وصيت کے احکام

#وصيت کے احکام :
}(٢٦٩٠)وصيت يہ ہے کہ انسان سفارش و خواہش کرے کہ اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے کچھ کام انجام دئيے جائيں۔ يا وہ کہے کہ اس کے مرنے کے بعد اس کے مال ميں سے فلاں چيز فلاں شخص کي ملک ہے يا اپني اولاد اور ان اشخاص کے لئے جن کا يہ مختار ہے کسي کو سرپرست معين کرے اور جس کو وصيت کي جاتي ہے اسے وصي کہتے ہيں۔
}(٢٦٩١)جو شخص وصيت کرنا چاہتا ہے تو وہ ايسے اشارے سے بھي وصيت کرسکتا ہے کہ جس سے اس کا مقصد سمجھ ميں آجائے چاہے وہ گونگا نہ بھي ہو۔
}(٢٦٩٢)اگر کوئي تحرير ميت کے دستخط يا مہر کے ساتھ نظر آئے تو اگر اس نے اپنا مقصد اس ميں واضح کياہو اور يہ بھي معلوم ہو کہ يہ تحرير وصيت کرنے کے لئے لکھي ہے تو اس کے مطابق عمل کيا جائے۔
}(٢٦٩٣)وصيت کرنے والا عاقل و بالغ ہو البتہ دس سالہ بچہ جو اچھائي برائي کوسمجھتا ہے اگر کسي کارخير کے لئے مثلاً مسجد پاني کے انبار، اور پل بنانے کے لئے وصيت کرے تو صحيح ہے اور يہ کہ اپنے اختيار سے وصيت کرے اور وصيت کرنے والا بالغ ہوتے وقت سفيہ نہ ہو اور حاکم شريعت نے اسے اس کے اموال ميں تصرف کرنے سے منع بھي نہ کيا ہو۔
}(٢٦٩٤)جس شخص نے جان بوجھ کر اپنے آپ کو زخم لگاليا ہو يا زہر کھاليا ہو کہ جس کي وجہ سے يقين يا گمان ہو کہ وہ مرجائے گا اگروہ وصيت کرے کہ اتنا مال فلاں مصرف ميں صرف کيا جائے تو صحيح نہيں ہے۔
}(٢٦٩٥)اگر وصيت کرے کہ فلاں چيز فلاں شخص کو دي جائے تو اس وقت وہ شخص اس چيز کا مالک بنے گا جب وہ وصيت کو قبول کرلے گا۔ اگرچہ اس وقت قبول کرے جبکہ وصيت کرنے والا ابھي زندہ ہو۔
}(٢٦٩٦)جب انسان موت کي علامات اپنے ميں محسوس کرے تو فوراً لوگوں کي امانتيں انہيں واپس کردے اور اگر لوگوں کا مقروض ہے اور اس قرضہ کے ادا کرنے کا وقت بھي آگيا ہے تو وہ بھي ادا کردے اور اگر خود نہيں دے سکتا يا ابھي دينے کا وقت نہيں آيا تو وصيت کرے اور وصيت پر گواہ بنائے اور اگر اس کا قرضہ معلوم ہو اور اسے وارثوں پر اطمينان ہو کہ وہ اسے اداکرديں تو وصيت کرنا ضروري نہيں۔
}(٢٦٩٧)جس شخص کو علامات موت اپنے ميںنظر آرہي ہيں تو اگر خمس زکوٰۃ يامظالم اس کو دينے ہيں تو فوراً ديدے اور اگر دے سکتا تو اس کااپنا مال موجود ہے يا اسے احتمال ہے کہ فلاں شخص ادا کردے گا تو وصيت کرے اور يہي حکم ہے اگر اس پر حج واجب ہو۔
}(٢٦٩٨)جس شخص کو اپني موت کي نشانياں نظر آرہي ہيں اب اگر اس کے نماز روزہ قضا ہيں تو وصيت کرے کہ اس کے مال ميں سے ان کے لئے اجير بنايا جائے بلکہ اگر اس کے پاس مال نہ ہو ليکن اسے احتمال ہو کہ فلاں شخص بغير کچھ لينے کے انہيں انجام دے گا تو پھر بھي واجب ہے کہ وصيت کرے اور اگر اس کے نماز روزے کي قضا اس تفصيل کے ساتھ جو صفحہ ٢١٢ پر بيان کي گئي ہے بڑے بيٹے پر واجب ہو تو اس کو اطلاع دے يا وصيت کرے کہ اس کي طرف سے بجالائے۔
