|
#قسم
کھانے کے احکام :
}(٢٦٦٦)اگر قسم کھائے کہ فلاں کام انجام دوں گا يا اسے ترک کروں گا
مثلاً قسم کھائے کہ روزہ رکھوں گا يا حقہ سگريٹ استعمال نہيں کروں
گا۔ اب اگر جان بوجھ کر مخالفت کرے تو اسے کفارہ دينا چاہيے يعني
ايک غلام آزاد کرے يا دس مسکينوں کو کھانے سے سيرکرے يا انہيں لباس
پہنائے اور اگر يہ نہيں کرسکتا تو اسے تين دن روزے رکھنے چاہئيں ۔
}(٢٦٦٧)قسم کھانے کے چند شرائط ہيں :
١۔ يہ کہ قسم کھانے والا بالغ و عقلمند ہو اور اگر مال کے متعلق
کوئي قسم کھانا چاہے تو وہ بالغ ہونے کے وقت بيوقوف نہ ہو اور حاکم
شرع نے اسے اس کے اموال ميں تصرف کرنے سے منع نہ کيا ہو اور وہ قصد
واختيار سے قسم کھائے۔ لہذا بچے، ديوانے ، مست اور وہ شخص جسے
مجبور کياگيا ہے ، کا قسم کھانا درست نہيں اور يہي حکم ہے اگر غصے
کي حالت ميں بغير قصد کے قسم کھائے۔
٢۔ جس کام کے بجالانے کي قسم کھائي ہے وہ حرام اور مکروہ نہ ہو اور
جس کام کے ترک کرنے کي قسم کھائي ہے وہ واجب اور مستحب نہ ہو اور
جس مباح فعل کے بجالانے کي قسم کھائي ہے و ہ ايسا ہونا چاہيے کہ جس
کا ترک کرنا لوگوں کي نگاہ ميں بجالانے سے بہتر نہ ہو اور اسي طرح
کسي مباح کام کے ترک کرنے کے لئے قسم کھائے تو اس کا بجالانا لوگوں
کي نظر ميں ترک سے بہتر نہ ہو۔
٣۔ خدا کے کسي نام کي قسم کھانا جو کہ اس کي مقدس ذات کے علاوہ کسي
پر نہ بولا جاتا ہو۔ مثلاً خدا ور اللہ اور اسي طرح اگر ايسے نام
کي قسم کھائے کہ جو غير خدا پر بھي بولا جاتا ہے ليکن خدا پر اتنا
بولا جاتا ہے کہ جس وقت کوئي وہ نام لے تو ذات مقدس حق تعاليٰ نظر
ميںآتي ہو مثلاً يہ کہ خالق و رازق کي قسم کھائے تو صحيح ہے بلکہ
اگر ايسے لفظ کے ساتھ قسم کھائے کہ جس سے بغير قرينے کے خدا نظر
ميں نہيںآتا۔ ليکن وہ خدا کا قصدکرے تو احتياطاً اس قسم پر عمل
کرنا چاہئيے۔
٤۔ قسم زبان پر لائي جائے اور اگر لکھ دے يا دل ميں قصد کرے تو
صحيح نہيں ہے۔ البتہ گونگا آدمي اشارے کے ساتھ قسم کھائے تو صحيح
ہے۔
٥۔ قسم پر عمل کرنا اس کے لئے ممکن ہو۔ اگر جس وقت قسم کھارہا ہے
وہ چيز ممکن ہو اور اس کے بعد اس آخر وقت تک جو کہ قسم کے لئے مقرر
کيا ہے عاجز ہوجائے يا اس کے لئے باعث مشقت ہو تو جس وقت وہ عاجز
ہوا ہے اس کي قسم ختم ہو جائے گي۔
}(٢٦٦٨)اگرباپ بيٹے کو قسم کھانے سے روک دے يا شوہر بيوي کو قسم
کھانے سے منع کرے تو ان کي قسم صحيح نہيں۔
}(٢٦٦٩)اگر بيٹا باپ کي اجازت کے بغير اور بيوي شوہرکي اجازت کے
بغير قسم کھائے توبعيد نہيں کہ ان کي قسم صحيح نہ ہو ليکن احتياط
کو ترک نہيں کرنا چاہيے۔
}(٢٦٧٠)اگر انسان بھول کر يامجبوراً اپني قسم پر عمل نہ کرے تو اس
پر کفارہ واجب نہيں ہے اوراسي طرح حکم ہے اگر اسے مجبور کريں کہ
اپني قسم پر عمل نہ کرے ۔ وہ قسم جو وسواسي آدمي کھاتاہے مثلاً يہ
کہ وہ کہتا ہے کہ خدا کي قسم ابھي ميں نماز ميںمشغول ہوجاو ں گا
اور وہ وسواس کي وجہ سے مشغول نہ ہو تو اگر اس کا وسواس اس طرح ہے
کہ وہ بے اختيار قسم پر عمل نہيں کررہا تو اس پر کفارہ واجب نہيں۔
}(٢٦٧١)جو شخص قسم کھاتا ہے اگر اس کي بات سچي ہو تو اس کے لئے قسم
کھانا مکرو ہ ہے اور اگر جھوٹي ہو تو حرام اور گناہان کبيرہ ميں سے
ہے۔ البتہ اگر اس لئے جھوٹي قسم کھائے کہ اپنے آپ کو يا کسي دوسرے
مسلمان کو ظالم کے شر سے نجات دے تو کوئي حرج نہيں بلکہ کبھي واجب
ہوجاتي ہے اور اس طرح کي قسم کھانا اس قسم سے الگ ہے جو گزشتہ
مسائل ميں بيان کي گئي ہے۔
|