|
#ميراث کے احکام :
}(٢٧٢٤)جو اشخاص رشتہ داري کي بنا پر کسي کا ترکہ لے سکتے ہيں ان
کے تين طبقے ہيں:
#پہلا طبقہ :
مرنے والے کے ماں باپ اور اولاد نہ ہونے کي صورت ميں اولاد کي
اولاد جتنے نيچے چلے جائيں تو جو ميت کے زيادہ قريب ہوگا وہ اس کا
ترکہ لے گا اور اس طبقے کا جب تک ايک فرد بھي موجود ہے دوسرے طبقے
والے ارث نہيں لے سکتے۔
#دوسرا طبقہ :
دادا اور نانا يا اس کا باپ جتنا اوپر چلے جائيں اور دادي اور ناني
اور اس کي ماں جتنا اوپر چلے جائيں۔ بہن اور بھائي اور بہن بھائي
جب موجود نہ ہوں تو ان کي اولاد ميں سے جو ميت کے زيادہ قريب ہو وہ
ترکہ لے گا اور جب تک اس طبقے کا ايک آدمي بھي موجود ہو تيسرے طبقے
والے ارث نہيں لے سکيں گے۔
#تيسرا طبقہ :
چچا پھوپي ماموں اور خالہ جتنا اوپر چلے جائيں اور ان کي اولاد
جتنا نيچے چلي جائيں اور جب تک چچوں ، پھوپھيوں ، مامو وں يا ميت
کے خالاوں ميں سے کوئي زندہ ہے ان کي اولاد ميراث نہيں لے سکے گي
البتہ اگر مرنے والے کا باپ کي طرف سے چچا اور ماں باپ دونوں کي
طرف چچا زاد بھائي موجود ہے اور ان دو کے علاوہ کوئي وارث نہيں ہے
تو ماں باپ کي طرف سے چچاکے بيٹے کو ميراث ملے گا اور باپ کي طرف
سے چچا کو نہيں ملے گا۔
}(٢٧٢٥)اگر خود ميت کے چچا، پھوپي ، ماموں ، خالہ ، ان کي اولاد
اور اولاد در اولاد نہ ہوں تو ميت کے ماں، باپ کے چچا، پھوپي ،
ماموں اور خالہ ميراث ليں گے اور اگر يہ بھي نہ ہوں تو ان کي اولاد
ترکہ لے گي اور اگر وہ بھي نہ ہوں تو ميت کے دادا، دادي اور نانا ،
ناني کے چچا ، پھوپي ، ماموں اور خالہ اور اگر وہ بھي نہ ہوں تو ان
کي اولاد ميراث لے گي۔
}(٢٧٢٦)بيوي ، شوہر اس تفصيل کے ساتھ جو بعد ميں بيان کي جائے گي۔
ايک دوسرے کے وارث بنيں گے۔
#پہلے طبقہ کا ميراث :
}(٢٧٢٧)اگرميت کا وارث طبقہ اول کا صرف ايک فرد ہے مثلاً ماں يا
باپ يا ايک بيٹا يا ايک بيٹي تو ميت کا پورامال اسي کو ملے گا اور
اگر کئي بيٹے يا کئي بيٹياں ہوں تو تمام مال مساوي طور پر ان کے
درميان تقسيم ہوگا اور اگر ايک بيٹا اور ايک بيٹي ہو تو مال تين
حصوں ميں تقسيم کرکے دو حصے بيٹے کو اور ايک حصہ بيٹي کو ملے گا
اور اگر چند لڑکے اور چند لڑکياں ہوں تو مال اس طرح تقسيم کريں گے
کہ ہر لڑکا ، لڑکي کے دو برابر لے گا۔
}(٢٧٢٨)اگر ميت کے وارث صرف اس کے ماں باپ ہوں تو مال تين حصوں ميں
تقسيم ہوگا۔ دو حصے باپ اور ايک حصہ ماںکو ملے گا ۔ البتہ اگرمر نے
والے کے دو بھائي يا چار بہنيں يا ايک بھائي اوردو بہنيں ہوں کہ جن
کا باپ اور ميت کا باپ ايک ہو چاہے ميت اور ان کي ماں بھي ايک ہوں
يا نہيں تو اگرچہ جب تک ميت کے ماں باپ موجود ہيں يہ بھائي بہنيں
ميراث نہيں لے سکيں گے ۔ ليکن ان کي وجہ سے ماں، مال کا صرف چھٹا
حصہ لے گي اور باقي باپ کو ملے گا۔
}(٢٧٢٩)اگر ميت کا وارث صرف باپ ماں اور ايک بيٹي ہو تو اگر ميت کے
دو بھائي يا چار بہنيں يا ايک بھائي اور دو بہنيں باپ کي طرف سے نہ
ہوں تو مال پانچ حصوں ميں تقسيم ہوگا ايک ايک حصہ ماں باپ کو اور