}(٢٦٩٩)جو شخص اپنے ميں موت کي علامات ديکھ رہا ہے اگر اس کا مال کسي کے پاس ہے يا کسي جگہ اس نے چھپا رکھا ہے کہ ورثائ کو معلوم نہيں تو اگر نہ جاننے کي وجہ سے ان کا حق تلف ہوجائے گا توانہيں اطلاع دے اور ضروري نہيں کہ اپنے چھوٹے بچوں کے لئے کوئي قيم اور سرپرست مقرر کرے البتہ اگر سرپرست کے بغير ان کا مال تلف ہوجائے گا يا وہ خود ضائع ہوجائيں گے تو اسے ان کے لئے امين سرپرست معين کرناچاہيے۔
}(٢٧٠٠)وصي کو مسلمان بالغ و عاقل اور قابل اطمينان ہونا چاہيے۔
}(٢٧٠١)اگر کوئي شخص اپنے چند وصي بنائے تو اگر اس نے اجازت دي ہو کہ ہر ايک تنہا وصيت پر عمل کرسکتا ہے تو پھر ضروري نہيں کہ وصيت کے انجام دينے ميں ايک دوسرے سے اجازت ليں اور اگر اس نے اجازت نہ دي ہو چاہے اس نے کہا ہو کہ تمام مل کر وصيت پر عمل کريں اور تشخيص مصلحت ميں اختلاف رکھتے ہوں تو اگر تاخير اور مہلت دينا وصيت پر عمل کرنے ميں تعطل کا سبب بن جائے تو حاکم شريعت انہيں مجبور کرے گا کہ وہ اس شخص کے مشورہ کو قبول کرليں جو مصلحت کي تشخيص کردے اور اگر وہ اطاعت نہ کريں تو ان کي جگہ پر دوسرے اشخاص کو معين کرے اور اگر ان ميں سے ايک آدمي قبول نہ کرے تو اس کي جگہ کوئي اور آدمي معين کردے۔
}(٢٧٠٢)اگر انسان اپني وصيت سے پھر جائے مثلاً کہے کہ ميرے مال کا تيسرا حصہ فلاں شخص کو ديا جائے اس کے بعد کہے کہ اس کو نہ دينا تو وصيت باطل ہوجائے گي اور اگر اپني وصيت کو بدل دے مثلاً اپنے بچہ کے لئے کسي کو سرپرست بنائے اور اسکے بعد کسي دوسرے کو بنادے تو پہلي وصيت باطل ہوجائے گي اور اس کي دوسري وصيت پر عمل کرنا چاہيے۔
}(٢٧٠٣)اگر کوئي ايسا کام کرے کہ جس سے معلوم ہو کہ وہ اپني وصيت سے پھر گيا ہے مثلاً جس گھر کے متعلق وصيت کي تھي کہ فلاں شخص کو ديدينا وہ بيچ دے يا کسي دوسرے شخص کو اس کے بيچنے کا وکيل مقرر کردے تو وصيت باطل ہوجائے گي۔
}(٢٧٠٤)اگر وصيت کرے کہ فلاں معين چيز فلاں شخص کو ديديں اس کے بعد وصيت کرے کہ آدھا حصہ دوسرے شخص کو ديديں تو اس چيز کو دو حصوں ميں تقسيم کيا جائے اور ان دو اشخاص ميں سے ہر ايک کو اس کا ايک حصہ ديں۔
}(٢٧٠٥)اگر کوئي شخص اس بيماري کے دوران کہ جس ميں مرجائے مال کا کچھ حصہ کسي کو بخش دے اور وصيت کر جائے کہ مرنے کے بعد کچھ مال دوسرے آدمي کو ديديں تو جو حالتِ زندگي ميں بخش گيا ہے وہ تو اصل ترکہ سے ديا جائے گا اور اس ميں ورثائ کي اجازت کي ضرورت بھي نہيں اور جس مال کي وصيت کرگيا اگر وہ ترکہ کے تيسرے حصہ سے زيادہ ہو تو اس زيادتي ميں ورثائ کي اجازت کي ضرورت ہے۔
}(٢٧٠٦)اگر وصيت کرے کہ اس کے ترکہ کا تيسرا حصہ نہ بيچا جائے اور اس کا نفع فلاں مصرف ميں صرف کيا جائے تو اس کي وصيت کے مطابق عمل کرنا چاہئيے۔
