|
#نذر
اور عہد کے احکام :
}(٢٦٣٦)نذر يہ ہے کہ انسان اپنے اوپر واجب قرار دے کہ فلاں اچھا
کام خدا کے لئے بجالاو ں گا يا جس کام کا کرنا اچھا نہيں اسے خدا
کے لئے ترک کردوں گا۔
}(٢٦٣٧)نذر ميں صيغہ ضروري ہے البتہ عربي زبان ميں پڑھنا ضروري
نہيں پس اگر کہے کہ جب بيمار اچھا ہوجائے گا تو خدا کے لئے مجھ پر
لازم ہے کہ دس روپے فقير کو دوں گا تو اس کي نذر صحيح ہے۔
}(٢٦٣٨)نذر کرنے والا بالغ و عقلمند ہو اور اپنے قصد و اختيار سے
نذر کرے۔ اس بنائ پر اس شخص کا نذر کرنا جسے مجبور کياجائے جو غصے
کي حالت ميں بے اختيار نذر کرے، صحيح نہيں ہے۔
}(٢٦٣٩)بيوقوف آدمي جو اپنا مال فضول کاموں ميں صرف کرتا ہے۔ اگر
بے وقوفي کے عالم ميں بالغ ہوجائے يا حاکم شرع اسے اپنے مال ميں
تصرف کرنے سے روک دے تو اس کي وہ نذر جس کا مال سے ربط ہو صحيح
نہيں ہے۔
}(٢٦٤٠)شوہر کي اجازت کے بغير عورت کا نذر کرنا باطل ہے۔
}(٢٦٤١)اگر عورت شوہر کي اجازت سے نذر کرے تو اس کا شوہر اس کي نذر
کو نہيں توڑ سکتا اور نہ اسے نذر پر عمل سے روک سکتا ہے۔
}(٢٦٤٢)جب بيٹا کوئي نذر کرے اگرچہ باپ کي اجازت کے بغير ہو تو اسے
اپني نذر پر عمل کرنا چاہيے۔
}(٢٦٤٣)انسان ايسے کام کي نذر کرے کہ جس کا کرنا اس کے لئے ممکن ہو
لہذا جو شخص کربلا پيدل نہ جاسکتا ہو اگر نذر کرے کہ ميں پيدل جاو
ں گا تو اس کي نذر صحيح نہيں ہے۔
}(٢٦٤٤)اگرکوئي شخص نذر کرے کہ فلاں حرام يا مکروہ فعل انجام دے گا
يا واجب اور مستحب کام ترک کردے گا تو اس کي نذر صحيح نہيں ہے۔
}(٢٦٤٥)اگر نذرکرے کہ فلاں مباح کام انجام دوں گا يا اسے ترک کردوں
گاتو اس کا کرنا اور نہ کرنا اگر ہر لحاظ سے برابر ہو تو اس کي نذر
صحيح نہيں اور اگر اس کا انجام دينا کسي وجہ سے بہترہو اور يہ اسي
جہت سے نذر کرے مثلاً نذر کرے کہ کھانا کھاو ں گا تاکہ عبادت کے
لئے طاقت حاصل ہو تو اس کي نذر صحيح ہے اور اسي طرح اس کام کا ترک
کسي وجہ سے بہترہو اور انسان اسي جہت کي نيت سے ترک کرنے کي نذر
کرے مثلاً چونکہ دھواں مضر ہے لہذا نذر کرے کہ حقہ سگريٹ استعمال
نہيں کروں گا تو اس کي نذر صحيح ہے۔
}(٢٦٤٦)اگر نذر کرے کہ اپني واجب نماز ايسي جگہ ميں پڑھے گا کہ
جہاں ذاتي طور پر نماز پڑھنا زيادہ ثواب نہيں رکھتا مثلاً نذر کرے
کہ نماز کمرے ميں پڑھوں گا تو اگر نماز پڑھنا کسي جہت سے بہترہو
مثلاً چونکہ وہاں خلوت ہے لہذا انسان ميں حضورقلب پيدا ہوگا تو نذر
صحيح ہے۔
}(٢٦٤٧)اگر کسي کام کے بجالانے کي نذر کرے تو اسے اسي طرح بجالائے
جيسے نيت کي ہے پس اگر نذر کرے کہ مہينے کي پہلي تاريخ کو صدقہ دوں