تين حصے بيٹي کو مليں گے اور اگر دو بھائي يا چار بہنيں يا ايک
بھائي اور دوبہنيں باپ کي طرف سے موجود ہيں تو مال چھ حصوں ميں
تقسيم ہوگا۔ اس ميں سے ماں باپ کا ايک ايک حصہ اور بيٹي تين حصے لے
گي اور بقيہ ايک حصے کو چار حصوں ميں تقسيم کيا جائے گا۔ ايک حصہ
باپ اور تين حصے بيٹي کو مليں گے۔ مثلاً اگر ميت کا مال چوبيس حصوں
ميں تقسيم کيا جائے تو ان ميں سے پندرہ حصہ بيٹي کے اور پانچ باپ
کے اور چار حصے ماں کو دئيے جائيں گے۔
}(٢٧٣٠)اگر ميت کا وارث صرف باپ ، ماں اور ايک بيٹا ہو تو مال چھ
حصوں ميں تقسيم ہوگاکہ جس ميں سے ايک ايک حصہ ماں باپ کو اور چار
حصے بيٹے کو دئيے جائيں گے اور اگر کئي بيٹے يا کئي بيٹياں ہوں تو
ان چار حصوں کو ان کے درميان برابر تقسيم کيا جائے گا اور اگر ايک
بيٹا اور ايک بيٹي ہو تو ان چار حصوں کو اس طرح تقسيم کريں گے کہ
بيٹے کو بيٹي کے دو برابرديا جائے۔
}(٢٧٣١)اگر ميت کا وارث صرف باپ اور ايک بيٹا ہو يا ماں اور ايک
بيٹا ہو تو مال چھ حصوں ميں تقسيم ہوگا۔ اس ميں سے ايک حصہ باپ يا
ماں کو اور پانچ حصے بيٹے کو مليں گے۔
}(٢٧٣٢)اگر ميت کا وارث صرف باپ يا ماں ہو اور اس کے ساتھ ايک بيٹا
اور ايک بيٹي ہو تو وہ مال چھ حصوں ميں تقسيم ہوگا اور اس ميں سے
ايک حصہ باپ يا ماں کو اور بقيہ مال اس طرح تقسيم کريں گے کہ بيٹے
کو بيٹي کے دو برابر ملے ۔
}(٢٧٣٣)اگرميت کا وارث صرف باپ اور ايک بيٹي يا ماں اور ايک بيٹي
ہو تو مال چار حصوں ميں تقسيم ہوگا ان ميں سے ايک حصہ باپ يا ماں
کو اور بقيہ بيٹي کو ملے گا۔
}(٢٧٣٤)اگر ميت کا وارث صرف باپ اور چند بيٹياں ہوں يا ماں اور چند
بيٹياں ہو ں تو مال کو پانچ حصوں ميں تقسيم کريں گے۔ ايک حصہ باپ
يا ماں کو اور باقي چار حصے بيٹياں مساوي طور پر تقسيم کرليں گي۔
}(٢٧٣٥)اگر مرنے والے کي اولاد موجود نہ ہو تو اس کا پوتا ہو يا
پوتي ، ميت کے بيٹے کا حصہ لے گي اور نواسہ ہو يا نواسي وہ ميت کي
بيٹي کا حصہ لے گي مثلاً اگر مرنے والے کا ايک نواسہ ہے اور ايک
پوتي ہے تو اس کا مال تين حصوں ميں تقسيم ہوگا۔ ايک حصہ نواسے کو
اور دو حصے پوتي کو مليں گے۔
#دوسرے طبقے کا ميراث :
}(٢٧٣٦)دوسرے طبقے کے وہ لوگ جو قرابت کي وجہ سے ميراث ليتے ہيں
دادا، نانا اور دادي ، ناني اور ميت کے بہن بھائي اور اگر بہن
بھائي موجود نہ ہوں تو ان کي اولاد ميراث لے گي۔
}(٢٧٣٧)اگر ميت کا وارث صرف ايک بھائي يا ايک بہن ہو تو تمام مال
اس کو ملے گا اور چند بھائي ، ماں باپ کي طرف سے يا چند بہنيں ماں
باپ کي طرف سے ہوں تو وہ مال مساوي طور پراپنے درميان تقسيم کريں
گے اور اگر ماں باپ کي طرف سے بہن بھائي جمع ہو جائيں توہر بھائي
بہن کے دو برابر لے گا مثلاً اگر ماں باپ کي طرف سے دو بھائي اور
ايک بہن ہو تو مال پانچ حصوں ميں تقسيم ہوگا اور ہر ايک بھائي کے
لئے دو حصے اور بہن کے لئے ايک حصہ ہوگا۔
}(٢٧٣٨)اگر ميت کے ماں باپ کي طرف سے بہن بھائي موجود ہوں تو جو
صرف باپ کي طرف سے بہن بھائي نہيں ہيں تو اگر صرف ايک بہن يا ايک
بھائي باپ کي طرف سے ہے تو تمام مال وہ لے گا اور اگر کئي بھائي يا
