو اس سے روکنا چاہيے اور اگر مظلوم کے قتل سے روکنا ممکن نہ ہو مگر يہ کہ ظالم کو قتل کرديا جائے تو اس کا قتل جائز بلکہ واجب ہے اور يہ ضروري نہيں کہ مجتہد سے اجازت لي جائے۔ البتہ يہ رعايت کرني چاہيے کہ اگر اسے کسي اور طريقہ سے روکا جاسکتا ہے جو کہ اس قتل پر منتہج نہ ہوتاہو۔ تو اس پر عمل کرے اور اگر اس نے حد لازم سے تجاوز کيا تو گناہگار ہوگا اور تجاوز کرنے والے کے احکام اس پر جاري ہوں گے۔

 

احکام تقليد احکام طہارت احکام نماز  احکام روزہ
احکام خمس   احکام زکواۃ احکام حج خريد و فروخت کے احکام
احکام شرکت احکام صلح اجارہ (کرايہ )کے احکام احکام جعالہ
احکام مزارعہ مساقات (آبياري )کے احکام وہ اشخاص جو اپنے مال ميں خود تصرف نہيں کرسکتےکے احکام احکام وکالت
قرض کے احکام حوالہ (ڈرافٹ)دينے کے احکام رہن کے احکام ضامن بننے کے احکام
کفالت کے احکام وديعت (امانت)کے احکام عاريتاً دينے کے احکام نکاح (شادي بياہ)کے احکام
طلاق کے احکام غصب کے احکام جو مال انسان پالے اس کے احکام جانوروں کے ذبح اور شکار کرنے کے احکام
کھانے پينے کي چيزوں کے احکام نذر اور عہد کے احکام قسم کھانے کے احکام وقف کے احکام
وصيت کے احکام ميراث کے احکام احکام امر بالمعروف اور نہي عن المنکر دفاع کے مسائل و احکام
خاتمہ کے احکام بعض مسائل جو اس زمانے ميں  مورد حاجت ہيں امام خميني کي خدمت ميں چند جديد سوالات اور ان کے جوابات