}(٢٧٠٧)اگر ا س بيماري کے دوران کہ جس ميں وہ مرجائے کہے کہ مجھے فلاں شخص کو اتنا مال دينا ہے تو اگر وہ مہتم ہو کہ ورثائ کو ضرر پہنچانے کے لئے کہہ رہا ہے تو جو مقدار اس نے مقرر کي ہے وہ ثلث ترکہ سے ادا کي جائے اور اگر مہتم نہ ہو اور کوئي شخص اس کے کہے ہوئے کامنکر بھي نہ ہو تو اصل ترکہ سے دينا چاہئيے۔
}(٢٧٠٨)جس کو کسي چيز کے دينے کي وصيت کررہا ہے اسے موجود ہونا چاہئيے پس اگر وصيت کرے کہ ممکن ہے کہ فلاں عورت حاملہ ہوجائے تو اس کے بچہ کو فلاں چيز دي جائے تو وصيت باطل ہے البتہ اگر وصيت کرے کہ جو بچہ شکم مادر ميں ہے اسے فلاں چيز دينا تو اگر ابھي اس ميں روح داخل نہ ہوئي ہو تو تب بھي وصيت صحيح ہے۔ پس اگر وہ زندہ پيدا ہوتو جس چيز کي وصيت کي تھي وہ اسے دي جائے اور اگر مردہ باہر آئے تو وصيت باطل ہے اور جو وصيت اس کے لئے کي گئي تھي وہ ورثائ آپس ميں تقسيم کرليں گے۔
}(٢٧٠٩)اگر انسان کو معلوم ہو کہ فلاں شخص نے اسے وصي قرار ديا ہے تو اگر وصيت کرنے والے تک يہ بات پہنچا دے کہ وہ وصيت کے انجام دينے پر حاضر نہيں تو اس کے لئے ضروري نہيں کہ مرنے کے بعد اس وصيت پر عمل کرے۔ البتہ اگرمرنے سے پہلے اسے معلوم نہ ہو کہ اسے وصي قرار ديا ہے يا معلوم ہوجائے اور يہ وصيت کرنے والے کو مطلع نہ کرے کہ ميں وصيت پر عمل کرنے کے لئے تيار نہيں ہوں تو اگر باعث مشقت نہ ہو تو وصيت کو انجام دے اور اگر وصي موت سے پہلے اس وقت ملتفت ہو کہ جب بيمار شدت بيماري کي وجہ سے کسي دوسرے کو وصيت نہ کرسکتا ہو تو بھي اسے وصيت قبول کرليني چاہيے۔
}(٢٧١٠)اگر وصيت کرنے والا مرجائے تو وصي خود کام سے کنارا کشي اختيارکرکے کسي دوسرے کو ميت کے کام انجام دينے کے لئے معين نہيں کرسکتا ۔ البتہ اگر اسے معلوم ہو کہ ميت کا مقصد يہ نہيں تھا کہ وصي خود اس کام کو انجام دے بلکہ اس کا مقصد صرف کام کا انجام پانا تھا تو پھر کسي دوسرے کو اپني طرف سے وکيل کرسکتا ہے ۔
}(٢٧١١)اگر کوئي شخص دو افراد کو وصي قرار دے تو اگر ان ميں سے ايک مرجائے يا ديوانہ يا کافر ہوجائے تو حاکم شريعت اس کي جگہ کسي اور آدمي کو معين کرے گا اور اگر دونوں مرجائيں يا ديوانے اور کافر ہوجائيں تو حاکم شريعت دو آدميوں کوان کي جگہ معين کرے گا۔ البتہ اگر ايک آدمي بھي وصيت پر عمل کرسکتا ہو تو دو آدميوں کو معين کرنا ضروري نہيں ہے۔
}(٢٧١٢)اگر وصي اکيلا ميت کے کام انجام نہيں دے سکتا تو حاکم شريعت اس کي مدد کے لئے کسي دوسرے شخص کو معين کرے گا۔
}(٢٧١٣)اگر ميت کا کچھ مال وصي کے ہاتھ ميں تلف ہوجائے تو اگر اس نے اس کي حفاظت ميں کوتاہي يا تجاوز کيا ہو مثلاً ميت نے وصيت کي تھي کہ اتني مقدار مال فلاں شہر کے فقرائ کو ديا جائے اور وہ اس مال کو کسي اور شہر ميں لے گيا اور وہ مال راستے ميں تلف ہوجائے تو وہ اس کا ضامن ہے اور اگر کوتاہي يا زيادتي نہ کي ہو تو پھر ضامن نہيں ہوگا۔
