وقف کے احکام

#وقف کے احکام :
}(٢٦٧٢)اگر کوئي شخص کوئي چيز وقف کرے تو وہ اس کي ملکيت سے خارج ہوجاتي ہے اور وہ خود اور دوسرے لوگ نہ وہ چيز کسي کو بخش سکتے ہيں اور نہ بيچ سکتے ہيں اور کوئي شخص اس کا وارث بھي نہيں بن سکتا البتہ بعض موارد ميں کہ جو مسئلہ ٢٠٩١ اور ٢٠٩٢ ميں بيان کئے گئے ہيں اس کے بيچنے ميں کوئي اشکال نہيں۔
}(٢٦٧٣)ضروري نہيں کہ وقف کا صيغہ عربي ميں پڑھا جائے بلکہ کہہ دے کہ ميں اپنا گھر وقف کرتا ہوں تو وقف صحيح ہے اور قبول کا محتاج بھي نہيں خواہ وہ وقف خاص ہي کيوں نہ ہو۔
}(٢٦٧٤)اگر کسي ملک کو وقف کے لئے معين کردے اور وقف کا صيغہ پڑھنے سے پہلے پشيمان ہوجائے يا مرجائے تو وقف صحيح نہيں ہے۔
}(٢٦٧٥)جو شخص کوئي مال وقف کررہا ہے تو احتياط واجب يہ ہے کہ صيغہ پڑھنے کے وقت سے مال کو ہميشہ کے لئے وقف کرے او اگر کہے کہ يہ مال ميرے مرنے کے بعد وقف ہے تو چونکہ صيغہ کے وقت سے لے کر اس کے مرنے تک وقف نہيں لہذا اس ميں اشکال ہے اور اسي طرح اگر کہے کہ دس سال تک وقف ہے اور اس کے بعد نہيں يا کہے دس سال تک وقف ہے اس کے بعد پانچ سال وقف نہيں اور اس کے بعد دوبارہ وقف ہے تو اس کاوقف ہونا مشکل ہے۔
}(٢٦٧٦)وقف اس صورت ميں صحيح ہے جبکہ مال وقف اس شخص کے تصرف ميں دے کہ جس پر وقف کيا ہے يا اس کے وکيل يا ولي کو ديدے ، البتہ اگر کوئي چيز اپني چھوٹي اولاد پر وقف کرے اور اس قصد سے کہ وہ چيز ان کي ملکيت ہے ان کي طرف سے اس کي نگراني کرے تو وقف صحيح ہے ۔
}(٢٦٧٧)اگر مسجد کو وقف کرے تو بعد اس کے کہ واقف واگزار کرنے کي نيت سے اجازت دے کہ اس ميں لوگ نماز پڑھيں تو اگر ايک آدمي نے بھي اس ميں نماز پڑھ لي تو وقف صحيح ہوجائے گا۔
}(٢٦٧٨)وقف کرنے والا بالغ و عاقل ہو اور قصد و اختيار رکھتا ہو اور شرعي لحاظ سے اپنے مال ميں تصرف کرسکتا ہو۔ اسي بنائ پر وہ سفيہ جو کہ بالغ ہوتے وقت سفيہ تھا يا حاکم شريعت نے اسکو اپنے مال ميں تصرف کرنے سے روک ديا تھا چونکہ اپنے مال ميں تصرف کرنے کا حق نہيں رکھتا اب اگر وہ کوئي چيز وقف کرے تو اس کا وقف صحيح نہيں۔
}(٢٦٧٩)اگر ايسے افراد کے لئے مال وقف کرے جو کہ ابھي تک پيدا نہيں ہوئے تو صحيح نہيں البتہ اگر وقف کيا جائے ان اشخاص کے لئے کہ جن ميں سے بعض پيدا ہوچکے ہيں تو صحيح ہے اور جو ابھي تک پيدا نہيں ہوئے وہ پيدا ہونے کے بعد دوسروں کے ساتھ شريک ہوجائيں گے۔
}(٢٦٨٠)اگر کوئي چيز اپني ذات پر وقف کرے مثلاً يہ کہ کوئي دکان وقف کرے اور يہ کہے کہ اس کا کرايہ اس کے مرنے کے بعد اس کے مقبرے پر خرچ کيا جائے تو صحيح نہيں ہے البتہ اگر کوئي مال فقرائ پر وقف کرے اور خود بھي فقير ہوجائے تو وقف کے منافع سے استفادہ کرسکتا ہے۔
}(٢٦٨١)جس چيز کو وقف کيا جائے اگر اس کے لئے کوئي متولي معين کرے تو وہ وقف کرنے والے کي قرارداد کے مطابق عمل کرے اور اگر معين نہ کرے تو اگر مخصوص افراد پر وقف کرے مثلاً اپني اولاد پر تو وہ چيزيں کہ جو مصلحت وقف سے مربوط ہيں جو کہ بعد والے طبقات کے فائدے اٹھانے کے ساتھ بھي دخل رکھتي ہيں تو ان کا اختيار حاکم شرع کو ہے اور وہ چيزيں جو موجودہ طبقہ کے فائدے اٹھانے کے ساتھ بھي ربط رکھتي ہيں تو اگر وہ بالغ ہيں توان کااختيار خود انہي کو ہے اور اگر وہ بالغ نہيں تو ان کے ولي کو اختيار ہے اور وقف سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے حاکم شريعت کي اجازت لينا ضروري نہيں۔
}(٢٦٨٢)اگر کوئي جائيداد مثلاً فقرائ يا سادات پر وقف کرے يا وقف کرے کہ اس کا منافع کار ہائے خير ميں صرف ہوں تو اگر اس جائيداد کے لئے کوئي متولي معين نہيں کيا تو اس کا اختيار حاکم شريعت کو ہے۔
}(٢٦٨٣)اگر کوئي جائيداد مخصوص افراد پر وقف کرے يا وقف کرے مثلاً اپني اولاد پر تاکہ ہر طبقہ دوسرے طبقہ کے بعد اس سے فائدہ اٹھائے تو اگر اس جائيداد کا متولي اسے کرايہ پر اٹھادے اور مرجائے تو اگر اس نے وقف يا بعد والے طبقہ کي مصلحت کو مدنظر رکھا تھا تو اجارہ مکان باطل نہيں ہوگا اور اگر اس کا کوئي متولي نہ ہو اور جن پر وقف ہوا ہے۔ اس کا ايک طبقہ اس کو کرايہ پر ديدے اور مدت اجارہ کے دوران وہ مرجائيں تواگر بعد والا طبقہ اجازت نہ دے تو اجارہ باطل ہوجائے گا اور اگر کرايہ پر دينے والوں نے پوري مدت کا کرايہ وصول کرليا ہے تو ان کے مرنے کے وقت سے لے کر اجارہ کي آخر مدت تک کا کرايہ ان مرنے والوں کے مال سے ليا جائے گا۔
}(٢٦٨٤)اگر وقف کي جائيداد خراب ہوجائے تو وقف سے خارج نہ ہوگي۔
}(٢٦٨٥)وہ جائيداد کہ جس کا کچھ حصہ وقف نہيں اگر وہ تقسيم شدہ نہ ہو تو حاکم شريعت يا متولي وقف اہل خبرہ سے مشورہ کرکے وقف کا حصہ الگ کرے۔
}(٢٦٨٦)اگر متولي وقف ميں خيانت کرے اور اس کے منافع معين شدہ جگہ ميں صرف نہ کرے تو اگر وہ عام لوگوں کے لئے وقف نہ ہوا ہو تو امکاني صورت ميں حاکم شريعت اس کي جگہ کوئي اور امين متولي معين کرے۔
}(٢٦٨٧)وہ فرش جو امام باڑے کے لئے وقف کيا گيا ہے وہ نماز کے لئے مسجد ميں نہيں لے جاسکتے اگرچہ وہ مسجد امام باڑہ کے قريب ہي کيوں نہ ہو۔
}(٢٦٨٨)اگر کوئي مال تعمير مسجد کے لئے وقف کياگيا ہو اب اگر اس مسجد کو تعمير کي ضرورت نہ ہو اور يہ احتمال بھي نہ ہو کہ اس مسجد کو ايک مدت تک تعمير کي ضرورت پڑے گي تو جب تعمير کے علاوہ اور بھي اسے ضرورت نہ ہو اور اس کے منافع معرض تلف ميں ہوں اور ان کا باقي رکھنا لغو اور فضول ہو تو اس مال کے منافع دوسري ايسي مسجد پر صرف کرسکتے ہيں کہ جسے تعمير کي ضرورت ہے۔
}(٢٦٨٩)اگر کوئي جائيداد وقف کردے تاکہ اس کا نفع تعمير مسجد پيش نماز اور موذن پر خرچ کيا جائے تو اگر معلوم ہو کہ وقف کرنے والے نے ہر ايک کے لئے اتني مقدار معين کي ہے تو اس کے مطابق خرچ کيا جائے اور اگر يقين نہ ہو تو پہلے مسجد کو تعمير کرنا چاہيے اور اگر اس سے کچھ بچ جائے تو پيش نماز اور موذن کے درميان برابر برابر تقسيم کرديا جائے اور بہتر يہ ہے کہ دونوں تقسيم ميں ايک دوسرے سے مصالحت کرليں۔