کئي بہنيں باپ کي طرف سے ہيں تو مال ان کے درميان مساوي طور پر
تقسيم ہوگا اور اگر باپ کي طرف سے بھائي بہن جمع ہوجائيں تو ہر
بھائي بہن کے دو برابر لے گا۔
}(٢٧٣٩)اگر ميت کا وارث صرف ايک بہن يا ايک بھائي ماں کي طرف سے ہو
کہ جن کا باپ ميت کے باپ سے علاوہ کوئي ہے تو تمام مال اسي کو ملے
گا اور اگر کئي ماں کي طرف سے بھائي يا بہنيں ہيں يا کئي بھائي بہن
ہيں جوکہ ماں کي طرف سے ہيں تو ان کے درميان مال مساوي طور پر
تقسيم ہوگا۔
}(٢٧٤٠)اگر ميت کا ايک بھائي بہن ماں باپ کي طرف سے اور ايک بھائي
بہن باپ کي طرف سے ہو اور ايک بہن يا بھائي ماںکي طرف سے ہو تو جو
بہن بھائي باپ کي طرف سے ہيں تو وہ ميراث نہيں ليں گے! اور مال چھ
حصوں ميں تقسيم کيا جائے گا اور اس کا ايک حصہ ماں کي طرف سے بھائي
يا بہن کو ملے گا اور باقي ماں باپ کي طرف سے جو بھائي بہن ہيں وہ
ليں گے اور ميںسے ہر بھائي ، بہن کے دو برابر حصہ لے گا۔
}(٢٧٤١)اگرميت کي ايک بہن اور بھائي ماں باپ کي طرف سے ہو اور ايک
بہن بھائي باپ کي طرف سے ہو اور ايک بہن بھائي ماں کي طرف سے ہو تو
جو بہن بھائي باپ کي طرف سے ہيں وہ ميراث نہيں ليں گے اور مال تين
حصوں ميں تقسيم کيا جائے گا اس ميں سے ايک حصہ ان بہن بھائي کو ملے
گا جو کہ ماں کي طرف سے ہيں اور وہ آپس ميں برابر تقسيم کريں گے
اور باقي ماں باپ سے جو بہن بھائي ہيں انہيں ملے گا اور اس ميں ہر
بھائي ، بہن کے دو برابر لے گا۔
}(٢٧٤٢)اگر ميت کا وارث صرف باپ کي طرف سے بہن بھائي اور ماں کي
طرف سے ايک بھائي يا بہن ہے تو مال چھ حصوں ميں تقسيم ہوگا ايک حصہ
وہ بھائي يا بہن لے گي جو ماں کي طرف سے ہے اور باقي وہ بھائي اور
وہ بہن ليں گے جو باپ کي طرف سے ہيں اور اس ميں سے ہر بھائي کو بہن
کے دو برابر ملے گا۔
}(٢٧٤٣)اگر ميت کے وارث صرف باپ کي طرف سے بھائي اور بہن ہيں اور
کئي بھائي اور بہنيں ماں کي طرف سے ہيں تو مال تين حصوں ميں تقسيم
ہوگا ايک حصہ ماں کي طرف والے بھائي بہن کو ملے گا اور وہ مساوي
طور پر تقسيم کرليں گے اور باقي جو باپ کي طرف سے بہن بھائي ہيں ان
کو ملے گا اور ہر بھائي ، بہن کے دو برابر لے گا۔
}(٢٧٤٤)اگر ميت کا وارث صرف بھائي بہن اور اس کي بيوي ہو تو بيوي
اپنا ميراث اس تفصيل کے ساتھ لے گي کہ جو صفحہ ٤٢٩ ميں بيان کيا
جائے گا اور بہن بھائي اس طرح ميراث ليں گے جيسا کہ گزشتہ مسائل
ميں بيان ہوچکا ہے اور اسي طرح اگر بيوي مر جائے اور اس کا وارث
صرف بہن بھائي اور شوہر ہو تو شوہر آدھا مال لے گا اور بہن بھائي
جس طرح گزشتہ مسائل ميں بيان ہوچکا ہے اپني ميراث ليں گے ۔ البتہ
بيوي يا شوہر کے ميراث لينے ميں جو بہن بھائي ہيں ان کے حصے ميں
کمي واقع ہوگي مثلاً اگر ميت کا وارث شوہر اور ماں کي طرف کے بہن
بھائي اور ماں باپ دونوں کي طرف کے بہن بھائي ہوں تو آدھا شوہر کو
ملے گا اور اصل مال کے تين حصوں ميں سے ايک حصہ ماں کي طرف والے
بہن بھائي کو ملے گا اور جو باقي رہ جائے وہ ماں باپ دونوں کي طرف