}(٢٧١٤)جب انسان کسي کو وصي قرار دے اور کہے کہ اگر يہ شخص مرجائے تو فلاں شخص وصي ہے تو پہلے وصي کے مرنے کے بعد دوسر ے وصي کو ميت کے کام انجام دينے چاہئيں۔
}(٢٧١٥)جو حج کہ ميت پر واجب ہے اور وہ قرض اور دوسرے حقوق جو مثل خمس و زکواۃ و مظالم کہ جن کاادا کرنا بھي واجب ہے وہ ميت کے اصل ترکہ سے دئيے جائيں اگرچہ ميت ان کے لئے وصيت بھي نہ کرگيا ہو۔
}(٢٧١٦)اگر ميت کا مال قرض، حج واجب اور ان حقوق سے جو مثل خمس زکواۃ اور مظالم کے اس پر واجب ہيں۔ زيادہ ہو تو اگر وہ وصيت کرجائے کہ اس کے مال کا تيسرا حصے کا کچھ حصہ فلاں مصرف ميں صرف کياجائے تو اس کي وصيت پر عمل کرنا چاہئيے اور اگر وصيت نہ کرجائے تو جو باقي رہ گيا ہے وہ ورثائ کا مال ہے۔
}(٢٧١٧)جو مصرف ميت نے معين کيا ہے اگر وہ مال کے تيسرے حصہ سے زيادہ ہو تو اس کي وصيت تيسرے حصے سے زيادتي کے متعلق اس وقت صحيح ہوگي جب ورثا کوئي بات کريں يا ايسا کام کريں کہ جس سے معلوم ہو کہ وہ وصيت پر عمل کرنے کي اجازت دے رہے ہيں اور صرف ان کا راضي ہونا کافي نہيں اور اگر اسکے مرنے سے کچھ مدت بعد بھي اجازت ديديں تو بھي صحيح ہے۔
}(٢٧١٨)جو مصرف ميت نے معين کيا ہے اگر مال کے تيسرے حصے سے زيادہ ہے اور اس کے مرنے سے پہلے ورثائ نے اجازت دے دي ہے کہ وصيت پر عمل ہوجائے تو اس کے مرنے کے بعد وہ اپني اجازت سے نہيں پھر سکتے۔
}(٢٧١٩)اگر وصيت کرے کہ اس کے ترکے کے تيسرے حصے سے خمس، زکواۃ اور اس کے دوسرے قرض ادا کئے جائيں اور اسکے نماز روزے کے لئے اجير بنايا جائے اور مستحب کام بھي مثلاً فقرائ کو کھانا کھلانا، انجام ديا جائے تو اگر وصيت بالترتيب تھي تو جو مقدم ہے اگرچہ وہ مستحب ہو اس پر عمل کيا جائے۔ اب اگر ترکے کے تيسرے حصے سے کچھ بچ جائے تو اگر وہ نماز و روزہ کي طرح واجب بدني ہوں تو ان پر صرف کيا جائے اور اگر اس سے بھي بچ جائے تو واجب مالي پر صرف کريں اور اگر ترکے کے تيسرے حصے سے زيادہ نہ ہو تو واجب مالي اصل مال سے اداکريں۔ البتہ اگر تيسرا حصہ صرف مستحب عمل کے برابر ہو تو واجب بدني ورثائ کي اجازت سے بجالائيں اور واجب مالي اصل ترکہ سے انجام ديں اور اگر اس کي وصيت ترتيب وار نہ ہو تو تيسرا حصہ نسبت کے ساتھ تين وصيتوں ميں تقسيم کيا جائے اور اگر کم ہو تو واجب مال کي کمي اصل مال سے ورثا ئ کي اجازت کے بغير اور واجب بدني اور مستحب عمل کي کمي ورثائ کي اجازت سے پوري کي جائے۔