گا يا روزہ رکھوں گا يا نماز اول ماہ پڑھوں گا تو اگر اس دن سے
پہلے يا بعد اسے بجالائے تو کافي نہيں اور اسي طرح اگر نذر کرے کہ
جس وقت مريض اچھا ہوگيا تو صدقہ دوں گا۔ اب اگر اس کے اچھے ہونے سے
پہلے صدقہ ديدے تو کافي نہيں۔
}(٢٦٤٨)اگر نذر کرے کہ روزہ رکھوں گا ليکن اس کا وقت اور مقدار
معين نہ کرے تو ايک دن روزہ رکھ لينا کافي ہے اور اگر نذر کرے کہ
نماز پڑھوں گا اور اس کي مقدار اور خصوصيات معين نہ کرے تو ايک دو
رکعتي نماز پڑھ لے تو کافي ہے اور اگر نذر کرے کہ صدقہ دوں گا ليکن
اس کي جنس و مقدار معين نہ کرے۔ اب اگر کوئي چيز ديدے کہ جس کے لئے
لوگ کہيں کہ اس نے صدقہ دياہے تو اس نے اپني نذر پر عمل کرليا ہے
اور اگر نذر کرے کہ کوئي کام خدا کے لئے بجالاو ں گا اب اگر ايک
نماز يا ايک روزہ رکھ لے يا کوئي چيز صدقے ميں ديدے تو اس نے اپني
نذر پوري کردي۔
}(٢٦٤٩)اگر نذر کرے کہ فلاں دن روزہ رکھوں گا تو اسي دن روزہ رکھے
اور اگر اس دن سفر کرے تو اس دن کي قضا اس پر واجب ہے۔
}(٢٦٥٠)اگر انسان اختياراً اپني نذر پر عمل نہ کرے تو اسے کفارہ
دينا پڑے گا يعني ايک غلام آزاد کرے يا ساٹھ مسکين کو کھانا کھلائے
يا دو ماہ پے در پے روزے رکھے۔
}(٢٦٥١)اگر نذ ر کرے کہ فلاں معين وقت تک کسي عمل کو ترک کروں گا
تو اس وقت کے گزرنے کے بعد اس عمل کو بجالاسکتا ہے ، اور اگر وہ
وقت گزرنے سے پہلے بھول کر يا مجبوراً اس عمل کو بجالائے تو اس پر
کوئي چيز واجب نہيں البتہ پھر بھي ضروري ہے کہ اس وقت تک وہ عمل نہ
بجالائے۔ اور اگر دوبارہ اس وقت سے پہلے بغير کسي عذر کے وہ عمل
بجالائے توجتني مقدار گزشتہ مسئلے ميں بيان کي گئي ہے کفارہ ادا
کرے۔
}(٢٦٥٢)جو شخص نذر کرے کہ فلاں عمل ترک کروں گا اور اس کے لئے کوئي
وقت معين نہ کرے اب اگر بھول کر يا مجبور اًيا نہ جاننے کي وجہ سے
اس عمل کو بجالائے تو اس پرکفارہ واجب نہيں۔ البتہ اگر اختياراً اس
کو بجالائے توپہلي دفعہ اسے کفارہ دينا پڑے گا۔
}(٢٦٥٣)اگر نذر کرے کہ ہرہفتے ميں ايک خاص دن مثلاً جمعہ کے دن
روزہ رکھوں گا تو اگر کسي جمعہ ميں عيد الفطر يا عيد قربان آجائے
ياجمعہ کے دن کوئي اور عذر پيدا ہوجائے مثلاً اگر وہ عورت ہے اور
اسے حيض آجائے تو وہ ا س دن روزہ نہ رکھے اور اس کي قضا بجالائے۔
}(٢٦٥٤)اگر نذر کرے کہ فلاں مقدار صدقہ دوں گا۔ اب اگر صدقہ دينے
سے پہلے مرجائے تواس کے مال سے اتني مقدار صدقہ دينا چاہيے۔
}(٢٦٥٥)اگر نذر کرے کہ فلاں فقير کو صدقہ دے گا تو اس کے علاوہ کسي
اور فقير کو نہيں دے سکتا اور اگر وہ فقير مرجائے تو احتياطاً اس