والے بہن بھائيوں کا ہے۔ پس اگر اس کا پورا مال چھ روپے ہے تو تين
روپے شوہر کے اور دو روپے ماں کي طرف آنے والے بہن بھائي کے اور
ايک روپيہ ماں باپ دونوں کي طرف والے بہن بھائي کا ہے۔
}(٢٧٤٥)اگر ميت کے بھائي بہن نہ ہوں تو ان کے ميراث کا حصہ ان کي
اولاد کو ملے گا اور ماں کي طرف سے جو بھتيجا اور بھانجا ہے وہ
اپنا حصہ آپس ميں برابر تقسيم کرليں گے اور وہ حصہ جو باپ يا ماں
باپ دونوں کي طرف سے بھتيجے يا بھانجے کا ہے ان ميں سے ہرلڑکا،
لڑکي کے دو برابر لے گا۔
}(٢٧٤٦)اگر ميت کا وارث صرف ايک دادا اور ايک دادي ہو وہ پدري ہو
يامادري تو تمام مال اسي کو ملے گا البتہ ميت کے دادا کي موجودگي
ميں پردادا کو ارث نہيں ملے گا۔
}(٢٧٤٧)اگر ميت کے وارث صرف دادا دادي ہوں تو مال تين حصوں ميں
تقسيم ہوگا۔ دو حصے داداکو اور ايک حصہ دادي کو ملے گا اور اگر
نانا ، ناني ہوں تو مال ان کے درميان مساوي طور پر تقسيم ہوگا۔
}(٢٧٤٨)اگر ميت کا وارث صرف دادا يا دادي اور نانايا ناني ہو تو
مال تين حصوں ميں تقسيم ہوگا۔ دو حصے دادا يا دادي کو اور ايک حصہ
نانا يا ناني کو ملے گا۔
}(٢٧٤٩)اگر ميت کا وارث دادا ، دادي اور نانا ، ناني ہوں تو مال
تين حصوں ميں تقسيم ہوگا۔ ايک حصہ نانا، ناني کو ملے گا جو مساوي
طور پر اپنے درميان تقسيم کرليں گے اور دو حصے دادا دادي کو مليں
گے ليکن دادا دادي کے دو برابر لے گا۔
}(٢٧٥٠)اگر ميت کا وارث صرف اس کي بيوي ، دادا، دادي ، نانا، ناني
ہوں تو بيوي اس تفصيل کے ساتھ ارث لے گي جو صفحہ ٤٢٩ ميں بيان کيا
جائے گا اور اصل مال کے تين حصوں ميں سے ايک حصہ نانا، ناني کو ملے
گا جو آپس ميں برابر تقسيم کرليں گے اور بقيہ دادا دادي کو ديا
جائے گا اور دادا دادي کے دو برابر لے گا اور اگر ميت کا وارث شوہر
اوردادا دادي اور نانا ناني ہوں تو شوہر کو مال کا آدھا اور باقيوں
کو اس دستور کے مطابق جو گزشتہ مسائل ميں بيان کيا گيا ہے ميراث
ملے گا۔
#تيسرے طبقے کا ميراث :
}(٢٧٥١)تيسرے طبقے کے لوگ چچا پھوپي ماموں اور خالہ اور ان کي
اولاد ہيں۔ اس تفصيل کے ساتھ جو بيان ہو چکي ہے کہ اگر پہلے اور
دوسرے طبقے کے افراد ميں سے کوئي موجود نہ ہو تو يہ ميراث ليں گے۔
}(٢٧٥٢)اگر ميت کا وارث صرف ايک پھوپي ہو چاہے ماں باپ کي طرف سے
ہو يعني ميت کے باپ کے ماں باپ اور اس کے ماں باپ ايک ہوں يا صرف
باپ کي طرف سے يا صرف ماں کي طرف سے ہو تو تمام مال اسي کو ملے گا
اوراگر کئي چچے يا کئي پھوپھياں ہوں اور وہ تمام ماں باپ کي طرف سے
ہوں يا تمام صرف باپ کي طرف سے ہوں تو مال ان کے درميان مساوي
تقسيم ہوگا۔ اور اگر چچا اور پھوپھي دونوں ہوں اور ہوں بھي ماں باپ
کي طرف سے يا صرف باپ کي طرف سے تو چچا پھوپي کو ديا جائے گا مثلاً
اگرميت کے وارث ، دو چچے اور ايک پھوپي ہو تو مال پانچ حصوں ميں
تقسيم ہوگا ۔ ايک حصہ پھوپھي کو ديا جائے گا اور چار حصے چچو ں کو
اور چچے آپس ميں برابر تقسيم کرليں گے۔
}(٢٧٥٣)اگر ميت کے وارث صرف چند مادري چچے يا چند مادري پھوپھياں
ہيں تو مال مساوي طور پر ان کے درميان تقسيم ہوگا اور اگر صرف چند