}(٢٧٢٠)اگر وصيت کرے کہ اس کا قرض ادا کريں اور اس کے نماز روزے کے لئے کسي کو اجير بنائيں اور فلاں مستحب کا م بھي انجام ديں تو اگر يہ وصيت نہ کي ہو کہ يہ چيزيں مال کے تيسرے حصہ سے ادا کي جائيں تو اس کا قرض اصل مال سے دينا چاہئيے اور اگر کچھ مال بچ جائے اور اس کا تيسرا حصہ کافي نہ ہو تو اگر ورثائ اجازت ديديں تو اس کي وصيت پر عمل کيا جائے اور اگر اجازت نہ ديں تو اس کي نماز، روزہ تيسرے حصے سے ادا کئے جائيں اور اگر کوئي چيز بچ جائے تو معين شدہ مستحب کام ميں صرف کي جائے۔
}(٢٧٢١)اگر کوئي شخص کہے کہ ميت نے وصيت کي تھي کہ اتني رقم مجھے دي جائے تو اگر دو عادل مرد اس کے بيان کي تصديق کريں يا وہ قسم کھائے اور ايک عادل مرد بھي اس کي بات کي تصديق کرے يا ايک عادل مرد اور دو عادل عورتيں يا چار عادل عورتيں اس کے بيان کي گواہي ديں تو جتني مقدار وہ کہتا ہے وہ اسے ديني چاہيے اور اگر ايک عادل عورت گواہي دے تو جتنا وہ شخص مطالبہ کرتا ہے اس کا چوتھا حصہ اسے ديا جائے اور اگر دو عادل عورتيں گواہي ديں تو اس کا آدھا اور اگر تين عادل عورتيں گواہي ديں تو اس کے تين حصے اسے دئے جائيں اور اسي طرح اگر دو مرد کافر ذمي جو اپنے دين ميں عادل ہوں اس کے بيان کي تصديق کريں تو اگر مرنے والا وصيت کرنے پر مجبور تھا اور عادل مرد عورت بھي وصيت کرتے وقت موجود نہ تھے توجس چيز کا مطالبہ کرتا ہے وہ اسے دے ديني چاہيے
}(٢٧٢٢)اگر کوئي شخص کہے کہ ميں مرنے والے کي طرف سے وصي ہوں کہ اس کا مال فلاں جگہ صرف کروں يا مرنے والے نے مجھے اپنے بيوي بچوں کا سرپرست قرار ديا ہے تو جب تک دو عادل مرد اس کي بات کي تصديق نہ کريں اس وقت تک اس کا بيان قابل قبول نہيں ہوگا۔
}(٢٧٢٣)اگر وصيت کرے کہ فلاں چيز فلاں آدمي کو دي جائے اور وہ شخص قبول يا ردّ کرنے سے پہلے مرجائے تو جب تک اس کے ورثائ وصيت کو رد نہ کريں وہ اس چيز کو قبول کرسکتے ہيں، بشرطيکہ وصيت کرنے والا اپني وصيت سے پھر نہ جائے ورنہ وہ اس چيز کا حق نہيں رکھتے۔

 

احکام تقليد احکام طہارت احکام نماز  احکام روزہ
احکام خمس   احکام زکواۃ احکام حج خريد و فروخت کے احکام
احکام شرکت احکام صلح اجارہ (کرايہ )کے احکام احکام جعالہ
احکام مزارعہ مساقات (آبياري )کے احکام وہ اشخاص جو اپنے مال ميں خود تصرف نہيں کرسکتےکے احکام احکام وکالت
قرض کے احکام حوالہ (ڈرافٹ)دينے کے احکام رہن کے احکام ضامن بننے کے احکام
کفالت کے احکام وديعت (امانت)کے احکام عاريتاً دينے کے احکام نکاح (شادي بياہ)کے احکام
طلاق کے احکام غصب کے احکام جو مال انسان پالے اس کے احکام جانوروں کے ذبح اور شکار کرنے کے احکام
کھانے پينے کي چيزوں کے احکام نذر اور عہد کے احکام قسم کھانے کے احکام وقف کے احکام
وصيت کے احکام ميراث کے احکام احکام امر بالمعروف اور نہي عن المنکر دفاع کے مسائل و احکام
خاتمہ کے احکام بعض مسائل جو اس زمانے ميں  مورد حاجت ہيں امام خميني کي خدمت ميں چند جديد سوالات اور ان کے جوابات