 

احکام تقليد احکام طہارت احکام نماز  احکام روزہ
احکام خمس   احکام زکواۃ احکام حج خريد و فروخت کے احکام
احکام شرکت احکام صلح اجارہ (کرايہ )کے احکام احکام جعالہ
احکام مزارعہ مساقات (آبياري )کے احکام وہ اشخاص جو اپنے مال ميں خود تصرف نہيں کرسکتےکے احکام احکام وکالت
قرض کے احکام حوالہ (ڈرافٹ)دينے کے احکام رہن کے احکام ضامن بننے کے احکام
کفالت کے احکام وديعت (امانت)کے احکام عاريتاً دينے کے احکام نکاح (شادي بياہ)کے احکام
طلاق کے احکام غصب کے احکام جو مال انسان پالے اس کے احکام جانوروں کے ذبح اور شکار کرنے کے احکام
کھانے پينے کي چيزوں کے احکام نذر اور عہد کے احکام قسم کھانے کے احکام وقف کے احکام
وصيت کے احکام ميراث کے احکام احکام امر بالمعروف اور نہي عن المنکر دفاع کے مسائل و احکام
خاتمہ کے احکام بعض مسائل جو اس زمانے ميں  مورد حاجت ہيں امام خميني کي خدمت ميں چند جديد سوالات اور ان کے جوابات