مادري چچے اور پھوپھياںہوں تو احتياط واجب يہ ہے کہ يہ آپس ميں
مصالحت کرليں گے۔
}(٢٧٥٤) اگر ميت کے وارث چچے اور پھوپھياں ہيںاور ان ميں سے بعض
پدري اور بعض مادري ہوں اور بعض پدري مادري ہوں تو پدري چچا پھوپھي
ميراث نہيں ليں گے پس اگر ميت کا ايک چچا يا ايک پھوپھي مادري ہوں
تو مال چھ حصوں ميں تقسيم کريں گے اور اس ميں سے ايک حصہ چچا
ياپھوپھي مادري کو ديا جائے گا اور باقي پدري مادري چچا اور پھوپھي
کو ملے گا اور پدري مادري چچا پدري مادري پھوپھي کے دو برابر لے گا
اور اگر مادري چچا بھي ہے اور پھوپھي بھي تو مال تين حصوں ميں
تقسيم کريں گے ۔ دو حصے پدري مادري چچا و پھوپھي کو ملے گا اور چچا
پھوپھي کے دو برابر لے گا اور ايک حصہ مادري پھوپھي و چچا کو ملے
گا اور احتياط واجب يہ ہے کہ وہ تقسيم کرتے وقت آپس ميں مصالحت
کرليں۔
}(٢٧٥٥)اگر ميت کا وارث صرف ايک ماموں يا ايک خالہ ہو تو مال اسي
کوملے گا اور اگر ماموں بھي اور خالہ بھي اور وہ سارے پدري مادري
ہوں يا پدري يا مادري تو مال ان کے درميان برابر تقسيم ہوگا اور
احتياطاً وہ تقسيم کرتے وقت آپس ميں مصالحت کرليں۔
}(٢٧٥٦)اگر ميت کا وارث صرف ايک مادري ماموںيا خالہ ہو اور پدري
مادري ماموں اور خالہ ہو اور پدري ماموں اور خالہ ہو تو پدري ماموں
و خالہ تو ارث نہيں ليں گے اور مال چھ حصوں ميں تقسيم کريں گے۔ اس
ميں سے ايک حصہ ماموں يا خالہ مادري کو اور بقيہ پدري مادري ماموں
اور خالہ کو ملے گا اور وہ آپس ميں مساوي تقسيم کرليں گے۔
}(٢٧٥٧)اگر ميت کا وارث صرف پدري ماموں خالہ اور مادري خالہ اور
پدري مادري ماموں اور خالہ ہوں تو صرف پدري کو ميراث نہيں ملے گي
اور باقيوں کو مال تين حصوں ميں تقسيم کرنا چاہئيے ۔ ان ميں سے ايک
حصہ مادري ماموںخالہ ليں گے اور وہ اسے برابر تقسيم کريں اور بقيہ
پدري مادري ماموں خالہ لے کر اسے مساوي طور پر تقسيم کرليں۔
}(٢٧٥٨)اگر ميت کا وارث ايک ماموں يا ايک خالہ اور ايک چچا يا ايک
پھوپھي ہو تو مال تين حصوں ميں تقسيم کريں گے۔ ايک حصہ ماموں يا
خالہ کا اور بقيہ پھوپھي يا چچا کا ہوگا۔
}(٢٧٥٩)اگر ميت کا وارث ايک ماموں يا ايک خالہ ہو اور پھوپھي و چچا
دونوں ہوں تو اگر چچا و پھوپھي پدري مادري يا صرف پددري ہوں تو مال
تين حصوںميں تقسيم ہوگا۔ ايک حصہ ماموں يا خالہ لے جائيں گے اور
بقيہ ميں سے دو حصے چچا کے اور ايک حصہ پھوپھي کا ہوگا تو اس بنا
پر اگر مال کے نو حصے کئے جائيں تو تين حصے ماموں ياخالہ کو ديں گے
اور چار حصے چچا کو اور دو حصے پھوپھي کو مليں گے۔
}(٢٧٦٠)اگر ميت کا وارث ايک ماموں اور ايک خالہ ہو اور ايک چچا يا
ايک پھوپھي مادري ہو اور چچا و پھوپھي پدري مادري يا صرف پدري ہوں
تومال تين حصوں ميں تقسيم کريں گے اس ميں سے ايک حصہ ماموں ياخالہ
کو ديں گے اور بقيہ دو حصوں کو چھ حصوں ميں تقسيم کيا جائے گا۔ اس
ميں سے ايک حصہ چچا يا پھوپھي مادري کو بقيہ چچا اور پھوپھي پدري
مادري يا صرف پدري کو ديا جائے گا اور چچا پھوپھي کے دو برابر لے