کے وارثوں کو صدقہ دے۔
}(٢٦٥٦)اگر نذر کرے کہ فلاں امام کي زيارت پر جاو ں گا مثلاً امام
حسين عليہ السلام کي زيارت سے مشرف ہوں گا۔ اب اگر کسي دوسرے امام
کي زيارت پر چلا جائے تو کافي نہيں اور اگرکسي عذر کي وجہ سے اس
امام کي زيارت پرنہيں جاسکتا تو کوئي اور چيز اس پر واجب نہيں ہے۔
}(٢٦٥٧)جو شخص زيارت پر جانے کي نذر کرے اور غسل زيارت اور نماز
زيارت کي نذر نہ کرے تو اس پر غسل يا نماز زيارت کا اداکرنا ضروري
نہيں۔
}(٢٦٥٨)اگر کسي ايک امام يا امام زادے کے حرم کے لئے کوئي چيز نذر
کرے تو اس کو حرم کے مصارف ميں صرف کرنا چاہے۔ فرش ، پردہ اور
روشنائي جيسي چيزوں ميں اور اگر خود امام يا امام زادے کے لئے نذر
کرے تو اس خادم کو دے سکتا ہے جو ان کي خدمت ميں مشغول ہے جيسا کہ
مصارف حرم ميں بھي صرف کرسکتا ہے۔
}(٢٦٥٩)اگر خود امام کے لئے کوئي چيز نذر کرے۔ اب اگر کسي خاص مصرف
کا قصدکيا ہے تو اسي ميں صرف کرے اور اگر کسي معين مصرف کا قصد
نہيں کيا تو فقرائ اور زائرين کو ديدے يا مسجد اور اس قسم کي بنائے
اور ان کا ثواب اس امام کو ہديہ کرے اور يہي حکم ہے اگر کسي چيز کو
امام زادے کے لئے نذر کرے۔
}(٢٦٦٠)وہ دنبہ جو صدقہ يا کسي ايک امام کے لئے نذر کرے تو اس کي
پشم اور جتنا وہ موٹا ہوجائے وہ بھي نذر کي جزئ ہے۔ اگر نذر ميں
صرف کرنے سے پہلے وہ جانور دودھ يا بچہ دے تو احتياط واجب يہ ہے کہ
اس کو بھي مصرف نذر ميں صرف کرے۔
}(٢٦٦١)جب نذرکرے کہ اگر بيمار اچھا ہوگيا يا مسافر پلٹ آيا تو
فلاںکام انجام دے گا۔ اب اگر معلوم ہوجائے کہ نذر کرنے سے پہلے
بيمار اچھا ہوگيا تھا يا مسافر آگيا تھا تو نذر پر عمل کرنا ضروري
نہيں۔
}(٢٦٦٢)اگر باپ يا ماں نذرکريں کہ اپني بيٹي کسي سيد سے بياہيں گے
تو بعد اس کے لڑکي بالغ ہوجائے۔ احتياط يہ ہے کہ اگر ہوسکے تو اسے
راضي کريں کہ وہ کسي سيد سے شادي کرے۔
}(٢٦٦٣)جب خدا سے عہد کرے کہ اگرميري شرعي حاجت پوري ہوگئي تو ميں
فلاںاچھا کام کروں گا۔ تو بعد اس کے کہ اس کي حاجت پوري ہوجائے اسے
وہ کام انجام دينا چاہيے اور اگر بغير اس کے کہ اس کي کوئي حاجت ہو
عہد کرے کہ کوئي اچھاکام انجام دے گا تو وہ عمل اس پر واجب ہوجائے
گا۔
}(٢٦٦٤)عہد ميں بھي نذر کي طرح صيغہ پڑھنا چاہيے اور نذر کي طرح جس
کام کے متعلق عہد کرتا ہے کہ اسے بجالاو ں گا وہ ايسا نہ ہو کہ اس
کا نہ کرنا بجالانے سے بہتر ہو۔
}(٢٦٦٥)اگر اپنے عہد پر عمل نہ کرے تو اسے کفارہ دينا چاہيے يعني
ساٹھ مسکينوں کو سير کرے يا دو ماہ روزے رکھے يا ايک غلام آزاد
کرے۔ |