گا۔ اس بنا پر اگرمال کو نو حصوں ميں تقسيم کريں تو اس ميں سے تين
حصے ماموں يا خالہ کے اور ايک حصہ چچا يا پھوپھي مادري کا اور پانچ
حصے باقي چچا اور پھوپھي مادري پدري يا صرف پدري کو مليں گے۔
}(٢٧٦١)اگر ميت کا وارث ايک ماموں يا ايک خالہ اور چچا و پھوپھي
مادري اور چچا و پھوپي پدري مادري يا صرف پدري ہو تو مال تين حصوں
ميں تقسيم ہوگا۔ ايک حصہ ماموں يا خالہ لے جائيں گے اور بقيہ دو
حصوں کو تين حصوں ميں ممنقسم کياجائے گا۔ اس ميں سے ايک حصہ مادري
چچا و پھوپھي کو ديں جو کہ احتياط واجب کي بنا پر آپس ميں مصالحت
کريں گے۔ اور دو باقي حصے پدري مادري يا صرف پدري چچا و پھوپھي کے
درميان اس طرح تقسيم ہوگاکہ چچا پھوپھي کے دو برابر لے گا۔ اس بنا
پر مال نو حصوں ميں تقسيم ہو اس ميں سے تين حصے ماموں يا خالہ کے
ہيں اور دو حصے مادري چچا و پھوپھي کے اور چار حصے پدري مادري يا
صرف پدري چچا کے۔
}(٢٧٦٢)اگر ميت کے وارث چند ماموں اور چند خالائيں ہوں کہ جو سب
پدري مادري يا صرف پدري يا صرف مادري ہوں اور اس کے چچا و پھوپھي
بھي ہوں تو مال کے تين حصے ہوں گے ۔ دو حصے تو جس طرح گزشتہ مسئلہ
ميں بيان ہوچکا ہے چچا اور پھوپھي آپس ميں تقسيم کريں گے اور ايک
حصہ ماموں اور خالائيں آپس ميں مساوي طور پر تقسيم کرليں گے۔
}(٢٧٦٣)اگر ميت کے وارث ماموں يا خالہ مادري اور کئي ماموں اور
خالہ پدري مادري يا صرف پدري ہوں اور چچا و پھوپھي بھي ہو تو مال
کے تين حصے ہوں گے اور ان ميں سے دو حصے اس طريقہ پر جو پہلے بيان
کيا جاچکا ہے چچا اور پھوپھي آپس ميں تقسيم کريں گے پس اگر ميت کا
ايک ماموں يا ايک مادري خالہ ہے تو ان کے بچے ہوئے ايک حصہ کو چھ
حصوں ميں تقسيم کريں گے۔ ان کا ايک حصہ ماموں يا خالہ مادري کو ديں
گے اور باقي پانچ حصوں کو ماموں اور خالہ پدري و مادري کو ديں گے
اور وہ برابر تقسيم کرليں گے اور اگر چند مادري ماموں يا چند مادري
خالائيں ہوں يا مادري ماموں بھي ہو اور مادري خالہ بھي تو وہ اس
ايک حصہ کو تين حصوں ميں بانٹ ليں گے ان ميں سے ايک حصہ مادري
ماموں خالائيں برابر تقسيم کرليں گے اور بقيہ مادري پدري يا صرف
پدري ماموں خالہ کو ملے گا کہ جو اسے برابر تقسيم کريں گے۔
}(٢٧٦٤)اگر ميت کے چچا پھوپھي اور ماموں اور خالہ نہ ہوں تو جتنا
حصہ چچا اور پھوپھي کو ملنا تھا وہ ان کي اولاد کو ملے گا اور جتنا
حصہ ماموں اور خالہ کو ملنا چاہيے وہ ان کي اولاد کو ملے گا۔
}(٢٧٦٥)اگر ميت کا وارث اس کے باپ کے چچا پھوپھي اور ماموں خالہ
ہوں اور اس کي ماں کے چچا پھوپھي اور ماموں خالہ بھي ہوں تو مال کے
تين حصے ہوجائيں گے ۔ ايک حصہ اس کي ماں کے چچا پھوپھي اور ماموں
خالہ کو بطور مساوي ملے گا۔ البتہ احتياط واجب يہ ہے کہ ميت کي ماں
کے مادري چچا پھوپھي آپس ميں مصالحت کريں اور دو باقي حصے تين حصوں
ميں بٹ جائيں گے۔ ان ميں سے ايک ميت کے باپ کے ماموں خالہ لے کر
آپس ميں برابر تقسيم کرليں گے۔ اور بقيہ دو حصے ميت کے باپ کے چچا
اور پھوپھي کو مليں گے اور چچا پھوپھي کے دو برابر لے گا۔
#بيوي شوہر کا ميراث :
}(٢٧٦٦)اگر بيوي مرجائے اور اس کي اولاد نہ ہوتو اس کے پورے مال کا
آدھا شوہر لے گا اور بقيہ دوسرے ورثائ ليں گے اور اگر اس شوہر سے
يا کسي دوسرے شوہر سے اس کي اولاد تھي تو تمام مال کا چوتھا حصہ
شوہر اور بقيہ دوسرے وارث ليں گے۔
}(٢٧٦٧)اگر کوئي شخص مرجائے اور اس کي اولاد نہ ہو تو اس کے مال کا
چوتھا حصہ بيوي اور بقيہ دوسرے وارث ليں گے اور اگر اس بيوي سے يا
کسي دوسري بيوي سے اس کي اولاد ہو تو مال کا آٹھواں حصہ بيوي اور
بقيہ دوسرے وارث ليں گے اور عورت تمام قسم کي منقولہ جائيداد سے
ميراث لے گي البتہ زمين اور اس کي قيمت سے اسے کچھ نہيں ملے گا اور
جو چيزيں زمين ميں ثابت شدہ ہيں مثلاً مکان اور درخت تو بيوي ان کي
قيمت سے ميراث لے سکتي ہے۔
}(٢٧٦٨)اگر عورت کسي ايسي چيز ميں تصرف کرنا چاہے کہ جس سے اسے
ميراث نہيں ملتا تو اسے دوسرے ورثائ سے اجازت ليني پڑے گي اور اس
طرح باقي وارث جب تک بيوي کا حصہ دے نہ ليں اس وقت تک مکانات اور
دوسري ان چيزوں ميں کہ جن کي قيمت سے عورت ميراث پاتي ہے اس کي
اجازت کے بغير تصرف نہيں کر سکتے تو اگر عورت کا حصہ دئے بغير ان
چيزوں کو بيچ ديں تو اگر وہ عورت اجازت دے دے تو صحيح ورنہ جتنا اس
کا اس ميں حصہ ہے اتنا معاملہ باطل ہوگا۔
}(٢٧٦٩)اگر چاہيں کہ مکان درخت اور اس قسم کي چيزوں کي قيمت لگائيں
تو حساب کريں کہ اگر يہ چيزيں کرايہ کے بغير زمين ميں رہ جائيں
يہاں تک کہ خراب ہوجائيں تو ان کي قيمت کيا ہوگي اور اس قيمت سے
عورت کا حصہ ادا کريں۔
}(٢٧٧٠)نہر اور اس قسم کي چيزوں کے جاري ہونے کي جگہ زمين والا حکم
رکھتي ہے۔ اينٹيں اور وہ چيزيں جو وہاں صرف کي گئي ہيں ساختمان
والا حکم رکھتي ہيں۔
}(٢٧٧١)اگر مرنے والے کي ايک سے زيادہ بيوياں ہوں تو اگر اس کي
اولاد نہ ہو مال کا چوتھا حصہ اور اگر اولاد ہو تو آٹھواں حصہ اس
تفصيل کے ساتھ جو بيان ہوچکي ہے اس کي نکاح دائمي والي عورتوں کے
درميان برابر تقسيم کيا جائے گا اگر شوہر نے ان ميں سے کسي ايک سے
يا بعض سے ہمبستري نہ کي ہو البتہ اگر اس بيماري کے دوران کہ جس
ميں وہ مر گيا ہے اگر کسي عورت سے عقد کرے اور اس سے ہمبستري نہ
کرے تو وہ عورت اس سے ميراث نہيں لے گي اور حق مہر بھي نہيں دينا
پڑے گا۔
}(٢٧٧٢)اگر عورت بيماري کي حالت ميں کسي سے عقد کرے اور اسي بيماري
ميں مرجائے تو اس کے شوہر نے اگرچہ اس سے ہمبستري نہ کي ہو وہ اس
کا ميراث لے گا۔
}(٢٧٧٣)اگر عورت کو اس دستور کے مطابق جو احکام طلاق ميں بيان
ہوچکاہے طلاق رجعي مل جائے اور عورت عدت کے دوران مرجائے تو اس کا
شوہر اس کا وارث بنے گا۔
اور اسي طرح اگر شوہر عدت کے دوران مرجائے تو بيوي اس سے ميراث
پائے گي البتہ عدت رجعي گزرنے کے بعد يا عدت طلاق بائن ميں ان ميں
سے کوئي ايک مرجائے تو دوسرا اس کا وارث نہيں ہوگا۔
}(٢٧٧٤)اگر شوہر حالت بيماري ميں اپني بيوي کو طلاق ديدے اور قمري
بارہ مہينے گزرنے سے پہلے شوہر مرجائے تو بيوي تين شرائط کے ساتھ
اس کي وارث بن سکے گي ۔
١۔ يہ کہ اس مدت ميں کوئي اور شوہر نہ کرے۔
٢۔ يہ کہ شوہر سے کراہت کرنے کي وجہ سے اس کو اس نے کچھ مال نہ ديا
ہو کہ وہ طلاق دينے پر راضي ہوجائے بلکہ اگر کوئي چيز بھي شوہر کو
نہ دے ليکن طلاق عورت کے تقاضا کرنے سے ہوئي ہو پھر بھي عورت کا
ميراث لينا مشکل ہے۔
٣۔ يہ کہ شوہر نے جس بيماري ميں اس کو طلاق دي ہے اس کے دوران اسي
بيماري سے يا کسي اور وجہ سے مرجائے پس اگر اس بيماري سے ٹھيک
ہوگيا تھا اور پھر کسي اور وجہ سے مرجائے تو عورت اس کي وارث نہيں
بنے گي۔
}(٢٧٧٥)جو کپڑے مرد اپني بيوي کے پہننے کے لئے لايا تھا اگر چہ
عورت انہيں پہن چکي ہو تو بھي وہ کپڑے شوہر کے مرنے کے بعد شوہر کے
مال ميں داخل ہيں۔
#ميراث کے متفرق مسائل :
}(٢٧٧٦)قرآن ، انگوٹھي اور ميت کي تلوار اور لباس کہ جسے پہن چکا
ہے يا پہننے کے لئے سلوا چکا ہے اگرچہ ابھي تک پہنے نہ ہوں وہ سب
اس کے بڑے بيٹے کا مال ہيں اور اگر مرنے والے کے پاس يہ چار چيزيں
ايک سے زيادہ ہوں مثلاً دو قرآن يا دو انگھوٹھياں ہيں تو اگريہ اس
کے استعمال ميں تھيں يا استعمال کے لئے مہيا کي گئي تھيں تو بھي
بڑے بيٹے کا مال ہيں۔
}(٢٧٧٧)اگر ميت کے بڑے بيٹے ايک سے زيادہ ہوں مثلاً اس کي دو
بيويوں سے بيک وقت دو بيٹے پيد ا ہوئے ہوں تو وہ لباس ، قرآن ،
انگوٹھي اور ميت کي تلوار آپس ميں مساويانہ طور پر تقسيم کرليں۔
}(٢٧٧٨)اگر ميت مقروض ہو تو اگر اس کا قرض اس کے مال کے برابر يا ا
س سے زيادہ ہے تو چار چيزيں بھي جو کہ بڑے بيٹے کے ساتھ مختص ہيں
اور گزشتہ مسئلہ ميں بيان ہوچکي ہيں قرض ميں دي جائيں اور اگر قرض
مال سے تھوڑا ہو تو احتياط واجب يہ ہے کہ ان چار چيزوں ميں سے بھي
جو بڑے بيٹے کو مل رہي ہيں نسبت کے ساتھ قرض ادا کيا جائے۔ مثلاً
اگر مرنے والے کا سارا مال ساٹھ روپے کے برابر ہے اور ان ميں سے
بيس روپے کے برابر وہ چيزيں ہيں جو بڑے بيٹے کے ساتھ مختص ہيں اور
تيس روپے کا مقروض ہے تو احتياط واجب يہ ہے کہ بڑا بيٹا دس روپے کي
مقدار ان چار چيزيں سے قرض کے سلسلے ميں دے۔
}(٢٧٧٩)مسلمان کا فر سے ميراث پاتا ہے البتہ کافر اگرچہ مرنے والے
کا باپ يا بيٹا ہي کيوں نہ ہو وہ اس مسلمان کا ميراث نہيں لے سکتا۔
}(٢٧٨٠)اگر کوئي شخص اپنے رشتہ داروں ميں سے کسي ايک کو جان بوجھ
کر ناحق قتل کردے تو وہ اس سے ميراث نہيں پائے گا۔ البتہ اگر غلطي
سے ايسا کرے مثلاًاس نے فضا ميں پتھر پھينکا اور اتفاق سے اس سے اس
کے کسي ايک رشتہ دار کو جا لگا اور اسے قتل کرديا تو اس سے ميراث
پائے گا البتہ ديت قتل ميں سے ميراث نہيں لے گا۔
}(٢٧٨١)جس وقت ميراث تقسيم کرنے لگيں تو اگر ميت کا بچہ شکم مادر
ميں ہو اور اس کے طبقہ ميں اور وارث بھي موجود ہوں مثلاً اولاد اور
ماں باپ تو اس بچہ کے لئے جو شکم مادر ميں ہے جو اگر زندہ پيدا ہوا
تو ميراث لے گا۔ دو بيٹوں کا حصہ الگ کرکے رکھ ديا جائے البتہ
احتمال ہو کہ دو سے زيادہ بچے شکم مادر ميں ہيں مثلاً احتمال ہو کہ
عورت کے شکم ميں تين بچے موجود ہيں تو تين بچوں کا حصہ الگ کيا
جائے۔ اب اگر ايک لڑکا اور ايک لڑکي پيدا ہو ان دونوں کے حصہ سے
بچا ہوا مال ورثا اپنے درميان تقسيم کرليں گے۔
|